کلامِ اکبررباعیات
الفت نہ ہو شیخ کی تو عزت ہی سہی
۱
الفت نہ ہو شیخ کی تو عزت ہی سہیمرشد نہ بناؤ ان کو دعوت ہی سہیبگڑا ہے جو دل زباں ہی کو روکورونا جو نہ آئے غم کی صورت ہی سہی
۸۶ / ۱۴۶
کلامِ اکبررباعیات
الفت نہ ہو شیخ کی تو عزت ہی سہیمرشد نہ بناؤ ان کو دعوت ہی سہیبگڑا ہے جو دل زباں ہی کو روکورونا جو نہ آئے غم کی صورت ہی سہی
۸۶ / ۱۴۶