فلسفی کو بحث کے اندر خدا ملتا نہیں
زندگانی کا مزا ملتا تھا جن کی بزم میںان کی قبروں کا بھی اب مجھ کو پتا ملتا نہیں
About this couplet
This is couplet 6 of 17 in “فلسفی کو بحث کے اندر خدا ملتا نہیں” in the section Ghazals — Radeef Noon, from Syed Akbar Hussain Akbar Allahabadi's Urdu book Kalam-e-Akbar (کلامِ اکبر).
Read it in the poem۶ / ۱۷