تدبیر کریں تو اس میں ناکامی ہو

تدبیر کریں تو اس میں ناکامی ہوتقدیر کا نام لیں تو بد نامی ہوالقصہ عجیب ضیق میں ہیں ہندییورپ کا خدا کہاں پر جو حامی ہو

About this couplet

This is couplet 1 of 1 in “⁨تدبیر کریں تو اس میں ناکامی ہو⁩” in the section Rubaiyat, from Syed Akbar Hussain Akbar Allahabadi's Urdu book Kalam-e-Akbar (⁨کلامِ اکبر⁩).

Read it in the poem

۱ / ۱