# Kalam-e-Anis (کلامِ انیس) — Selected poems of Mir Anis

Mir Babar Ali Anis · Urdu · 90 poems · 1535 couplets

Source: https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis (Ahl-e-Qalam library). Text from Urdu Wikisource (ur.wikisource.org), where Anis's poems are transcribed as public-domain works. Each couplet has its own page; cite that URL.

## ردیف ح — Ghazals — Radeef Hay

### شہید عشق ہوئے قیس نامور کی طرح

https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/ghazal-hay/01

[1](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/ghazal-hay/01/1)

شہید عشق ہوئے قیس نامور کی طرح  
جہاں میں عیب بھی ہم نے کیے ہنر کی طرح  

[2](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/ghazal-hay/01/2)

کچھ آج شام سے چہرہ ہے فق سحر کی طرح  
ڈھلا ہی جاتا ہوں فرقت میں دوپہر کی طرح  

[3](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/ghazal-hay/01/3)

سیاہ بختوں کو یوں باغ سے نکال اے چرخ  
کہ چار پھول تو دامن میں ہوں سپر کی طرح  

[4](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/ghazal-hay/01/4)

تمام خلق ہے خواہان آبرو اے رب  
چھپا مجھے صدف قبر میں گہر کی طرح  

[5](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/ghazal-hay/01/5)

تجھی کو دیکھوں گا جب تک ہیں برقرار آنکھیں  
مری نظر نہ پھرے گی تری نظر کی طرح  

[6](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/ghazal-hay/01/6)

ہماری قبر پہ کیا احتیاج‌ عنبر و عود  
سلگ رہا ہے ہر اک استخواں اگر کی طرح  

[7](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/ghazal-hay/01/7)

نحیف و زار ہیں کیا زور باغباں سے چلے  
جہاں بٹھا دیا بس رہ گئے شجر کی طرح  

[8](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/ghazal-hay/01/8)

تمہارے حلقہ بہ گوشوں میں ایک ہم بھی ہیں  
پڑا رہے یہ سخن کان میں گہر کی طرح  

[9](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/ghazal-hay/01/9)

انیسؔ یوں ہوا حال جوانی و پیری  
بڑھے تھے نخل کی صورت گرے ثمر کی طرح  

## ردیف ر — Ghazals — Radeef Re

### سنبلِ تر ہے پریشاں زلفِ اکبر دیکھ کر

https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/ghazal-re/01

[1](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/ghazal-re/01/1)

سنبلِ تر ہے پریشاں زلفِ اکبر دیکھ کر  
کٹ گیا ہے ماہِ تاباں روئے انور دیکھ کر  

[2](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/ghazal-re/01/2)

آب ہو جائے گا حُسنِ روئے اکبر دیکھ کر  
سامنے آئینہ لانا، اے سکندر دیکھ کر  

[3](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/ghazal-re/01/3)

جب چلی اعدا پہ تیغِ شہ، پکارے جبرئیل  
یا حُسین ابنِ علی! خادم کے شہپر دیکھ کر  

[4](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/ghazal-re/01/4)

حشر تھا اہلِ حرم میں وقتِ قتلِ شاہِ دیں  
روتے تھے دشمن بھی شہ کو زیرِ خنجر دیکھ کر  

[5](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/ghazal-re/01/5)

خم ہوئی شہ کی کمر، ہاتھوں کی طاقت گھٹ گئی  
دونوں شانوں سے قلم، دستِ برادر دیکھ کر  

[6](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/ghazal-re/01/6)

کی رسائی بختِ حُر نے جب، تو پہنچا شہ کے پاس  
آ گیا خود راہ پر جنت کا رہبر دیکھ کر  

[7](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/ghazal-re/01/7)

جب جھپٹ کر بابِ خیبر کو اکھاڑا آپ نے  
ہو گئے کفار ششدر، زورِ حیدر دیکھ کر  

[8](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/ghazal-re/01/8)

کربلا کے بَن میں جا پہنچے جو شاہِ بحر و بر  
خوش ہوئے مقتل کو سب انصار و یاور دیکھ کر  

[9](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/ghazal-re/01/9)

مسکرائے دیکھ کر صحرا کو ہم شکلِ نبی  
تن گئے دریا کو عباسِ دلاور دیکھ کر  

[10](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/ghazal-re/01/10)

ہو چکیں جس وقت مُہریں فردِ قتلِ شاہ پر  
رو دیے خود شاہ اپنے خوں کا محضر دیکھ کر  

[11](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/ghazal-re/01/11)

خاک پر بے دم پڑے ہیں سب عزیز و اقربا  
روتے ہیں شبیر لاشوں کو برابر دیکھ کر  

[12](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/ghazal-re/01/12)

کہتے تھے یہ حلق ہے نانا کا میرے حلق پر  
پھیرنا شمشیر او شمرِ ستمگر دیکھ کر  

[13](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/ghazal-re/01/13)

خلد میں یاد آئی جب عباس کو بچوں کی پیاس  
رو دیا وہ با وفا بھی سوئے کوثر دیکھ کر  

[14](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/ghazal-re/01/14)

پیشِ خالق سب ہیں یکساں، رشک او غافل نہ کر  
آپ کو کم دیکھ کر، اوروں کو برتر دیکھ کر  

[15](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/ghazal-re/01/15)

آسماں پر شرم سے برقِ درخشاں چھپ گئی  
ذوالفقارِ حیدرِ صفدر کے جوہر دیکھ کر  

[16](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/ghazal-re/01/16)

صُرّۂ خاکِ شفا سے یوں کھِلا تربت میں دل  
جس طرح بلبل ہو بالیدہ گُلِ تر دیکھ کر  

[17](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/ghazal-re/01/17)

کربلا کو ہند سے جاتے اگر ہم اے انیس  
شاد ہو جاتے وہ صحرائے منور دیکھ کر  

## ردیف ن — Ghazals — Radeef Noon

### نمود و بود کو عاقل حباب سمجھے ہیں

https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/ghazal-noon/01

[1](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/ghazal-noon/01/1)

نمود و بود کو عاقل حباب سمجھے ہیں  
وہ جاگتے ہیں جو دنیا کو خواب سمجھے ہیں  

[2](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/ghazal-noon/01/2)

کبھی برا نہیں جانا کسی کو اپنے سوا  
ہر ایک ذرے کو ہم آفتاب سمجھے ہیں  

[3](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/ghazal-noon/01/3)

عجب نہیں ہے جو شیشوں میں بھر کے لے جائیں  
ان آنسوؤں کو فرشتے گلاب سمجھے ہیں  

[4](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/ghazal-noon/01/4)

زمانہ ایک طرح پر کبھی نہیں رہتا  
اسی کو اہل جہاں انقلاب سمجھے ہیں  

[5](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/ghazal-noon/01/5)

انہیں کو دار بقا کی ہے پختگی کا خیال  
جو بے ثباتی دہر خراب سمجھے ہیں  

[6](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/ghazal-noon/01/6)

شباب کھو کے بھی غفلت وہی ہے پیروں کو  
سحر کی نیند کو بھی شب کا خواب سمجھے ہیں  

[7](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/ghazal-noon/01/7)

لحد میں آئیں نکیرین آئیں بسم اللہ  
ہر اک سوال کا ہم بھی جواب سمجھے ہیں  

[8](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/ghazal-noon/01/8)

اگر غرور ہے اعدا کو اپنی کثرت پر  
تو اس حیات کو ہم بھی حباب سمجھے ہیں  

[9](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/ghazal-noon/01/9)

نہ کچھ خبر ہے حدیثوں کی ان سفیہوں کو  
نہ یہ معانی ام الکتاب سمجھے ہیں  

[10](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/ghazal-noon/01/10)

کبھی شقی متمتع نہ ہوں گے دنیا سے  
جسے یہ آب اسے ہم سراب سمجھے ہیں  

[11](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/ghazal-noon/01/11)

مزیل عقل ہے دنیا کی دولت اے منعم  
اسی کے نشے کو صوفی شراب سمجھے ہیں  

[12](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/ghazal-noon/01/12)

حرارتیں ہیں مآل حلاوت دنیا  
وہ زہر ہے جسے ہم شہد ناب سمجھے ہیں  

[13](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/ghazal-noon/01/13)

انیسؔ مخمل و دیبا سے کیا فقیروں کو  
اسی زمین کو ہم فرش خواب سمجھے ہیں  

### مرا راز دل آشکارا نہیں

https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/ghazal-noon/02

[1](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/ghazal-noon/02/1)

مرا راز دل آشکارا نہیں  
وہ دریا ہوں جس کا کنارا نہیں  

[2](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/ghazal-noon/02/2)

وہ گل ہوں جدا سب سے ہے جس کا رنگ  
وہ بو ہوں کہ جو آشکارا نہیں  

[3](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/ghazal-noon/02/3)

وہ پانی ہوں شیریں نہیں جس میں شور  
وہ آتش ہوں جس میں شرارہ نہیں  

[4](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/ghazal-noon/02/4)

بہت زال دنیا نے دیں بازیاں  
میں وہ نوجواں ہوں جو ہارا نہیں  

[5](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/ghazal-noon/02/5)

جہنم سے ہم بے قراروں کو کیا  
جو آتش پہ ٹھہرے وہ پارا نہیں  

[6](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/ghazal-noon/02/6)

فقیروں کی مجلس ہے سب سے جدا  
امیروں کا یاں تک گزارا نہیں  

[7](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/ghazal-noon/02/7)

سکندر کی خاطر بھی ہے سد باب  
جو دارا بھی ہو تو مدارا نہیں  

[8](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/ghazal-noon/02/8)

کسی نے تری طرح سے اے انیسؔ  
عروس سخن کو سنوارا نہیں  

## ردیف و — Ghazals — Radeef Wao

### سدا ہے فکر ترقی بلند بینوں کو

https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/ghazal-wao/01

[1](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/ghazal-wao/01/1)

سدا ہے فکر ترقی بلند بینوں کو  
ہم آسمان سے لائے ہیں ان زمینوں کو  

[2](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/ghazal-wao/01/2)

پڑھیں درود نہ کیوں دیکھ کر حسینوں کو  
خیال صنعت صانع ہے پاک بینوں کو  

[3](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/ghazal-wao/01/3)

کمال فقر بھی شایاں ہے پاک بینوں کو  
یہ خاک تخت ہے ہم بوریا نشینوں کو  

[4](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/ghazal-wao/01/4)

لحد میں سوئے ہیں چھوڑا ہے شہ نشینوں کو  
قضا کہاں سے کہاں لے گئی مکینوں کو  

[5](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/ghazal-wao/01/5)

یہ جھریاں نہیں ہاتھوں پہ ضعف پیری نے  
چنا ہے جامۂ اصلی کی آستینوں کو  

[6](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/ghazal-wao/01/6)

لگا رہا ہوں مضامین نو کے پھر انبار  
خبر کرو مرے خرمن کے خوشہ چینوں کو  

[7](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/ghazal-wao/01/7)

بھلا تردد بے جا سے ان میں کیا حاصل  
اٹھا چکے ہیں زمیندار جن زمینوں کو  

[8](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/ghazal-wao/01/8)

انہیں کو آج نہیں بیٹھنے کی جا ملتی  
معاف کرتے تھے جو لوگ کل زمینوں کو  

[9](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/ghazal-wao/01/9)

یہ زائروں کو ملیں سرفرازیاں ورنہ  
کہاں نصیب کہ چومیں ملک جبینوں کو  

[10](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/ghazal-wao/01/10)

سجایا ہم نے مضامیں کے تازہ پھولوں سے  
بسا دیا ہے ان اجڑی ہوئی زمینوں کو  

[11](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/ghazal-wao/01/11)

لحد بھی دیکھیے ان میں نصیب ہو کہ نہ ہو  
کہ خاک چھان کے پایا ہے جن زمینوں کو  

[12](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/ghazal-wao/01/12)

زوال طاقت و موئے سپید و ضعف بصر  
انہیں سے پائے بشر موت کے قرینوں کو  

[13](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/ghazal-wao/01/13)

نہیں خبر انہیں مٹی میں اپنے ملنے کی  
زمیں میں گاڑ کے بیٹھے ہیں جو دفینوں کو  

[14](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/ghazal-wao/01/14)

خبر نہیں انہیں کیا بندوبست پختہ کی  
جو غصب کرنے لگے غیر کی زمینوں کو  

[15](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/ghazal-wao/01/15)

جہاں سے اٹھ گئے جو لوگ پھر نہیں ملتے  
کہاں سے ڈھونڈ کے اب لائیں ہم نشینوں کو  

[16](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/ghazal-wao/01/16)

نظر میں پھرتی ہے وہ تیرگی و تنہائی  
لحد کی خاک ہے سرمہ مآل بینوں کو  

[17](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/ghazal-wao/01/17)

خیال خاطر احباب چاہیئے ہر دم  
انیسؔ ٹھیس نہ لگ جائے آبگینوں کو  

## ردیف ے — Ghazals — Radeef Bari Ye

### اشارے کیا نگۂ ناز دل ربا کے چلے

https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/ghazal-bari-ye/01

[1](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/ghazal-bari-ye/01/1)

اشارے کیا نگۂ ناز دل ربا کے چلے  
ستم کے تیر چلے نیمچے قضا کے چلے  

[2](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/ghazal-bari-ye/01/2)

پکارے کہتی تھی حسرت سے نعش عاشق کی  
صنم کدھر کو ہمیں خاک میں ملا کے چلے  

[3](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/ghazal-bari-ye/01/3)

مثال ماہیٔ بے آب موجیں تڑپا کیں  
حباب پھوٹ کے روئے جو تم نہا کے چلے  

[4](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/ghazal-bari-ye/01/4)

مقام یوں ہوا اس کارگاہ دنیا میں  
کہ جیسے دن کو مسافر سرا میں آ کے چلے  

[5](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/ghazal-bari-ye/01/5)

کسی کا دل نہ کیا ہم نے پائمال کبھی  
چلے جو راہ تو چیونٹی کو بھی بچا کے چلے  

[6](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/ghazal-bari-ye/01/6)

ملا جنہیں انہیں افتادگی سے اوج ملا  
انہیں نے کھائی ہے ٹھوکر جو سر اٹھا کے چلے  

[7](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/ghazal-bari-ye/01/7)

انیسؔ دم کا بھروسہ نہیں ٹھہر جاؤ  
چراغ لے کے کہاں سامنے ہوا کے چلے  

### خود نوید زندگی لائی قضا میرے لیے

https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/ghazal-bari-ye/02

[1](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/ghazal-bari-ye/02/1)

خود نوید زندگی لائی قضا میرے لیے  
شمع کشتہ ہوں فنا میں ہے بقا میرے لیے  

[2](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/ghazal-bari-ye/02/2)

زندگی میں تو نہ اک دم خوش کیا ہنس بول کر  
آج کیوں روتے ہیں میرے آشنا میرے لیے  

[3](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/ghazal-bari-ye/02/3)

کنج عزلت میں مثال آسیا ہوں گوشہ گیر  
رزق پہنچاتا ہے گھر بیٹھے خدا میرے لیے  

[4](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/ghazal-bari-ye/02/4)

تو سراپا اجر اے زاہد میں سرتاپا گناہ  
باغ جنت تیری خاطر کربلا میرے لیے  

[5](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/ghazal-bari-ye/02/5)

نام روشن کر کے کیونکر بجھ نہ جاتا مثل شمع  
نا موافق تھی زمانہ کی ہوا میرے لیے  

[6](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/ghazal-bari-ye/02/6)

ہر نفس آئینۂ دل سے یہ آتی ہے صدا  
خاک تو ہو جا تو حاصل ہو جلا میرے لیے  

[7](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/ghazal-bari-ye/02/7)

خاک سے ہے خاک کو الفت تڑپتا ہوں انیسؔ  
کربلا کے واسطے میں کربلا میرے لیے  

### ابتدا سے ہم ضعیف و ناتواں پیدا ہوئے

https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/ghazal-bari-ye/03

[1](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/ghazal-bari-ye/03/1)

ابتدا سے ہم ضعیف و ناتواں پیدا ہوئے  
اڑ گیا جب رنگ رخ سے استخواں پیدا ہوئے  

[2](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/ghazal-bari-ye/03/2)

خاکساری نے دکھائیں رفعتوں پر رفعتیں  
اس زمیں سے واہ کیا کیا آسماں پیدا ہوئے  

[3](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/ghazal-bari-ye/03/3)

علم خالق کا خزانہ ہے میان کاف و نون  
ایک کن کہنے سے یہ کون و مکاں پیدا ہوئے  

[4](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/ghazal-bari-ye/03/4)

ضبط دیکھو سب کی سن لی اور کچھ اپنی کہی  
اس زباں دانی پر ایسے بے زباں پیدا ہوئے  

[5](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/ghazal-bari-ye/03/5)

شور بختی آئی حصے میں انہیں کے وا نصیب  
تلخ کامی کے لیے شیریں زباں پیدا ہوئے  

[6](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/ghazal-bari-ye/03/6)

احتیاط جسم کیا انجام کو سوچو انیسؔ  
خاک ہونے کو یہ مشت استخواں پیدا ہوئے  

### وجد ہو بلبل تصویر کو جس کی بو سے

https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/ghazal-bari-ye/04

[1](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/ghazal-bari-ye/04/1)

وجد ہو بلبل تصویر کو جس کی بو سے  
اوس سے گل رنگ کا دعویٰ کرے پھر کس رو سے  

[2](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/ghazal-bari-ye/04/2)

شمع کے رونے پہ بس صاف ہنسی آتی ہے  
آتش دل کہیں کم ہوتی ہے چار آنسو سے  

[3](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/ghazal-bari-ye/04/3)

ایک دن وہ تھا کہ تکیہ تھا کسی کا بازو  
اب سر اٹھتا ہی نہیں اپنے سر زانو سے  

[4](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/ghazal-bari-ye/04/4)

نزع میں ہوں مری مشکل کرو آساں یاروں  
کھولو تعویذ شفا جلد مرے بازو سے  

[5](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/ghazal-bari-ye/04/5)

شوخیٔ چشم کا تو کس کی ہے دیوانہ انیسؔ  
آنکھیں ملتا ہے جو یوں نقش کف آہو سے  

### کوئی انیسؔ کوئی آشنا نہیں رکھتے

https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/ghazal-bari-ye/05

[1](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/ghazal-bari-ye/05/1)

کوئی انیسؔ کوئی آشنا نہیں رکھتے  
کسی کی آس بغیر از خدا نہیں رکھتے  

[2](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/ghazal-bari-ye/05/2)

کسی کو کیا ہو دلوں کی شکستگی کی خبر  
کہ ٹوٹنے میں یہ شیشے صدا نہیں رکھتے  

[3](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/ghazal-bari-ye/05/3)

فقیر دوست جو ہو ہم کو سرفراز کرے  
کچھ اور فرش بجز بوریا نہیں رکھتے  

[4](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/ghazal-bari-ye/05/4)

مسافرو شب اول بہت ہے تیرہ و تار  
چراغ قبر ابھی سے جلا نہیں رکھتے  

[5](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/ghazal-bari-ye/05/5)

وہ لوگ کون سے ہیں اے خدائے کون و مکاں  
سخن سے کان کو جو آشنا نہیں رکھتے  

[6](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/ghazal-bari-ye/05/6)

مسافران عدم کا پتہ ملے کیونکر  
وہ یوں گئے کہ کہیں نقش پا نہیں رکھتے  

[7](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/ghazal-bari-ye/05/7)

تپ دروں غم فرقت ورم پیادہ روی  
مرض تو اتنے ہیں اور کچھ دوا نہیں رکھتے  

[8](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/ghazal-bari-ye/05/8)

کھلے گا حال انہیں جب کہ آنکھ بند ہوئی  
جو لوگ الفت مشکل کشا نہیں رکھتے  

[9](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/ghazal-bari-ye/05/9)

جہاں کی لذت و خواہش سے ہے بشر کا خمیر  
وہ کون ہیں کہ جو حرص و ہوا نہیں رکھتے  

[10](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/ghazal-bari-ye/05/10)

انیسؔ بیچ کے جاں اپنی ہند سے نکلو  
جو توشۂ سفر کربلا نہیں رکھتے  

## رباعیات — Rubaiyat

### بست و یکم ماہ محرم ہے آج

https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/rubaiyat/01

[1](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/rubaiyat/01/1)

بست و یکم ماہ محرم ہے آج  
جس آنکھ کو دیکھیے وہ پر نم ہے آج  
عاشور سے بے دفن ہے لاشہ جس کا  
اس بے کفن و گور کا ماتم ہے آج  

### بادل آ کے رو گئے ہائے غضب

https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/rubaiyat/02

[1](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/rubaiyat/02/1)

بادل آ کے رو گئے ہائے غضب  
آنسو نایاب ہو گئے ہائے غضب  
جی بھر کے حسین کو نہ روئے اس سال  
آنکھوں کے نصیب سو گئے ہائے غضب  

### آدم کو عجب خدا نے رتبہ بخشا

https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/rubaiyat/03

[1](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/rubaiyat/03/1)

آدم کو عجب خدا نے رتبہ بخشا  
ادنیٰ کے لیے مقام اعلیٰ بخشا  
عقل و ہنر و تمیز و جان و ایماں  
اس ایک کف خاک کو کیا کیا بخشا  

### الفت ہو جسے اسے ولی کہتے ہیں

https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/rubaiyat/04

[1](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/rubaiyat/04/1)

الفت ہو جسے اسے ولی کہتے ہیں  
ایسوں کو سعید ازلی کہتے ہیں  
اس بزم میں دھوپ اٹھا کے آتے ہیں جو لوگ  
ہنس کر طوبیٰ لکم علی کہتے ہیں  

### تھے زیست سے اپنی ہاتھ دھوئے سجاد

https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/rubaiyat/05

[1](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/rubaiyat/05/1)

تھے زیست سے اپنی ہاتھ دھوئے سجاد  
شب کو کبھی راحت سے نہ سوئے سجاد  
جب تک جیے ہنستے نہ کسی نے دیکھا  
چالیس برس باپ کو روئے سجاد  

### جو مرتبہ احمد کے وصی کا دیکھا

https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/rubaiyat/06

[1](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/rubaiyat/06/1)

جو مرتبہ احمد کے وصی کا دیکھا  
ہم نے نہیں رتبہ یہ کسی کا دیکھا  
کہتے ہیں نبی جب ہوئی معراج مجھے  
پہنچا جو وہاں ہاتھ علی کا دیکھا  

### جو چشم غم شہ میں سدا روتی ہے

https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/rubaiyat/07

[1](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/rubaiyat/07/1)

جو چشم غم شہ میں سدا روتی ہے  
ہر لمحہ فزوں اس میں ضیا ہوتی ہے  
اشک غم شبیر کا رتبہ دیکھو  
یاں اشک کا قطرہ ہے وہاں موتی ہے  

### جس پر کہ نظر لطف کی شبیر کریں

https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/rubaiyat/08

[1](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/rubaiyat/08/1)

جس پر کہ نظر لطف کی شبیر کریں  
ادنیٰ اعلیٰ سب اس کی توقیر کریں  
جس سنگ کو چاہیں وہ بنا دیں پارس  
جس خاک کو چاہیں ابھی اکسیر کریں  

### اتنا نہ غرور کر کہ مرنا ہے تجھے

https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/rubaiyat/09

[1](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/rubaiyat/09/1)

اتنا نہ غرور کر کہ مرنا ہے تجھے  
آرام ابھی قبر میں کرنا ہے تجھے  
رکھ خاک پہ سوچ کر ذرا پاؤں انیسؔ  
اک روز صراط سے گزرنا ہے تجھے  

### دشمن کو بھی دے خدا نہ اولاد کا داغ

https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/rubaiyat/10

[1](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/rubaiyat/10/1)

دشمن کو بھی دے خدا نہ اولاد کا داغ  
جاتا نہیں ہرگز دل ناشاد کا داغ  
فرماتے تھے رو کے لاش قاسم پہ حسین  
اولاد سے کم نہیں ہے داماد کا داغ  

### دنیا بھی عجب سرائے فانی دیکھی

https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/rubaiyat/11

[1](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/rubaiyat/11/1)

دنیا بھی عجب سرائے فانی دیکھی  
ہر چیز یہاں کی آنی جانی دیکھی  
جو آ کے نہ جائے وہ بڑھاپا دیکھا  
جو جا کے نہ آئے وہ جوانی دیکھی  

### دل نے غم بے حساب کیا کیا دیکھا

https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/rubaiyat/12

[1](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/rubaiyat/12/1)

دل نے غم بے حساب کیا کیا دیکھا  
آنکھوں سے جہاں میں خواب کیا کیا دیکھا  
طفلی و شباب و عیش و رنج و راحت  
اس عمر نے انقلاب کیا کیا دیکھا  

### داماد رسول کی شہادت ہے آج

https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/rubaiyat/13

[1](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/rubaiyat/13/1)

داماد رسول کی شہادت ہے آج  
معصوموں پہ فاطمہ کے آفت ہے آج  
جنت میں تڑپتے ہیں رسول الثقلین  
خاتون قیامت پہ قیامت ہے آج  

### بے جا نہیں مدح شہ میں غرا میرا

https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/rubaiyat/14

[1](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/rubaiyat/14/1)

بے جا نہیں مدح شہ میں غرا میرا  
بھرتی سے کلام ہے معرا میرا  
مرغان خوش الحان چمن بولیں کیا  
مر جاتے ہیں سن کے روزمرا میرا  

### بے گور و کفن باپ کا لاشہ دیکھا

https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/rubaiyat/15

[1](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/rubaiyat/15/1)

بے گور و کفن باپ کا لاشہ دیکھا  
پردیس میں مادر کا رنڈاپا دیکھا  
زنداں میں جفاے خار و طوق و زنجیر  
عابد نے پدر کے بعد کیا کیا دیکھا  

### بے دینوں کو مرتضیٰ نے ایماں بخشا

https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/rubaiyat/16

[1](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/rubaiyat/16/1)

بے دینوں کو مرتضیٰ نے ایماں بخشا  
دین داروں کو جنت کا گلستاں بخشا  
بخشش کا ہے خاتمہ کہ خاتم دے کر  
درویش کو رتبہ سلیماںؔ بخشا  

### برہم ہے جہاں عجب تلاطم ہے آج

https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/rubaiyat/17

[1](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/rubaiyat/17/1)

برہم ہے جہاں عجب تلاطم ہے آج  
سب روتے ہیں دنیا میں خوشی گم ہے آج  
چالیسویں تک گڑا نہ لاشہ جس کا  
اس بیکس و مظلوم کا چہلم ہے آج  

### بالوں پہ غبار شیب ظاہر ہے اب

https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/rubaiyat/18

[1](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/rubaiyat/18/1)

بالوں پہ غبار شیب ظاہر ہے اب  
ہشیار انیس تو مسافر ہے اب  
پیدا ہے سپیدی سحر پیری کی  
لے خواب سے چونک رات آخر ہے اب  

### اشکوں میں نہاؤ تو جگر ٹھنڈے ہوں

https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/rubaiyat/19

[1](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/rubaiyat/19/1)

اشکوں میں نہاؤ تو جگر ٹھنڈے ہوں  
بھیگے جو مژہ دیدۂ تر ٹھنڈے ہوں  
یوں سینہ و قلب سرد ہو جائیں گے  
خس خانے میں جیسے بام و در ٹھنڈے ہوں  

### اصحاب نے پوچھا جو نبی کو دیکھا

https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/rubaiyat/20

[1](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/rubaiyat/20/1)

اصحاب نے پوچھا جو نبی کو دیکھا  
معراج میں حضرت نے کسی کو دیکھا  
کہنے لگے مسکرا کے محبوب خدا  
واللہ جہاں دیکھا علی کو دیکھا  

### انجام پہ اپنے آہ و زاری کر تو

https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/rubaiyat/21

[1](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/rubaiyat/21/1)

انجام پہ اپنے آہ و زاری کر تو  
سختی بھی جو ہو تو بردباری کر تو  
پیدا کیا خاک سے خدا نے تجھ کو  
بہتر ہے یہی کہ خاک ساری کر تو  

### انداز سخن تم جو ہمارے سمجھو

https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/rubaiyat/22

[1](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/rubaiyat/22/1)

انداز سخن تم جو ہمارے سمجھو  
جو لطف کلام ہیں وہ سارے سمجھو  
آواز گرفتہ گو ہے اس ذاکر کی  
پہروں رؤو اگر اشارے سمجھو  

### اللہ اللہ عز و جاہ ذاکر

https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/rubaiyat/23

[1](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/rubaiyat/23/1)

اللہ اللہ عز و جاہ ذاکر  
دربار حسینی میں ہے راہ ذاکر  
پنجہ جو علم کا سر منبر ہے انیس  
ہے دست علم دار پناہ ذاکر  

### اختر سے بھی آبرو میں بہتر ہے یہ اشک

https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/rubaiyat/24

[1](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/rubaiyat/24/1)

اختر سے بھی آبرو میں بہتر ہے یہ اشک  
اللہ ہے مشتری وہ گوہر ہیں یہ اشک  
آنکھوں سے لگا کے ان کو کہتے ہیں ملک  
گوہر نہیں نور چشم کوثر ہیں یہ اشک  

### اکبر نے جو گھر موت کا آباد کیا

https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/rubaiyat/25

[1](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/rubaiyat/25/1)

اکبر نے جو گھر موت کا آباد کیا  
صغرا کو دم نزع بہت یاد کیا  
لاشے پہ کمر پکڑ کے کہتے تھے حسین  
تم نے علی اکبر ہمیں برباد کیا  

### اے شاہ کے غم میں جان کھونے والو

https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/rubaiyat/26

[1](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/rubaiyat/26/1)

اے شاہ کے غم میں جان کھونے والو  
اے ابن علی کے صدقے ہونے والو  
اس اجر عظیم کو نہ دو ہاتھوں سے  
اب دو ہی شبیں اور ہیں رونے والو  

### اے مومنو فاطمہ کا پیارا شبیر

https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/rubaiyat/27

[1](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/rubaiyat/27/1)

اے مومنو فاطمہؓ کا پیارا شبیر  
کل جائے گا بھوکا پیاسا مارا شبیر  
ہو جائیں گے سب تعزیہ خانے سنسان  
آج اور ہے مہمان تمہارا شبیر  

### اے خالق ذوالفضل و کرم رحمت کر

https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/rubaiyat/28

[1](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/rubaiyat/28/1)

اے خالق ذوالفضل و کرم رحمت کر  
اے دافع ہر رنج و الم رحمت کر  
سبقت ہے سدا غضب پہ رحمت کو تری  
اپنی تجھے رحمت کی قسم رحمت کر  

### اے بخت رسا سوئے نجف راہی کر

https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/rubaiyat/29

[1](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/rubaiyat/29/1)

اے بخت رسا سوئے نجف راہی کر  
مجھ زار کو زائر ید اللہی کر  
لے جا سوئے کربلا مری مشت غبار  
اے باد صبا اتنی ہوا خواہی کر  

### احباب سے امید ہے بیجا مجھ کو

https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/rubaiyat/30

[1](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/rubaiyat/30/1)

احباب سے امید ہے بے جا مجھ کو  
امید عطائے حق ہے زیبا مجھ کو  
کیا ان سے توقع کہ میان مرقد  
چھوڑ آئیں گے اک روز یہ تنہا مجھ کو  

### افزوں ہیں بیاں سے معجزات حیدر

https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/rubaiyat/31

[1](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/rubaiyat/31/1)

افزوں ہیں بیاں سے معجزات حیدر  
حلال مہمات ہے ذات حیدر  
توریت انجیل اور زبور و قرآن  
ہیں ایک رباعی صفات حیدر  

### افضل کوئی مرتضیٰ سے ہمت میں نہیں

https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/rubaiyat/32

[1](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/rubaiyat/32/1)

افضل کوئی مرتضیٰ سے ہمت میں نہیں  
اس طرح کا بندہ تو حقیقت میں نہیں  
طوبیٰ تسنیم و خلد و سیب و رمان  
وہ کیا ہے جو حیدر کی ولایت میں نہیں  

### اب زیر قدم لحد کا باب آ پہنچا

https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/rubaiyat/33

[1](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/rubaiyat/33/1)

اب زیر قدم لحد کا باب آ پہنچا  
ہشیار ہو جلد وقت خواب آ پہنچا  
پیری کی بھی دوپہر ڈھلی آہ انیسؔ  
ہنگام غروب آفتاب آ پہنچا  

### اب وقت سرور و فرحت اندوزی ہے

https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/rubaiyat/34

[1](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/rubaiyat/34/1)

اب وقت سرور او فرحت اندوزی ہے  
ہر دل مصروف جشن نو روزی ہے  
ہے آج سے دور شاہی شاہ نجف  
یہ رنگ بہار فتح و فیروزی ہے  

### اب خواب سے چونک وقت بیداری ہے

https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/rubaiyat/35

[1](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/rubaiyat/35/1)

اب خواب سے چونک وقت بیداری ہے  
لے زاد سفر کوچ کی تیاری ہے  
مر مر کے پہنچتے ہیں مسافر واں تک  
یہ قبر کی منزل بھی غضب کی بھاری ہے  

### اب ہند کی ظلمت سے نکلتا ہوں میں

https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/rubaiyat/36

[1](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/rubaiyat/36/1)

اب ہند کی ظلمت سے نکلتا ہوں میں  
توفیق رفیق ہو تو چلتا ہوں میں  
تقدیر نے بیڑیاں تو کاٹی ہیں انیسؔ  
کیوں رک گئے پاؤں ہاتھ ملتا ہوں میں  

### اب گرم خبر موت کے آنے کی ہے

https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/rubaiyat/37

[1](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/rubaiyat/37/1)

اب گرم خبر موت کے آنے کی ہے  
غافل تجھے فکر آب و دانے کی ہے  
ہستی کے لیے ضرور اک دن ہے فنا  
آنا تیرا دلیل جانے کی ہے  

### آنکھ ابر بہاری سے لڑی رہتی ہے

https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/rubaiyat/38

[1](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/rubaiyat/38/1)

آنکھ ابر بہاری سے لڑی رہتی ہے  
اشکوں کی ردا منہ پہ پڑی رہتی ہے  
دونوں آنکھیں ہیں میری ساون بھادوں  
یاں سارے برس ایک جھڑی رہتی ہے  

### اعلیٰ رتبے میں ہر بشر سے پایا

https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/rubaiyat/39

[1](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/rubaiyat/39/1)

اعلیٰ رتبے میں ہر بشر سے پایا  
افضل انہیں خضر راہ بر سے پایا  
یہ در جو نہ ملتا تو بھٹکتے پھرتے  
جنت کا پتا علی کے گھر سے پایا  

### آدم کو یہ تحفہ یہ ہدیہ نہ ملا

https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/rubaiyat/40

[1](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/rubaiyat/40/1)

آدم کو یہ تحفہ یہ ہدیہ نہ ملا  
ایسا تو کسی بشر کو پایا نہ ملا  
اللہ ری لطافت تن پاک رسول  
ڈھونڈا کیا آفتاب سایہ نہ ملا  

### ظاہر وہی الفت کے اثر ہیں اب تک

https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/rubaiyat/41

[1](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/rubaiyat/41/1)

ظاہر وہی الفت کے اثر ہیں اب تک  
قربان شہہ جن و بشر ہیں اب تک  
ہوتے ہیں علم آگے جب اٹھتی ہے ضریح  
عباس علی سینہ سپر ہیں اب تک  

### عریاں سر خاتون زمن ہے اب تک

https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/rubaiyat/42

[1](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/rubaiyat/42/1)

عریاں سر خاتون زمن ہے اب تک  
ناموس پہ ایذا و محن ہے اب تک  
چہلم کے ہیں دن خاک اڑاؤ یارو  
شبیر کی لاش بے کفن ہے اب تک  

### ٹھوکر بھی نہ ماریں گے اگر خود سر ہے

https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/rubaiyat/43

[1](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/rubaiyat/43/1)

ٹھوکر بھی نہ ماریں گے اگر خود سر ہے  
زردار کو بھی فروتنی بہتر ہے  
ہے میوۂ نخل قد انساں تسلیم  
جھکتی ہے وہی شاخ جو بار آور ہے  

### سوز غم دوری نے جلا رکھا ہے

https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/rubaiyat/44

[1](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/rubaiyat/44/1)

سوز غم دوری نے جلا رکھا ہے  
آہوں نے کنول دل کا بجھا رکھا ہے  
نکلو کہیں جلد عمر آخر ہے انیسؔ  
اس ہند سیہ بخت میں کیا رکھا ہے  

### شبیر کا غم یہ جس کے دل پر ہوگا

https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/rubaiyat/45

[1](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/rubaiyat/45/1)

شبیر کا غم یہ جس کے دل پر ہوگا  
آنسو جو گرے گا شکل گوہر ہوگا  
پوچھے گا خدا جب ایسے در کی قیمت  
تب حشر میں جوہری پیمبر ہوگا  

### سر کھینچ نہ شمشیر کشیدہ کی طرح

https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/rubaiyat/46

[1](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/rubaiyat/46/1)

سر کھینچ نہ شمشیر کشیدہ کی طرح  
ہر ایک سے جھک قوس خمیدہ کی طرح  
منظور نظر ہے جو حفاظت اپنی  
ہو گوشہ نشیں مردم دیدہ کی طرح  

### رتبہ جسے دنیا میں خدا دیتا ہے

https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/rubaiyat/47

[1](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/rubaiyat/47/1)

رتبہ جسے دنیا میں خدا دیتا ہے  
وہ دل میں فروتنی کو جا دیتا ہے  
کرتے ہیں تہی مغز ثنا آپ اپنی  
جو ظرف کہ خالی ہے صدا دیتا ہے  

### راہی طرف عالم بالا ہوں میں

https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/rubaiyat/48

[1](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/rubaiyat/48/1)

راہی طرف عالم بالا ہوں میں  
دنیا سے عدم کو جانے والا ہوں میں  
یارب ترا نام پاک جپنے کے لیے  
گویا اک ہڈیوں کی مالا ہوں میں  

### قطرے ہیں یہ سب جس کے وہ دریا ہے علی

https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/rubaiyat/49

[1](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/rubaiyat/49/1)

قطرے ہیں یہ سب جس کے وہ دریا ہے علی  
پنہاں ہے کبھی تو گاہ پیدا ہے علی  
ہوتا ہے گماں خدا کا جس پر ہر بار  
اللہ اللہ ایسا بندہ ہے علی  

### پتلی کی طرح نظر سے مستور ہے تو

https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/rubaiyat/50

[1](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/rubaiyat/50/1)

پتلی کی طرح نظر سے مستور ہے تو  
آنکھیں جسے ڈھونڈھتی ہیں وہ نور ہے تو  
قربت رگ جاں سے اور پھر اس پر یہ بعد  
اللہ اللہ کس قدر دور ہے تو  

### مے خانۂ کوثر کا شرابی ہوں میں

https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/rubaiyat/51

[1](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/rubaiyat/51/1)

مے خانۂ کوثر کا شرابی ہوں میں  
کیا قبر کا خوف بو ترابی ہوں میں  
کہتی ہے یہ چشم خوش رکھو نہ مجھے  
اے اہل نظر مردم آبی ہوں میں  

### لا ریب بہشتیوں کا مرجع ہے یہ

https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/rubaiyat/52

[1](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/rubaiyat/52/1)

لا ریب بہشتیوں کا مرجع ہے یہ  
سب جس میں بھرے ہیں گل و مجمع ہے یہ  
دیکھے کوئی مومنوں کے چہروں کی ضیا  
مانیؔ بھی ہے دنگ وہ مرقع ہے یہ  

### کیوں کر دل غمزدہ نہ فریاد کرے

https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/rubaiyat/53

[1](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/rubaiyat/53/1)

کیوں کر دل غمزدہ نہ فریاد کرے  
جب ملک کو چرخ پیر برباد کرے  
مانگو یہ دعا کہ پھر خداوند کریم  
اجڑی ہوئی مملکت کو آباد کرے  

### کیا دست مژہ کو ہاتھ آئی تسبیح

https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/rubaiyat/54

[1](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/rubaiyat/54/1)

کیا دست مژہ کو ہاتھ آئی تسبیح  
سبحان اللہ کیا بنائی تسبیح  
آنسو نہیں رکتے ہیں غم شہ میں انیسؔ  
آنکھوں سے لگی ہے کربلائی تسبیح  

### کچھ ملک عدم میں رنج کا نام نہ تھا

https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/rubaiyat/55

[1](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/rubaiyat/55/1)

کچھ ملک عدم میں رنج کا نام نہ تھا  
معلوم ہمیں اپنا سرانجام نہ تھا  
آئے جو یہاں تو بس ہوا یہ ثابت  
اک موت سے ملنا تھا کوئی کام نہ تھا  

### کس طرح کرے نہ ایک عالم افسوس

https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/rubaiyat/56

[1](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/rubaiyat/56/1)

کس طرح کرے نہ ایک عالم افسوس  
جی بھر کے کیا نہ شہ کا ماتم افسوس  
کیا جلد گزر گئے یہ دس دن غم کے  
کیوں صاحبو ہو چکا محرم افسوس  

### کھو دل کے مرض کو اے طبیب امت

https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/rubaiyat/57

[1](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/rubaiyat/57/1)

کھو دل کے مرض کو اے طبیب امت  
سکھلا آداب اے ادیب امت  
اللہ کے نور کو بعینہ دیکھیں  
گر ہو ترا دیدار نصیب امت  

### کھینچے مجھے موت زندگانی کی طرف

https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/rubaiyat/58

[1](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/rubaiyat/58/1)

کھینچے مجھے موت زندگانی کی طرف  
غم خود لے جائے شادمانی کی طرف  
تیرا جو کرم ہو تو مثال مہ نو  
پیری سے پہنچ جاؤں جوانی کی طرف  

### عصیاں سے ہوں شرمسار توبہ یارب

https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/rubaiyat/59

[1](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/rubaiyat/59/1)

عصیاں سے ہوں شرمسار توبہ یارب  
کرتا ہوں میں بار بار توبہ یارب  
نہ جرم کا پایاں نہ گناہوں کا شمار  
اک توبہ تو کیا ہزار توبہ یارب  

### ہشیار ہے سب سے با خبر ہے جب تک

https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/rubaiyat/60

[1](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/rubaiyat/60/1)

ہشیار ہے سب سے با خبر ہے جب تک  
بیدار ہے عالم پہ نظر ہے جب تک  
پیدا ہے صریر کلک سے یہ آواز  
کر فکر سخن زبان تر ہے جب تک  

### ہو جاتی ہے سہل پیش دانا مشکل

https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/rubaiyat/61

[1](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/rubaiyat/61/1)

ہو جاتی ہے سہل پیش دانا مشکل  
دل نے نہ کسی امر کو جانا مشکل  
مدح شہہ دیں میں ہے مگر دل کا یہ قول  
ہے بحر کا کوزے میں سمانا مشکل  

### ہر چند کہ خستہ و حزیں ہے آواز

https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/rubaiyat/62

[1](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/rubaiyat/62/1)

ہر چند کہ خستہ و حزیں ہے آواز  
پر تعزیہ دار شاہ دیں ہے آواز  
نکلے نہ اگر کنج دہن سے تو بجا  
ماتم کے ہیں دن سوگ نشیں ہے آواز  

### ہر غنچے سے شاخ گل ہے کیوں نذر بکف

https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/rubaiyat/63

[1](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/rubaiyat/63/1)

ہر غنچے سے شاخ گل ہے کیوں نذر بکف  
ہے روز خلافت شہنشاہ نجف  
حیدر ہوئے جانشین خاص نبوی  
ہے آج طلوع نیر برج شرف  

### گلزار جہاں سے باغ جنت میں گئے

https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/rubaiyat/64

[1](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/rubaiyat/64/1)

گلزار جہاں سے باغ جنت میں گئے  
مرحوم ہوئے جوار رحمت میں گئے  
مداح علی کا مرتبہ اعلیٰ ہے  
غالبؔ اسداللہ کی خدمت میں گئے  

### گلشن میں صبا کو جستجو تیری ہے

https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/rubaiyat/65

[1](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/rubaiyat/65/1)

گلشن میں صبا کو جستجو تیری ہے  
بلبل کی زبان پہ گفتگو تیری ہے  
ہر رنگ میں جلوہ ہے تیری قدرت کا  
جس پھول کو سونگھتا ہوں بو تیری ہے  

### گلشن میں پھروں کہ سیر صحرا دیکھوں

https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/rubaiyat/66

[1](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/rubaiyat/66/1)

گلشن میں پھروں کہ سیر صحرا دیکھوں  
یا معدن و کوہ و دشت و دریا دیکھوں  
ہر جا تری قدرت کے ہیں لاکھوں جلوے  
حیران ہوں دو آنکھوں سے کیا کیا دیکھوں  

### غفلت میں نہ کھو عمر کہ پچھتائے گا

https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/rubaiyat/67

[1](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/rubaiyat/67/1)

غفلت میں نہ کھو عمر کہ پچھتائے گا  
رونا ہی غم شاہ میں کام آئے گا  
اسباب تعلق سے نہ بھر دل اپنا  
چلتے ہوئے سب کچھ یہیں رہ جائے گا  

### فرصت کوئی ساعت نہ زمانے سے ملی

https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/rubaiyat/68

[1](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/rubaiyat/68/1)

فرصت کوئی ساعت نہ زمانے سے ملی  
بیگانے سے راحت نہ یگانے سے ملی  
حقا کہ پلک نواز ہے ذات تری  
جنت انہیں اشکوں کے بہانے سے ملی  

### دکھ میں ہر شب کراہتا ہوں یارب

https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/rubaiyat/69

[1](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/rubaiyat/69/1)

دکھ میں ہر شب کراہتا ہوں یارب  
اب زیست کے دن نباہتا ہوں یارب  
طالب زر و مال کے ہیں سب دنیا میں  
میں تجھ سے تجھی کو چاہتا ہوں یارب  

## مثنویات، مراثی و دیگر — Masnavis, marsiyas and other forms

### جب زلف کو کھولے ہوئے لیلائے شب آئی

https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/01

[1](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/01/1)

جب زلف کو کھولے ہوئے لیلائے شب آئی  
پردیس میں سادات پہ، آفت عجب آئی  
فریاد کناں روح امیر عرب آئی  
غل تھا کہ شب قتل شہ تشنہ لب آئی  
سادات کو کیا کیا غمِ جانکاہ دکھائے  
رات ایسی مصیبت کی نہ اللہ دکھائے  

[2](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/01/2)

کاغذ پہ لکھے کیا قلم اس شب کی سیاہی  
ہے چار طرف جس کی سیاہی سے تباہی  
مرغان ہوا بر میں طپاں، بحر میں ماہی  
تربت سے نکل آئے تھے محبوب الٰہی  
فریاد کا تھا شور رسولان سلف میں  
یثرب میں تزلزل تھا اداسی تھی نجف میں  

[3](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/01/3)

صدمے سے ہوا رنگ رخ ماہ کا کافور  
اختر بھی بنے مردمک دیدۂ بے نور  
غم چھا گیا، راحت دل عالم سے ہوئی دور  
تصویر الم بن گئی جنت میں ہر اک حور  
کہتے تھے ملک رات نہ ہووے گی اب ایسی  
تاروں نے بھی دیکھی نہ تھی تاریک شب ایسی  

[4](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/01/4)

شمع طرب محفل عالم تھی جو خاموش  
تھی رات بھی شبیرؔ کے ماتم میں سیہ پوش  
کیا غم تھا کہ شادی تھی ہر اک دل کو فراموش  
ہر چشم کو تھا غم میں سمندر کی طرح جوش  
مضطر تھے علیؔ اشکوں سے منہ دھوتی تھی زہراؔ  
مقتل تھا جہاں شاہ کا، واں روتی تھی زہراؔ  

[5](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/01/5)

تھا خانۂ غم خیمۂ شاہنشہ والا  
آندھی یہ پریشاں تھی کہ دل تھا تہ و بالا  
مشعل نہ ٹھہرتی تھی، نہ شمعوں کا اجالا  
خیمہ بھی اندھیرے میں نظر آتا تھا کالا  
خاک اڑتی تھی منہ پر، حرم شیر خدا کے  
تھا چیں بجبیں فرش بھی جھونکوں سے ہوا کے  

[6](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/01/6)

جنگل کی ہوا، اور درندوں کی صدائیں  
تھراتی تھیں بچوں کو چھپائے ہوئے مائیں  
دھڑکا تھا کہ دہشت سے نہ جانے کہیں جائیں  
روتی تھی کوئی، اور کوئی پڑھتی تھی دعائیں  
گودوں میں بھی راحت نہ ذرا پاتے تھے بچے  
جب بولتے تھے شیر تو ڈر جاتے تھے بچے  

[7](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/01/7)

بچوں کے بلکنے پہ حرم کرتے تھے زاری  
غش ہو گئی تھی بالی سکینہؔ کئی باری  
چلاتی تھی رو رو کے وہ شبیرؔ کی پیاری  
یا حضرت عباسؔ چلی جان ہماری  
افسوس کہ پانی کا تو قطرہ نہیں گھر میں  
اور آگ لگی ہے مرے ننھے سے جگر میں  

[8](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/01/8)

تھی سب سے سوا، بنت علی، مضطر و بیتاب  
فق ہو گیا تھا شام سے منہ صورت مہتاب  
مژگاں سے رخ پاک پہ تھی، بارش خوں ناب  
تلوار کلیجے پہ چلے جب تو کہاں تاب  
اِک کرب تھا بسمل کی طرح جان حزیں پر  
اٹھتی تھی کبھی اور کبھی گرتی تھی زمیں پر  

[9](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/01/9)

کہتی تھی کبھی، آج پیمبر نہیں ہے ہے  
حال اپنا دکھاؤں کسے حیدرؔ نہیں ہے ہے  
بیٹی پہ فلک ٹوٹا ہے، مادر نہیں ہے ہے  
شبیرؔ مصیبت میں تھے، شبرؔ نہیں ہے ہے  
دیکھا نہ سنا یہ جو ستم آج ہے لوگو  
نازوں کا پلا پانی کو محتاج ہے لوگو  

[10](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/01/10)

در پیش ہے کل فوج سمتگر سے لڑائی  
یاں تھوڑے سے پیاسے ہیں، ادھر ساری خدائی  
بے سر دیے رن سے نہ پھرے گا مرا بھائی  
ہو جائے گی حیدرؔ کے بھرے گھر کی صفائی  
اس غم سے سدا اشکوں سے منہ دھوتی تھیں اماں  
کل دن وہ ہے جس دن کے لئے روتی تھی اماں  

[11](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/01/11)

تھے دوسرے خیمہ میں ادھر سبط پیمبر  
دربار میں حاضر تھے رفیقان دلاور  
اک پہلو میں قاسمؔ تھے اور اک پہلو میں اکبرؔ  
اکبرؔ کے ادھر لخت دل زینب مضطر  
شبیرؔ محبت سے سخن کرتے تھے سب سے  
عباسؔ علی سامنے بیٹھے تھے ادب سے  

[12](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/01/12)

سر گرم تھے مر جانے پہ، سب شاہ کے انصار  
عباس سے یہ کہتا تھا، وہ کل کا مدد گار  
تم رہیو ذرا خیمۂ ناموس سے ہشیار  
ڈر ہے نہ کرے بے ادبی لشکر کفار  
بے دینوں کو راحت مری منظور نہیں ہے  
شب خوں جو ادھر سے ہو، تو کچھ دور نہیں ہے  

[13](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/01/13)

یہ ذکر ابھی تھا کہ یکایک خبر آئی  
اے چاند ید اللہ کے، شب دوپہر آئی  
حضرت کو ستاروں کی جو گردش نظر آئی  
دل یاد خدا کرنے لگا، چشم بھر آئی  
فرمایا بڑا اجر ہے، بیدارئ شب کا  
اے تشنہ لبو وقت ہے یہ طاعت رب کا  

[14](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/01/14)

اب عمر بھی آخر ہے، نمازیں بھی ہیں آخر  
بے توشہ پہونچتا نہیں، منزل پہ مسافر  
ہر وقت ہے ربِ دو جہاں حاضر و ناظر  
اجر ان کے مضاعف ہیں جو ہیں صابر و شاکر  
مشکل نہ کسی رنج کو سمجھے نہ بلا کو  
بندہ وہی بندہ ہے جو بھولے نہ خدا کو  

[15](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/01/15)

نام اس کا رہے ورد، سفر ہو کہ حضر ہو  
موجود سمجھ لے اسے جنگل ہو کہ گھر ہو  
سجدے ہی کرے دکھ میں کہ راحت میں بسر ہو  
تسبیح میں شب ہو، تو نمازوں میں سحر ہو  
عشق گل تر ظلم کے خاروں میں نہ بھولے  
معشوق کو تلواروں کی دھاروں میں نہ بھولے  

[16](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/01/16)

چومے لب سوفار، جو سینے پہ لگیں تیر  
دم عشق کا بھرتا رہے زیر دم شمشیر  
زخموں کو یہ سمجھے، کہ ملا گلشن توقیر  
تکبیر کا نعرہ ہو زباں پر، دم تکبیر  
کٹنے میں رگوں کے نہ صدا آہ کی نکلے  
ہر رنگ میں بو الفت اللہ کی نکلے  

[17](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/01/17)

شہ نے سخن معرفت حق جو سنائے  
اشک آنکھوں میں ہر عاشق صادق کے بھر آئے  
کچھ پیاس کا شکوہ بھی زباں پر نہیں لائے  
سجادے وہیں لا کے دلیروں نے بچھائے  
تکبیریں ہوئیں لشکر اللہ و نبی میں  
سب محو ہوئے یاد جناب احدی میں  

[18](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/01/18)

تسبیح کہیں تھی کہیں سجدے کہیں زاری  
تھا صوت حسن سے کوئی قرآن کا قاری  
کرتا تھا کوئی عرض کہ یا حضرت باری  
اب صبح کو عزت ہے ترے ہاتھ ہماری  
حرمت سے شریک شہدا کیجیو یا رب  
تو حوصلۂ صبر، عطا کیجیو یا رب  

[19](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/01/19)

ہم ہیں ترے محبوب کے پیارے کے مددگار  
مرنے کے لئے آئے ہیں یا چھوڑ کے گھر بار  
یہ بندۂ بے کس ہے مصیبت میں گرفتار  
کر رحم کہ ہے ذات تری راحم و غفار  
فاقوں کے سبب، جسم کی طاقت میں کمی ہے  
تجھ سے طلب قوت ثابت قدمی ہے  

[20](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/01/20)

بے کس ہیں مسافر ہیں، وطن دور ہے، گھر دور  
ہفتم سے ہمیں گھیرے ہے یہ لشکر مقہور  
تیروں سے ہوں غربال کہ تیغوں سے بدن چور  
احمدؔ کے نواسے سے جدائی نہیں منظور  
پھر منہ کسے دکھلائیں جو سردار کو چھوڑیں  
کیوں کر ترے مقبول کی سرکار کو چھوڑیں  

[21](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/01/21)

مردوں کے لئے ننگ ہے تلواروں سے لڑنا  
راحت ہو کہ ایذا، یہیں جینا، یہیں مرنا  
تو چاہے تو مشکل نہیں کچھ سر سے گزرنا  
اے کل کے مدد گار، مدد جنگ میں کرنا  
فاقوں میں ہزاروں سے وغا ہو تو مزا ہے  
کچھ حق نمک ہم سے ادا ہو تو مزا ہے  

[22](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/01/22)

کرتے تھے مناجات ادھر یاور و انصار  
پڑھتے تھے نماز شب ادھر، سید ابرار  
تھی نیت تسبیح بتول جگر افگار  
آواز بکا خیمے سے آنے لگی یک بار  
اکبرؔ سے اشارہ کیا مڑ کر، کہ یہ کیا ہے  
کہ عرض پھوپھی جان کے رونے کی صدا ہے  

[23](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/01/23)

یوں تو کئی راتوں سے وہ ہیں مضطر و بیتاب  
راحت کی نہ صورت ہے نہ آرام کا اسباب  
غش میں جو ذرا بند ہوئے، دیدۂ پر آب  
روتی ہوئی چونکی ہیں، ابھی دیکھ کے کچھ خواب  
نعلین کہیں، چادر پر نور کہیں ہے  
اس وقت سے بسمل کی طرح چین نہیں ہے  

[24](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/01/24)

سب بیبیاں ہیں رو رہیں بچوں کو لیے پاس  
ایک ایک کو اندیشہ ہے، ایک ایک کو وسواس  
جو پوچھتا ہے وجہ تو کہتی ہیں بصد یاس  
لوگو مجھے شبیر کے بچنے کی نہیں آس  
مانگو یہ دعا غیب سے بے کس کی مدد ہو  
صدقے کرو مجھ کو کہ بلا بھائی کی رد ہو  

[25](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/01/25)

ان کا تو یہ احوال ہے، اماں کا یہ عالم  
اشکوں کی جھڑی آنکھوں سے تھمتی نہ تھی اِک دم  
اصغرؔ کی بھی ہے فکر، سکینہ کا بھی ہے غم  
شش ماہ کا بچہ بھی ہوا جاتا ہے بے دم  
گودی میں اٹھائیں اُسے یا اس کو سنبھالیں  
دو روز کے فاقے میں وہ کس کس کو سنبھالیں  

[26](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/01/26)

رو آتی ہیں عابدؔ کے سرہانے کبھی جا کر  
گہوارۂ اصغرؔ پہ کبھی گرتی ہیں آ کر  
قرآں کی ہوا دیتی ہیں غش میں اسے پا کر  
بہلاتی ہیں، بیٹی کو کبھی اشک بہا کر  
وہ کہتی ہے تا صبح یوں ہی روؤں گی اماں  
بابا ہی جب آویں گے تو میں سوؤں گی اماں  

[27](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/01/27)

بتلاؤ شہ جن و بشر کیوں نہیں آتے  
اب رات بہت کم ہے، پدر کیوں نہیں آتے  
آزردہ ہیں کچھ مجھ سے، ادھر کیوں نہیں آتے  
کیا آج وہیں سوئیں گے، گھر کیوں نہیں آتے  
اب پیاسوں کی فریاد بھی بابا نہیں سنتے  
حضرت مرے رونے کی صدا کیا نہیں سنتے  

[28](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/01/28)

رو کر علیؔ اکبر نے جو کی شہ سے یہ تقریر  
پڑھتے ہوئے تسبیح گئے، حضرت شبیرؔ  
دیکھی جو نہ تھی دیر سے وہ چاند سی تصویر  
قدموں پہ محبت سے گری دوڑ کے ہمشیر  
بیتاب جو پایا بہت اس تشنہ دہن کو  
شبیرؔ نے لپٹا لیا چھاتی سے بہن کو  

[29](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/01/29)

فرمایا بہن تم نے بنایا ہے یہ کیا حال  
نہ سر پہ عصابہ ہے نہ چادر ہے نہ رومال  
ماتھا ہے بھرا خاک سے بکھرے ہوئے ہیں بال  
پیٹو نہیں، جیتا ہے ابھی فاطمہؔ کا لال  
دم تن سے مرا کٹ کے نکل جائے گا زینبؔ  
رو لیجیو جب رونے کا وقت آئے گا زینبؔ  

[30](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/01/30)

جیتا ہوں میں اور آہ ابھی سے یہ تلاطم  
یہ کرب یہ دکھ درد، یہ زاری یہ تظلم  
ہوتے ہیں مرے ہوش و حواس آئے ہوئے گم  
خنجر کے تلے دیکھو گی کس طرح مجھے تم  
بس صبر کرو جی سے گذر جائیں گے بچے  
تڑپو گی تم اس طرح تو مر جائیں گے بچے  

[31](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/01/31)

تلوار کسی نے ابھی تولی نہیں مجھ پر  
سینہ ابھی تیروں سے مشبک نہیں خواہر  
گردن پہ کسی نے ابھی پھیرا نہیں خنجر  
مر جائے گا بھائی تمہیں ثابت ہوا کیوں کر  
ہر چند کہ ساعت نہیں ٹلتی ہے قضا کی  
بچ جاؤں تو کیا دور ہے قدرت سے خدا کی  

[32](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/01/32)

زینبؔ نے کہا خوش ہوں جو میری اجل آئے  
بھائی تمہیں اللہ اس آفت سے بچائے  
خالق مجھے عابدؔ کی یتیمی نہ دکھائے  
بھائی کی بلا لے کے بہن خلق سے جائے  
وسواس طبیعت کو بہلنے نہیں دیتا  
بے چین ہے دل مجھ کو سنبھلنے نہیں دیتا  

[33](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/01/33)

آتا ہے سکینہؔ کی یتیمی کا، مجھے دھیان  
ہر وقت بھرا گھر نظر آ جاتا ہے، ویران  
سمجھانے سے کچھ دل جو بہلتا ہے، میں قربان  
پھر جاتا ہے آنکھوں کے تلے موت کا سامان  
بازو مرے کسنے کو رسن لاتا ہے کوئی  
سر پر سے ردا کھینچے لئے جاتا ہے کوئی  

[34](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/01/34)

منہ ڈھانپ کے بستر پہ جو سو جاتی ہوں دم بھر  
تو چاک گریباں نظر آتے ہیں پیمبر  
اماں کبھی چلاتی ہیں یوں کھولے ہوئے سر  
بیٹی نہ بچے گا ترا مظلوم برادر  
کیا لیٹی ہے بستر پہ کدھر دھیان ہے زینبؔ  
شپیر اسی رات کا مہمان ہے زینبؔ  

[35](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/01/35)

یہ ذکر ابھی تھا کہ سکینہؔ نے پکارا  
سونا تو گیا آپ کے ہمراہ ہمارا  
میں جاگتی ہوں اور جہاں سوتا ہے سارا  
گردوں پہ چمکنے نہ لگے صبح کا تارا  
نیند آئی ہے بیٹی کو سلا جایئے بابا  
بس ہو چکیں باتیں اب ادھر آیئے بابا  

[36](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/01/36)

حضرت نے کہا میں تِری آواز کے قرباں  
اللہ تم اب تک نہیں سوئی ہو مری جاں  
غربت میں کہاں راحت و آرام کا ساماں  
بن باپ کے تم کو تو نہیں چین کسی آں  
اچھی نہیں عادت یہ نہ رویا کرو بی بی  
پہلو میں کبھی ماں کے بھی سویا کرو بی بی  

[37](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/01/37)

کیا ہووئے جو ہم گھر میں کسی شب کو نہ آئیں  
مجبور ہوں ایسے کہ تمہیں چھوڑ کے جائیں  
تم پاؤ نہ ہم کو، نہ تمہیں ہم کہیں پائیں  
بی بی کہو پھر چھاتی پہ کس طرح سلائیں  
جنگل میں بہت قافلے لٹ جاتے ہیں، بی بی  
برسوں جو رہے ساتھ وہ چھٹ جاتے ہیں، بی بی  

[38](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/01/38)

جب عمر تھی کم، ہم بھی چھٹے تھے یونہی ماں سے  
سوتے تھے لپٹ کر یوں ہی، خاتون جناں سے  
کوچ ان کا ہوا سامنے آنکھوں کے جہاں سے  
ماتم سے ملیں وہ، نہ بکا سے، نہ فغاں سے  
یہ داغ یہ اندوہ و الم سب کے لئے ہیں  
ماں باپ زمانے میں سدا کس کے جیے ہیں  

[39](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/01/39)

رستہ وہ اجل کا ہے کہ ہوتا ہی نہیں بند  
کوچ آج پدر کا ہے تو کل جائے گا فرزند  
ہوتا ہے قلق فرقت اولاد میں وہ چند  
کیا زور ہے بندے کا، جو مرضیٔ خداوند  
جو آئے ہیں دنیا میں وہ سب کوچ کریں گے  
اس زیست کا انجام یہی ہے کہ مریں گے  

[40](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/01/40)

یہ کہتے تھے حضرت کی صدا آئی اذاں کی  
گلدستۂ اسلام پہ، بلبل نے فغاں کی  
اک دم میں بہار اور ہوئی باغ جہاں کی  
تلوار چلی گلشن انجم پہ خزاں کی  
مہتاب ہوا گم فلک نیلوفری سے  
پھولا گل خورشید، نسیم سحری سے  

[41](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/01/41)

گرمی کی سحر اور وہ پھولوں کا مہکنا  
مرغان چمن کا وہ درختوں پہ چہکنا  
انجم کا وہ چھپنا کبھی اور گاہ چمکنا  
وہ سرد ہوا اور وہ سبزے کا لہکنا  
اس دشت میں روتی تھی جو شبنم شہ دیں پر  
تھا موتیوں کا فرش زمرد کی زمیں پر  

[42](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/01/42)

جلوہ وہ دم صبح کا، وہ نور کا عالم  
دلچسپ صدا نوبت و شہنا کی، وہ باہم  
سرخی وہ شفق کی، افق چرخ پہ کم کم  
وہ گل کے کٹوروں پہ در افشانیٔ شبنم  
خشکی میں بھی سردی سے ترائی کا سماں تھا  
پر مالک گلزار جناں، تشنہ دہاں تھا  

[43](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/01/43)

لشکر میں ادھر مورچے بندی کی ہوئی دھوم  
یاں فرض ادا کرنے لگے عاشق قیوم  
پیچھے تو جماعت تھی اور آگے شہ مظلوم  
صف بستہ ملائک ہیں، یہی ہوتا تھا معلوم  
سب ساجد و راکع تھے شہنشاہ کے ہمراہ  
تاباں تھے بہتر مہ نو ماہ کے ہمراہ  

[44](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/01/44)

خیمہ تھا فلک، آپ قمر، دوست ستارے  
تارے بھی وہ تاروں کو فلک جن پہ اتارے  
خم ہو گیا تھا، پیر فلک شرم کے مارے  
کہتی تھی زمیں، اوج ہے طالع کو ہمارے  
خورشید نہیں روشنیٔ نیر دیں ہے  
خود عرش کو دھوکا تھا، یہ میں ہوں کہ زمیں ہے  

[45](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/01/45)

جو صف ہے وہ اک سطر ہے قران مبیں کی  
دیوار ہے قبلہ کی طرف، کعبۂ دیں کی  
کیا خوب جماعت ہے یہ ارباب یقیں کی  
افلاک کی زینت ہے تو رونق ہے زمیں کی  
کس طرح شہنشاہ سے وہ فوج جدا ہو  
مشکل ہے کہ دریا سے کہیں موج جدا ہو  

[46](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/01/46)

اس دم تھی یہ آواز پس پردۂ قدرت  
اے قدسیو دیکھو مرے بندوں کی عبادت  
نہ پیاس کا شکوہ ہے، نہ فاقوں کی شکایت  
یہ زہد، یہ تقویٰ، یہ اطاعت، یہ ریاضت  
کونین میں یہ صاحب اقبال و شرف ہیں  
عالم ہوں کہ ان لوگوں کے دل میری طرف ہیں  

[47](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/01/47)

کس عجز سے آگے مرے حاضر ہیں یہ بندے  
دیکھو مرے محبوب کے ناصر ہیں، یہ بندے  
مظلوم ہیں بے کس ہیں مسافر ہیں یہ بندے  
تھوڑے نہ ہوں کس طرح کے شاکر ہیں یہ بندے  
صادق ہیں ولی سے مرے ان سب کو ولا ہے  
ان کا وہ صلہ ہے جو رسولوں کا ملا ہے  

[48](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/01/48)

پرسش نہ لحد میں نہ حساب اُن کے لئے ہے  
یہ لائق رحمت ہیں، ثواب اُن کے لئے ہے  
موتی سے جو ہے صاف، وہ آب اُن کے لئے ہے  
میں جس کا ہوں ساقی، وہ شراب اُن کے لئے ہے  
اس نخل ریاضت کے ثمر اُن کو ملیں گے  
جو عرش کے نیچے ہیں وہ گھر اُن کے ملیں گے  

[49](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/01/49)

فارغ جو صلوٰۃ سحری سے ہوئے دیں دار  
پوشاک پہننے کو اٹھے سید ابرار  
فرمانے لگے حضرت عباسؔ علمدار  
ہاں غازیو اب تم بھی سجو جنگ کے ہتھیار  
قرباں تمہیں ہونا ہے محمدؔ کے پسر پر  
کمروں کو کسو، گلشن جنت کے سفر پر  

[50](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/01/50)

آمادۂ شر لشکر کفار ہے کل سے  
ہونا ہے تمہیں آج، ہم آغوش اجل سے  
در پیش ہے جنگ و جدل اس فوج کے دَل سے  
آقا بھی کوئی دم میں نکلتے ہیں محل سے  
ہاں صف شکنو وقت ہے نصرت کی دعا کا  
کھلتا ہے پھریرا علم فوج خدا کا  

[51](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/01/51)

ہم لوگ اسی روز کے مشتاق ہیں، کب سے  
اب ہوگی ملاقات شہنشاہ عرب سے  
سیدانیاں تم سب کو دعا دیتی ہیں شب سے  
صف باندھ کے آؤ، درِ دولت پہ ادب سے  
فردوس میں نانا سے حضور آج ملیں گے  
کوثر پہ تمہیں خلعت نور آج ملیں گے  

[52](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/01/52)

اس مژدہ کو سنتے ہی مسلح ہوئے غازی  
اصطبل سے آنے لگے جراروں کے تازی  
شیر صف جنگاہ تھا، ایک ایک نمازی  
نعرے تھے کہ قربان شہنشاہ حجازی  
ڈیوڑھی پہ شگفتہ تھا چمن خلد بریں کا  
خیمہ میں تلاطم تھا وداع شہ دیں کا  

[53](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/01/53)

تھے گرد حرم بیچ میں وہ عاشق حق تھا  
مانند سحر رنگ ہر اک بی بی کا فق تھا  
بانوے دو عالم کا جگر سینے میں شق تھا  
زینب یہ تڑپتی تھی کہ حضرت کو قلق تھا  
شبیرؔ کے پہلو سے نہ ہٹتی تھی سکینہؔ  
بڑھتے تھے تو دامن سے لپٹتی تھی سکینہؔ  

[54](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/01/54)

شہ کہتے تھے بی بی ہمیں اب جانے دو گھر سے  
سینہ مرا شق ہوتا ہے، لپٹو نہ پدر سے  
وہ کہتی تھی سایہ جو یہ اٹھ جائے گا سر سے  
ہے ہے میں تمہیں ڈھونڈ کے لاؤں گی کدھر سے  
بیٹی کا سوا آپ کے کوئی نہیں بابا  
شب بھر میں اسی خوف سے سوئی نہیں بابا  

[55](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/01/55)

سمجھاتے تھے حضرت کہ میں صدقے مری پیاری  
میداں سے ابھی آئیں گے ہم تو کئی باری  
وہ کہتی تھی میں آپ کی مظلومی کی واری  
ساماں نظر آتا ہے یتیمی کا ہماری  
در پیش لڑائی نہیں گر فوج شقی سے  
کیوں آپ سفارش مری کرتے تھے پھوپھی سے  

[56](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/01/56)

اب آپ کے جانے سے تو ثابت ہے نہ آنا  
کیوں کہتے تھے زینب اسے چھاتی سے سلانا  
بانو مرے پیچھے، نہ سکینہ کو رلانا  
پانی جو میسر ہو تو پیاس اس کی بجھانا  
بہلائیو جب رو کے مجھے یاد کرے گی  
تڑپوں گا لحد میں جو یہ فریاد کرے گی  

[57](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/01/57)

میں سنتی تھی عابدؔ سے جو کچھ کی تھی وصیت  
اس گھر کی تباہی کی خبر دیتے تھے حضرت  
ہے ہے یہ مری عمر یہ صدمہ یہ مصیبت  
لے لو مجھے ہمراہ، گوارہ نہیں فرقت  
ساتھ آپ کے جاؤں گی جو اس دار محن سے  
کوئی مری گردن تو نہ باندھے گا رسن سے  

[58](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/01/58)

نادان کی ان باتوں پہ گھر روتا تھا سارا  
ماتم میں کسی دل کو نہ تھا، صبر کا یارا  
حضرت کو بھی فرقت تھی نہ بیٹی کی گوارا  
ڈیوڑھی تک اسے گود سے اپنی نہ اتارا  
جس دم وہ چھٹی، جیتے ہی جی مرگئے شپیرؔ  
کس درد سے روتے ہوئے باہر گئے شپیرؔ  

[59](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/01/59)

جس دم در دولت پہ امیر امم آیا  
پیٹے یہ حرم گھر میں کہ ہونٹوں پہ دم آیا  
تسلیم کو اسلام کا، لشکر بہم آیا  
کس صولت و اقبال و حشم سے علم آیا  
جاتی تھی لچکنے میں ضیا عرش تک اس کی  
خورشید کو پنجہ میں لئے تھی چمک اس کی  

[60](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/01/60)

آپس میں یہ کہتے تھے رفیقان دلاور  
دیکھیں یہ ہُما سایہ فگن ہوتا ہے کس پر  
اکبرؔ کے تو ہے نام پہ سالاریٔ لشکر  
عباسؔ کو دیں گے شہ دیں منصب جعفرؔ  
اِک عشق ہے اس شیر سے سلطان امم کو  
بھائی کو کبھی دیکھتے ہیں، گاہ علَم کو  

[61](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/01/61)

زینبؔ کے پسر مشورہ یہ کرتے تھے باہم  
کیوں بھائی علَم لینے کو ماموں سے کہیں ہم  
تائید خدا چاہئے گو عمر میں ہیں کم  
عہدہ تو ہمارا ہے یہ آگاہ ہے عالم  
واقف ہیں سبھی حیدرؔ و جعفرؔ کے شرف سے  
حق پوچھو تو حقدار ہیں ہم دونوں طرف سے  

[62](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/01/62)

دادا بھی علمدار ہے، نانا بھی علم دار  
ہم اپنے بزرگوں کے ہیں، منصب کے طلب گار  
کہتا تھا بڑا عرض کا موقع نہیں زنہار  
ہیں بادشہ کون و مکاں مالک و مختار  
عہدہ تو بڑا یہ ہے کہ ماموں پہ فدا ہوں  
چپکے رہو، اماں نہ کہیں سن کے خفا ہوں  

[63](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/01/63)

مطلب نہ علم سے نہ حشم سے ہمیں کچھ کام  
مٹ جائیں نشاں، بس یہی عہدہ ہے یہی نام  
یہ سر ہوں نثار قدم شاہ خوش انجام  
عزت رہے بھائی، یہ دعا ہے سحرو شام  
آقا جسے چاہیں علم فوج خدا دیں  
مشتاق اجل ہیں ہمیں مرنے کی رضا دیں  

[64](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/01/64)

روتی تھی جو پردے کے قریں زینبؔ دلگیر  
سب اس نے مفصل یہ سنی بیٹوں کی تقریر  
فضہؔ سے یہ کہنے لگی، وہ صاحب توقیر  
دونوں کو اشارے سے بلا لے کسی تدبیر  
کچھ کہنا ہے سن لیں اسے فرصت انہیں گر ہو  
عباسؔ نہ دیکھیں نہ شہ دیں کو خبر ہو  

[65](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/01/65)

یہ کہتی تھی زینبؔ کہ خود آئے وہ نکو کار  
چھوٹے سے یہ فرمانے لگیں زینبؔ ناچار  
کیا باتیں ابھی بھائی سے تھیں، اے مرے دلدار  
اس وقت میں ہو کون سے منصب کے طلب گار  
سمجھے نہ کہ مادر عقب پردہ کھڑی ہے  
گھر لٹتا ہے میرا، تمہیں منصب کی پڑی ہے  

[66](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/01/66)

اللہ بڑا عزم کیا، باندھ کے تلوار  
بچو! تمہیں ایسا نہ سمجھتی تھی میں زنہار  
دیکھو ابھی تم دونوں سے ہو جاؤں گی بے زار  
کچھ کہیو نہ ماموں سے خبردار! خبردار  
کیا دخل تمہیں امر میں سلطان امم کے  
دیکھوں گی نہ پھر منہ، جو گئے پاس علم کے  

[67](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/01/67)

کچھ اور ہی تیور ہیں علم نکلا ہے جب سے  
تم کون ہو جو آگے بڑھے جاتے ہو سب سے  
استادہ ہو، جا کر عقب شاہ، ادب سے  
عہدہ ہے یہ جس کا مجھے معلوم ہے شب سے  
اس امر میں خاطر نہ کریں، اور کسی کی  
میں خوش ہوں بجا لائیں وصیت کو علیؔ کی  

[68](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/01/68)

دو روز سے بھائی پہ مرے ظلم و ستم ہے  
تم فکر علم میں ہو مجھے سخت الم ہے  
چھوٹے سے ہیں قد، سِن بھی تمہارا ابھی کم ہے  
کھیل اس کو نہ سمجھو یہ محمدؔ کا علم ہے  
ہرگز نہ ابھی کچھ شہِ ذی جاہ سے کہنا  
کہنا بھی تو رخصت کے لئے شاہ سے کہنا  

[69](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/01/69)

مانا کہ پہونچتا ہے تمہیں منصب جعفرؔ  
آقا کی غلامی سے ہے عہدہ کوئی بڑھ کر  
چھوٹا مرا بھائی بھی ہے، بیٹوں کے برابر  
عاشق کا تو عاشق ہے، برادر کا برادر  
بگڑوں گی گلہ گر کوئی اسلوب کرو گے  
عباس سے کیا تم مجھے ممجوب کرو گے  

[70](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/01/70)

زینبؔ نے عتابانہ جو کی ان سے یہ گفتار  
یوں کہنے لگے، جوڑ کے ہاتھوں کو وہ دلدار  
شاہوں سے غلاموں نے بھی کی ہے، کبھی تکرار  
مالک ہیں جسے چاہیں علم دیں، شہ ابرار  
رخصت کے لئے تیغ و سپر باندھے ہوئے ہیں  
ہم صبح سے مرنے پہ کمر باندھے ہوئے ہیں  

[71](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/01/71)

زینبؔ نے کہا لے کے بلائیں کہ سدھارو  
بس اب مرا دل شاد ہوا اے مرے پیارو  
ماں صدقے گئی، سر قدم شاہ پہ وارو  
ہو عید مجھے گر عمرؔ و شمرؔ کو مارو  
یہ وقت ہے امداد امام ازلی کا  
دے چھوٹے سے ہاتھوں میں خدا زور علیؔ کا  

[72](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/01/72)

صدقے گئی سن لو کہ میں کہتی ہوں جتا کر  
تم پہلے فدا کیجیو سر شہ کے قدم پر  
میدان میں زخمی ہوئے گر قاسمؔ و اکبرؔ  
پھر تم مرے فرزند نہ میں دونوں کی مادر  
جب دل ہوا ناراض تو فرزند کہاں کے  
کس کام کا وہ لعل جو کام آئے نہ ماں کے  

[73](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/01/73)

ان میں سے اگر رن کی طرف ایک سدھارا  
زہراؔ کی قسم منہ نہ میں دیکھوں گی تمہارا  
جس وقت سنوں گی کہ سر ان دونوں نے وارا  
اس وقت تمہیں ہوگا مرا دودھ گوارا  
بے جاں ہوئے بعد ان کے، تو ماتم نہ کروں گی  
دیکھو جو مروں گی بھی تو ناراض مروں گی  

[74](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/01/74)

ہیں دونوں بھتیجے، مرے پیارے مرے محبوب  
تم ان پہ تصدق ہو، یہی ہے مجھے مطلوب  
جینا نہیں بہتر کسی صورت، کسی اسلوب  
بے سر دیے دودھ اپنا میں بخشوں تمہیں، کیا خوب  
ایذا جو اٹھاؤ گے تو راحت بھی ملے گی  
جب آئیں گی لاشیں تو یہ دولت بھی ملے گی  

[75](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/01/75)

دیکھو کہے دیتی ہوں خبردار! خبردار  
جیتے جو رہے دودھ نہ بخشوں گی میں زنہار  
شیروں کے یہ ہیں کام کھنچے جس گھڑی تلوار  
رکھ دیویں گلا بڑھ کے، تہِ خنجرِ خوں خوار  
توڑی ہیں صفیں جنگ میں جب کھیت پڑے ہیں  
جنات کے لشکر سے علیؔ یوں ہی لڑے ہیں  

[76](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/01/76)

اعدا کو مرے دودھ کی تاثیر دکھاؤ  
اجلالِ حسن شوکتِ شبیر دکھاؤ  
جعفرؔ کی طرح جوہرِ شمشیر دکھاؤ  
تن تن کے ید اللہ کی تصویر دکھاؤ  
خورشیدِ امامت سے قرابت میں قریں ہو  
تم شیر ہو شیروں کے حسینوں کے حسیں ہو  

[77](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/01/77)

جعفر سے نمودار کے دلبر ہو دلیرو  
حیدر سے دلاور کے دلاور ہو دلیرو  
جرار ہو، کرار ہو، صفدر ہو دلیرو  
ضرغام ہو، ضیغم ہو، غضنفر ہو دلیرو  
تیروں سے جوانوں کے جگر توڑ کے آؤ  
خیبر کی طرح کوفے کا در توڑ کے آؤ  

[78](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/01/78)

خندق کی لڑائی کی طرح جنگ کو جھیلو  
بچے اسد اللہ کے ہو، جان پہ کھیلو  
تیغوں میں دھنسو، چھاتیوں سے نیزوں کو ریلو  
کوفے کو تہِ تیغ کرو، شام کو لے لو  
دو اور جلا آئینۂ تیغِ عرب کو  
لو روم کو قبضے میں تو قابو میں حلب ہے  

[79](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/01/79)

خاقاںؔ کا رہا تخت نہ قیصرؔ کا رہا تاج  
ہاں غازیو! چین و حبش و زنگ سے لو باج  
چڑھنا ہے لڑائی پہ جواں مردوں کو معراج  
گیتی تہ و بالا ہو وہ تلوار چلے آج  
یوں آئیو چار آئینہ پہنے ہوئے بر میں  
جس طرح علیؔ بعد ظفرؔ آتے تھے گھر میں  

[80](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/01/80)

میلے نہ ہوں تیور، یہ سپاہی کے ہنر ہیں  
جس کے ہیں، بس اس کے ہیں، جدھر ہیں بس ادھر ہیں  
گہ عطر میں ڈوبے ہیں، گہے خون میں تر ہیں  
صحبت میں مصاحب ہیں، لڑائی میں سپر ہیں  
وہ اور کسی سے نہ جھکیں گے نہ جھکے ہیں  
عزت میں نہ فرق آئے کہ سر بیچ چکے ہیں  

[81](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/01/81)

یہ سن کے جو نکلے وہ جری خیمے سے باہر  
کس پیار سے منہ دونوں کا تکنے لگے سرور  
اکبرؔ نے یہ کی عرض کہ اے سبطِ پیمبر  
تیار ہے سب قبلۂ کونین کا لشکر  
جلدی ہے لڑائی کی ادھر فوجِ ستم کو  
ارشاد جسے ہو وہ بڑھے لے کے علم کو  

[82](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/01/82)

شہ بولے کہ عباسِؔ دلاور کو بلاؤ  
پیارے مرے محبوب برادر کو بلاؤ  
عاشق کو مددگار کو یاور کو بلاؤ  
جلدی مرے حمزہؔ مرے جعفرؔ کو بلاؤ  
یہ اوج، یہ رتبہ، یہ حشم اس کے لئے ہے  
زیب اس سے علم کی ہے، علم اس کے لئے ہے  

[83](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/01/83)

سب تکنے لگے صورتِ عباس فلک جاہ  
نازاں ہوا خود اوج پہ اپنے علمِ شاہ  
یعنی مرا عامل ہے نشانِ اسد اللہ  
بالیدہ تھا پرچم، تو پھریرا تھا ہوا خواہ  
جان آ گئی تھی سنتے ہی اس خوشخبری کو  
پنجہ بھی اشارے سے بلاتا تھا جری کو  

[84](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/01/84)

خوش ہو کے یہ عمّو کو پکارے علیؔ اکبر  
جلد آیئے یاد آپ کو فرماتے ہیں سرور  
حاضر ہوا جوڑے ہوئے ہاتھوں کو ہو صفدر  
ارشاد کیا شہ نے علم بھائی کو دے کر  
رکھیے اسے کاندھے پہ، یہ ہے آپ کا عہدہ  
لو بھائی مبارک ہو تمہیں باپ کا عہدہ  

[85](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/01/85)

بوسہ دیا عباسِؔ دلاور نے علم پر  
تسلیم کی اور رکھ دیا سر شہ کے قدم پر  
کی عرض کہ قربان اس الطاف و کرم پر  
سو سر ہوں تو صدقے میں شہنشاہِ امم پر  
ادنیٰ جو ابھی تھا اسے اعلیٰ کیا مولا  
قطرے کو ترے فیض نے دریا کیا مولا  

[86](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/01/86)

اس چترِ فلک قدر کا سایہ مرے سر پر  
اس دھوپ میں ہوگا، پہ پھریرا مرے سرپر  
یہ ابر مِرے سر پہ، یہ طوبیٰ مرے سر پر  
قائم رہیں لاکھوں برس آقا مرے سر پر  
سلطانِ دو عالم کی غلامی کے صلے ہیں  
سب اوج یہ نعلین اٹھانے سے ملے ہیں  

[87](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/01/87)

حضرت نے کہا رو کے یہ کیا کہتے ہو پیارے  
حاضر ہے اگر جان بھی کام آئے تمہارے  
حصہ یہ تمہارا تھا سو پہونچا تمہیں بارے  
مالک ہو تمہیں، ہم تو ہیں اب گور کنارے  
تھا دل میں جو کچھ وہ بخدا ہو نہیں سکتا  
بھائی ترا حق مجھ سے ادا ہو نہیں سکتا  

[88](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/01/88)

یہ کہہ کے بڑھے سرورِ دیں جانبِ توسن  
ہتیار لگائے ہوئے، پہنے ہوئے جوشن  
اسوار ہوئے آپ، جو گردان کے دامن  
اللہ رے ضیا، خانۂ زیں ہو گیا روشن  
وہ پاؤں رکابوں کے لئے باعثِ ضو تھے  
خورشید کے قدموں کے تلے دو مہِ نو تھے  

[89](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/01/89)

رانوں کے اشارے سے لگا کوندنے، شبدیز  
اسوار کے دل کا تھا اشارہ اسے مہمیز  
گرما کے جو شبیرؔ نے تازی کو کیا تیز  
اعدا پہ چلا غول سواروں کا، جلو ریز  
ایک ایک جوانِ عربی، رشکِ ملک تھا  
اللہ کے لشکر کا علم، سر بہ فلک تھا  

[90](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/01/90)

کیا فیضِ سواری تھا کہ زر ریز تھی سب راہ  
طالع تھا ادھر مہر، ادھر تھا علم شاہ  
مابین دو خورشید تھی، فوجِ شہِ ذی جاہ  
پنجے پہ تجلی تھی، کہ اللہ ہی اللہ  
بالا تھی چمک، مہرِ منور کی چمک پر  
ضو اس کی زمیں پر تھی، ضیا اس کی فلک پر  

[91](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/01/91)

ایک ایک جواں، زیورِ جنگی کو سنوارے  
نیزوں کی چمک اور وہ سمندر کے طرارے  
جعفرؔ کے جگر بند، ید اللہ کے پیارے  
رستم سے ہر اک جنگ کرے شیر کو مارے  
سیاف ہو مرحبؔ سا، تو شمشیر سے ماریں  
ارجنؔ سے کماندار کو، اک تیر سے ماریں  

[92](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/01/92)

کم سن کئی لڑکوں کا جدا غول تھا سب سے  
سوئے بھی نہ تھے، ولولۂ جنگ میں ، شب سے  
رو کے ہوئے باگوں کو، شہِ دیں کے ادب سے  
اعدا کی طرف دیکھتے تھے، چشمِ غضب سے  
ہتھیار جو باندھے تھے تو کیا تن پہ کُھلے تھے  
سب نیمچے تولے ہوئے مرنے پہ تُلے تھے  

[93](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/01/93)

وہ چاند سا منہ، اور وہ گورے بدن، ان کے  
شرمندہ ہو غنچے بھی، وہ نازک دہن ان کے  
یوسف کی طرح عطر فشاں پیرہن ان کے  
مرکر وہی کپڑے ہوئے آخر کفن ان کے  
کیا حسنِ عقیدت تھا عجب دل کے جواں تھے  
آقا پہ فِدا ہونے کو سب ایک زباں تھے  

[94](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/01/94)

عمریں تو کم و بیش، یہ سب گیسوؤں والے  
اِک غول میں تھے چاند کئی اور کئی ہالے  
ذی مرتبہ سیدانیوں کو گود کے پالے  
غنچہ تھا وہ سب، اکبرِؔ گل رو کے حوالے  
ان تازہ نہالوں میں نمودار یہی تھے  
اس گلشنِ یک رنگ کے مختار یہی تھے  

[95](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/01/95)

مقتل کو جو پر نور کیا، عسکرِ دیں نے  
دیکھا طرفِ چرخ، حقارت سے زمیں نے  
اونچا نہ کیا سر فلکِ ماہِ جبیں نے  
کی فرش پہ حسرت سے نظر عرشِ بریں نے  
اٹھ اٹھ کے چمک اپنی دکھانے لگے ذرے  
خورشید کے پہلو کو دبانے لگے ذرے  

[96](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/01/96)

کھولا جو پھریرے کو علمدار جری نے  
لوٹے گلِ فردوس، نسیم سحری نے  
تاروں کو اتارا، فلکِ نیلوفری نے  
پرچم جو کھلا کھول دیے بال پری نے  
عیسی نے پکارا کہ نثار اس کے چشم کے  
خورشید نے منہ رکھ دیا پنجے پہ علم کے  

[97](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/01/97)

ترتیبِ صفِ فوج کا جس دم ہوا اعلام  
باندھی علیؔ اکبر نے صفِ لشکرِ اسلام  
ظاہر جو ہوئی شانِ جوانانِ گل اندام  
کوفے کے نشاں جھک گئے، کانپی سپہِ شام  
اللہ رے شوکت شرفا و نجبا کی  
اسلام کا لشکر تھا کہ قدرت بھی خدا کی  

[98](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/01/98)

ناگاہ بجا طبل، بڑھا لشکرِ سفاک  
تا چرخ گیا، غلغلۂ کوسِ شغب ناک  
فریاد سے قرنا کی ہلا گنبد افلاک  
تھرا گیا آوازِ دہل سے کرۂ خاک  
نوبت تھی زبس قتلِ امامِ مدنی کی  
صاف آتی تھی تاشوں سے صدا سینہ زنی کی  

[99](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/01/99)

واں شور تھا باجوں کا ادھر نعرۂ تکبیر  
ایک ایک جری جھومتا تھا تول کے شمشیر  
نگاہ سوئے فوجِ خدا آنے لگے تیر  
عباسؔ علمبدار نے دیکھا رخِ شبیر  
کی عرض کہ لڑنے کو شریر آتے ہیں مولا  
کیا حکم ہے اب پیاسوں پہ تیر آتے ہیں مولا  

[100](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/01/100)

شہ نے کہا شرم آتی ہے کیا حکم میں دوں آہ  
ہفتادِ دو تن یاں ہیں، ادھر سیکڑوں گمراہ  
غازی نے یہ کی عرض کہ اے گل کے شہنشاہ  
یہ شیر نیستانِ علیؔ ہیں، تو وہ روبارہ  
لاکھوں ہیں تو کیا ڈرہے شجاعانِ عرب کو  
اقبال سے آقا کے بھگا دیتے ہیں سب کو  

[101](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/01/101)

فرمایا کہ فاقے سے ہے، سارا مرا لشکر  
پانی نہیں ملتا کہ لبِ خشک کریں تر  
بہتر ہے اگر پہلے کٹے تن سے مرا سر  
غازی نے کہا شیرِ گرسنہ ہیں، یہ صفدر  
حملوں سے الٹ دیں گے پرے فوج عدو کے  
بھوکے ہیں یہ زخموں کے، پیاسے ہیں لہو کے  

[102](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/01/102)

حضرت نے کہا خیر! لڑو فوجِ ستم سے  
معلوم ہے سب آج جدا ہوویں گے ہم سے  
دنیا سے نہ مطلب ہے، نہ کچھ جاہ و حشم سے  
کٹ جائے گا اپنا بھی گلا، تیعِ دو دم سے  
مقبول ہیں وہ، جو مری امداد کریں گے  
اس جنگ کو بھی لوگ، بہت یاد کریں گے  

[103](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/01/103)

جس دم یہ سنی، قبلۂ کونین کی گفتار  
جانباز بڑھے، فوج سے چلنے لگی تلوار  
تھے پیاسوں کے حملے غضبِ حضرتِ قہار  
چوٹی کے جواں بھاگ گئے پھینک کے تلوار  
کون آنکھ ملا سکتا تھا، شیروں سے عرب کے  
جب کرتے تھے نعرے قدم اٹھ جاتے تھے سب کے  

[104](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/01/104)

لڑتا تھا غضب ایک کے بعد ایک وفادار  
دن چڑھتا تھا یاں، گرم تھا واں موت کا بازار  
سر بیچتے تھے، جنسِ شہادت کے طلبگار  
بڑھ بڑھ کے خریدار پہ گرتا تھا خریدار  
لیں پہلے، ہم ایک ایک کی جاں اس کی بڑی تھی  
عقبیٰ کا جو سودا تھا تو قیمت بھی کڑی تھی  

[105](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/01/105)

آیا جو عزیزوں کے لئے موت کا پیغام  
فرزندوں نے جعفرؔ کے بڑے رن میں کئے کام  
اولاد عقیل آ چکی شبیرؔ کے جب کام  
لڑنے کو گئے مسلمِ بیکس کے گل اندام  
تھا حشر بپا ندیاں بہتی تھیں لہو کی  
بچوں نے الٹ دی تھیں صفیں فوجِ عدو کی  

[106](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/01/106)

لشکر میں تلاطم تھا غضب چلتی تھی تلوار  
بیتاب تھے یاں، زینبِ ناشاد کے دلدار  
منہ دیکھ کے حضرت کا یہی کہتے تھے ہر بار  
ہم جائیں گے بعد ان کے سوئے لشکرِ کفار  
جی جائیں جو مولا ہمیں مرنے کی رضا دیں  
ایسا نہ ہو قاسمؔ کو حضور اذنِ وِغا دیں  

[107](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/01/107)

کچھ ان سے کہا چاہتے تھے سرورِ ذی شان  
جو غل ہوا مارے گئے مسلمؔ کے دل و جان  
لاشے بھی ادھر آ چکے، جب خون میں غلطاں  
پھر ہاتھوں کو جوڑا کہ ملے رخصت میداں  
شہ نے کہا یہ داغ تو دشوار ہے ہم پر  
ان دونوں نے سر رکھ دیے ماموں کے قدم پر  

[108](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/01/108)

حضرت نے کہا ماں سے بھی ہو آئے ہو رخصت  
کیا کہتے ہو لٹوا دوں میں ہمشیر کی دولت  
مایہ ہو تمہیں اس کا، تمہیں اس کی بضاعت  
چھوٹے نے یہ حضرت سے کہا تھام کے رقت  
جھوٹے نہیں ہم، آپ ابھی پوچھ لیں سب سے  
اماں تو رضا دے چکی ہیں، مرنے کی شب سے  

[109](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/01/109)

بچوں نے جو کی جوڑ کے ہاتھوں کو یہ تقریر  
ان دونوں کا منہ دیکھ کے رونے لگے شبیرؔ  
فرمایا چھڑاتا ہے، تمہیں بھی فلکِ پیر  
اچھا میں رضا مند ہوں، جو مرضئِ ہمشیر  
وہ سیدۂ پاک نواسی ہے نبی کی  
فیاض کی ہمشیر ہے، بیٹی ہے سخی کی  

[110](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/01/110)

یہ سن کے جھکے آخری تسلیم کو ذی جاہ  
خورشید کے آگے مہ نو بن گئے دو ماہ  
کی سوئے فلک دیکھ کے شبیرؔ نے اک جاہ  
دو شیر چلے گھوڑوں پر چڑھ کر سوئے جنگاہ  
ماں ڈیوڑھی سے چلائی کہ رخصت ہو مبارک  
سرکارِ شہنشاہ سے، خلعت ہو مبارک  

[111](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/01/111)

سلطانِ دو عالم نے مخلع کیا واری  
تم جاتے ہو یا جاتی ہے دولہا کی سواری  
پروان چڑھے، ختم ہوئیں شادیاں ساری  
لو دور سے لیتی ہوں بلائیں، تمہاری  
صدقے گئی نیزوں کو ہلاتے ہوئے جاؤ  
شکلیں مجھے پھر پھر کے دکھاتے ہوئے جاؤ  

[112](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/01/112)

تسلیم کو گھوڑوں سے جھکے، دونوں وہ گل رو  
دل ماں کا یہ امڈا کہ ٹپکنے لگے آنسو  
باگیں جو اٹھائیں تو فرس بن گئے، آہو  
پھر دیکھنے پائی نہ انہیں زینبِ خوش خو  
میداں کی طرف یاس سے ماں رہ گئی تک کر  
پنہاں ہوئے بدلی میں ستارے سے چمک کر  

[113](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/01/113)

میداں میں عجب شان سے وہ شیرِ نر آئے  
گویا کہ بہم حیدرؔ و جعفرؔ نظر آئے  
غل پر گیا حضرت کی بہن کے پسر آئے  
افلاک سے بالائے زمیں دو قمر آئے  
یوسف سے فزوں حسن گرانمایہ ہے ان کا  
یہ دھوپ بیاباں میں نہیں، سایہ ہے ان کا  

[114](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/01/114)

وہ چاند سے منہ، اور وہ گیسوئے معنبر  
وہ بدر سے رخسار، زہے قدرتِ داور  
سب شان یداللہ کی، سب شوکتِ حیدرؔ  
چتون وہی، غصہ وہی، سارے وہی تیور  
یہ دبدبہ کس صاحبِ شمشیر نے دیکھا  
دیکھا جسے، معلوم ہوا شیر نے دیکھا  

[115](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/01/115)

تن تن کے جو شان اپنی دکھاتے تھے وہ ذی جاہ  
چھاتی سے لگا لیتے تھے دونوں کو ید اللہ  
شمشاد سے قامت، نہ دراز اور نہ کوتاہ  
کھیلے ہوئے تیغوں میں فنِ جنگ سے آگاہ  
ناخن سے دلیروں کے سب اندازِ وِغا تھے  
بچے تھے مگر بچۂ ضرغامِ خدا تھے  

[116](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/01/116)

تھے حسن میں ان دونوں کے آئینہ رو ایک  
پیشانی و ابرو و سر و صدر و گلو ایک  
شان ایک، شکوہ ایک، جو رنگ ایک، تو بو ایک  
دل ایک، جگر ایک، جسد ایک، لہو ایک  
اور ان سا کوئی غرب سے تا شرق نہیں ہے  
دو ٹکڑے ہیں اک سیب کے، کچھ فرق نہیں ہے  

[117](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/01/117)

پڑھنے لگے اشعارِ رجز جب وہ دلاور  
اللہ ری فصاحت فصحا ہو گئے ششدر  
ہر بیت تھی دشمن کے لئے تیغِ دو پیکر  
ہر مصرع برجستہ میں تھی تیزئِ خنجر  
دے کون جواب ان کا کہ دم بند تھا سب کا  
واں قافیہ تھا تنگ شجاعانِ عرب کا  

[118](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/01/118)

اظہارِ نسب میں جو محمدؔ کا لیا نام  
سب پڑھنے لگے صلِ علیٰ صاحبِ اسلام  
آگے جو بڑھے نامِ علیؔ کے کے وہ گلفام  
دل ہِل گئے تھرانے لگا روم سے تا شام  
جعفرؔ کا جو کچھ ذکر کیا بعد علیؔ کے  
مجرے کو علم جھک گئے سب فوجِ شقی کے  

[119](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/01/119)

آغاز تھا ذکرِ شرفِ حضرتِ شبیرؔ  
ڈنکے پہ ادھر چوٹ لگی، چلنے لگے تیر  
اس وقت بڑے بھائی نے کی چھوٹے سے تقریر  
تلوار علم کیجئے اب کس لئے تاخیر  
کہتے تو جدا ہو کے ستمگاروں پہ جائیں  
اسواروں میں ہم، آپ کمانداروں پہ جائیں  

[120](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/01/120)

فرمایا بڑے بھائی نے ہنس کر، نہیں بھائی  
تم جان ہو، دشوار ہے دم بھر کی جدائی  
ہو جاتی ہے اِک آن میں، ہر صف کی صفائی  
کر دیتے ہیں سر، کون سی ایسی ہے لڑائی  
بازو ہوں قوی، ہاتھ سے گر ہاتھ نہ چھوٹے  
سر تن سے اتر جائے، مگر ساتھ نہ چھوٹے  

[121](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/01/121)

نانا کی طرح، فوج پہ حملے کریں، آؤ  
تلواروں میں تن تن کے چلو، برچھیاں کھاؤ  
ان چھوٹے سے ہاتھوں کا ہمیں، زور دکھاؤ  
ہم سینہ سپر تم پہ ہوں، تم ہم کو بچاؤ  
ہم شیروں پہ رستم کا بھی منہ پڑ نہ سکے گا  
جب دو ہوئے اک دل تو کوئی لڑ نہ سکے گا  

[122](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/01/122)

چھوٹے نے کہا جوڑ کے ہاتھوں کو کہ، بہتر  
بس کھینچ لئے نیمچے، دونوں نے برابر  
دو بجلیاں کوندیں کہ لرزنے لگے لشکر  
نیزوں کے نیستاں میںِ در آئے وہ غضنفر  
برباد کیا رو میں سواروں کو دبا کے  
رہوار بھی اسوار تھے گھوڑوں پہ ہوا کے  

[123](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/01/123)

ان چھوٹی سی تلواروں کے تھے کاٹ نرالے  
تھیں کہنیاں پہونچوں سے جدا، ہاتھوں سے بھالے  
مسل اپنی جمائے تھے جو بے مثل رسالے  
تھے جائزہ ان سب کا یہی دیکھنے والے  
ناز اپنے ہنر پر تھا شجاعان عرب کو  
نیزوں کو قلم کر کے ندارد کیا سب کو  

[124](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/01/124)

موت آئی اُدھر، نیمچے دونوں جدھر آئے  
جب ہاتھ بڑھا، پاؤں پہ کٹ کٹ کے سر آئے  
گر سینے تک آئے تو، کبھی تا کمر آئے  
خالی نہ پھرے، جس پہ گئے، خوں میں بھر آئے  
ہر نیمچہ، بجلی تھا ستمگاروں کے حق میں  
ڈوبے ہوئے تھے دو مہِ نو، خوں کی شفق میں  

[125](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/01/125)

اٹھتی تھی نہ ڈر سے کسی خوں خوار کی گردن  
سر خود کا جھک جاتا تھا، تلوار کی گردن  
دو چار کے منہ کٹ گئے، دو چار کی گردن  
اسوار کا سر اڑ گیا، رہوار کی گردن  
دو نیمچے بجلی سے گزرتے تھے کمر سے  
آدھے ہوئے جاتے تھے لعیں جان کے ڈر سے  

[126](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/01/126)

دو چھوٹی سی تیغوں سے قیامت نظر آئی  
معصوموں کے ہاتھوں سے کرامت نظر آئی  
سر کٹنے کی، اعدا کے علامت نظر آئی  
لو ہے کی سپر بھی نہ سلامت نظر آئی  
بے وجہ نہ پھر جاتے تھے منہ اہلِ جفا کے  
دریا کے تھپیڑے تھے، طمانچے تھے قضا کے  

[127](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/01/127)

گردن سے بڑھے کاٹ کے پیکر نکل آئے  
جوشن کو دکھاتے ہوئے جوہر نکل آئے  
چار آئینہ میں تیر کے باہر نکل آئے  
صابون سے دو تار برابر نکل آئے  
محراب کے نیچے کسے جھکتے نہیں دیکھا  
مچھلی کو بندھے پانی میں رکتے نہیں دیکھا  

[128](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/01/128)

ہر غول میں غلطاں و تپاں تھے سرو پیکر  
دستانے کہیں تھے، کہیں ڈھالیں، کہیں مغفر  
جب نیمچے ان دونوں کے اٹھتے تھے برابر  
منہ خوف سے ڈھالوں میں چھپاتے تھے ستم گر  
روکے انہیں، طاقت یہ نہ تھی پیر و جواں کی  
صورت نظر آنے لگی تیغِ دو زباں کی  

[129](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/01/129)

غارت تھی وہ صف جس سے وِغا کرکے پھرے وہ  
دو ہاتھ میں سو سو کو فنا کرکے پھرے وہ  
سرداروں کے سر تن سے جدا کرکے پھرے وہ  
ہر غول میں اک حشر بپا کرکے پھرے وہ  
غل تھا کہ پرے ٹوٹے ہوئے جم نہیں سکتے  
سر کٹنے کی دہشت سے قدم تھم نہیں سکتے  

[130](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/01/130)

گھوڑے تھے چھلاوا، کبھی یاں تھے کبھی واں تھے  
پتلی میں تو پھرتے تھے، پر آنکھوں سے نہاں تھے  
یاں تھے جو سبک رو تو ادھر گرم عناں تھے  
بجلی تھے کسی جا تو کہیں آبِ رواں تھے  
ہو سکتی تھی بجلی سے یہ سرعت نہ ہرن سے  
جھونکے تھے ہوا کے کہ نکل جاتے تھے سَن سے  

[131](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/01/131)

بے آب تھے دو دن سے یہ جاندار تھے گھوڑے  
ہر مرتبہ اڑ جانے پہ تیار تھے گھوڑے  
اس پار کبھی تھے، کبھی اس پار تھے گھوڑے  
نقطہ تھے وہ سب فوج کی پرکار تھے گھوڑے  
دس بیس جو مر جاتے تھے ٹاپوں سے کچل کر  
بڑھ سکتا نہ تھا اِک بھی احاطہ سے اجل کے  

[132](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/01/132)

تانے ہوئے سینوں کو جدھر جاتے تھے دونوں  
تلواروں کی موجوں سے گزر جاتے تھے، دونوں  
ہر غول میں بے خوف و خطر جاتے تھے، دونوں  
سب ہوتے تھے پسپا تو ٹھہر جاتے تھے، دونوں  
الٹی ہوئی صف دیکھ کے ہنس دیتا تھا بھائی  
بھائی کی طرف دیکھ کے ہنس دیتا تھا بھائی  

[133](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/01/133)

دم لے کے جو گھوڑوں کو اڑاتے تھے وہ جرار  
اعدا کے رسالوں کو بھگاتے تھے وہ جرار  
شیروں کی طرح فوج پہ جاتے تھے وہ جرار  
دو کرتے تھے یکتا، جسے پاتے تھے وہ جرار  
شیروں نے جو مارا بھی تو رو داروں کو مارا  
جب آنکھ ملی چن کے نموداروں کو مارا  

[134](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/01/134)

جمعیتِ لشکر کو پریشاں کیا، دم میں  
جو فوج کی جاں تھے، انہیں بے جاں کیا دم میں  
تلواروں سے جنگل کو، گلستاں کیا دم میں  
سر کاٹ کے خونخواروں کو غلطاں کیا دم میں  
بے دست تھے علموں کو، جو بے دین لیے تھے  
بچوں نے جوانوں کے نشاں چھین لئے تھے  

[135](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/01/135)

دو لاکھ کو دونوں نے کیا تھا تہ و بالا  
تیغ ایک کی چلتی تھی، تو اِک بھائی کا بھالا  
اِک بڑھ گیا گر ایک نے گھوڑے کو نکالا  
دم اس نے لیا، اس نے لڑائی کو سنبھالا  
یک جا فرسِ تیز قدم ہو گئے دونوں  
جب بھیڑ بڑھی کچھ تو بہم ہو گئے دونوں  

[136](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/01/136)

وہ چھیڑ کے تازی کو سواروں میں در آیا  
دم بھر میں پیادوں کو پامال کر آیا  
جب شیر سا پہونچا وہ ادھر، یہ ادھر آیا  
جاں آ گئی بھائی کو جو بھائی نظر آیا  
بچ بچ کے نکلتے تھے جو نیزوں کے تلے سے  
اِک بھائی لپٹ جاتا تھا بھائی کے گلے سے  

[137](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/01/137)

کچھ بھائی سے بڑھ کر جو وِغا کرتا تھا بھائی  
بچ جانے کی بھائی کے دعا کرتا تھا بھائی  
حق بھائی کی الفت کا ادا کرتا تھا بھائی  
ہر وار پہ بھائی کی ثنا کرتا تھا بھائی  
تم سا نہیں صفدر کوئی واللہ برادر  
کیا خوب لڑے سلمک اللہ برادر  

[138](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/01/138)

کہتا تھا بڑے بھائی سے چھوٹا بصد آداب  
بھائی میں بھگا دوں ابھی ان کو، جو ملے آب  
اب پیاس کی گرمی سے کلیجے کو نہیں تاب  
سینے میں مرا دل نہیں، آتش پہ ہے سیماب  
ہم لوگ محق کیا نہیں اس آبِ رواں کے  
تالو میں خلش ہوتی ہے کانٹوں سے زباں کے  

[139](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/01/139)

کہتا تھا بڑا بھائی میں صدقے ترے گلفام  
ہم خشک زبانوں کو، بھلا پانی سے کیا کام  
اب جلد اجل آئے تو کوثر کا پئیں جام  
غش ہم کو بھی آ جائے گا، پانی کا نہ لو نام  
آنکھیں تو ستمگاروں کی تیغوں سے لڑی ہیں  
چپکے رہو اماں درِ خیمہ پہ کھڑی ہیں  

[140](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/01/140)

اس نہر کا لینا تو کچھ ایسا نہیں مشکل  
روکیں ہمیں کیا تاب لعینوں کی ہے، کیا دل  
پل باندھ لیں لاشوں کے ابھی ہم سرِ ساحل  
بتلایئے، پھر نہر کے لے لینے سے حاصل  
دیکھو نہ ادھر پیاس سے گو لاکھ تعب ہے  
اماں ہمیں گر دودھ نہ بخشیں تو غضب ہے  

[141](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/01/141)

اشک آنکھوں میں بھر کر، کہا چھوٹے نے بہت خوب  
ہر دم ہے رضامندئ مادر ہمیں مطلوب  
ایسے تو نہیں ہم کہ بزرگوں سے ہوں محجوب  
منظور یہ تھا فخر کا، نکلے کوئی اسلوب  
دریا کو بھی دیکھیں گے نہ اب آنکھ اٹھا کے  
پیتے بھی تو پہلے شہِ والا کو پلا کے  

[142](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/01/142)

جعفرؔ کے جو پوتے ہیں، تو حیدرؔ کے نواسے  
کچھ ہم علیؔ اکبر سے زیادہ نہیں پیاسے  
یہ کہتے ہی لڑنے لگے، پھر اہلِ جفا سے  
فریاد کہ بچوں پہ گری فوج قفا سے  
خوں سر کا بہا منہ پہ تو گھبرا گئے دونوں  
دو لاکھ کی تیغوں کے تلے آ گئے دونوں  

[143](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/01/143)

ڈوبے ہوئے تھے شام کے بادل میں وہ دو ماہ  
پردے سے کھڑی تکتی تھی، زینبؔ سوئے جنگاہ  
عباسؔ سے کہتے تھے تڑپ کر شہِ ذی جاہ  
اب مجھ سے جدا ہوتے ہیں دو شیر مرے آہ  
کیوں کر متحمل ہو دل اس رنج و محن کا  
گھر لٹتا ہے بھائی مری نادار بہن کا  

[144](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/01/144)

اس بی بی کے فاقوں کے ہیں پالے ہوئے یہ لال  
دولت ہے یہی، اور یہی حشمت و اقبال  
سات آٹھ برس کے ہیں ابھی کیا ہے سن و سال  
سب ہاتھ ملیں گے جو یہ گل ہو گئے پامال  
تازہ یہی دو پھول ہیں جعفرؔ کے چمن میں  
مر جائے گا باپ ان کی خبر سن کے وطن میں  

[145](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/01/145)

رو کر دمِ رخصت وہ یہی کہتے تھے ہر بار  
میں شاہ کا خادم ہوں، یہ دونوں ہیں نمک خوار  
آگاہ صعوباتِ سفر سے نہیں زنہار  
اے دخترِ زہرا مرے بیٹوں سے خبردار  
میں رکھ نہیں سکتا ہوں کہ ماموں پہ فدا ہیں  
اب تو یہی دونوں مرے پیری کے عصا ہیں  

[146](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/01/146)

شوہر کا تڑپنا اسے کچھ بھی نہ رہا یاد  
ہے ہے مری الفت میں لٹی زینبؔ ناشاد  
یوں بھائی پہ صدقے کوئی کرتا نہیں اولاد  
ہم دیکھتے ہیں اور بہن ہوتی ہے برباد  
روئے گی وہ بیٹوں کو تو سمجھائیں گے کیوں کر  
منہ زینبِؔ دلگیر کو دکھلائیں گے کیوں کر  

[147](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/01/147)

عباسؔ نے کی عرض، کلیجہ ہے دو پارا  
ان کو تو کسی کی نہیں، امداد گوارا  
زخمی ہوئے، نہ مجھ کو نہ اکبرؔ کو پکارا  
جائے یہ غلام آپ جو فرمائیں اِشارا  
حضرت کی قسم دے کے میں سمجھاؤں گا ان کو  
مچلیں گے تو گودی میں اٹھا لاؤں گا ان کو  

[148](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/01/148)

حضرت نے کہا صاحبِ غیرت ہیں، وہ دونوں  
لختِ جگر شاہِ ولایت ہیں وہ دونوں  
ضرغامِ نیستانِ شجاعت ہیں، وہ دونوں  
واللہ بڑے صاحبِ ہمت ہیں وہ ددنوں  
دو لاکھ تو کیا ہیں جو کروروں میں گھریں گے  
بے جان دیے، وہ نہ پھرے ہیں نہ پھریں گے  

[149](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/01/149)

بڑھنے لگے میداں کی طرف قاسمِ ذی جاہ  
اکبرؔ نے یہ کی عرض کہ میں جاتا ہوں یا شاہ  
ہے دونوں کی فرقت کا، مجھے صدمۂ جانکاہ  
لاکھوں میں ہیں تنہا پھوپھی اماں کے پسر، آہ  
ریتی پہ کہیں گر نہ پڑیں برچھیاں کھا کر  
میں ساتھ انہیں لے آتا ہوں اعدا کو بھگا کر  

[150](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/01/150)

گھبرا کے درِ خیمہ سے زینبؔ یہ پکاری  
سر ننگے میں نکلوں گی، جو تم جاؤ گے واری  
اولاد مجھے تم سے زیادہ نہیں پیاری  
بتلاؤ کہ میں ان کی ہوں عاشق کہ تمہاری  
میداں کی طرف قاسمِؔ بے پر بھی نہ جائیں  
تلواروں میں عباسِؔ دلاور بھی نہ جائیں  

### جب رن میں سر بلند علی کا علم ہوا

https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/02

[1](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/02/1)

جب رن میں سر بلند علی کا علم ہوا  
فوجِ خدا پہ سایۂ ابرِ کرم ہوا  
چرخ زبر جدی پے تسلیم خم ہوا  
پنجے پہ سات بار تصدق حشم ہوا  
دیکھا نہ تھا کبھی جو علم اس نمود کا  
دونوں طرف کی فوج میں غل تھا درود کا  

[2](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/02/2)

وہ شان اس قلم کی وہ عباس کا جلال  
نخلِ زمردی کے تلے تھا علی کا لال  
پرچم پہ جان دیتی تھیں پریوں کا تھا یہ حال  
غل تھا کہ دوشِ حور پہ بکھرے ہوئے ہیں بال  
ہر لہر آبدار تھی کوثر کی موج سے  
طوبیٰ بھی دب گیا تھا پھریرے کی اوج سے  

[3](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/02/3)

تھا پنجتن کا نور جو پنجے میں جلوہ گر  
اعمیٰ کی پتلیوں میں بھی تھا روشنی کا گھر  
ذرے نثار کرتے تھے اٹھ اٹھ کے اپنا زر  
تکتے تھے فوق سے تو ملک تخت سے بشر  
اللہ ری چمک علمِ بوتراب کی  
تارِ نظر بنی تھی کرن آفتاب کی  

[4](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/02/4)

قربان احتشام علمدار نام ور  
رخ پر جلالت شہ مرداں تھی سر بسر  
چہرہ تو آفتاب سا اور شیر کی نظر  
قبضے میں تیغ بر میں زرہ دوش پر سپر  
چھایا تھا رعب لشکرِ ابنِ زیادؔ پر  
غل تھا چڑھے ہیں شیر الٰہی جہاد پر  

[5](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/02/5)

وہ اوج وہ جلال وہ اقبال وہ حشم  
وہ نور وہ شکوہ وہ توقیر وہ کرم  
پنجے کی وہ چمک وہ سر افرازیِ علم  
گرتی تی برق فوجِ مخالف پہ دم بہ دم  
کیا رفعتِ نشانِ سعادت نشان تھی  
سائے میں جس نشان کے طوبیٰ کی شان تھی  

[6](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/02/6)

پنجہ اٹھا کے ہاتھ یہ کہتا تھا بار بار  
عالم میں پنجتن کی بزرگی ہے آشکار  
یہ شش جہت انہیں کے قدم سے ہے برقرار  
کیوں ہفتہ دوست ہوتےہو اے قوم نابکار  
آٹھوں بہشت ملتے ہیں مولا کے نام سے  
بیعت کرو حسین علیہ السلام سے  

[7](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/02/7)

غرفوں سے جھانک جھانک کے بولی ہر ایک حور  
صلِ علیٰ علم کی چمک ہے کہ برق طور  
یارب رہے نگاہ بد اس کی ضیا سے دور  
پنجہ ہے یہ کہ ایک جگہ پنجتن کا نور  
جلوے ہیں سب محمد و حیدر کی شان کے  
قربان اس جواں کے نثار اس نشان کے  

[8](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/02/8)

آگے کبھی نہ دیکھی تھی اس حسن کی سپاہ  
دنیا بھی خوبیوں کا مرقع ہے واہ واہ  
دیکھیں کسے کسے کہ ہے ایک ایک رشکِ ماہ  
جاتی ہے جس کے رخ پہ تو پھرتی نہیں نگاہ  
دیکھو انہیں دموں سے ہے رونق زمین کو  
چن کر حسین لائے ہیں کس کس حسین کو  

[9](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/02/9)

شہرہ بہت تھا حسن میں کنعاں کے ماہ کا  
قصہ سنا ہوا ہے زلیخا کی چاہ کا  
یاں آفتاب کو نہیں یارا نگاہ کا  
یوسف ہے ایک ایک جواں اس سپاہ کا  
سنتے تھے ہم کہ عالمِ ایجادِ زشت ہے  
ایسے چمن کھلے ہیں کہ دنیا بہشت ہے  

[10](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/02/10)

ہم شکل مصطفیٰ کا ہے کیا حسن کیا جمال  
صبحِ جبیں بھی اور شبِ گیسو بھی بے مثال  
یہ لب یہ خط یہ چشم یہ ابرو یہ رخ یہ خال  
یاقوت و مشک و نرگس و نجم و مہ و ہلال  
اک گل پہ یاں ہزار طرح کی بہار ہے  
چہرہ نہ کہیے قدرتِ پروردگار ہے  

[11](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/02/11)

لخت دلِ حسن بھی ہے کس مرتبہ حسیں  
جس کے چراغ حسن سے روشن ہے سب زمیں  
یہ زلف مشک بیز یہ آئینہ جبیں  
سرمایۂ خطا و ختن کائنات چیں  
رخ کی بلائیں لیتی ہیں پریاں کھڑی ہوئی  
سہرے کی ہر لڑی سے ہیں آنکھیں لڑی ہوئی  

[12](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/02/12)

نامِ خدا میں عون و محمد بھی کیا شکیل  
اک مہرے بے نظیر ہے اک بدرِ بے عدیل  
افروختہ ہیں رخ یہ شجاعت کی ہے دلیل  
ہمت بڑی ہے گو کہ ہیں عمریں ابھی قلیل  
مثلِ علی ہیں جنگ و جدل پر تلے ہوئے  
دونوں کے نیمچوں کے ہیں ڈورے کھلے ہوئے  

[13](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/02/13)

عباس نام ور بھی عجب سج کا ہے جوان  
نازاں ہے جس کے دوشِ منور پہ خود نشان  
حمزہ کا رعب صولت جفرؔ علی کی شان  
ہاشم کا دل حسین کا بازو ، حسن کی جان  
کیوں کر نہ عشق ہو شہ گردوں جناب کو  
حاصل ہیں سیکڑوں شرف اس آفتاب کو  

[14](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/02/14)

اس مہر کو تو دیکھو یہ ذرے ہیں جس کے سب  
سرتاج آسمان و زمیں نورِ عرش رب  
ابرِ کرم خدیو عجم خسرو عرب  
عالی ہمم امامِ امم شاہِ تشنہ لب  
جنباں زبانِ خشک ہے ذکر الٰہ میں  
گویا کھڑے ہیں ختم رسل رزمگاہ میں  

[15](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/02/15)

کیا فوج تھی حسین کی اس فوج کے نثار  
ایک ایک آبروئے عرب فخرِ روزگار  
جرار و دیں پناہ نمودار نامدار  
لڑکوں میں سبزہ رنگ کوئی کوئی گل عذار  
فوجیں کوئی سماتی تھیں ان کی نگاہ میں  
وہ سب پلے تھے بیشہ شیر الہٰ میں  

[16](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/02/16)

ایک ایک ملک جرأت و ہمت کا بادشاہ  
کیواں خدم سپہر حشم عرشِ بارگاہ  
آنکھیں غزالِ رشک مگر شیر کی نگاہ  
وہ رعب چتونوں میں کہ اللہ کی پناہ  
دیکھا تو دل کو توڑ کے برچھی نکل گئی  
ابرو ذرا جو ہل گئے تلوار چل گئی  

[17](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/02/17)

وہ اشتیاقِ جنگ میں لڑکوں کے ولولے  
بے تاب تھے کہ دیکھیے تلوار کب چلے  
چہرے وہ آفتاب سے وہ چاند سے گلے  
سب فاطمہ کی بیٹیوں کی گود کے پلے  
اک اک رسولِ حق کی لحد کا چراغ تھا  
جس پر علی نے کی تھی ریاضت وہ باغ تھا  

[18](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/02/18)

اکبر سے عرض کرتے تھے سینہ سپر کیے  
یہ نیمچے نہ لیویں گے دم بے لہو پییے  
گر آج مر گئے تو قیامت تلک جیے  
صدقے ہوں اس قدم پہ یہ سر ہیں اسی لیے  
آقا کے آگے لطف ہے تیغ آزمائی کا  
آج آپ دیکھیے گا تماشا لڑائی کا  

[19](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/02/19)

بچپن پہ خادمانِ او لوالعزم کے نہ جائیں  
جب چاہیں معرکے میں ہمیں آپ آزمائیں  
تن تن کے روکیں برچھیاں ہنس ہنس کے زخم کھائیں  
بجلی گر ےتو منہ پہ جھجک کر سپر نہ لائیں  
جھپکے پلک کسی سے تو آنکھیں نکالیے  
بڑھ کر ہٹیں جو پانوں تو سر کاٹ ڈالیے  

[20](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/02/20)

کہتے تھے مسکرا کے یہ زینب کے دونوں لال  
کھلتے ہیں خود دلیروں کے جوہر دمِ جدال  
ہر وقت چاہیے مددِ شیر ذو الجلال  
نعرے ابھی کریں تو ہلے عرصۂ قتال  
اتری ہے تیغ جن کے لیے وہ دلیر ہیں  
ہم سب کو جانتے ہیں کہ شیروں کے شیر ہیں  

[21](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/02/21)

یہ چہچہے جو کرتے تھے باہم وہ گلعذار  
شپیر دیکھتے تھے کنکھیوں سے بار بار  
پاس آ کے عرض کرتے تھے عباسِ نامدار  
سنتے ہیں آپ کہتے ہٰن جو کچھ یہ جاں نثار  
جرأت ٹپک رہی ہے ہر اک کے کلام سے  
یہ نیمچے رکیں گے بھلا فوجِ شام سے  

[22](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/02/22)

یہ سن یہ زور شور یہ عمریں یہ آن بان  
یہ بھولے بھولے منہ پہ جواں مرد یا ں یہ شان  
باتیں رجز سے کم نہیں اللہ رے خوش بیان  
چلتی ہے ذوالفقار علی کی طرح زبان  
کس دبدبے سے کاندھوں پہ نیزے سنبھالے ہیں  
گویا چلن لڑائی کا سب دیکھے بھالے ہیں  

[23](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/02/23)

زینب کے لاڈلوں کی طرف دیکھیے حضور  
مثلِ عرق ٹپکتا ہے پیشانیوں سے نور  
رخ پر جلال شیر خدا کا ہے سب ظہور  
پر تو گلوں کا ہے کہ چمکتی ہے برقِ طور  
دونوں میں صاف حیدر و جعفر کے طور ہیں  
اللہ کی پناہ یہ تیوری ہی اور ہیں  

[24](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/02/24)

یہ ذکر تھا کہ بجنے لگا طبل اس طرف  
مشکل کشائی کی فوج نے باندھی ادھر بھی صف  
تیروں نے رخ کیا سوئے ابنِ شہ نجف  
سینوں کو غازیوں نے ادھر کر دیا ہدف  
تھا بسکہ شوقِ جنگ ہر اک رشکِ ماہ کو  
جوش آ گیا وغا کا حسینی سپاہ کو  

[25](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/02/25)

غصے سے آفتاب ہوئے مہ وشوں کے رنگ  
فوجوں پہ جا پڑیں یہ دلوں کی ہوئی امنگ  
تن تن کے برچھیاں جو سنبھالیں برائے جنگ  
بے چین ہو گئے فرسِ ابلق و سرنگ  
پاسِ ادب سے شاہ کے صف بڑھ کے تھم گئی  
پٹری ہر اک سوار کی گھوڑے پہ جم گئی  

[26](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/02/26)

تنتا ہوا بڑھا کوئی قبضے کو چوم کے  
بھالا کسی نے رکھ لیا کاندھے پہ جھوم کے  
بولا کوئی یہ غول ہیں کیا شام و روم کے  
ٹکڑے اڑائیں گے عمر و شمر شوم کے  
نامرد ہیں جو آنکھ چراتے ہیں مرد سے  
دونوں کو چار کر کے پھریں گے نبرد سے  

[27](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/02/27)

دو لاکھ سے نظر کسی غازی کی لڑ گئی  
بل کھا کے رخ پہ زلف کسی کی اکڑ گئی  
چتون کسی کی شورِ دہل سے بگڑ گئی  
منہ سرخ ہو گیا شکن آبرو پہ پڑ گئی  
نکلا کوئی سمند کو رانوں میں داب کے  
غصے سے رہ گیا کوئی ہونٹوں کو چاب کے  

[28](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/02/28)

بڑھ کر کسی نے تیر ملایا کمان سے  
نیزہ کوئی ہلانے لگا آن بان سے  
نعرہ کسی کا پار ہوا آسمان سے  
تلوار کھینچ لی کسی صفدر نے میان سے  
ایک شور تھا کہ تلخ کیا ہے حیات کو  
لاشوں سے چل کے پاٹ دو نہرِ فرات کو  

[29](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/02/29)

سنتے ہی یہ کلام جو انانِ نام ور  
لڑکے الگ کھڑے ہوئے غول اپنا باندھ کر  
کہتے تھے نیمچے لیے وہ غیرتِ قمر  
یارب شکست کوفیوں کو دے ہمیں ظفر  
سر کے نہ پھر وغا میں جو بڑھ کے قدم گڑے  
جاکر درِ یزید پہ اپنا علم گڑے  

[30](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/02/30)

عباس شہ سے کہتے تھے بپھرے ہوئے ہیں شیر  
تیر اس طرف سے آ چکے اب کس لیے ہے دیر  
دو دن کی بھوک پیاس میں ہیں زندگی سے سیر  
مولا غلام سے کہیں رکنے کے یہ دلیر  
پاسِ ادب سے غیظ کو ٹالے ہوئے ہیں یہ  
شیر خدا کی گود کے پالے ہوئے ہیں یہ  

[31](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/02/31)

کس کو ہٹائے کس کو سنبھالے یہ جاں نثار  
مرنے پہ ایک دل ہیں بہتر وفا شعار  
ہے مصلحت کو دیجیے اب اذن کار زار  
ایسا نہ ہو کہ جا پڑیں شکر پہ ایک بار  
برہم ہیں سر کشی پہ سوارانِ شام کی  
اکبر کی بات مانتے ہیں نہ غلام کی  

[32](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/02/32)

جب روکتا ہوں میں انہیں اے آسماں سریر  
کہتے ہیں کیوں امام کی جانب لگائے تیر  
باندھے ہے سر کشی پہ کمر لشکرِ شریر  
ہنگام جنگ شیر کے بچے ہوں گوشہ گیر  
کس قہر کی نظر سے لعینوں کو تکتے ہیں  
بچوں کو ہے یہ غیظ کہ آنسو ٹپکتے ہیں  

[33](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/02/33)

اک اک جری کو تشنہ جرأت کا جوش ہے  
عالم ہے بے خودی کا پہ مرنے کا ہوش ہے  
ہر صف میں یا علی ولی کا خروش ہے  
کہتے ہیں بار بار کہ سر بارِ دوش ہے  
مشتاق ہیں وہ پیاس میں تیغوں کے گھاٹ کے  
ڈر ہے کہ مر نہ جائیں گلے کاٹ کاٹ کے  

[34](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/02/34)

حسرت سے کی سوئے رفقا شاہ نے نظر  
بولے حبیب نذر کو حاضر ہیں سب کے سر  
فرمایا شہ نے ہم بھی ہیں آمادۂ سفر  
اچھا بڑھے جہاد کو ایک ایک نام ور  
یہ راہِ حق ہے جو قدم آگے بڑھائے گا  
دربارِ مصطفی میں وہی پہلے جائے گا  

[35](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/02/35)

مژدہ یہ سن کے شاد ہوئے غازیانِ دیں  
اک اک دلیر جانے لگا سوئے فوج کیں  
جب نعرہ زن ہوئے صفتِ شیر خشمگیں  
تھرائے آسماں کے طبق ہل گئی زمیں  
برپا تھا شورِ حشر دلیروں کی حرب سے  
فوجیں تو کیا جہاں تہہ و بالا تھا ضرب سے  

[36](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/02/36)

اللہ رے جہاد حبیب و زہیرقین  
گویا بپا تھا معرکۂ خندق و حنین  
جب مر گئے وہ عاشقِ سلطان مشرقین  
مقتل میں پیٹتے ہوئے دوڑے گئے حسین  
یوں جاکے روئے ان کے تنِ پاش پاش پر  
جس طرح بھائی روتا ہے بھائی کی لاش پر  

[37](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/02/37)

خالی ہوا قدیم رفیقوں کا جب پرا  
کانپا سپہر شہ نے دمِ سردیوں بھرا  
کٹنے لگا عزیزوں کا بھی جب چمن ہرا  
گہ روئے آپ ہاتھ جگر پر کبھی دھرا  
لڑکے جو یک بہ یک کئی ہاتھوں سے کھو گئے  
ٹکڑے حسن کی طرح کلیجے کے ہو گئے  

[38](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/02/38)

تھی قہر حق عقیل کے پوتوں کی کارزار  
شمشیر حیدری کا نمونہ تھے جن کے وار  
عزت عرب کی رکھ گئے جعفر کے یادگار  
تھے تین چار شیر کہ جھپٹے سوئے شکار  
فتح و ظفر تھی مثلِ علی اختیار میں  
پنجے میں تھا وہی جسے تاکا ہزار میں  

[39](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/02/39)

نکلے برادران علمدارِ صف شکن  
دکھلا دیے علی کی لڑائی کے سب چلن  
بے سر تھے مورچوں میں جوانانِ پیل تن  
لاشوں پہ لاشیں گرتی تھیں پڑتا تھارن پہ رن  
آنکھوں میں پھر رہی تھی چمک زوالفقار کی  
عباس داد دیتے تھے ایک ایک دار کی  

[40](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/02/40)

تھا چھوٹے بھائیوں کے لیے مضطرب جو دل  
گہ شہ کے پاس تھے کبھی لشکر کے متصل  
نعرہ یہ تھا کہ شیر ہے ماں کا تمہیں بحل  
شیرو رکے نہ ہاتھ بدن گو ہے مضمحل  
یہ وقتِ آبرو ہے بڑی جد و کد کرو  
ہاں بھائیو امام کی اپنے مدد کرو  

[41](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/02/41)

الٹو پروں کو بڑھ کے صفوں کو بچھا کے آؤ  
ساحل کے پاس خون کا دریا بہا کے آؤ  
جب باگ اٹھاؤ فوج کے اس پار جا کے آؤ  
یا مر کے آؤ یا انہیں رن سے بھگا کے آؤ  
ہاں صفدر و نشاں نہ رہے فوجِ شام کا  
بیٹوں کو پاس چاہیے بابا کے نام کا  

[42](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/02/42)

رہ کر حسین کہتے تھے بھائی سے دم بہ دم  
دولت پدر کی لٹتی ہے اور دیکھتے ہیں ہم  
جینے نہ دے گا آہ ہمیں بھایئوں کا غم  
عباس عرض کرتے تھے اے قبلۂ امم  
اب باپ کی جگہ شہ عالی مقام ہیں  
صدقے نہ کس طرح ہوں کہ ہم سب غلام ہیں  

[43](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/02/43)

بے جاں ہوئے جو راہِ خدا میں دو شیرِ نر  
حضرت ضعیف ہو گئے خم ہو گئی کمر  
ماتم میں تھے کہ موت نے لوٹا حسن کاگھر  
اک دم میں قتل ہو گئے دونوں جواں پسر  
سب چل بسے نبی و علی پاس رہ گئے  
ستر دو تن میں اکبر و عباس رہ گئے  

[44](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/02/44)

آیا نظر جو لاشۂ نوشاہِ نیک خو  
اکبر کی چشمِ تر سے ٹپکنے لگا لہو  
کی غیظ کی نظر طربِ لشکرِ عدو  
پہلے سے آئے روتے ہوئے شہ کے روبرو  
نکلی یہ بات جوشِ بکا میں زبان سے  
قاسم کے ساتھ جائیں گے ہم بھی جہان سے  

[45](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/02/45)

بچپن سے ہم سے یہ نہ ہوئے تھے کبھی جدا  
سوئے تو ایک فرش یہ کھیلے تو ایک جا  
طفلی کا ساتھ چھوٹ گیا وامصیبتا  
مرجائے ایسا بھائی تو جینے کا لطف کیا  
حسرت یہ ہے کہ تیغوں سے تن پاش پاش ہو  
پہلو میں ابنِ عم کے ہماری بھی لاش ہو  

[46](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/02/46)

شہ نے کہا کہ سچ ہے یہ ایسا ہی ہے الم  
خالق جہاں میں بھائی کا بھائی کو دے نہ غم  
بازو کا ٹوٹنا اجل آنے سے کیا ہے کم  
مر مر کے غم میں بھائی حسن کے جیے ہیں ہم  
تازہ تھا غم پدر کا خوشی دل سے فوت تھی  
عباسِ نامدار نہ ہوتے تو موت تھی  

[47](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/02/47)

بھائی کے بعد ان سے ملی لذتِ حیات  
بے کس کے غم گسار تھے یہ یا خدا کی ذات  
خالی نہ پائی مہرو مروت سے کوئی بات  
سویا جو میں تو ان کو کٹی جاگنے میں رات  
صدمے بھلائے دل سے حسن کی جدائی کے  
رونے نہیں دیا مجھے ماتم میں بھائی کے  

[48](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/02/48)

ہے ان کے اتحاد کا سب سے جدا مزا  
بیٹے کا لطف بھائی کاحظ باپ کا مزا  
ملتا ہے بات بات میں ہر دم نیا مزا  
اوجھل یہ آنکھ سے ہوں تو جینے کا کیا مزا  
قائم رکھے خدا کہ علی کے نشان ہیں  
مالک یہی ہیں گھر کے یہی تن کی جان ہیں  

[49](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/02/49)

قوت جگر کی تم ہو تو یہ بازوؤں کا زور  
بچھڑا جو دو میں ایک تو پھر میں کنار گور  
ہوتا ہے زخمِ دل پہ نمک آنسوؤں کا شور  
جب پتلیاں جدا ہوں تو چشمِ بشر ہے کور  
تم پہلوؤں میں تھے جو یہ بے کس سنبھل گیا  
پھر خاتمہ ہے جسم سے جب دم نکل گیا  

[50](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/02/50)

ان سے نشان علی کا ہے تم سے ہمارا نام  
گھر ہٹ گیا نبی کا جو دونوں ہوئے تمام  
میت کے دفن کا بھی مقدم ہے انتظام  
مرنے کے بعد کوئی توآئے ہمارے کام  
تربت پہ تم سے گل ہوں تو دل باغ باغ ہو  
اندھیر ہے جو قبر پدر بے چراغ ہو  

[51](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/02/51)

کیجو نہ ذکر ہجر پہ صدمہ ہے دل خراش  
بہرِ پدر کرو کفن و گور کی تلاش  
ہوگا یہ جسم ظلم کی تیغوں سے پاش پاش  
دو شخص چاہیے کہ اٹھائیں ہماری لاش  
رونے کوکوئی دوست نہ یارو سرہانے ہو  
فرزند پائینتی ہو برادر سرہانے ہو  

[52](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/02/52)

اکبر نے سن کے باپ سے یہ اشکِ خوں بہائے  
عباس بول اٹھے نہ خدا وہ گھڑی دکھائے  
ہے زندگی یہی کہ ہمیں پہلے موت آئے  
خاک اس غلام پر کہ جو آقا کی لاش اٹھائے  
دستِ قوی ہیں نیزہ وصمصام کے لیے  
پائیں ہیں کیا یہ ہاتھ اسی کام کے لیے  

[53](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/02/53)

بس گر پڑا یہ کہہ کے قدم پر وہ باوفا  
جھک کر کہا حسین نے بھائی یہ کیا کیا  
قاسم کا ذکر کرتے تھے ہم شکلِ مصطفی  
باتیں تو ان سے تھٰں تمہیں کیوں غیظ آ گیا  
ہم تم تو ساتھ گلشنِ ہستی سے جائیں گے  
اچھا ہماری لاش کو اکبر اٹھائیں گے  

[54](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/02/54)

اٹھے قدم سے آپ کی الفت کے میں نثار  
غصے میں بھول جاتے ہو بھیا ہمارا پیار  
آنکھیں قدم پر مل کے یہ بولا وہ نام دار  
بے اذن جنگ سر نہ اٹھائیں گا خاکسار  
ایسا نہ ہوں خجل ہوں رسالت مآب سے  
پہلے مروں گا اکبرِ عالی جناب سے  

[55](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/02/55)

صدقہ علی کی روح کا اکبر کو رو کیے  
دے کر قسم شبیہ پیمبر کو روکیے  
نورِ نگاہِ بانوئے بے پر کو روکیے  
اے آفتابِ دیں مہِ انور کو روکیے  
پہلے رضا ملے تو بہت نیک نام ہوں  
آقا یہ شاہزادہ ہے اور میں غلام ہوں  

[56](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/02/56)

شہ نے کہا کہ سر تو قدم سے اٹھائیے  
لیجے رضائے جنگ نہ آنسو بہائیے  
فرقت میں ہم مریں کہ جئیں خیر جائیے  
اپنی سکینۂ جان سے جاکر مل آئیے  
زوجہ کو پیٹتے ہوئے سر دیکھ لیجیے  
بچوں کو اور ایک نظر دیکھ لیجیے  

[57](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/02/57)

عباس شہ کے گرد پھرے آٹھ کے سات بار  
بھائی کو گھر میں لے کےچلے شاہِ ذی وقار  
بولا یہ پیک شاطر فوجِ ستم شعار  
لو اذن جنگ پا چکے عباس نام دار  
خود دیکھ کر یہ حال پھرا ہوں میں راہ سے  
ملنے گئے ہیں خیمے میں ناموسِ شاہ سے  

[58](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/02/58)

تھے آگے آگے ہاتھوں سے تھامے کمر امام  
نعرہ یہ دم بہ دم تھا کہ اب ہم ہوئے تمام  
تیغوں سے گھاٹ روک لو آیا وہ نیک نام  
اب معرکہ ہے قبر کا اے ساکنانِ شام  
دیکھو بچے رہو کہ لڑائی ہے شیر سے  
چھوٹے گی مشکلوں میں ترائی دلیر سے  

[59](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/02/59)

دل مل گئے سپاہ کے سنتے ہی یہ خبر  
کانپے مثالِ بید جو انانِ پر جگر  
ہل چل میں اس طرف کے پرے ہو گئے ادھر  
ساحل سے ہٹ کے نہر پکاری کہ الحذر  
پیچھے ہٹیں صفیں یہ تلاطم عیاں ہوا  
دریا جو باڑھ پر تھا وہ الٹا رواں ہوا  

[60](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/02/60)

ٹوٹے وہ مورچے جو بندھے تھے پۓ جدال  
برچھی گری زمیں پہ کسی کی کسی کی ڈھال  
اللہ ری ہیبتِ خلفِ شیر ذوالجلال  
کانپی زمیں کھڑے ہوئے روئیں تنوں کے بال  
منہ زرد ہو کے رہ گیا ہر نوجوان کا  
دشتِ نبرد کھیت بنا زعفران کا  

[61](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/02/61)

تھا شش جہت میں غل کہ یہ ہے روزِ انقلاب  
الٹے گا اس زمیں کا ورق ابنِ بوتراب  
اس شیر پر نہ ہوگی کوئی فوج فتح یاب  
بس اب بنائے عالمِ امکاں ہوئی خراب  
حملہ غضب ہے بازوئے شاہِ حجاز کا  
لنگر نہ ٹو جائے زمیں کے جہاز کا  

[62](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/02/62)

ڈر ہے ہوا تھی ایک طرف گرد اک طرف  
بھرتے تھے خیبری بھی دمِ سرد اک طرف  
سمٹے ہوئے تھے کوفے کے نامرد اک طرف  
تھے رو سیاہ شام کے سب زرد اکطرف  
بھاگے تھے نیزہ باز لڑائی کو چھوڑ کے  
ضیغم نکل گئے تھے ترائی کو چھوڑ کے  

[63](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/02/63)

تھی ابتری سپاہِ ضلالت شعار میں  
اس صف میں تھی وہ صف یہ قطار اس قطار میں  
سو بار جو لڑے تھے اکیلے ہزار میں  
وہ جائے امن ڈھونڈھتے تھے کارزار میں  
چہرے تھے زرد خوف سے حیدر کے لال کے  
نامرد منہ چھپائے تھے گھونگھٹ میں ڈھال کے  

[64](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/02/64)

سر کو دہائے فوجِ مخالف تھے بے حواس  
کچھ شمر کے قریب تھے کچھ تھے عمرکے پاس  
سب کا یہ قول تھا کہ ہوئی زندگی سے یاس  
ضرب علی ہے ضربِ علمدارِ حق شناس  
طاقت سے ہیں بھرے ہوئے بازو دلیر کے  
خیبر کشا کا زور ہے پنجے میں شیر کے  

[65](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/02/65)

اس فوج میں ہے گو یہ تزلزل یہ انتشار  
ہتھیار ادھر لگاتے ہیں عباسِ نامدار  
مضطر ہیں بیبیاں شہِ والا ہیں بے قرار  
بھائی کے منہ کو دیکھ کے روتے ہیں زار زار  
بیٹا کھڑا ہے چاک گریباں کیے ہوئے  
روتی ہے سوکھی مشک سکینہ لیے ہوئے  

[66](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/02/66)

منہ دیکھتی ہے باپ کا جب وہ بہ چشم تر  
کہتے ہیں یہ اشارے سے سلطانِ بحر و بر  
لٹتا ہے باپ تم کو سکینہ نہیں خبر  
جانے نہ دو چچا کو ہمیں چاہتی ہو گر  
آنسو بہا بہا کے نہ پانی کا نام لو  
دامن قبا کا ننھے سے ہاتھوں سے تھام لو  

[67](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/02/67)

بھائی کے اضطراب سے زینب کا ہے یہ حال  
ڈھلکی ہوئی ہے سر سے روا اور کھلے ہیں بال  
عباس سے یہ کہتی ہے رو کر بہ صد ملال  
چھوڑو نہ شہ کو اے اسدِ کربیا کے لال  
کیا کہتے ہو سکینہ سے منہ موڑ موڑ کے  
بھیا کدھر چلے مرے بھائی کو چھوڑ کے  

[68](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/02/68)

دیکھو تو حال سبط رسول فلک اساس  
بیٹے کا غم بھتیجے کا ماتم ہجوم یاس  
ہے کثرتِ سپاہ میں تنہا وہ حق شناس  
قربان جاؤں تم تو رہو بے وطن کے پاس  
عاشق ہو دلبرِ اسد ذوالجلال کے  
بازو قوی تمہیں سے ہیں زہرا کے لال کے  

[69](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/02/69)

عباس کہتے ہیں کہ نہ جاؤں تو کیا کروں  
کیوں کر نہ حق امامِ زماں کا ادا کروں  
الٹوں صفیں ہزاروں سے تنہا وغا کروں  
یہ سر ہے الیے کہ قدم پر فدا کروں  
پہونچا ہے فیض سیدِ خوشخو کے ہاتھ سے  
دنیا میں کچھ تو کام ہو بازو کے ہاتھ سے  

[70](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/02/70)

رخصت طلب ہے شاہ سے اکبر سالالہ فام  
شہزادہ مرے جائے سلامت رہے غلام  
للہ روکیے نہ اب اے خواہر امام  
وہ امر کیجیے کہ بڑھے جس سے میرا نام  
بیکس ہوں ساتھ ماں نہیں سر پر پدر نہیں  
میں آپ کا غلام تو ہوں گو پسر نہیں  

[71](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/02/71)

باتیں یہ سن کے روتی ہیں زینب جھکا کے سر  
تھرا رہی ہے زوجہ عباس نام ور  
چہرہ تو فق ہے گود میں ہے چاند سا پسر  
مانع ہے شرم روتی ہے منہ پھیر پھیر کر  
موقع نہ روکنے کا ہے نے بول سکتی ہے  
حضرت کے منہ کو نرگسی آنکھوں سے تکتی ہے  

[72](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/02/72)

کہتی ہے رو کے بانوئے عالم سے بار بار  
ہم کو تباہ کرتے ہیں عباسِ نام دار  
ہے لونڈیوں کے باب میں بی بی کو اختیار  
کچھ آپ بولتی نہیں اس وقت میں نثار  
کہیے جو روکنے کی کوئی ان کے راہ ہو  
اب عنقریب ہے کہ مرا گھر تباہ ہو  

[73](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/02/73)

اکبر کا واسطہ کوئی تدبیر کیجیے  
امداد بہرِ حضرتِ شپیر کیجیے  
کچھ دل کو ہو قرار وہ تقریر کیجیے  
پٹکا وہ باندھتے ہیں نہ تاخیر کیجیے  
اک دل ہے میرا اور کئی غم کے تیر ہیں  
بی بی میں کیا کروں مرے بچے صغیر ہیں  

[74](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/02/74)

عباس دیکھتے ہیں جو زوجہ کا اضطرار  
ہوتا ہے تیر غم جگر ناتواں کے پار  
روتے ہیں خود مگر یہ اشار ہے بار بار  
شوہر کے غم میں یوں کوئی ہوتا ہے بیقرار  
آؤ ادب سے دلبرِ زہرا کے سامنے  
روتی ہیں لونڈیاں کہیں آقا کے سامنے  

[75](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/02/75)

کھولا ہے گوندھے بالوں کو صاحب یہ کیا یہ کیا  
پیٹو نہ سر کو روتا ہے فرزند مہ لقا  
خیرالنسا کے لال پہ ہوتے ہیں ہم فدا  
شادی کا ہے مقام کہ ماتم کی ہے یہ جا  
ایذا میں صبر صاحب ہمت کا کام ہے  
میری بھی آبرو ہے تمہارا بھی نام ہے  

[76](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/02/76)

لو پونچھ ڈالو آنسوؤں کو بہرِ ذو الجلال  
دیکھو زیادہ رونے سے ہوگا ہمیں ملال  
میر مفارفت کا نہ کیجو کبھی خیال  
قائم تمہارے سر پہ رہے فاطمہ کا لال  
غم چاہیے نہ آہ و بکا چاہیے تمہیں  
شہ کی سلامتی کی دعا چاہیے تمہیں  

[77](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/02/77)

صدقے ہیں ابنِ فاطمہ پر مجھ سے سو غلام  
دیکھو نہ روتے دیکھ لیں تم کو کہیں امام  
کیا اشکِ خوں بہا کے بگاڑوگی میرا کام  
ہم ہاتھ جوڑتے ہیں یہ ہے صبر کا مقام  
پوچھیں حضورگر کہ تمہیں کیا قبول ہے  
صاحب یہ کہیو تم کہ رنڈاپا قبول ہے  

[78](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/02/78)

دیکھو کہ گھر میں اور بھی رانڈیں ہیں تین چار  
آدابِ شہ سے چپ ہیں نہیں کوئی بیقرار  
رہ جائے بات کرتے ہیں وہ امرا ہوشیار  
دنیا ہے بے ثبات زمانہ ہے بے مدار  
کیا کیا نہ تفرقے ہوئے ایک ایک آن میں  
صاحب سدا کوئی بھی جیا ہے جہان میں  

[79](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/02/79)

قاسم کو دیکھو جانبِ کبرا کرو نگاہ  
گذری جو شب تو صبح کو گھر ہو گیا تباہ  
دشمن کو بھی دکھائے نہ اللہ ایسا بیاہ  
کیا صابرہ ہے دخترِ شپیر واہ واہ  
سہتے ہیں یوں جہاں میں جفارانڈ ہونے کی  
آواز بھی بھلا کوئی سنتا ہے رونے کی  

[80](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/02/80)

آفت میں صبر کرتی ہیں اس طرح بیبیاں  
ہوتا ہے صابروں کا مصیبت میں امتحاں  
جل جائے دل مگر نہ اٹھے آہ کا دھواں  
اف کیجیے نہ منہ سے جو پہونچے لبوں پہ جاں  
چرچا رہے کہ وقت پہ کیا کام کر گئی  
چھوٹی بہو علی کا بڑا نام کر گئی  

[81](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/02/81)

شوہر نے یہ کلام کیے جب بہ چشم تر  
چپ ہو گئی وہ صاحب ہمت جھکا کے سر  
ہتھیار سج کے حضرتِ عباس نامور  
آئے قریب لختِ دل سیدالبشر  
صدمے سے رنگِ سبطِ نئی زرد ہو گیا  
کانپے یہ دست و پاک بدن سرد ہو گیا  

[82](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/02/82)

جوں جوں قریب آتے تھے عباس نامور  
بے تاب تھے حسین سنبھالے ہوئے جگر  
کہتے تھے اضطراب میں جھک کر ادھر ادھر  
جینے نہ دے گا آہ ہمیں صدمۂ کمر  
ہے زیست تلخ فاطمہ کے نورِعین کو  
زینب کہاں ہو؟ آ کے سنبھالو حسین کو  

[83](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/02/83)

سب گھر کی بیٹیوں سے کہو میرے پاس آئیں  
بانو کہاں ہیں زوجۂ عباس کو بلائیں  
گودی میں تشنہ کام سکینہ کو جلد لائیں  
کوچ اب جہاں سے ہے ہمیں سب آکے دیکھ جائیں  
یہ نوجواں سنبھالے گا جس دم مروں گا میں  
عباس سے ہر اک کی سفارش کروں گا میں  

[84](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/02/84)

یہ سن کے ساری بیبیاں آئیں یہ حالِ زار  
بولے قدم پہ جھک کے یہ عباسِ نامدار  
اے آفتابِ عالمیاں نورِ کردگار  
ہل من مبارز ًکا ادھر غل ہے بار بار  
ہیں ذرہ پروری کے چلن آفتاب میں  
آقا یہ دیر کس لیے خادم کے باب میں  

[85](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/02/85)

لڑکوں نے معرکہ میں کیے اپنے اپنے نام  
کیا میں غلامِ خاص نہیں یا شہِ انام  
ایسا دن اور بھی کوئی ہوئے گا یا امام  
کسا کام کا جو آج نہ کام آئے گا غلام  
مشکل ہے ایسے وقت میں رکنا دلیر کا  
آخر پسر ہوں شیر الٰہی سے شیر کا  

[86](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/02/86)

ہوتا جو سب سے پہلے فدا خادمِ جناب  
خوش ہوتی خاکسار سے روحِ ابوتراب  
اب ہوں ہر اک کے آگے خجالت سے آب آب  
زہرا سے بھی حجاب ہے شبر سے بھی حجاب  
اب بھی نہ تیغ و تیر اگر تن پہ کھاؤں گا  
مولا بتائیے کسے پھر منہ دکھاؤں گا  

[87](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/02/87)

ساتھ آپ کے سہوں گا نہ گر قتل کی جفا  
مجھ سے رسولِ پاک خوشی ہوں گے یا خفا؟  
بیزار کیا نہو ہوگا دلِ شاہ لافتا  
پھر فاطمہ کہیں گی مجھے صاحبِ وفا؟  
مرنے کا خط نہ جینے کا مطلق مزا رہا  
انساں کی آبرو نہ رہی جب تو کیا رہا  

[88](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/02/88)

پالا ہے مجھ کو یاشہ دل گیر آپ نے  
کی ہے ہمیشہ پیار سے تقریر آپ نے  
بندھوائی ہے کمر سے یہ شمشیر آپ نے  
بخشی ہے سب میں عزت و توقیر آپ نے  
وقتِ مدد ہے آج بھی امداد کیجیے  
بندہ سمجھ کے اب مجھے آزاد کیجیے  

[89](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/02/89)

گردن ہلا کے شہ نے کہا آہ کیا کروں؟  
مشکل ہے سخت اے مرے واللہ کیا کروں؟  
جینے نہ دے گا یہ غمِ جاں کاہ کیا کروں؟  
چھٹتا ہے اب برادرِ ذی جاہ کیا کروں؟  
دم بھر کی زندگی مجھے دشوار ہو گئی  
سب تو خفا تھے موت بھی بیزار ہو گئی  

[90](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/02/90)

غازی نے رکھ دیا قدم شاہِ دیں پہ سر  
بولے گلے لگا کے شہنشاہ بحرو بر  
اے تن کی جان اے سبب قوتِ جگر  
یوں ہے خوشی تو خیر جہاں سے کرو سفر  
بھائی نہ ہو تو بھائی کی مٹی خراب ہے  
اچھا تمہارا کوچ مرا پاتر اب ہے  

[91](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/02/91)

روتا ہوا جھکا پے تسلیم وہ جری  
سب روئے مشک دوشِ مبارک پہ جب دھری  
اک آہِ سرد زوجۂ عباس نے بھری  
صدمے سے رنگ زرد تھا اور تن میں تھرتھری  
سر سے روا بھی دوش تلک آ کے گر پڑی  
بانو کے پاس خاک پہ غش کھا کے گر پڑی  

[92](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/02/92)

نکلا وہ شیر خیمے سے باہر علم لیے  
مجرے کو آئی فتح سپاہ حشم لیے  
جرأت نے بڑھ کے بوسۂ تیغِ دو دم لیے  
نصرت نے چومے ہاتھ ظفر نے قدم لیے  
خورشید کا جلال نگاہو سے گر گیا  
اقبال سر کے گرد ہما بن کے پھر گیا  

[93](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/02/93)

آیا سجا ہوا وہ سمندبراق سیر  
تھا جو فلک پہ اڑنے کو تیار مثلِ طیر  
ہوتا تھا اس کے ڈر سے غزالوں کا حال غیر  
رن میں سپاہِ شر اسے رو کے تو یہ بخیر  
صر صر قدم کی گرد کو پاتی نہیں کبھی  
ڈھونڈھے بشر پری نظر آتی نہیں کبھی  

[94](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/02/94)

وہ زیب و زین زین کی وہ ساز وہ پھبن  
زیور سے جیسے ہوتی ہے آراستہ دلہن  
چشمِ سیاہ دیدۂآہوپہ طعنہ زن  
سرعت یہ تھی کہ بھولتے تھے چوکڑی ہرن  
جادو تھا معجزہ تھا پری تھی طلسم تھا  
پاکھر نہ تھی زرہ میں تہمتن کا جسم تھا  

[95](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/02/95)

رکھا قدم رکاب میں حیدر کے لال نے  
نعلین پاک فخر سے چوما ہلال نے  
بخشی جو صدرِ زیں کو ضیا خوش جمال نے  
دم کو چنور کیا فرس بے مثال نے  
کس ناز سے وہ رشکِ غزالِ ختن چلا  
طاؤس تھا کہ سیر کو سوئے چمن چلا  

[96](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/02/96)

خوشبو سے ارضِ پاک ریاضِ جناں بنی  
گرد اٹھ کے غازۂ رخ لیلیٰ نشاں بنی  
جلوے سے راہِ دشتِ بلا کہکشاں بنی  
ذرے بنے نجوم زمیں آسماں بنی  
سم بدر تھے تو نعل بھی چاروں ہلال تھے  
نقشِ سم فرس سے ہزاروں ہلال تھے  

[97](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/02/97)

وہ دبدبہ وہ سطوتِ شاہانہ وہ شباب  
تھرا رہا تھا جس کی جلالت سے آفتاب  
وہ رعبِ حق کہ شیر کا زہرہ ہو آب آب  
صولت میں فرد دفترِ جرأت میں انتخاب  
تیور میں سارے طور خدا کے ولی کے ہیں  
شوکت پکارتی ہے کہ بیٹے علی کے ہیں  

[98](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/02/98)

پہونچے جو دشتِ کیں میں اڑاتے ہوئے فرس  
گھوڑے کو ہاتھ اٹھا کے یہ آواز دی کہ بس  
دیکھیں صفیں جمی جو چپ و راس و پیش و پس  
نعرہ کیا کہ نہر پہ جانے کی ہے ہوس  
روکے گا جو وہ موت کے پنجے میں آئے گا  
ہٹ جاؤ سب کہ شیر ترائی میں جائے گا  

[99](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/02/99)

روکے ہمیں نکل کے جو طاقت کسی میں ہو  
لے تیغ میان سے جو شجاعت کسی میں ہو  
گرمائے رخش کو جو حرارت کسی میں ہو  
آئے جو حرب ضرب کی قدرت کسی میں ہو  
دو ہاتھ میں علی کے پسر آر پار ہیں  
دریا نہیں کہ رک گیا ہم ذوالفقار ہیں  

[100](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/02/100)

تم کیا پہاڑ بیچ میں گر ہو تو ٹال دیں  
شیروں کو ہم ترائی سے باہر نکال دیں  
مہلت نہ ایک کو دم جنگ و جدال دیں  
پانی تو کیا ہے آگ میں گھوڑے کو ڈال دیں  
منہ دیکھتے ہیں جو ہیں نگہبان گھاٹ کے  
لے جائیں گھر پہ تیغ سے دریا کو کاٹ کے  

[101](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/02/101)

سرکش ہیں سب ہماری زبردستوں سے زیر  
دادا شجاع باپ الوالعزم ہم دلیر  
جب رن پڑا ہے کردیے ہیں زخمیوں کے ڈھیر  
لائے ہیں جا کے آگ سے پانی خدا کے شیر  
عفریت بھاگتے ہیں وہ چوٹیں ہماری ہیں  
بیر العلم میں کود کے تلواریں ماری ہیں  

[102](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/02/102)

جرأت جلو میں رہتی ہے نصرت رکاب میں  
لیتے ہیں گھاٹ پیر کے تیغوں کی آب میں  
لکھے ہوئے ہیں شیروں کے حملے کتاب میں  
فصلیں ہیں اپنے زور کی خیبر کے باب میں  
ناصر ہیں بادشاہ فلک بارگاہ کے  
دفتر الٹ دیے ہیں عرب کی سپاہ کے  

[103](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/02/103)

بے مشک کے بھرے ہمیں آتا ہے چین کب  
گرمی میں پیاس سے کئی بچے ہیں جاں بلب  
اصفر کی گودیوں میں تڑپتے کٹی ہے شب  
کیا وقت ہے حسین کے بچوں پہ ہے عضب  
لالے پڑے ہوئے ہیں سکینہ کی جان کے  
کانٹے مجھے دکھائے تھے سوکھی زبان کے  

[104](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/02/104)

عبرت کی یہ جگہ ہے کہ ہم اورسوالِ آب  
سقہ بنے ہیں دیکھ کے بچوں کا اضطراب  
اس مشک نے کیا ہمیں عقبیٰ میں کامیاب  
اللہ ری آبرو کہ بہشتی ملا خطاب  
شہ سے نشانِ فوجِ پیمبر بھی مل گیا  
طوبیٰ کے ساتھ چشمہ ٔ کوثر بھی مل گیا  

[105](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/02/105)

یہ ذکر تھا کہ فوج کی جانب سے تیر آئے  
نیزے اٹھا کے شیر کے منہ پر شریر آئے  
یہ بھی جھپٹ کے مثلِ شہِ قلعہ گیر آئے  
گیتی ہلی غضب میں جناب امیر آئے  
گھوڑا اڑا پروں کو سواروں کے توڑ کے  
لپکی صفوں پہ سیف بھی کاٹھی کو چھوڑ کے  

[106](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/02/106)

آمد تھی تیغ کی کہ اجل کا پیام تھا  
یہ صف اخیر تھی وہ رسالہ تمام تھا  
بجلی سا ہر جگہ فرس تیز گام تھا  
ششدر تھی موت چار طرف قتلِ عام تھا  
اس غول پر کبھی تھی کبھی اس قطار پر  
پڑتا تھا ایک تیغ کا سایہ ہزار پر  

[107](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/02/107)

وہ تیغ کی چمک وہ تڑپ راہوار کی  
رفرف کی اک شبیہ تو اک ذوالفقار کی  
شوکت سوار میں شہ دلدل سوار کی  
حملوں میں شان سب اسدِ کردگار کی  
چتون وہی غضب وہی بے باکیاں وہی  
پھرتی وہی جھپٹ وہی چالاکیاں وہی  

[108](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/02/108)

توڑا یہ مورچہ یہ صف الٹی ادھر پھرے  
تلوار خوں میں آپ پسینے میں تر پھرے  
یوں خاک پہ گرا کے لعینوں کے سر پھرے  
جیسے شکار کھیلے ہوئے شیرِ نر پھرے  
تھی قہر کی نگاہ غضب کا جلال تھا  
آنکھیں بھی سرخ سرخ تھیں چہرہ بھی لال تھا  

[109](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/02/109)

منہ پھر گئے سپاہ کے جس سمت رخ کیا  
یاں سے وہاں گئے اسے مارا اسے لیا  
باقی رہے ہزار میں سو دس میں ایک جیا  
اللہ رے دم لہو پہ لہو تیغ نے پیا  
اس پر بھی تشنگی کو نہ تسکیں ذری ہوئی  
گو یا تھی آگ پیٹ میں اس کے بھری ہوئی  

[110](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/02/110)

بے شک تھا ان کا ہاتھ امیرِ عرب کا ہاتھ  
پہونچا وغا میں سو طرف اک تشنہ لب کا ہاتھ  
آئی اجل اٹھا جو کسی بے ادب کا ہاتھ  
شیرِ خدا کے شیر نے مارا غضب کا ہاتھ  
بازو پہ آئی تیغ دو دم شانہ کاٹ کے  
پہنچے کو بھی قلم کیا دستا نہ کاٹ کے  

[111](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/02/111)

چلتا تھا مثلِ برق یمین و یسار ہاتھ  
ڈر ڈر کے جوڑتے تھے ضلالت شعار ہاتھ  
ان کی نہ ایک ضرب نہ ان کے ہزار ہاتھ  
کافی تھے سب کو تیغِ دو دستی کے چار ہاتھ  
آواز شش جہت مین بگیروبزن کی تھی  
اللہ کا کرم تھا مدد پنجتن کی تھی  

[112](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/02/112)

نعرہ جدا صدائے بگیرِ و برہ جدا  
گوشہ کماں سے دور تھے گوشوں سے رہ جدا  
بکتر جدا زمین پہ ٹکڑے زرہ جدا  
نیزوں کو دیکھیے تو گرہ سے گرہ جدا  
اللہ رے فرق گردن وسر بھی بہم نہ تھے  
کشتوں کا ذکر کیا ہے کہ تیغوں میں دم نہ تھے  

[113](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/02/113)

جس کی طرف نظر دمِ جنگ و جلد پھری  
کچھ ہٹ کے تیغ سے اسی جانب اجل پھری  
رہواریوں پھرا کہ اشارے میں کل پھری  
تلوار بھی گلوں کی طرف بر محل پھری  
ایسے جری سے کس کو مجالِ مصاف تھی  
یوں پھر کے صف کی صف کو جو دیکھا تو صاف تھی  

[114](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/02/114)

چل پھر کے کاٹتی تھی وہ تلواریں ہاتھ پاؤں  
ڈر سے بڑھا نہ سکتے تھے خونخوار ہاتھ پاؤں  
سر بچ گیا تو ہو گئے بیکار ہاتھ پاؤں  
چمکی گری تو آٹھ ہوئے چار ہاتھ پاؤں  
روحیں پکاریں تیغ پھر آئی نکل چلو  
بولی اجل اب اٹھ کے تو پنجوں کے بل چلو  

[115](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/02/115)

تیرے ادھر قلم تو ادھر برچھیاں قلم  
ترکش دو نیم ٹکڑے کمانیں نشاں قلم  
ہر ہاتھ میں قلم کی طرح استخواں قلم  
منہ تیغ کا خراب سناں کی زباں قلم  
جب سن سے آئی سر پہ کسی بد خصال کے  
گویا سموم چل گئی پھولوں پہ ڈھال کے  

[116](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/02/116)

کی جس نے سر کشی وہی فتنہ فروہوا  
ظالم ہزار میں تھا جو یکتاوہ دو ہوا  
افشاں لہو سے شیر کا دستِ نکو ہوا  
ٹھنڈا وہی تھا جنگ پر سرگرم جو ہوا  
تھا خاتمہ سپاہ جہنم مقام کا  
شعلے بجھائے دیتا تھا پانی حسام کا  

[117](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/02/117)

وہ تیغ کھول دیتی تھی لوہے کا بھی حصار  
تھا اس کے ہاتھ سے دلِ چار آئینہ فگار  
آری تھیں منہ پہ تیغوں کے ایسے پڑے تھے دار  
خود اپنے سر پٹکتے تھے گر گر کے بار بار  
پانی وہ زہر تھا کہ پیا اور فنا ہوا  
ہے آج تک زرہ کا کلیجہ چھنا ہوا  

[118](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/02/118)

جاتی تھی ہر سرے کی طرف سن کے بار بار  
چڑھ کے سوار گرتے تھے تو سن کے بار بار  
اٹھتی تھی الاماں کی صدا رن سے بار بار  
ہر سر کا بار اترتا تھا گردن سے بار بار  
غارت ہوئے تباہ ہوئے بے تزک ہوئے  
ضربِ گراں جو اٹھ نہ سکی کیا سبک ہوئے  

[119](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/02/119)

ثابت رہی نہ ڈھال نہ مغفر نہ سر بچا  
سینے میں دل کو کاٹ گئی گر جگر بچا  
دو ٹکڑے ہو گیا وہ ادھر جو ادھر بچا  
بے زخم کھائے ایک نہ بیداد گر بچا  
تلوار سے کوئی کوئی ڈر سے ہلاک تھا  
سالم تھا جس کا جسم جگر اس کا چاک تھا  

[120](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/02/120)

سر سے کمر میں تھی تو کمر سے تہ فرس  
آفت کا منہ تھا قہر کا دم خم ستم کا کس  
کشتے تڑپ رہے تھے چپ و راس پیش و پس  
دو تھے اگر تو چار ہوئے پانچ تھے تو دس  
غل تھا وہی لڑے جسے سر تن پہ بار ہو  
آفت بپا ہے کون اجل سے دو چار ہو  

[121](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/02/121)

غل تھا شرارتوں سے اس آتش زبان کی  
پریاں پکارتی تھیں کہ ہو خیر جان کی  
دنیا میں شعلہ بار ہے آگ اس جہان کی  
بدلی ہوئی ہے آج ہوا آسمان کی  
بجلی خجل ہے نازیہ اس شعر خو کے ہیں  
بوچھاڑ ہے سروں کی در یڑے لہو کے ہیں  

[122](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/02/122)

جب بڑھ کے سن سے صورتِ تیغ علی چلی  
ثابت ہوا کہ ضربتِ دستِ ولی چلی  
دل پر خفی چلی تو گلوں پر جلی چلی  
تن سے نکل کے روح پکاری چلی چلی  
دی تیغ نے صدا کہ ارادہ کدھر کا ہے  
چلائی موت چل یہی رستا سقر کا ہے  

[123](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/02/123)

خشکی میں تھی جو آپ تو آتش تری میں تھی  
ہم نام ذوالفقار علی صفدری میں تھی  
تلوار تھی کہ برق لباس پری میں تھی  
بے باک اس لیے تھی کہ دستِ جری میں تھی  
خوں بھی اسے حلال دیت بھی معاف تھی  
کاٹا تھا سو گلوں کو مگر پاک صاف تھی  

[124](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/02/124)

سارے رسالہ دار تباہی میں پڑ گئے  
اب منہ کسے دکھائیں کہ چہرے بگڑ گئے  
نامی جو تھے جواں قدم ان کے اکھڑ گئے  
بھاگے جو سب نشاں بھی خجالت سے گڑ گئے  
علموں کے پاس ڈھیرے پھریروں کے رن میں تھے  
ریتی پہ بیرقیں تھیں کہ مردے کفن میں تھے  

[125](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/02/125)

پہنے ہوئے تھے جسم میں زر ہیں جو چست چست  
چوٹیں کڑی پڑیں تو ہوئے وہ بھی سخت سست  
خوفِ اجل سے بھول گئے وعدۂ نخست  
ٹوٹی صفوں میں ہاتھ کسی کے نہ تھے درست  
اک شور تھا کہ جان گئی اس لڑائی میں  
گھوڑے بھگاؤ آگ لگی ہے ترائی میں  

[126](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/02/126)

گھیرے تھے ایک جان کو دو لاکھ اہلِ شہر  
ٹھہرے کہاں قرار کہاں لیں تھمیں کدھر  
چھاتی کے پاس برچھیاں تیغیں قریبِ سر  
پہلو میں اس طرف تو سنائیں ادھر تبر  
ملتی نہ تھی اماں سپہ تیرہ بخت سے  
گوشوں سے تیر چلتے تھے پتھر درخت سے  

[127](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/02/127)

جب مشک کی طرف کوئی آتا تھا سن سے تیر  
کہتے تھے یا حفیظ کبھی گاہ یا قدیر  
چلا رہا تھا شمر جفا پیشہ و شریر  
جانے نہ پائے لختِ دلِ شاہ قلعہ گیر  
رخ اس جری کا خیمہ کی جانب سے موڑ دو  
ہاں برچھیوں سے شیر کے سینہ کو توڑ دو  

[128](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/02/128)

سن کر زباں درازیِ شہرِ ستم شعار  
عباس مثلِ شیر جھپٹتے تھے بار بار  
تلواریں سیکڑوں تھیں ہزاروں تھے نیزہ دار  
توڑی اگر یہ صف تو جمی دوسری قطار  
تنہا سنبھالے مشک و علم یاوغا کرے  
بلوہ ہو ساری فوج کا جس پر وہ کیا کرے  

[129](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/02/129)

مشہور ہے کہ ایک پہ بھاری ہیں دو بشر  
در پے تھے اک جواں کے لیے لاکھ اہلِ شر  
کھائے ادھر سے زخم جو کی اس طرف نظر  
کس کس کا وار رد کریں دیکھیں کدھر کدھر  
جب دم لیا تو سینہ پہ سو تیر چل گئے  
پہلو کو توڑ توڑ کے نیزے نکل گئے  

[130](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/02/130)

سینہ سپر تھے مشک پہ رو کے ہوئے تھے ڈھال  
لڑنے میں بھی حسین کے بچوں کا تھا خیال  
کہتا تھا ڈگمگا کے فرس پردہ خوش خصال  
فرزند کو سنبھالیے یا شیرِ ذوالجلال  
جا پہنچوں مشک لے کے جو تھوڑی سی راہ ہو  
ایسا نہ ہو کہ پیاسوں کی کشتی تباہ ہو  

[131](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/02/131)

یہ کہتے تھے کہ ٹوٹ پڑا لشکرِ کثیر  
بس چور ہو گیا پسرِ شاہ قلعہ گیر  
آکر لگا میان دوا ابرو جو ایک تیر  
تیور اگیا علی ٔولی کا مہ منیر  
چھوٹی جو باگ پاؤں فرس کے بھی رک گئے  
پھیلا کے ہاتھ مشک سکینہ پہ جھک گئے  

[132](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/02/132)

اب یاں تو خاتمہ ہے سنو اس طرف کا حال  
ڈیوڑھی پہ ننگے سر ہے رسولِ خدا کا لال  
غم سے کمر جھکی ہوئی رخ زرد جی نڈھال  
یہ کرب ہے کہ ہوتا ہے جو وقتِ انتقال  
گر گر اٹھے تڑپ کے ادھر سےادھر گئے  
جب آہ کی تو سب نے یہ جانا کہ مر گئے  

[133](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/02/133)

فریاد کر کے دل کبھی تھا ما جگر کبھی  
پکڑی طناب خیمے کی گہ اور کمر کبھی  
گھبرا کے پیارے بھائی کو پوچھی خبر کبھی  
روئے پسر کی دوش پہ رکھ کھر کے سر کبھی  
کی آہ سامنے کبھی زہرا کی جائی کے  
رو کر کبھی لپٹ گئے بیٹے سے بھائی کے  

[134](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/02/134)

فرماتے تھے کراہ کے اکبر سے بار بار  
شانے دباؤ اے علی اکبر پدر نثار  
کیسا یہ درد ہے کہ جگر کو نہیں قرار  
بازو کا زور لے گئے عباسِ نامدار  
واحسرتا کہ بے کس و بے یار ہو گئے  
سر پیٹیں کس سے ہاتھ تو بیکار ہو گئے  

[135](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/02/135)

چلاتے تھے کہ جانِ بر ادربس اب پھر آؤ  
پہونچا ہے دم لبوں پہ ہمٰیں آ کے دیکھ جاؤ  
بھیا خدا کے واسطے اب برچھیاں نہ کھاؤ  
عباس ہم اخیر ہیں تشریف جلد لاؤ  
پیاری تمہاری ننھے سے ہاتھوں کو ملتی ہے  
اب تم کو ڈھونڈھنے کو سکینہ نکلتی ہے  

[136](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/02/136)

حضرت تو پیٹتے ہیں یہ کہہ کر بہ صد ملال  
خیمے میں غش ہے زوجہ عباسِ خوش خصال  
ڈیوڑھی پہ اہلِ بیت ہیں سب کھولے سر کے بال  
پردے سے منہ نکالے ہیں اطفالِ خورد سال  
لب ان کے اودے اودے ہیں منہ گورے گورے ہیں  
آنکھوں میں اشک ہاتھوں میں خالی کٹورے ہیں  

[137](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/02/137)

کہتے ہیں سب لبوں پہ زبانوں کو پھیر کر  
اب پانی لے کے آتے ہیں عباس نام ور  
حضرت سے پوچھتی ہے سکینہ بہ چشمِ تر  
میرے چچا کب آئیں گے یا شاہِ بحر و بر  
کیا میں سفر کروں گی جہاں سے تب آئیں گے  
بہلاتے ہیں حسین کہ بی بی اب آئیں گے  

[138](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/02/138)

گھیرے ہیں لاکھ ان کو ستمگار ہائے ہائے  
مانگو دعا کہ بھائی کو میرے خدا بچائے  
وہ کہتی ہے میں پانی سے گذری نہ مشک آئے  
ہے ہے بس اب چچا کو مرے کوئی پھیر لائے  
رکھے خدا جہاں میں علی کی نشانی کو  
میں کیا کروں گی آگ لگے ایسے پانی کو  

[139](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/02/139)

یہ ذکر تھا کہ فتح کے باجے بجے ادھر  
تڑپے زمیں پہ گر کے شہنشاہِ بحر و بر  
چلائے بڑھکے فوج سے دو چار اہلِ شر  
حضرت کہاں ہیں مر گئے عباسِ نامور  
کیا کیا چلی ہیں تیغوں پہ تیغیں لڑائی میں  
وہ زخم کھائے شیر پڑا ہے ترائی میں  

[140](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/02/140)

افشاں ہیں سر کے خون کی چھینٹوں سے سب نشاں  
عباس کانپ جاتے تھے جھکتا تھا جب نشاں  
نام آوروں نے آج مٹایا عجب نشاں  
کیوں اے حسین کون اٹھائے گا اب نشاں  
لاش ان کی پائمال ہوئی زخم پھٹ گئے  
جن میں علی کا زور تھا وہ ہاتھ کٹ گئے  

[141](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/02/141)

آئی صدا یہ نہر کی جانب سے ایک بار  
آقا تمام ہوتا ہے یہ عبدِ جاں نثار  
تن سے نکل کے آنکھوں میں اٹکی ہے جانِ زار  
اب ہے فقط حضور کے آنے کا انتظار  
بابا کے ساتھ خلد سے تشریف لائی ہیں  
حضرت کی والدہ مرے لینے کو آئی ہیں  

[142](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/02/142)

شہ دوڑ کر پکارے کہ آتا ہوں بھائی جان  
گھر لٹ گیا ہے خاک اڑاتا ہوں بھائی جان  
طاقت بدن مین اب نہیں پاتا ہوں بھائی جان  
اک اک قدم پہ ٹھوکریں کھاتا ہوں بھائی جان  
دستِ شکستہ بیٹے کی گردن میں ڈالے ہیں  
بھیا ہمیں تو اکبر مہ رو سنبھالے ہیں  

[143](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/02/143)

دیکھا جو در سے بنتِ علی نے یہ شہ کا حال  
ڈیوڑھی سے نکلی چند قدم کھولے سر کے بال  
چلاتی کون قتل ہوا اے علی کے لال  
مڑ کر کہا حسین نے عباس خوش خصال  
دریا پہ فوجِ شام نے مارا دلیر کو  
زینب اجل نے چھین لیا میرے شیر کو  

[144](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/02/144)

خورشید مشرقین زمانے سے اٹھ گیا  
سید کا نور عین زمانے نے سے اٹھ گیا  
وہ عاشقِ حسین زمانے سے اٹھ گیا  
زینب ہمارا چین زمانے سے اٹھ گیا  
آتا نہیں قرار دلِ بے قرار کو  
دریا پہ روئے جاتے ہیں خدمت گزار کو  

[145](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/02/145)

اکبر کو ہاتھ اٹھا کے پکاری وہ سوگوار  
ہے ہے حسین ہو گئے بے یار و غم گسار  
ماتم جوان بھائی کا ہے تم پہ میں نثار  
اکبر خدا کے واسطے بابا سے ہوشیار  
گرنے لگیں تو حیدرِ صفدر کا نام لو  
بیٹا پدر کے ہاتھ کو مضبوط تھام لو  

[146](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/02/146)

اکبر پدر کو تھامے ہوئے نہر پر جولائے  
غلطاں لہو میں بازوئے سرور کے ہاتھ پائے  
چلائے شاہ لاش کدھر ہے کوئی بتائے  
فرق آگیا ہماری بصارت میں ہائے ہائے  
رو لیں گلے لگا کے تنِ پاش پاش کو  
اکبر ہمیں دکھا دو برادر کی لاش کو  

[147](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/02/147)

اکبر نے شہ کے ہاتھ پکڑ کر بہ صد بکا  
رکھے چچا کے سینے پہ اور رو کے یہ کہا  
لیجے یہی ہے لاشِ علمدار باوفا  
چلائے جھک کے لاش پہ سلطانِ کربلا  
ٹوٹی ہوئی کمر ہے سنبھالو حسین کو  
بھیا ذرا گلے سے لگالو حسین کو  

[148](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/02/148)

عباس ہاتھ کٹ گئے شانوں سے ہے غضب  
ریتی پہ دو طرف یہ تمہارا لہو ہے سب  
لوٹا ہمیں رسول کی امت نے بے سبب  
بھیا ہماری جان نکلتی ہے تن سے اب  
مر جائیں گے جلا دو ہمیں منہ سے بول کر  
دو باتیں کر لو بھائی سے آنکھوں کو کھول کر  

[149](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/02/149)

کیوں خاک پر دھرے ہو یہ رخسار خوں میں تر  
آؤ ہم اپنے زانو پہ رکھیں تمہارا سر  
لیتے ہو کیوں کراہ کے کروٹ ادھر ادھر  
ثابت ہوا کہ جلد ہے دنیا سے آب سفر  
ہے ہے دلیلِ مرگ ہے لکنت زبان کی  
ہچکی نہیں یہ جسم سے رخصت ہے جان کی  

[150](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/02/150)

غش میں سنی جو گریۂ شپیر کی صدا  
چونکے تڑپ کے حضرتِ عباس باوفا  
آہستگی پہ عرض کہ اے سبطِ مصطفا  
اس پیار کے نثار اس الطاف کے فدا  
زیبا ہے نکلے جان اگر پیشوائی کو  
گویا رسول آئے ہیں مشکل کشائی کو  

[151](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/02/151)

یہ کہہ کے روئے شہ کی طرف کی نظر بہ غور  
جھ کر پکارے شاہ کہ بھیا کہو کچھ اور  
تڑپا قدم پہ شہ کے وہ مقتولِ ظلم و جور  
لیں ہچکیاں بگڑنے لگے تیوروں کے طور  
پتھرا کے چشمِ اشک فشاں بند ہو گی  
تھرا ئے دونوں ہونٹ زباں بند ہو گئیں  

[152](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/02/152)

اکبر نے عرض کی کہ چچا جان مر گئے  
جھک کر پکارے شاہ کے بھیا کدھر گئے  
منہ تو اٹھاؤ خاک سے رخسار بھر گئے  
واحسر تا حسین کو بے آس کر گئے  
اب کون دے گا دکھ میں نبی کے پسر کا ساتھ  
دم بھر میں تم نے چھوڑ دیا عمر بھر کا ساتھ  

[153](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/02/153)

ہاں روؤ مومنو یہ بکا کا مقام ہے  
تم میں شریک روحِ رسولِ انام ہے  
اب رخصتِ حسین علیہ السلام ہے  
تاریخ آٹھویں ہے محرم تمام ہے  
موت آئی تو شریکِ عزا کون ہوئے گا؟  
جو سال بھر جیے گا وہ پھر شہ کو روئے گا  

[154](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/02/154)

آگے تمہارے مرتے جو عباس با وفا  
پرسا نہ دیتے سبط رسولِ خدا کو کیا  
تم سب کو دیکتے ہیں شنہشاہِ کربلا  
زہرا بھی ننگے سر ہیں قیامت کرو بپا  
سمجھو شریکِ بزمِ شہِ مشرقین کو  
دے لو جوان بھائی کا پرسا حسین کو  

[155](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/02/155)

پیٹو سروں کو ہوتا ہے اب مرثیہ تمام  
لپٹو ضریح پاک سے کہہ کہہ کے یا امام  
رخصت طلب ہے باپ سے اکبر سا لالہ فام  
خاموش ہیں حسین نہیں کرتے کچھ کلام  
مقتول ظلم و جور ہے اب رن میں فاطمہ  
ہوتا ہے پنجتن میں کوئی دم میں خاتمہ  

[156](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/02/156)

بس اے انیسؔ روک لے اب خامہ کی عناں  
یہ غم ہے جاں گزا نہ کبھی ہوئے گا بیاں  
آنکھوں سے سامعین کے بھی اشک ہیں رواں  
خالق سے عرض کر کہ اے خلاقِ انس و جاں  
آنکھوں سے مس کروں میں مزار بتول کو  
دکھلا دے جلد مرقد سبطِ رسول کو  

### جب قطع کی مسافتِ شب آفتاب نے

https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/03

[1](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/03/1)

جب قطع کی مسافتِ شب آفتاب نے  
جلوہ کیاسحر کے رخِ بے حجاب نے  
دیکھا سوئے فلک شہ گردوں رکاب نے  
مڑ کر صدا رفیقوں کو دی اس جناب نے  
آخر ہے رات حمد و ثنائے خدا کرو  
اٹھو فریضۂ سحریٰ کو ادا کرو  

[2](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/03/2)

ہاں غازیو یہ دن ہے جدال و قتال کا  
یاں خوں بہے گا آج محمد کی آل کا  
پرہ خوشی سے سرخ ہے زہرا کے لال کا  
گذری شبِ فراق دن آیا وصال کا  
ہم وہ ہیں غم کریں گے ملک جن کے واسطے  
راتیں تڑپ کے کاٹی ہیں اس دن کے واسطے  

[3](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/03/3)

یہ صبح ہے وہ صبح مبارک ہے جس کی شام  
یاں سے ہوا جو کوچ تو ہے خلد میں مقام  
کوثر پہ آبرو سے پہونچ جائیں تشنہ کام  
لکھے خدا نماز گزاروں ممیں سب کے نام  
سب ہیں وحیدِ عصر یہ غل چار سو اٹھے  
دنیا سے جو شہید اٹھے سرخرو اٹھے  

[4](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/03/4)

یہ سن کے بستروں سے اٹھے وہ خدا شناس  
اک اک نے زیبِ جسم کیا فاخرہ لباس  
شانے محاسنوں میں کیے سب نے بے ہراس  
باندھے عمامہ آئے امامِ زماں کے پاس  
رنگیں عبائین دوش پہ کمریں کسے ہوے  
مشک و زبا دو عرت میں کپڑے بسے ہوئے  

[5](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/03/5)

سوکھے بسوں پہ حمدِ الٰہی رخوں پہ نور  
خوف و ہراس رنج و کدورت دلوں سے دور  
فیاض حق شناس اولو العزم ذی شعور  
خوش فکر و بزلہ سنج و ہنر پرور و غیور  
کانوں کو حسنِ صوت سے حظ برملا ملے  
باتوں میں وہ نمک کہ دلوں کو مزا ملے  

[6](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/03/6)

ساونت برد بار فلک مرتبت دلیر  
عالی منش سبا میں سلیماں وغا میں شہ  
گرداں دہر ان کی زبردستیوں سے زیر  
فاقے سے تین دن کے مگر زندگی سے سیہ  
دنیا کو ہیچ پوچ سراپا سمجھتے ہیں  
دریا دلی سے بحر کو قطرا سمجھتے ہیں  

[7](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/03/7)

تقریر میں وہ رمز کنایہ کہ لاجواب  
نکتہ بھی منہ سے گر کوئی نکلا تو انتخاب  
گویا دہن کتابِ بلاغت کا ایک باب  
سوکھی زبانیں شہد فصاحت سے کامیاب  
لہجوں پہ شاعران عبر تھے مرے ہوئے  
پستے بسوں کے وہ کہ نمک سے بھرے ہوئے  

[8](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/03/8)

لب پر ہنسی گلوں سے زیادہ شگفتہ رو  
پیدا تنوں س پیرہن یوسفی کی بو  
غلماں کے دل میں جن کی غلامی کی آرزو  
پرہیز گار زاہدِ ابرار و نیک خو  
پتھر میں ایسے لعل صدف میں گہر نہیں  
روں کا قول تھا کہ ملک ہیں بشر نہیں  

[9](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/03/9)

پانی نہ تھا وضو جو کریں وہ فلک مآب  
پر تھی رخوں پہ خاکِ تمیم سے طرفہ آب  
باریک ابر میں نظر آتے تھے آفتاب  
ہوتے ہیں خاکسار غلامِ ابوتراب  
مہتاب سے رخوں کی صفا اور ہو گئی  
مٹی یس آئتوں میں جلا اور ہو گئی  

[10](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/03/10)

خیمے سے نکلے شہ کے عزیزاں خوش خصال  
جن میں کئی تھے حضرتِ خیر النسا کے لال  
قاسم سا گلبدن علی اکبر سا خوش جمال  
اک جا عقیل و مسلم و جعفر کے نونہال  
سب کے رخوں کا نور سپہر بریں پہ تھا  
اٹھارہ آفتابوں کا غنچہ زمیں پہ تھا  

[11](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/03/11)

ٹھنڈی ہوا میں سبزۂ صحرا کی وہ لہک  
شرمائے جس سے اطلسِ زنگاریِ فلک  
وہ جھومنا درختوں کا پھولوں کی وہ مہک  
ہر برگِ گل پہ قطرہ شبنم کی وہ جھلک  
ہیرے خجل تھے گوہر یکتا نثار تھے  
پتے بھی ہر شجر کے جواہر نگار تھے  

[12](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/03/12)

قرباں صنعتِ قلم آفریدگار  
تھی ہر ورق پہ صنعتِ ترصیع آشکار  
عاجز ہے فکرت شعرائے ہند شعار  
ان صنعتوں کو پائے کہاں عقلِ سادہ کار  
عالم تھا محو قدرت رب عباد پر  
مینا کیا تھا وادیِ مینو سواد پر  

[13](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/03/13)

وہ نور اور وہ دشت سہانا وہ فضا  
دراج و کیک و تیہود طاؤس کی صدا  
وہ جوشِ گل وہ نالۂ مرغانِ خوش نوا  
سردی جگر کو بخشی تھی صبح کی ہوا  
پھولوں سے سبز سبز شجر سرخ پوش تھے  
تھا لے بھی نخل کے سبدِ گل فروش تھے  

[14](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/03/14)

وہ دشت وہ نسیم کے جھونکے وہ سبزہ زار  
پھولوں پہ جابجا وہ گہرہائے آبدار  
اٹھتا وہ جھوم جوھم کے شاخوں کا باربار  
بالائے نخل ایک جو بلبل تو گل ہزار  
خواہاں تھے زہرا گلشن زہرا جو آب کے  
شبنم نے بھر دیے تھے کٹورے گلاب کے  

[15](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/03/15)

وہ قمریوں کا چار طرف سرو کے ہجوم  
کو کو کا شور نالۂ حق سرہ کی دھوم  
سبحان رہنا کی صدا تھی علی العموم  
جاری تھے وہ جو ان کی عبادت کے تھے رسوم  
کچھ گل فقط نہ کرتے تھے رب علا کی حمد  
ہر خار کو بھی نوکِ زباں تھی خدا کی حمد  

[16](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/03/16)

چیونٹی بھی ہاتھ اٹھا کے یہ کہتی تھی بار بار  
اے دانہ کش ضعیفوں کے رازق ترے نثار  
یا حی یاقدیر کی تھی ہر طرف پکار  
تہلیل تھی کہیں کہیں تسبیح کردگار  
طائر ہوا میں محو ہنر سبزہ زار میں  
جنگل کے شیر گونج رہے تھے کچھار میں  

[17](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/03/17)

کانٹوں میں اک طرف تھے ریاضِ نبی کے پھول  
خوشبو سے جن کی خلد تھا جنگل کا عرض و طول  
دنیا کی زیب و زینتِ کا شانۂ بتول  
وہ باغ تھا لگا گئے تھے خود جسے رسول  
ماہِ عزا کے عشرۂ اول میں کب گیا  
وہ باغیوں کے ہاتھ سے جنگل میں کٹ گیا  

[18](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/03/18)

اللہ رے خزاں کے دن اس باغ کی بہار  
پھولے سماتے تھے نہ محمد کے گلِ عذار  
دولہا بنے ہوئے تھے اجل تھی گلوں کا ہار  
جاگے وہ ساری رات کے وہ نیند کا خمار  
راہیں تمام جسم کی خوشبو سے بس گئیں  
جب مسکرا کے پھولوں کلیاں بکس گئیں  

[19](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/03/19)

وہ دشت اور خیمۂ زنگارگوں کی شان  
گویا زمیں پہ نصب تھا اک تازہ آسمان  
بے چوبہ سپہر بریں جس کا سائبان  
بیت العیق دین کا مدینہ جہاں کی جان  
اللہ کے حبیب کے پیارے اسی میں تھے  
سب عرشِ کبریا کے ستارے اسی میں تھے  

[20](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/03/20)

گردوں پہ ناز کرتی تھی اس دشت کی زمیں  
کہتا تھا آسمانِ دہم چرخ ہضمتیں  
پردے تھے رشک پردۂ چشمانِ حور میں  
تاروں سے تھا فلک اسی خرمن کا خوشہ چیں  
دیکھا جو نور شمسۂ کیواں جناب پر  
کیا کیا ہنسی ہے صبحِ گل آفتاب پر  

[21](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/03/21)

ناگاہ چرخ پر خطِ ابیض ہوا عیاں  
تشریف جا نماز پہ لائے شہ زماں  

[22](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/03/22)

سجاد بچھ گئے عقبِ شاہ انس و جاں  
تاروں سے تھا فلک اسی خرمن کا خوشہ چیں  

[23](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/03/23)

دیکھا جو نور شمسۂ حسن سے اکبرِ مہر و نے دی اذاں  
ہر اک کی چشم آنسوؤں سے ڈبڈبا گئی  
گویا صدا رسول کی کانوں میں آگئی  

[24](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/03/24)

چپ تھے طیور جھومتے تھے وجد میں شجر  
تسبیح خواں تھے برگ و گل غنچہ و ثمر  
محوِ ثنا کلوخ دنبا تات و دشت دور  
پانی سے منہ نکالے تھے دریا کے جانور  
اعجاز تھا کہ دلبِ شپیر کی صدا  
ہر خشک و تر سے آئی تھی تکبیر کی صدا  

[25](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/03/25)

ناموس شاہ روتے تھے خیمے میں زار زار  
چپکی کھڑی تھی صحن میں بانو کے نامدار  
زینب بلائیں لے کے یہ کہتی تھی بار بار  
صدقے نمازیوں کے مؤذن کے میں نثار  
کرتے ہیں یوں ثنا وصف ذوالجلال کی  
لوگوں اذا سنو مرے یوسف جمال کی  

[26](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/03/26)

یہ حسنِ صوت اور یہ قرأت یہ شدو مد  
حقا کہ افصح الفصحا ہے انہیں کا جد  
گویا ہے لحن حضرتِ داؤد با خرد  
یارب رکھ اس صدا کو زمانے میں تا ابد  
شعبے صدا میں پنکھڑیاں جیسے پھول میں  
بلبل چہک رہا ہے ریاضِ رسول میں  

[27](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/03/27)

میری طرف سے کوئی بلائیں تو لینے جائے  
عین الکمال سے تجھے بچے خدا بچائے  
وہ لو ذعی کی جس کی طلاقت دلوں کو بھائے  
دو دد دن ایک بوند بھی پانی کہ وہ نہ پائے  
غربت میں پڑ گئی ہے مصیبت حسین پر  
فاقہ یہ تیسرا ہے مرے نورِ عین پر  

[28](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/03/28)

صف میں ہوا جو نعرۂ قدقامت الصلوٰۃ  
قائم ہوئی نامز اٹھے شاہِ کائنات  
وہ نور کی صفیں وہ مصلی ملک صفات  
قدموں سے جن کی ملتی تھی آنکھیں رہِ نجات  
جلوہ تھا تابہ عرشِ معلیٰ حسین کا  
مصحف کی لوح تھی کہ مصلی حسین کا  

[29](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/03/29)

اک صف میں سب محمد و حیدر کے رشتہ دار  
اٹھارہ نوجواں تھے اگر کیجیے شمار  
پر سب جگر نگار حق آگاہ خاکسار  
پیرہ امام پاک کے داتائے رونار  
تسبیح ہر طرف تہ افلاک انہیں کی ہے  
جس پر درورد پڑھتے ہیں یہ خاک انہیں کی ہے  

[30](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/03/30)

دنیا سے اٹھ گیا وہ قیام اور وہ قعود  
ان کے لیے تھی بندگی واجب الوجود  
وہ عجز وہ طویل رکوع اور وہ سجود  
طاعت میں نیست جانتے تھے اپنی ہست و بود  
طاقت نہ چلنے پھرنے کی تھی ہاتھ پاؤں میں  
گر گر کے سجدے کر گئے تیغوں کی چھاؤں میں  

[31](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/03/31)

ہاتھ ان کے جب قنوت میں اٹھے سوئے خدا  
خود ہوگئے فلک پہ اچابت کے باب وا  
تھرائے آسماں بلا عرش کبریا  
شہ پر تھے دونوں ہاتھ پے طائر دعا  
وہ خاکسار محوِ تضرع تھے فرش پر  
روح القدس کی طرح دعائیں تھیں عرش پر  

[32](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/03/32)

فارغ ہوئے نماز سے جب قبلۂ انام  
آئے مصافحے کو جو انان تشنہ کام  
چومے کسی نے دستِ شہنشاہ خاص و عام  
آنکھٰں ملیں قدم پہ کسی نے با حترام  
کیا دل تھے کیا سپاہِ رشید و سعید تھی  
باہم مانقے تھے کہ مرنے کی عید تھی  

[33](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/03/33)

بیٹھے تھے جا نماز پہ شاہِ فلک سریر  
ناگہ قریب آ کے گرے تین چار تیر  
دیکھا ہر اک نے مڑ کے سوئے لشکرِ شریر  
عباس اٹھے تول کے شمشیر بے نظیر  
پروانہ تھے سراج امامت کے نور پر  
روکی سپر حضور کرامت ظہور پر  

[34](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/03/34)

اکرب سے مڑکے کہنے لگے سرورِ زماں  
تم جا کے کہہ دو خیمے میں یہ اے پدر کی جاں  
باندھے ہے سر کشی پر کمر لشکرِ گراں  
بچوں کو لے کے صحن سے ہٹ جائیں بیبیاں  
غفات میں تیرے کوئی بچہ تلف نہ ہو  
ڈر ہے مجھے کہ گردنِ اصغر ہدف نہ ہو  

[35](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/03/35)

کہتے تھے یہ پسر سے شۂ آسماں سریر  
فضہ پکاری ڈیوڑھی سے اے خلق کے امیر  
ہے ہے علی کی بیٹیاں کس جا ہوں گو شہ گیر  
اصغر کے گاہوارے تک آکر گرے ہیں تیر  
گرمی میں ساری رات یہ گھٹ گھٹ کے روئے ہیں  
بچے ابھی تو سرد ہوا پا کے سوئے ہیں  

[36](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/03/36)

باقر کہیں پڑا ہے سکینہ کہیں ہے غش  
گرمی کی فصل یہ تب و تاب اور یہ عطش  
رو رو کے سو گئے ہیں صغیر ان ماہ وش  
بچوں کو لے کے یاں سے کہاں جائیں فاقہ کش  
یہ کس خطا پہ تیر پیا پے برستے ہیں  
ٹھنڈی ہوا کے واسطے بچے ترستے ہیں  

[37](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/03/37)

ٹھے یہ شور سن کے امامِ فلک وقار  
ڈیوڑھی تک آئے تک ڈھالوں کو رد کے رفیق و یار  
فرمایا مڑکے چلتے ہیں اب بہرِ کارزار  
کمریں کسو جہاد پہ منگواؤ راہوار  
دیکھیں فضا بہشت کی دل باغ باغ ہو  
امت کے کام سے کہیں جلدی فراغ ہو  

[38](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/03/38)

فرما کے یہ حرم میں گئے شاہِ بحروبر  
ہونے لگیں صفوں میں کمر بندیاں ادھر  
جو شن پہن کے حضرتِ عباس نامور  
دروازے پہ ٹہلنے لگے مثلِ شیرِ نر  
پرتو سے رخ کے برق چمکتی تھی پاک پر  
تلوار ہاتھ میں تھی سپرِ دوش پاک پر  

[39](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/03/39)

شوکت میں رشک تاج سلیمان تھا خودِ سر  
کلغی پہ لاکھ بار تصدق ہما کے پر  
دستانے دونوں فتح کا مسکن ظفر کا گھر  
وہ رعب الامان وہ تہور کہ الحذر  
جب ایسا بھائی ظلم کی تیغوں میں آر ہو  
پھر کس طرح نہ بھائی کی چھاتی پہاڑ ہو  

[40](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/03/40)

خیمے میں جا کے شہ نے یہ دیکھا حرم کا حال  
چہرے تو فق ہیں اور کھلے ہیں سردوں کے بال  
زینب کی یہ دعا ہے کہ اے رب ذوالجلال  
بچ جائے اس فساد سے خیر النسا کا لال  
بانوئے نیک نام کی کھیتی ہری رہے  
صندل سے مانگ بچوں سے گودی بھری رہے  

[41](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/03/41)

آفت میں ہے مسافرِ صحرائے کربال  
بے کس پہ یہ چڑھائی ہے سید پہ یہ جفا  
غربت میں ٹھن گئی جو لڑائے تو ہوگا کیا  
ان ننھے ننھے بچوں پہ کر رہ اے خدا  
فاقوں سے جاں بلب ہیں عطش سے ہلاکِ ہیں  
یارب ترے رسول کی ہم آلِ پاک ہیں  

[42](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/03/42)

سر پر نہ اب علی نہ رسولِ فلک وقار  
گھر لٹ گیا گذر گئیں خاتونِ روزگار  
اماں کے بعد روئی حصن کو میں سوگار  
دنیا میں اب حسین ہے ان سب کا یادگار  
تو داد دے مری کہ عدالت پناہ ہے  
کچھ اس پہ بن گئی تو یہ مجمع تباہ  

[43](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/03/43)

بولے قریب جا کے شہِ آسماں جناب  
مضطر نہ ہو دعائیں ہیں تم سب کی مستجاب  
مغرور ہیں خطا پہ ہیں یہ خانماں خراب  
خود جا کے میں دکھاتا ہوں ان کو رہِ صواب  
موقع بہن نہیں ابھی فریاد و آہ کا  
لاؤ تبرکات رسالت پناہ کا  

[44](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/03/44)

معراج میں رسول نے پہنا تھا جو لباس  
کشتی میں لائیں زینب اسے شاہِ دیں کے پاس  
سر پر رکھا عمامۂ سردارِ حق شناس  
پہنی قبائے پاکِ رسول فلک اساس  
برمیں درست و چست تھا جامہ رسول کا  
رومال فاطمہ کا عمامہ رسول کا  

[45](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/03/45)

شملے دو سرے جو پڑے تھے بصد وقار  
ثابت یہ تھا کہ دوش پہ گیسو پڑے ہیں چار  
بل کھا رہا تھا زلفِ سمن بو کا تار تار  
جس کے ہر ایک مو پہ خطا و ختن نثار  
مشک و عبیر و عود اگر ہیں تو ہیچ ہیں  
سنبل پہ کیا کھلیں گے یہ گیسو کے پیچ میں  

[46](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/03/46)

کپڑوں سے آ رہی تھی رسولِ زمن کی بو  
دولھا نے سونگھی ہوگی نہ ایسی دلہن کو بی  
حیدر کی فاطمہ کی حسین و حسن کی بو  
پھیلی ہوئی تھی چار طرف پنجتن کی بو  
لٹتا تھا عطر دادیِ عنبر سرشت میں  
گل جھومتے تھے اغ میں رضواں بہشت میں  

[47](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/03/47)

پوشاک سب پہن چکے جس دم شۂ زمن  
لیکر بلائیں بھائی کی رونے لگی بہن  
چلائی ہائے آج نہیں حیدر و حسن  
اماں کہاں سے لائے تمہیں اب یہ بے وطن  
رخصت ہے اب رسول کے یوسف جمال کی  
صدقے گئی بلائیں تولو اپنے لال کی  

[48](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/03/48)

صندوق اسلحہ کے جو کھلوائے شاہ نے  
پیٹا منہ اپنا زینبِ عصمت پناہ نے  
پہنی زرہ امامِ فلک بارگاہ نے  
بازو پہ جو شنین پڑھے عزو جاہ نے  
جوہر بدن کے حسن سے سارے چمک گئے  
حلقے تھے جتنے اتنے سارے چمک گئے  

[49](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/03/49)

یاد آگئے علی نظر آئی جو ذوالفقار  
قبضے کو چوم کر شۂ دیں روئے زار زار  
تولی جو لے کے ہاتھ میں شمشیرِ آبدار  
شوکت نے دی صدا کہ تری شان کے نثار  
فتح و ظفر قریب ہو نصرت قریب ہو  
زیب اس کی تجھ کو ضرب عدو کو نصیب ہو  

[50](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/03/50)

باندھی کمر سے تیغ جو زہرا کے لال نے  
پھاڑا فلک پہ اپنا گریباں ہلال نے  
دستانے پہنے سرورِ قدسی خصال نے  
معراج پائی دوش پہ حمزہ کی ڈھال نے  
رتبہ بلند تھا کہ سعادت نشان تھی  
ساری سپر میں مہر نبوت کی شان تھی  

[51](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/03/51)

ہتھیار ادھر لگا چکے آقائے خاص و عام  
تیار ادھر ہوا علم سید انام  
کھولے سروں کو گرد تھی سیدانیاں تمام  
روتی تھی تھامے چوب علم خواہرِ امام  
تیغیں کمر میں دوش پہ شملے پڑے ہوئے  
زینب کے لال زیر علم آکھڑے ہوئے  

[52](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/03/52)

گردانے دامنوں کو قبا کے وہ گل عذار  
مرفق تک آشینوں کو الٹے بصد و قار  
جعفر کا رعب دبدبۂ شیر کردگار  
بوٹے سے ان کے قد پہ نمودار و نامدار  
آنکھیں ملٰن علم کے پھریرے کو چوم کے  
رایت کے گرد پھرنے لگے جھوم جھوم کے  

[53](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/03/53)

گہ ماں کو دیکھتے تھے گہ جانبِ علم  
نعرہ کبھی یہ تھا کہ نثارِ شۂ امم  
کرتے تھے دونوں بھائی کبھی مشورے بہم  
آہستہ پوچھتے کبھی ماں سے وہ ذی حشم  
کیا قصد ہے علی ولی کے نشان کا  
اماں کسے ملے گا علم نانا جان کا  

[54](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/03/54)

کچھ مشورہ کریں جو شہنشاہ خوش خصال  
ہم بھی محق ہیں آپ کو اس کار ہے خیال  
پاس ادب سے عرض کی ہم کو نہیں مجال  
اس کا بھی خوف ہے کہ نہ ہو آپ کو ملال  
آقا کے ہم غلام ہیں اور جانثار ہیں  
عزت طلب ہیں نام کے امیدوار ہیں  

[55](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/03/55)

بے مثل تھے رسول کے لشکر کے سب جواں  
لیکن ہمارے جسد کو نبی نے دیا نشاں  
خیبر میں دیکھتا رہا منہ لشکرِ گراں  
پایا علم علی نے مگر وقتِ امتحاں  
طاقت میں کچھ کمی نہیں گو بھوکے پیاسے ہیں  
پوتے انہیں کے ہم ہیں انہیں کے نواسے ہیں  

[56](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/03/56)

زینب نے تب کہا تمہیں اس سے کیا ہے کام  
کیا دخل مجھ کو مالک و مختار ہیں امام  
دیکھو نہ کیجو بے ادبانہ کوئی کلام  
بگڑوں گی میں جو لوگے ظلم کا زباں سے نام  
لو جاؤ بس کھڑے ہو الگ ہاتھ جوڑ کے  
کیوں آئے ہو یہاں علی اکبر کو چھوڑ کے  

[57](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/03/57)

سر کو، ہٹو، بڑھو، نہ کھڑے ہو علم کے پاس  
ایسا نہ ہو کہ دیکھ لیں شاہ فلک اساس  
کھوتے ہو اور آئے ہو تم مرے حواس  
بس قابل قبول نہیں ہے یہ التماس  
رونے لگوگے تم جو برا یا بھلا کہوں  
اس ضد کو بچنے کے سوا اور کیا کہوں  

[58](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/03/58)

عمریں قلیل اور ہوس منصب جلیل  
اچھا نکالو قد کے بھی بڑھنے کی کچھ سبیل  
ماں صدقے جائے گرچہ یہ ہمت کی ہے دلیل  
ہاں اپنے ہم سنوں میں تمہارا نہیں عدیل  
لازم ہے سوچے غور کرے پیش و پس کرے  
جو ہو سکے نہ کیوں بشر اس کی ہوس کرے  

[59](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/03/59)

ان ننھے منھے ہاتھوں سے اٹھے گا یہ علم  
چھوٹے قدوں میں سب سے سنوں میں سبھوں سے کم  
نکلیں تنوں سے سبط نبی کے قدم پہ قدم  
عہدہ یہی ہے بس یہی منصب یہ حشم  
رخصت طلب اگر ہو تو یہ میرا کام ہے  
ماں صدقے جائے آج تو مرنے میں نام ہے  

[60](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/03/60)

پھر تم کو کیا بزرگ تھے گر فخرِ روزگار  
زیبا نہیں ہے جو وصفِ اضافی افتخار  
جو ہر وہ ہیں جو تیغ کرے آپ آشکار  
دکھلا دو آج حیدر و جعفر کی کارزار  
تم کیوں کہو کہ لالہ خدا کے ولی کے ہیں  
فوجیں پکاریں خود کہ نواسے علی کے ہیں  

[61](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/03/61)

کیا کچھ علم سے جعفر طیار کا تھا نام  
یہ بھی تھی اک عطائے رسول فلک مقام  
بگڑی لڑائیوں میں بن آئے انہیں سے کام  
جب کھینچتے تھے تیغ تو ہلتا تھا روم و شام  
بے جاں ہوئے تو نخل وغانے ثمر دیے  
ہاتھوں بدلے حق نے جواہر کے پردے  

[62](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/03/62)

لشکر نے تین روز ہزیمت اٹھائی جب  
بخشا علم رسول خدا نے علی کو تب  
مرحب کو قتل کرکے بڑھا جب وہ شیر رب  
دربند کرکے قلعہ کا بھاگی سپاہ سب  
اکھڑا وہ یوں گراں تھا جودر سنگِ سخت سے  
جس طرح توڑ لے کوئی پتا درخت سے  

[63](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/03/63)

نرغے میں تین دن سے ہے مشکل کشا کا لال  
اماں کا باغ ہوتا ہے جنگل میں پائمال  
پوچھا نہ یہ کہ کھولے ہیں تم نے سر کے بال  
میں لٹ رہی ہوں اور تمہیں منصب کا ہے خیال  
غم خوار تم مرے ہو نہ عاشق امام کے  
معلوم ہو گیا مجھے طالب ہو نام کے  

[64](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/03/64)

ہاتھوں کو جوڑ جوڑ کے بولے وہ لالہ فام  
غصے کو آپ تما لیں اے خواہر امام  
واللہ کیا مجال جواب لین علم کا نام  
کھل جائے گا لڑیں گے جو یہ با وفا غلام  
فوجیں بھگا کے گنجِ شہیداں میں سوئیں گے  
تب قدر ہوگی آپ کو جب ہم نہ ہوئیں گے  

[65](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/03/65)

یہ کہہ کے بس ہٹے جو سعادت نشاں پسر  
چھاتی بھر آئی ماں نے کہا تھا کہ جگر  
دیتے ہو اپنے مرنے کی پایرو مجھے خبر  
ٹھہرو ذرا بلائیں تو لے لے یہ نوحہ گر  
کیا صدقے جاؤں ماں کی نصیحت بری لگی  
بچو یہ کیا کہا کہ جگر پر چھری لگی  

[66](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/03/66)

زینب کے پاس آکے یہ بولے شۂ زمن  
کیوں تم نے دونوں بیٹوں کو باتیں سنیں بہن  
شیروں کے شیر عاقل و جرار و صف شکن  
زینب وحید عصر ہیں دونوں یہ گل بدن  
یوں دیکھنے کو سب میں بزرگوں کے طور ہیں  
تیور ہی ان کے اور ارادے ہی اور ہیں  

[67](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/03/67)

نو دس برس کے سن یہ جرأت یہ ولولے  
بچے کسی نے دیکھے ہیں ایسے بھی من چلے  
اقبال کیونکہ ار کے نہ قدموں سے منہ ملے  
کس گود میں بڑے ہوئے کس دودھ سے پلے  
بے شک یہ ورثہ دارِ جنابِ امیر ہیں  
پر کیا کہوں کہ دونوں کی عمریں صغیر ہیں  

[68](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/03/68)

اب تم جسے کہو اسے دیں فوج کا علم  
کی عرض جو صلاح شۂ آسماں حشم  
فرمایا جب سے اٹھ گئیں زہرائے باکرم  
اس دن سے تم کو ماں کی جگہ جانتے ہیں ہم  
مالک ہو تم بزرگ کوئی ہو کہ خرد ہو  
جس کہو اسی کو یہ عہدہ سپرد ہو  

[69](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/03/69)

بولیں بہن کہپ آپ بھی تولیں کسی کا نام  
ہے کس طرف توجہ سردار خاص و عام  
گر مجھ سے پوچھتے ہیں شۂ آسماں مقام  
قرآں کے بعد ہے تو ہے بس آپ کا کلام  
شوکت میں قد میں شان میں ہم کسر کوئی نہیں  
عباس نام دار سے بہتر کوئی نہیں  

[70](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/03/70)

عاشق غلام خادمِ دیرینہ جاں نثار  
فرزند بھائی زینتِ پہلو وفا شعار  
جرار یادگارِ پدر فخر روزگار  
راحت رساں مطیع نمودار نام دار  
صفدر ہے شیر دل ہے بہادر ہے نیک ہے  
بے مثل سیکڑوں میں ہزاروں میں ایک ہے  

[71](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/03/71)

آنکھوں میں اشک بھر کے یہ بولے شہ رمن  
ہاں تھی یہی علی کی وصیت ابھی اے بہن  
اچھا بلائیں آپ کدھر ہے وہ صف شکن  
اکبر چچا کے پاس گئے سن کے یہ سخن  
کی عرض انتظار ہے شاہِ غیور کو  
چلیے پھوپھی نے یاد کیا ہے حضور کو  

[72](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/03/72)

عباس آئے ہاتھوں کو جوڑے حضورِ شاہ  
جاؤ بہن کے پاس یہ بولا وہ دیں پناہ  
زینب وہیں علم لیے آئیں بہ عزو جاہ  
بولے نشاں کے لے کے شۂ عرش بارگاہ  
ان کی خوشی وہ ہے جو رضا پنجتن کی ہے  
لو بھائی لو علم پہ عنایت بہن کی ہے  

[73](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/03/73)

رکھ کر علم پہ ہاتھ جھکا وہ فلک وقار  
ہمشیر کے قدم پہ ملا منہ بہ افتخار  
زینب بلائیں لے کے یہ بولیں کہ میں نثار  
عباس فاطمہ کی کمائی سے ہوشیار  
ہو جائے آج صلح کی صورت تو کل چلو  
ان آفتوں سے بھائی کو لے کر نکل چلو  

[74](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/03/74)

کی عرض میرے جس پہ جس وقت تک ہے سر  
ممکن نہیں ہے یہہ کہ بڑے فوج بد گہر  
تیغیں کھنچیں جو لاکھ تو سینہ کروں سپر  
دیکھیں اٹھا کے آنکھ یہ کیا تاب کیا جگر  
ساونت ہیں پسر اسدِ ذوالجلال کے  
گر شیر ہو تو پھینک دیں آنکھیں نکال کے  

[75](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/03/75)

منہ کر کے سوئے قبرِ علی پھر کیا خطاب  
ذرے کو آج کردیا مولا نے آفتاب  
یہ عرض خاکسار کی ہے یا ابوتراب  
آقا کے آگے میں ہوں شہادت سے کامیاب  
سر تن سے ابنِ فاطمہ کے رو برو گرے  
شپیر کے پسینے پہ میرا لہو گرے  

[76](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/03/76)

یہ سن کے آئی زوجہ عباس نامور  
شوہر کی سمت پہلے کنکھیوں سے کی نظر  
لیں سبط مصطفیٰ کی بلائین بچشمِ تر  
زینب کے گرد پھر کے یہ بولی وہ نوحہ گر  
فیض آپ کا ہے اور تصدق امام کا  
عزت بڑھی کنیز کی رتبہ غلام کا  

[77](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/03/77)

سر کو لگا کے چھاتی زینب نے یہ کہا  
تو اپنی مانگ کوکھ سے ٹھنڈی رہے سدا  
کی عرض مجھ سے لاکھ کنیزیں تو ہوں فد  
بانوے نامور کہ سہاگن رکھے خدا  
بچے جییں ترقیِ اقبال و جاہ ہو  
سائے میں آپ کے علی اکبر کا بیاہ ہو  

[78](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/03/78)

قسمت وطن میں خیر سے پھر شہ کو لے کے جاہ  
یہ شرب میں شور ہو کہ سفر سے حسین آئے  
ام البنین جاہ و حشم سے پسر کو پائے  
جلدی شبِ عروسیِ اکبر خدا دکھائے  
مہندی تمہارا لال ملے ہاتھ پاؤں میں  
لاؤ دلہن کو بیاہ کے تاروں کی چھاؤں میں  

[79](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/03/79)

ناگاہ آ کے بالی سکینہ نے یہ کہا  
کیسا ہے یہ ہجوم کدھر ہیں مرے چچا  
عہدہ علم کا ان کو مبارک کرے خدا  
لوگو مجھے بلائیں تو لینے دوا اک ذرا  
شوقت خدا بڑھائے مرے عمو جان کی  
میں بھی تو دیکھوں شان علی کے نشان کی  

[80](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/03/80)

عباس مسکراکے پکارے کہ آؤ آؤ  
عمو نچار پیاس سے کیا حال ہے بتاؤ  
بولی لپٹ کے وہ کہ مری مشک لیتے جاؤ  
اب تو علم ملا تمہیں پانی مجھے پلاؤ  
تحفہ کوئی نہ دیجیے نہ انعام دیجیے  
قربان جاؤں پانی کا جام دیجیے  

[81](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/03/81)

فرمایا آپ نے کہ نہیں فکر کا مقام  
باتوں پہ اس کی روتی تھیں سیدانیاں تمام  
کی عرض آکے ابنِ حسن نے کہ یا امام  
انبوہ ہے بڑھی چلی آتی ہے فوجِ شام  
عباس اب علم لیے باہر نکلتے ہیں  
ٹھہرو بہن سے مل کے لگے ہم بھی چلتے ہیں  

[82](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/03/82)

ناگہ بڑھے علم لیے عباس باوفا  
دوڑے سب اہلِ بیت کھلے سربرہنہ پا  
حضرت نے ہاتھ اٹھا کے یہ اک ایک سے کہا  
لو الوداع اے حرم پاک مصطفی  
صبحِ شبِ فراق ہے پیاروں کو دیکھ لو  
سب مل کے ڈوبت ہوئے تاروں کو دیکھ لو  

[83](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/03/83)

شہ کے قدم پہ زینبِ زار و حزیں گری  
بانو بچھاڑ کھا کے پسر کے قریں گری  
کلثوم تھرتھرا کے بروئے زمیں گری  
باقر کہیں گرا تو سکینہ کہیں گری  
اجڑا چمن ہر اک گلِ تازہ نکل گیا  
نکلا علم کہ گھر سے جنازہ نکل گیا  

[84](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/03/84)

دیکھی جو شانِ حضرتِ عباس عرش جاہ  
آگے بڑھی علم کے پس از تہنیت سپاہ  
نکلا حرم سرا سے دو عالم کا بادشاہ  
نشتر بلد تھی بنت علی کی فغا و آہ  
رہ رہ کے اشک بہتے تھے روئے جناب سے  
شبنم ٹپک رہی تی گل آفتاب سے  

[85](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/03/85)

مولا چڑھے فرس پہ محمد کی شان سے  
ترکش لگایا ہرے نے پہ کس آن بان سے  
نکلا یہ جن و انس و ملک کی زبان سے  
اترا ہے پھر زمیں پہ براق آسمان سے  
سارا چلن خرام میں کبک روی کا ہے  
گھونگھٹ نئی دلہن کا ہے چہرہ پری کا ہے  

[86](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/03/86)

غصے میں انکھڑیوں کے ابلنے کو دیکھیے  
جو بن میں جھوم جھوم کے چلنے کو دیکھیے  
سانچے میں جوڑ بند کے ڈھنلنے کو دیکھیے  
تم کر کنوتیوں کے بدلنے کو دیکھیے  
گردن میں ڈالے ہاتھ یہ پریوں کو شوق ہے  
بالا ودی میں اس کو ہما پر بھی فوق ہے  

[87](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/03/87)

تھم کر ہوا چلی فرسِ خوش قدم بڑھا  
جوں جوں وہ سوئے دشتِ بڑھا اور دم بڑھا  
گھوڑوں کی لیں سواروں نے باگیں علم بڑھا  
رایت بڑھا کہ سروِ ریاضِ ارم بڑھا  
پھولوں کو لے کے بادِ بہاری پہونچ گئی  
بستانِ کربلا میں سواری پہونچ گئی  

[88](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/03/88)

پنجہ ادھر چمکتا تھا اور آفتاب ادھر  
آس کی ضیا تھی خاک پہ ضو اس کی عرش پر  
زر ریزی علم پہ ٹھہرتی نہ تھی نظر  
دولھا کا رخ تھا سونے کے سہرے میں جلوہ گر  
تھے دو طرف جو دو علم اس ارتقاع کے  
الجھے ہوئے تھے تار خطوطِ شعاع کے  

[89](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/03/89)

اللہ ری سپاہ خدا کی شکوہ و شاں  
جھکنے لگے جنود ضلالت کے بھی نشاں  
کمریں کسے علم کے تلے ہاشمی جواں  
دنیا کی زیبِ دین کی عزت جہاں کی جاں  
ایک ایک دود ماں علی کا چراغ تھا  
جس کی بہشت پر تھا تفوق و باغ تھا  

[90](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/03/90)

لڑکے وہ سات آٹھ سہی قد سمن عذار  
گیسو کسی کے چہرے پہ دو اور کسی کے چار  
حیدر کا رعب نرگسی آنکھوں سے آشکار  
کھیلیں جو نیمچوں سے کریں شیر کا شکار  
نیزوں کے سمت چاند سے سینے تنے ہوئے  
آئے تھے عیدگاہ میں دولھا بنے ہوئے  

[91](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/03/91)

غرفوں سے حوریں دیکھ کے کرتی تھیں یہ کلام  
دنیا کا باغ بھی ہے عجب پرفضا مقام  
دیکھو درود پڑھ کے سوئے لشکرِ امام  
ہم شکلِ مصطفی ہے یہی عرش اختتام  
رایت لیے وہ لال خدا کے ولی کا ہے  
اب تک جہاں میں ساتھ نبی و علی کا ہے  

[92](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/03/92)

دنیا سے اٹھ گئے تھے جو پیغمبرِ زماں  
ہم جانتے تھے حسن سے خالی ہے اب جہاں  
کیونکر سوئے زمیں نہ جھکے پیر آسماں  
پیدا کیا ہے حق نے عجب حسن کا جواں  
سب خوبیوں کا خاتمہ بس اس حسیں پہ ہے  
محبوب حق ہیں عرش پہ سایہ زمیں پہ ہے  

[93](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/03/93)

ناگاہ تیر ادھر سے چلے جانب، امام  
نعرے کیے کہ خوف سے ہلنے لگی زمیں  
نکلے ادھر سے شہ کے رفیقانِ تشنہ کام  
بے سر ہوئے پرون میں سر ان سپاہ شام  
بالا کبھی تھی تیغ کبھی زیر تنگ تھی  
ایک اک کی جنگ مالک اشتر کی جنگ تھی  

[94](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/03/94)

نکلے پے جہاد عزیزانِ شاہِ دیں  
نعرے کیے کہ خوف سے ہلنے لگی زمیں  
روباہ کی صفوں پہ چلے شیر خشم گیں  
کھینچی جو تیغ بھول گئے صف کشی لعیں  
بجلی گری پروں پہ شمال و جنوب کے  
کیا کیا لڑے ہیں شام کے بادل میں ڈوب کے  

[95](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/03/95)

اللہ رے علی کے نواسوں کی کارزار  
دونوں کے نیچے تھے کہ چلتی تھی ذوالفقار  
شانہ کٹا کسی نے جو روکا سپر پہ دار  
گنتی تھی زخمیوں کی نہ کشتوں کا کچھ شمار  
اتنے سوار قتل کیے تھوڑی دیر میں  
دونوں کے گھوڑے چھپ گئے لاشوں کے ڈھیر میں  

[96](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/03/96)

وہ چھوٹے چھوٹے ہاتھ وہ گوری کلائیاں  
آفت کی پھرتیاں تھیں غضب کی صفائیاں  
ڈر ڈر کے کاٹتے تھے کہاں کش کنائیاں  
فوجوں میں تھیں نبی و علی کی دہائیاں  
شوکت ہو ہوتھی جنابِ امیر کی  
طاقت دکھا دی شیروں نے زینب کے شیر کی  

[97](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/03/97)

کس حسن س حسن کا جوانِ حسیں لڑا  
گھر گھر کے صورت اسد خشم گیں لڑا  
وہ دن کی بھول پیاس میں وہ مہ جبیں لڑا  
سہرا الٹ کے یوں کوئی دولھا نہیں لڑا  
حملے دکھادیے اسدِ کردگار کے  
مقتل میں سوئے ازرق شامی کو مار کے  

[98](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/03/98)

چمکی جو تیغِ حضرت عباس عرش جاہ  
روح الامیں پکارکے اللہ کی پناہ  
ڈھالوں میں چھپ گیا پسرِ سعد روسیاہ  
کشتوں سے بند ہو گی امن و اماں کی راہ  
چھٹا جو شیر شوق میں دریا کی سیر کے  
لے لی ترائی تیغوں کی موجوں میں تیر کے  

[99](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/03/99)

بے سر ہوئے موکلِ چشمہ فرات  
ہل چل میں مثلِ موج صفوں کو نہ تھا ثبات  
دریا مین گر کے فوت ہوئے کتنے بد صفات  
گویا حباب ہو گئے تھے نقطۂ نبات  
عباس بھر کے مشک کو یاں تشنہ لب لڑے  
جس طرح نہر واں میں امیرِ عرب لڑے  

[100](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/03/100)

آفت بھی حرب و ضرب علی اکبر دلیر  
غصے میں جھپٹے صید پہ جیسے گرسنہ شیر  
سب سر بلند پست زبردست سب تھے زیر  
جنگل میں چار سمت ہوئے زخمیوں کے دھیر  
سر ان کے اترے تن سے جو تھے رن چڑھے ہوئے  
عباس سے بھی جنگ میں کچھ تھے بڑھے ہوئے  

[101](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/03/101)

تلواریں برسیں صبح سے نصف النہار تک  
ہلتی رہی زمین لرزتے رہے فلک  
کانپا کیے پروں کو سمیٹے ہوئے ملک  
نعرے نہ پھیر وہ تھے نہ وہ تیغوں کی تھی چمک  
ڈھالوں کا دور برچھیوں کا اوج ہوگیا  
ہنگامِ ظہر خاتمہ فوج ہوگیا  

[102](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/03/102)

لاشے سبھوں کے سبطِ نبی خود اٹھا کے لائے  
قاتل کسی شہید کا سر کاٹنے نہ پائے  
دشمن کو بھی نہ دوست کی فرقت خدا دکھائے  
فرماتے تھے بچھڑ گئے سب ہم سے ہائے ہائے  
اتنے پہاڑ گر پڑیں جس پر وہ خم نہ ہو  
گر سو برس جیوں تو یہ مجمع بہم نہ ہو  

[103](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/03/103)

لاشے تو سب کے گرد تھے اور بیچ میں امام  
ڈوبی ہوئی تھی خوں میں نبی کی قبا تمام  
افسردہ و حزیں و پریشان و تشنہ کام  
برچھی تھی دل کو فتح کے باجوں کی دھوم دھام  
اعدا کسی شہید کا جب نام لیتے تھے  
تھرا کے دونوں ہاتھوں سے دل تھام لیتے تھے  

[104](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/03/104)

پوچھو اسی سے جس کے جگر پر ہوں اتنے داغ  
اک عمر کا ریاض تھا جس پر لٹا وہ باغ  
فرصت نہ اب بکا سے ہے فراغ  
جو گھر کی روشنی تھے وہ گل ہو گئے چراغ  
پڑتی تھی دھوپ سب کے تنِ پاش پاش پر  
چادر بھی اک نہ تھی علی اکبر کی لاش پر  

[105](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/03/105)

مقتل سے آئے خیمہ کے در پر شہ زمین  
پر شدِ عطش سے نہ تھی طاقتِ سخن  
پردے پہ ہاتھ رکھ کے پکارے بصد محن  
اصغر کو گاہوارے سے لے آئے اے بہن  
پھر ایک بار اس مہ انور کو دیکھ لیں  
اکبر کے شیرخوار برادر کو دیکھ لیں  

[106](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/03/106)

خیمے سے دوڑے آل پیمبر برہنہ سر  
اصغر کو لائیں ہاتھوں پہ بانئے نوحہ گر  
بچے کو لے کے بیٹھ گئے آپ خاک پر  
منہ سے ملے جو ہونٹ تو چونکا وہ سیم بر  
غم کی چری چلی جگرِ چاک چاک پر  
بٹھلا لیا حسین نے زانوئے پاک پر  

[107](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/03/107)

بچے سے ملتفت تھے شۂ آسماں سریر  
تھا اس طرف کمیں میں بن کا بل شریر  
مارا جو تین بھال کا اس بے حیا نے تیر  
بس دفعتاً نشانہ ہوئی گردنِ صغیر  
تڑپا جو شیرخوار تو حضرت نے آہ کی  
معصوم ذبح ہو گیا گودی میں شاہ کی  

[108](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/03/108)

جس دم تڑپ کے مر گیا وہ طفلِ شیر خوار  
چھوٹی سی قبر تیغ سے کھودی بحالِ زار  
بچے کو دفن کرکے پکارا وہ ذی وقار  
اے خاکِ پاک حرمتِ مہماں نگاہ دار  
دامن میں رکھ اسے جو محبت علی کی ہے  
دولت ہے فاطمہ کی امانت علی کی ہے  

[109](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/03/109)

یہ کہہ کے آئے فوج پہ تولے ہوئے حسام  
آنکھیں لہو تھیں رونے سے چہرہ تھا سرخ فام  
زیبِ بدن گئے تھے بصد عزو احتشام  
پیراہنِ مطہر پیغمبر انام  
حمزہ کی ڈھال تیغِ شۂ لافتا کی تھی  
برمیں زرہ جناب رسول خدا کی تھی  

[110](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/03/110)

رستم تھا درع پوش کہ پاکھر میں راہوار  
جرار بردبار سبک رو وفا شعار  
کیا خوشمنا تھا زیں طلا کار و نقرہ کار  
اکسیر تھا قدم کا جسے مل گیا غبار  
خوش خو تھا خانہ زاد تھا دلد نژاد تھا  
شپیر بھی سخی تھے فرس بھی جواد تھا  

[111](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/03/111)

گرمی کا روزِ جنگ کی کیونکر کروں بیاں  
ڈر ہے کہ مثلِ شمع نہ جلنے لگے زباں  
وہ لوں کہ الحذر وہ حرارت کہ الاماں  
رن کی زمیں تو سرخ تی اور زرد آسماں  
آبِ خنک کی خلق ترستی تھی خاک پر  
گویا ہوا سے آگ برستی تھی خاک پر  

[112](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/03/112)

وہ دونوں وہ آفتاب کی حدت وہ تاب و تب  
کالا تھا رنگ دھوپ دن کا مثالِ شب  
خود نہرِ حلقہ کے سبھی سوکھے ہوئے تھے لب  
خیمے تھے جو حبابوں کے تپتے تھے سب کے سب  
اڑتی تھی خاک خشک تھا چشمہ حیات کا  
کھولا ہوا تھا دھوپ سے پانی فرات کا  

[113](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/03/113)

جھیلوں سے چارپائے نہ اٹھتے تھے تابہ شام  
مسکن میں مچھلیوں کے سمندر کا تھا مقام  
آہو جو کاہلے تھے تو چیتے سیاہ فام  
پتھر پگھل کے رہ گئے تھے مثلِ مومِ خام  
سرخی اڑی تھی پھولوں سے سبزہ گیاہ سے  
پانی کنوؤں میں اترا تھا سائے کی چاہ سے  

[114](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/03/114)

کوسوں کسی شجر میں نہ گل تھے نہ برگ و بار  
ایک ایک نخل جل رہا تھا صورتِ چنار  
ہنستا تھا کوئی گل نہ مہکتا تھا سبزہ زار  
کانٹا ہوئی تھی پھول کی ہر شاخ باردار  
گرمی یہ تھی کی زیست سے دل سب کے سرد تھے  
پتے بھی مثل چہرۂ مدقوق زرد تھے  

[115](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/03/115)

آبِ رواں سے منہ نہ اٹھاتے تھے جانور  
جنگل میں چھپتے پھرتے طائر ادھر ادھر  
مردم تھی سات پروں کے اندر عرق میں تر  
خسخانۂ مژہ سے نکلتی نہ تھی نظر  
گرچشم سے نکل کے ٹھہر جائے راہ میں  
پڑ جائیں لاکھوں آبلے پائے نگاہ میں  

[116](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/03/116)

شیر اٹھتے تھے نہ دھوپ کے مارے کچھار سے  
آہو نہ منہ نکالتے تھے سبزہ زار سے  
آئینہ مہر کا تھا مکدر غبار سے  
گردوں کو تپ چڑھی تھی زمیں کے بخار سے  
گرمی سے مضطرب تھا زمانہ زمین پر  
بھن جاتا تھا جو گرتا تھا دانہ زمین پر  

[117](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/03/117)

گرداب پر تھا شعلۂ جوالہ کا گماں  
انگارے تھے حباب تو پانی شرر فشاں  
منہ سے نکل پڑی تھی ہر اک موج کی زباں  
تہ پہ تھے سب نہنگ مگر تھی بسوں پہ جال  
پانی تھا آگ گرمئ روزِ حساب تھی  
ماہی جو سیخ موج تک آئی کباب تھی  

[118](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/03/118)

آئینہ فلک کو نہ تھی تاب تب کی تاب  
چھپنے کو برق چاہتی تھی دامنِ سحاب  
سب سے ہوا تھا گرم مزاجوں کو اضطراب  
کافورِ صبح ڈھونڈھتا پھرتا تھا آفتاب  
بھڑکی تھی آگ گنبد چرخِ اثیر میں  
بادل چھپے تھے سب کرہ زمہریر میں  

[119](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/03/119)

اس دھوپ میں کھڑے تھے اکیلے شہ امم  
نے دامن رسول تھانے سایۂ علم  
شعلے جگر سے آہ کے اٹھتے تھے دمبدم  
اودے تھے لب زبان میں کانٹے کمر میں خم  
بے آپ تیسرا تھا جو دن میہمان کو  
ہوتی تھی بات بات میں لکنت زبان کو  

[120](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/03/120)

گھوڑوں کو اپنے کرتے تھے سیراب سب سوار  
آتے تھے اونٹ گھاٹ پہ باندھے ہوئے قطار  
پیتے تھے آبِ نہر پرند آکے بے شمار  
سقے زمیں پہ کرتے تھے چھڑکاؤ بار بار  
پانی کا دام و دد کو پلانا ثواب تھا  
اک ابن فاطمہ کے لیے قحطِ آب تھا  

[121](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/03/121)

سر پر لگائے تھا پسرِ سعد چتر زر  
خادم کئی تھے مروحہ جنباں ادھر ادھر  
کرتے تھے آب پاش مکرر زمیں کو تر  
فرزندِ فاطمہ پہ نہ تھا سایۂ شجر  
وہ دھوپ دشت کی وہ جلال آفتاب کا  
سونلا گیا تھا رنگ مبارک جناب کا  

[122](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/03/122)

کہتا تھا ابنِ سعد کہ اے آسماں جناب  
بیعت جو کیجیے اب بھی تو حاضر ہے جامِ آب  
فرماتے تھے حسین کہ اد خانماں خراب  
دریا کو خاک جانتا ہے ابنِ بوتراب  
فاسق ہے پاس کچھ تجھے اسلام کا نہیں  
آبِ بقا ہو یہ تو مرے کام کا نہیں  

[123](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/03/123)

کہہ دوں تو خوان لے کے خود آئیں ابھی خلیل  
چاہوں تو سلسبیل کو دم میں کروں سبیل  
کیا جام آب کا تو مجھے دے گا اور ذلیل  
بے آبرو خسیس ستمگردنی بخیل  
جس پھول پر پڑے ترا سایہ وہ بو نہ دے  
کھلوائے فصد تو تو یا کبھی رگ لہو نہ دے  

[124](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/03/124)

گر جم کا نام لوں تو ابی جام لے کے آئے  
کوثر یہیں رسول کا احکام لے کے آئے  
روح الامیں زمیں پہ مرا نام لے کے آئے  
لشکر ملک کا فتح کا پیغام لے کے آئے  
چاہوں جو انقلاب تو دنیا تمام ہو  
الٹے زمین یوں کہ نہ کوفہ نہ شام ہو  

[125](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/03/125)

فرما کے یہ نگاہ جو کی سوے ذوالفقار  
تھرا کے پچھلے پانوں ہٹا وہ ستم شعار  
مظلوم پر صفوں سے چلے تیر بے شمار  
آواز کوسِ حرب ہوئی آسماں کے پار  
نیزے اٹھا کے جنگ پہ اسوار تل گئے  
کالے نشان فوجِ سیہ رو کے کھل گئے  

[126](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/03/126)

وہ دھوم طبلِ جنگ کی وہ بوق کا خروش  
کر ہو گئے تھے شور سے کرد بیوں کے گوش  
تھرائی یوں زمیں کہ اڑے آسماں کے ہوش  
نیزے سے بلا کے نکلے سوار ان درع پوش  
ڈھالیں تھیں یوں سروں پہ سوار ان شوم کے  
صحرا میں جیسے آئے گھٹا جھوم جھوم کے  

[127](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/03/127)

لو پڑھ کے چند شعرِ جز شاہ دیں بڑھے  
گیتی کے تھام لینے کو روح الامیں بڑھے  
مانندِ شیرِ نہ کہیں ٹھہرے کہیں بڑھے  
گویا علی الٹے ہوئے آستیں بڑھے  
جلوہ دیا جری نے عروسِ مصاف کو  
مشکل کشا کی تیغ نے چھوڑا غلاف کو  

[128](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/03/128)

کاٹھی سے اس طرح ہوئی وہ شعلہ خو جدا  
جیسے کنارِ شوق س ہو خوب رو جدا  
مہتاب سے شعاع جدا گل سے بو جدا  
سینے سے دم جدا رگِ جاں سے لہو جدا  
گرجا جو رعد ابر سے بجلی نکل پڑی  
محمل میں دم جو گھٹ گیا لیلیٰ نکل پڑی  

[129](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/03/129)

آئے حسین یوں کہ عقاب آئے جس طرح  
آہو پہ شیرِ شہ زہ غاب آئے جس طرح  
تابندہ برق سوئے سحاب آئے جس طرح  
دوڑا فرس نشیب میں آب آئے جس طرح  
یوں تیغِ تیز کوند گئی اس گروہ پر  
بجلی تڑپ کے گرتی ہے جس طرح کوہ پر  

[130](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/03/130)

گرمی میں تیغ برق جو چمکی شرر اڑے  
جھونکا چلا ہوا کا جس سن سے تو سر اڑے  
پرکالۂ سپر جو ادھر اور ادھر اڑے  
روح الامیں نے صاف یہ جانا کہ پر اڑے  
ظاہر نشان اسم عزیمت اثر ہوئے  
جن پر علی لکھا تھا وہی پر سپر ہوئے  

[131](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/03/131)

جس پر چلی وہ تیغ دو پارا کیا اسے  
کھینچتے ہی چار ٹکڑے دوبارا کیا کیا  
واں تھی جدھر اجل نے اشارا کیا اسے  
سختی بھی کچھ پڑی تو گوارا کیا اسے  
نے زین تھا فرس پہ نہ اسوار زین پر  
کڑیاں زرہ کی بکھری ہوئی تھیں زمین پر  

[132](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/03/132)

آئی چمک کے غول پہ جب سر گرا گئی  
دم میں جمی صفوں کو برابر گرا گئی  
ایک ایک فقر تن کو زمین پر گرا گئی  
سیل آئی زور شور سے جب گھر گرا گئی  
آپہونچا اس کے گھاٹ پہ جو مرکے رہ گیا  
دریا لہو کا تیغ کے پانی سے بہ گیا  

[133](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/03/133)

یہ آبرو یہ شعلہ فشانی خدا کی شاں  
پانی میں آگ آگ میں پانی خدا کی شاں  

[134](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/03/134)

خاموش اور تیز زبانی خدا کی شاں  
استادہ آب میں یہ روانی خدا کی شاں  

[135](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/03/135)

لہرائی جب اتر گیا دریا بڑھا ہوا  
لہرائی جب اتر گیا دریا بڑھا ہوا  
نیزوں تھا ذوالفقار کا پانی چڑھا ہوا  

[136](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/03/136)

قلب و جناح میمہ و میسرا تباہ  
گردن کشانِ امت خیر الور تباہ  
جنباں زمیں صفیں تہ و بالا پر اتباہ  
بے جان جسم روحِ مسافر سرا تباہ  
بازار بند ہو گئے اکھڑ گئے  
فوجیں ہوئی تباہ محلے اجڑ گئے  

[137](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/03/137)

اللہ ری تیزی و برش اس شعلہ رنگ کی  
چمکی سوار پر تو خبر لائی تنگ کی  
پیاسی فقط لہو کی طلب گار جنگ کی  
حاجت نہ سان کی تی اسے اور نہ سنگ کی  
خوں سے فلک کو لاشوں سے مقتل کو بھرتی تھی  
سو بار روم میں چرخ پہ چڑھتی اترتی تھی  

[138](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/03/138)

تیغِ خزاں تھی گلشنِ ہستی سے کیا اسے  
گھر جس خود اجڑ گیا بستی سے کیا اسے  
وہ حق نما تھی کفر پرستی سے کیا اسے  
جو آپ سر بلند ہو پستی سے کیا اسے  
کہتے ہیں راستی جسے وہ خم کے ساتھ ہے  
تیزی زبان کے ساتھ برش دم کے ساتھ  

[139](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/03/139)

سینے پہ چل گئی تو کلیجہ لہوا ہوا  
گویا جگر میں موت کا ناخن فرد ہوا  
چمکی تو الامان کا غل چار سو ہوا  
جو اس کے منہ پہ آگیا بے آبرو ہوا  
رکتا تھا ایک وار نہ دس سے نہ پانچ سے  
چہرے سیاہ ہو گئے تھے اس کی آنچ سے  

[140](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/03/140)

بچھ بچھ گئیں صفوں پہ صفیں وہ جہاں چلی  
چمکی تو اس طرف ادھر آئی وہاں چلی  
دونوں طرف کی فوج پکاری کہاں چلی  
اس نے کہا یہاں وہ پکارا وہاں چلی  
منہ کس طرف ہے تیغ زنوں کو خبر نہ تھی  
سرگر رہے تھے اور تنوں کو خبر نہ تھی  

[141](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/03/141)

دشمن جو گھاٹ پر تھے وہ دھوتے تھے جاں سے ہاتھ  
گردن سے سر الگ تھا جدا تھے نشاں سے ہاتھ  
توڑا کببھی جگر کبھی چھیدا سناں سے ہاتھ  
جب کٹ کے گر پڑیں تو پھر آئیں کہاں سے ہاتھ  
اب ہاتھ دستیاب نہیں منہ چھپانے کو  
ہاں پاؤں رہ گئے ہیں فقط بھاگ جانے کو  

[142](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/03/142)

اللہ رے خوفِ تیغ شہ کائنات کا  
زہرہ تھا آب خوف کے مارے فرات کا  
دریا پہ حال یہ تھا ہر اک بد صفارت کا  
چارہ فرار کا تھا نہ یارا ثبات کا  
غل تھا کہ برق گرتی ہے ہر درع پوش پر  
بھاگو خدا کے قہر کا دریا ہے جوش پر  

[143](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/03/143)

ہر چند مچھلیاں تھیں زرہ پوش سربسر  
منہ کھولے چھپی پھرتی تھیں لیکن ادھر ادھر  
بھاگی تھی موج چھوڑ کے گرداب کی سپر  
تھے تہ نشیں نہنگ مگر آب تھے جگر  
دریا نہ تھمتا خوف سے اس برق تاب کے  
لیکن پڑے تھے پاؤں میں چھالے حباب کے  

[144](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/03/144)

آیا خدا کا قہر جدرھ سن سے آگئی  
کانوں میں الاماں کی صدا رن سے آگئی  
دو کرکے خود زین پہ جو شن سے آگئی  
کھنچتی ہوئی زمین پہ تو سن سے آگئی  
بجلی گری جو خاک پہ تیغِ جناب کی  
آی صدا زمین س یا بوتراب کی  

[145](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/03/145)

پس پس کے کشمکش سے کماندار مر گئے  
چلے تو سب چڑھے رہے بازو اتر گئے  
گوشے کٹے کمانوں کے تیروں کے پر گئے  
مقتل میں ہو سکا نہ گذرا گذر گئے  
دہشت سے ہوش اڑ گئے تھے مرغِ وہم کے  
سوفار کھول دیتے تھے منہ سہم سہم کے  

[146](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/03/146)

تیر افگنی کا جن کی ہر اک شہر میں تھا شور  
گوشہ کہیں نہ ملتا تھا ان کو سوائے گور  
تاریک شب میں جن کا نشانہ تھا پائے مور  
لشکر میں خوف جاں نے انہیں کردیا تھا کور  
ہوش اڑ گئے تھے فوجِ ضلالت نشاں کے  
پیکاں میں زہ کو رکھتے تھے سوفار جاں کے  

[147](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/03/147)

صف پر صفیں پروں پر پرے پیش و پس گرے  
اسوار پر سوار فرس پر فرس گرے  
اٹھ کر زمیں سے پانچ جو بھاگے تو دس گرے  
مخبر پہ پیک پیک پر مرکر گرے  
ٹوٹے پر شکست بنائے ستم ہوئی  
دنیا میں اس طرح کی بھی افتاد کم ہوئی  

[148](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/03/148)

غصے تھا شیرِ شہ زۂ صحرائے کربلا  
چھوڑے تھا گرگ منزل و ماوائے کربلا  
تیغ علی تھی معرکہ آرائے کربلا  
خالی نہ تھی سروں سے کہیں جائے کربلا  
بستی بسی تھی مردوں کے قریے اجاڑ تھے  
لاشوں کی تھی زمین سروں کے پیاز تھے  

[149](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/03/149)

غازی نے رکھ لیا تھا جو شمشیر کے تلے  
تھی طرفہ کشمکش فلک پیر کے تلے  
چلے سمٹ کے جاتے تھے رہ گیر کے تلے  
چھپتی تھی سر جھکا کے کماں تیر کے تلے  
اس تیغِ بے دریغ کا جلوہ کہاں نہ تھا  
سہمے تھے سب پہ گوشۃ امن و اماں نہ تھا  

[150](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/03/150)

چاروں طرف کمان کیانی کی وہ ترنگ  
رہ رہ کے ابرِشام سے تھی بارشِ خدنگ  
وہ شور و صیحہ ابلق و سرنگ  
وہ لوں وہ آفتاب کی تابندگی وہ جنگ  
پھنکتا تھا دشتِ کیں کوئی دل تھا نہ چین سے  
اس دن کی تاب و ترب کوی پوچھے حسین سے  

[151](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/03/151)

سقے پکارتے تھے یہ مشکیں لیے ادھر  
بازارِ جنگ گرم ہے ڈھلتی ہے دوپہر  
پیسا جو ہو وہ پانی سے ٹھنڈا کرے جگر  
مشکوں پہ دور دور کے گرتے تھے اہلِ شر  
کیا آگ لگ گئی تھی جہانِ خراب کو  
پیتے تھے سب حسین تڑپتے تھے آب کو  

[152](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/03/152)

گرمی میں پیاس تھی کہ پھینکا جاتا تھا جگر  
اف کبھی کہا کبھی چہرے پہ لی سپر  
آنکھوں میں ٹیس اٹھی جو پڑی دھوپ پر نظر  
جھپٹے کبھی ادھر کبھی حملہ کیا ادھر  
کثرت عرق کے قطروں کی تھی روئے پاک پر  
موتی برستے جاتے تھے مقتل کی خاک پر  

[153](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/03/153)

سیراب چھپتے پھرتے تھے پیاسے کی جنگ سے  
چلتی تھی ایک تیغِ علی لاکھ رنگ سے  
چمکی جو فرق پر تو نکل آئی تنگ سے  
رکتی تھی نے سپر سے نہ آہن نہ سنگ سے  
خالق نے منہ دیا تھا عجب آب و تاب کا  
خود اس کے سامنے تھا پھپھولا حباب کا  

[154](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/03/154)

سہمے ہوئے تھے یوں کہ کسی کو نہ تھی خبر  
پیکاں کدھر ہے تیر کا مزار ہے کدھر  
مردم کی کشمکش سے کمانوں کو تھا یہ ڈر  
گوشوں کی ڈھونڈھتی تھی زمیں پر جھکا کے سر  
ترکش سے کھینچے تیر کوئی یہ جگر نہ تھا  
سیسر پہ جس نے ہاتھ رکھا تن پہ سر نہ تھا  

[155](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/03/155)

گھوڑوں کی وہ تڑپ وہ چمک تیغ تیز کی  
سوسو صفیں کچل گئین جب جست و خیز کی  
لاکھوں مین تھی نہ ایک کو طاقت ستیز کی  
تھی چار سمت دھوم گریزا گریز کی  
آری جو ہو گئی تھیں وہ سب ذوالفقار سے  
تیغوں نے منہ پھرا لیے تھے کارزار سے  

[156](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/03/156)

گھوڑوں کی جست و خیز سے اٹھا غبار زرد  
گردوں میں مثل شیشہ ساعت بھری تھی گرد  
تودا بنا تھا خاک کا مینائے لاجورد  
کوسوں سیاہ تار تھا شب وادی نبرد  
پنہاں نظر سے نیرگیتی فروز تھا  
ڈھلتی تھی دوپہر کے نہ شب تھا نہ روز تھا  

[157](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/03/157)

اللہ ری لڑائی میں شوکت جناب کی  
سونلائے رنگ میں تھی ضیا آفتاب کی  
سوکھیوہ لب کہ پنکھڑیاں تھیں گلاب کی  
تصیور ذو الجناح پہ تی بو تراب کی  
ہوتا تھا غل جو کرتے تھے نعرے لڑائی میں  
بھاگو کہ شیر گونج رہا ہے ترائی میں  

[158](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/03/158)

پھر تو یہ غل ہوا کہ دہائی حسین کی  
اللہ کا غضب تھا لڑائی حسین کی  
دریا حسین کا ہے ترائی حسین کی  
دنیا حسین کی ہے خدائی حسین کی  
بیڑا بچایا آپ نے طوفاں سے نوح کا  
اب رحم واسطہ ملے اکبر کی روح کا  

[159](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/03/159)

اکبر کا نام سن کے جگر پر لگی سناں  
آنسو بھر آئے روک لی رہوار کی عناں  
مڑکر پکارے لاش پسر گوشۂ زماں  
تم نے نہ دیکھی جنگِ پدر اے پدر کی جاں  
قسمیں تمہاری روح کی یہ لوگ دیتے ہیں  
لو اب تو ذوالفقار کو ہم روک لیتے ہیں  

[160](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/03/160)

چلایا ہاتھ مار کے زانو پہ ابنِ سعد  
اے وا فضیحاتا یہ ہزیمت ظفر کے بعد  
زیبا دلاوروں کو نہیں ہے خلافِ وعد  
اک پہلوان یہ سنتے ہی گر جا مثالِ رعد  
نعرہ کیا کہ کرتا ہوں حملہ امام پر  
اے ابنِ سعد لکھ لے ظفر میرے نام پر  

[161](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/03/161)

بالا قدو کلفت و تنو مند و خیرہ سر  
روئیں تن و سیاہ دروں، آہنی کمر  
ناوک پیام مگر کے تکش اجل کا گھر  
تیغیں ہزار ٹوٹ گءٰن جس پہ وہ سپر  
دل میں بدی طبیعتِ بد میں بگاڑ تھا  
گھوڑے پہ تھا شقی کہ ہوا پر پہاڑ تھا  

[162](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/03/162)

ساتھ اس کے اور اسی قد و قامت کا ایک پل  
آنکھیں کبود رنگ سیہ ابرووں پہ بل  
بدکار بد شعار ستمگار و پرد غل  
جنگ آزما بھگائے ہوئے لشکروں کے دل  
بھالے لیے کسے ہوئے کمریں ستیز پر  
نازاں وہ ضرب گرز پہ یہ تیغ تیز پر  

[163](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/03/163)

کھنچ جائے شکلِ حرب وہ تدبیر چاہیے  
دشمن بھی سب مقر ہوں وہ تقریر چاہیے  
تیزی زبان میں صورتِ شمشیر چاہیے  
فولاد کا قلم دمِ تحریر چاہیے  
نقشہ کھنچے گا صاف صفِ کار زار کا  
پانی دوات چاہتی ہے ذوالفقار کا  

[164](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/03/164)

لشکر میں اضطراب تھا فوجوں میں کھلبلی  
ساونت بے حواس ہراسان دھنی بلی  
ڈر تھا کہ لو حسین بڑھے تیغ اب چلی  
غل تھا ادھر ہیں مرحب و عنتر ادھر علی  
کون آج سر بلند ہو اور کون پست ہو؟  
کس کی ظفر ہو دیکھیے کس کی شکست ہو؟  

[165](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/03/165)

آوازی دی یہ ہاتفِ غیبی نے تب کہ ہاں  
بسم اللہ اے امیر عرب کے سرور جاں  
اٹھی علی کی تیغ دو دم چاٹ کر زباں  
بیٹھے درست ہو کے فرس پہ شۂ زماں  
واں سے وہ شور بخت بڑھا نعرہ مار کے  
پانی بھر آیا منہ میں ادھر ذوالفقار کے  

[166](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/03/166)

لشکر کے سب جواں تھے لڑائی میں جی لڑائے  
وہ بد نظر تھا آنکھوں میں آنکھیں ادھر گڑائے  
ڈھالیں لڑیں سپاہ کی یا ابر گڑگڑا ئے  
غصے میں آئے گھوڑے نے کبھی دانت کڑکڑکائے  
ماری جو ٹاپ ڈر کے ہٹے ہر لعیں کے پاؤں  
ماہی پہ ڈگمگائے گادِ زمیں کے پاؤں  

[167](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/03/167)

نیزہ ہلا کے شاہ پر آیا وہ خود پسند  
بشکل کشا کے لال نے کھولے تمام بند  
تیر و کمالں سے بھی نہ وا جب وہ بہرہ مند  
چلا ادھر کھنچا کہ چلی تیغ سربلند  
وہ تیر کٹ گئے جو در آتے تھے سنگ میں  
گوشے نہ تھے کماں میں منہ پیکاں خدنگ میں  

[168](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/03/168)

ظالم اٹھا کے گرز کو آیا جناب پر  
طاری ہوا غضب خلفِ بوتراب نے  
مارا جو ہاتھ پاؤں جماکر رکاب پر  
بجلی گری شقی کے سرِ پر عتاب پر  
بد ہاتھ میں شکست ظفر نیک ہاتھ میں  
ہاتھ اڑ کے جا پڑا کئی ہاتھ ایک ہاتھ میں  

[169](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/03/169)

کچھ دست پاچہ ہو کے چلا تھا وہ نابکار  
پنجے سے پر اجل کے کہاں جا سکے شکار  
واں اس نے با میں ہاتھ میں لی تیغِ آبدار  
یاں سر سے آئی پشت کے فقروں پہ ذوالفقار  
قرباں تیغِ تیز شۂ نامدار کے  
دو ٹکڑے تھے سوار کے دو رہوار کے  

[170](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/03/170)

پھر دوسرے پہ گزر اٹھا کر پکارے شاہ  
کیوں ضرب ذوالفقار پہ تونے بھی کی نگاہ  
سرشار تھا شرابِ تکبر سے رو سیاہ  
جاتا کہاں کہ موت تو رو کے ہوئے تھی راہ  
غل تھا اسے اجل نے بڑھایا جو گھیر کے  
لو دوسرا شکار چلا منہ میں شیر کے  

[171](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/03/171)

آتا تھا وہ کہ اسپِ شۂ دین پلٹ پڑا  
ثابت ہوا کہ شیرِ گرسنہ جھپٹ پڑا  
تیغہ شقی نے ڈھال پہ مارا تو پٹ پڑا  
ضربت پڑی کی گنبد دوار پھٹ پڑا  
پیوندِ صدر زین جرو فرق ہوگیا  
گھوڑا زمین میں سینے تلک غرق ہوگیا  

[172](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/03/172)

پریوں سے قاف چھوٹ گیا اور جنوں سے گھر  
شیروں سے دشتِ گررگ سے بن اژدوں سے در  
شاہیں و کبک چھپ گئے اک جا ملا کے سر  
اڑ کر گرے جزیروں میں دریا کے جانور  
سمٹے پہاڑ منہ کو جا دامن سے ڈھانپ کے  
سیمرغ نے گرا دیے پر کانپ کانپ کے  

[173](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/03/173)

آئی صدائے غیب کہ شپیر مرحبا  
اس ہاتھ کے لیے تھی یہ شمشیر مرحبا  
یہ آبرو یہ جنگ یہ توقیر مرحبا  
دکھلا دی ماں کے دودھ کی تاثیر مرحبا  
غالب کیا خدا نے تجھے کائنات پر  
بس خاتمہ جہاد کا ہے تیری ذات پر  

[174](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/03/174)

بس اب نہ کردِ غا کی ہوس اے حسین بس  
دم بے ہوا میں چند نفس اے حسین بس  
گرمی سے ہانپتا ہے فرس اے حسین بس  
وقتِ نمازِ عصر ہے بس اے حسین بس  
پیاسا لڑا نہیں کوئی یوں اژدھام میں  
اب اہتمام چاہیے امت کے کام میں  

[175](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/03/175)

لبیک کہہ کے تیغ رکی شہ نے میان میں  
پلٹی سپاہ آئی قیامت جہان میں  
پر سرکشوں نے تیر ملائے میان میں  
پھر گل گئے لپٹ کے پھر ہرے نشان میں  
بیکس حسین ظلم شعاروں میں گھر گئے  
مولا تمہارے لاکھ سواروں میں گھر گئے  

[176](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/03/176)

سینے پہ سامنے سے چلے دس ہزار تیر  
چھاتی پہ لگ گئے کئی سو ایک بار تیر  
پہلو کے پار برچھیاں سینے کے پار تیر  
پڑتے دس جو کھینچتے تھے تن سے چار تیر  
یوں تھے خدنگ ظل الٰہی کے جسم پر  
جس طرح خانہ ہوتے ہیں ساہی کے جسم پر  

[177](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/03/177)

چلتے تھے چار سمت سے بھالے حسین پر  
ٹوٹے ہوئے تھے برچھیوں والے حسین پر  
قاتل تھے خنجروں کو نکالے حسین پر  
یہ دکھ نبی ک گود کے پالے حسین پر  
تیرِ ستم نکالنے والا کوئی نہ تھا  
گرتے تھے اور سنبھالنے والا کوئی نہ تھا  

[178](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/03/178)

لاکھوں میں ایک بیکس و دلگیر ہائے ہائے  
فرزندِ فاطمہ کی یہ توقیر ہائے ہائے  
بھالے وہ اور وہ پہلو شپیر ہائے ہائے  
وہ زہر میں بجھائے ہوئے تیر ہائے ہائے  
غصے میں تھے جو فوج کے سرکش بھرے ہوئے  
خالی کیے حسین پہ ترکش بھرے ہوئے  

[179](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/03/179)

وہ گرد تھے جو بھاگتے تھے وقتِ جنگ  
اک سنگ دل نے پاس سے مارا جبیں پہ سنگ  
صدمے سے زرد ہو گیا سبطِ نبی کا رنگ  
ماتھے پہ ہاتھ تھا کہ گلے پر لگا خدنگ  
تھا ما گلا جناب نے ماتھے کو چھوڑ کے  
نکلا وہ تیری حلقِ مبارک کو توڑ کے  

[180](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/03/180)

لکھا ہے تین پھال کا تھا ناوکِ ستم  
منہ کھل گیا الٹ گئی گردن رکا جو دم  
کھینچی سری لگے کی طرف سے بچشم نم  
بھالیں نکالیں پشت کی جانب سے ہو کے خم  
ابلا جو خوں نکلتا ہوا دم شہر گیا  
چلو رکھا ہو زخم کے نیچے تو بھر گیا  

[181](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/03/181)

دشمن تھا شہ کا اعور سلمیٰ عد دے دیں  
سر پر لگائی تیغ کہ شق ہو گئی جبیں  
ماری جگر پہ ابنِ انس نے ستانِ کیں  
بھاگا کڑو کے کوکھ میں برچھی کو اک لعیں  
گھوڑے پہ ڈگمگا کے جو حضرت نے آہ کی  
تھرا گئی ضریح رسالت پناہ کی  

[182](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/03/182)

گرتے ہیں اب حسین فرس پر سے ہے غضب  
نکلی رکاب پائے مطہر سے ہے غضب  
پہلو شگافتہ ہوا خنجر سے ہے غضب  
غش میں جھکے عمامہ گرا سر سے ہے غضب  
قرآں رحل زیں سے سرِ فرش گر پڑا  
دیوارِ کعبہ بیٹھ گئی عرش گر پڑا  

[183](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/03/183)

جنگل سے آئی فاطمہ زہرا کی یہ صدا  
امت نے مجھ کو لوٹ لیا وا محمدا  
اس وقت کون حق محبت کرے ادا  
ہے ہے یہ ظلم اور دو عالم کا مقتدا  
انیس سو ہیں زخم تن چاک چاک پر  
زینب نکل حسین تڑپتا ہے خاک پر  

[184](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/03/184)

پردہ الٹ کے بنتِ علی نکلی ننگے سر  
لرزاں قدم، خمیدہ کمر، غرق خون جگر  
چاروں طرف پکارتی تھی سر کو پیٹ کر  
اے کربلا بتا، ترا مہمان ہے کدھر  
اماں قدم اب اٹھتے نہیں تشنہ کام کے  
پہونچا دو الش پر مرے بازو کو تھا کے  

[185](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/03/185)

اس وقت سب جہاں مری آنکھوں میں ہے سیاہ  
لوگو! خدا کے واسطے مجھ کو بتاؤ راہ  
سید کدھر تڑپتا ہے اماں کدھر ہیں آہ؟  
کس سمت ہے نبی کے نواسے کی قتل گاہ؟  
شعلے دل و جگر سے نکلتے ہیں آہ کے  
یہ کون نام لیتا ہے میرا کراہ کے  

[186](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/03/186)

کس نے صدا یہ دی کہ بہن اس طرف نہ آؤ  
بس اب سفر قریب ہے للہ گھر میں جاؤ  
اب ڈوبتی ہے آل رسولِ خدا کی ناؤ  
یا مرتضیٰ غریبوں کے بیڑے کو تم بچاؤ  
اب چھوڑ یو نہ دشتِ بلا میں حسین کو  
یا فاطمہ چھپا لو روا میں حسین کو  

[187](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/03/187)

بنتِ علی تو پیٹتی پھرتی تھی ننگے سر  
کٹتا تھا نورِ چشم علی کا گلا ادھر  
زینب کو منع کرتے تھے ہر چند اہلِ شر  
لیکن وہ دوڑی جاتی تھی تھامے ہوئے جگر  
پہونچی جو قتل گاہ میں اس روک ٹوک پر  
دیکھا سرِ حسین کو نیزے کی نوک پر  

[188](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/03/188)

نیزے کے نیچے جا کے پاری وہ سوگوار  
سید تری لہو بھری صورت کے میں نثار  
ہے ہے گلے پہ چل گئی بھیا چھری کی دھار  
بھولے بہن کو اے اسدِ حق کے یادگار  
صدقے گئی لٹا گئے گھر وعدہ گاہ میں  
جنبش لبوں کو ہے ابھی یاد آلہ میں  

[189](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/03/189)

بھیا سلام کرتی ہے خواہر جواب دو  
چلا رہی ہے دخترِ حیدر جواب دو  
سوکھی زبان سے بہرِ پیمبر جواب دو  
کیونکر جئے گی زینبِ مضطر جواب دو  
جز مرگ دردِ ہجر کا چارا نہیں کوئی  
میرا تو اب جہاں میں سہارا نہیں کوئی  

[190](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/03/190)

بھیا میں اب کہاں سے تمہیں لاؤں کیا کروں  
کیا کہہ کے اپنے دل کو میں سمجھاؤں، کیا کروں؟  
کس کی دُہائی دوں کسے چلاؤں کیا کروں؟  
بستی پرائے ہے ، میں کدھر جاؤں کیا کروں؟  
دنیا تمام اجڑ گئی، ویرانہ ہو گیا  
بیٹھوں کہاں کہ گر تو عزا خانہ ہو گیا  

[191](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/03/191)

ہے ہے تمہارے آگے نہ خواہر گذر گئی  
بھیا بتاؤ کیا تہ خنجر گذر گئی؟  
آئی صدا نہ پوچھو جو ہم پر گذر گئی  
صد شکر جو گذر گئی بہتر گذر گئی  
سر کٹ گیا ہمیں تو الم سے فراغ ہے  
گرہے تو بس تمہاری جدائی کا داغ ہے  

[192](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/03/192)

گھر لوٹنے کو آئے گی اب فوجِ نابکار  
کہیو نہ کچھ زباں سے، بجز شکرِ کردگار  
خیمہ میں جب کہ آگ لگادیں ستم شعار  
رہیو مری یتیم سیکنۂ سے ہوشیار  
بے زار ہے وہ خستہ جگر اپنی جان سے  
باندھے نہ کوئی اس کا گلا ریسمان سے  

[193](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/03/193)

بس اے انیسؔ ضعف سے لرزاں ہے بند بند  
عالم کو یادگار رہیں گے یہ چند بند  
نکلے قلم سے ضعف میں کیا کیا بلند بند  
عالم پسند بن ہیں سلطان پسند بند  
یہ فصل اور یہ بزمِ عزا یادگار  
پیری کے ولولے ہیں خزاں کی بہار ہے  

### دشت وغا میں نور خدا کا ظہور ہے

https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/04

[1](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/04/1)

دشت وغا میں نور خدا کا ظہور ہے  
ذروں میں روشنئ تجلئ طور ہے  
اک آفتاب رخ کی ضیا دور دور ہے  
کوسوں زمین عکس سے دریائے نور ہے  
اللہ رے حسن طبقۂ عنبر سرشت کا  
میدان کربلا ہے نمونہ بہشت کا  

[2](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/04/2)

حیراں زمیں کے نور سے ہے چرخ لاجورد  
مانند کہربا ہے رخ آفتاب زرد  
ہے روکش فضائے ارم وادی نبرد  
اٹھتا ہے خاک سے تتق نور جائے گرد  
حیرت سے حاملان فلک ان کو تکتے ہیں  
ذرے نہیں زمیں پہ ستارے چمکتے ہیں  

[3](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/04/3)

ہے آب نہر صورت آئینہ جلوہ گر  
تاباں ہے مثل چشمۂ خورشید ہر بھنور  
لہریں بسان برق چمکتی ہیں سر بہ سر  
پانی پہ مچھلیوں کی ٹھہرتی نہیں نظر  
یہ آب و تاب ہے کہ گہر آب آب ہیں  
دریا تو آسماں ہیں ستارے حباب ہیں  

[4](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/04/4)

پرتو فگن ہوا جو رخ قبلۂ انام  
مشہور ہو گئی وہ زمیں عرش احتشام  
اور سنگ ریزے در نجف بن گئے تمام  
صحرا کو مل گیا شرف وادی السلام  
کعبہ سے اور نجف سے بھی عزت سوا ہوئی  
خاک اس زمین پاک کی خاک شفا ہوئی  

[5](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/04/5)

پھیلا جو نور مہر امامت دم زوال  
ذروں سے واں کے آنکھ ملانا ہوا محال  
سارے نہال فیض قدم سے ہوئے نہال  
اختر بنے جو پھول تو شاخیں بنیں ہلال  
پتے تمام آئینۂ نور ہو گئے  
صحرا کے نخل سب شجر طور ہو گئے  

[6](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/04/6)

غل تھا زہے حسین کی شوکت زہے وقار  
گویا کھڑے ہیں جنگ کو محبوب کردگار  
رخ سے عیاں ہے دبدبۂ شاہ ذو الفقار  
ہے نور حق جبین منور سے آشکار  
کیونکر چھپے نہ ماہ دوہفتہ حجاب سے  
چودہ طبق میں نور ہے اس آفتاب سے  

[7](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/04/7)

یہ روئے روشن اور یہ گیسوئے مشک فام  
یاں شام میں تو صبح ہے اور صبح میں ہے شام  
ہالے میں یوں نظر نہیں آتا ہے مہ تمام  
قدرت خدا کی نور کا ظلمت میں ہے مقام  
زلفوں میں جلوہ گر نہیں چہرہ جناب کا  
ہے نصف شب میں آج ظہور آفتاب کا  

[8](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/04/8)

قرباں کمان ابروئے مولا پہ جان و دل  
گر ماہ نو کہیں تو ہے تشبیہ مبتذل  
چشم غزال دشت ختن چشم سے خجل  
دیکھا جسے کرم سے خطائیں ہوئیں بحل  
پتلی بسان قبلہ نما بے قرار ہے  
گریاں ہیں وہ یہ گردش لیل و نہار ہے  

[9](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/04/9)

رخسار ہیں ضیا میں قمر سے زیادہ تر  
جن پر ٹھہر سکی نہ کبھی شمس کی نظر  
ریش مخضب اور یہ رخ شاہ بحر و بر  
پیدا ہیں صاف معنی و اللیل و القمر  
قرآن سے عیاں ہے بزرگی امام کی  
کھائی قسم خدا نے اسی صبح و شام کی  

[10](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/04/10)

کس منہ سے کیجئے لب جان بخش کا بیاں  
چوسی جنہوں نے احمد مختار کی زباں  
کیا در آب دار ہیں اس درج میں نہاں  
گویا کہ موتیوں کا خزانہ ہے یہ دہاں  
ذرے زمیں پہ عکس سے سارے چمک گئے  
جس وقت یہ کھلے تو ستار چمک گئے  

[11](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/04/11)

شمع حریم لم یزل تھا گلوئے شاہ  
تاریک شب میں جیسے ہویدا ہو نور ماہ  
اے چرخ بے مدار یہ کیسا ستم ہے آہ  
شمشیر شمر اور محمد کی بوسہ گاہ  
جس پر رسول ہونٹوں کو ملتے ہوں پیار سے  
کٹ جائے کربلا میں وہ خنجر کی دھار سے  

[12](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/04/12)

منظور یاں تھی مدح گلوئے شہ امم  
یاد آ گئی مگر یہ حدیث غم و الم  
مسجد میں جلوہ گر تھے رسول فلک حشم  
ملتے تھے ذکر حق میں لب پاک دم بہ دم  
روشن تھے بام و در رخ روشن کے نور سے  
آئینہ بن گئی تھی زمیں تن کے نور سے  

[13](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/04/13)

تھا جو ستوں کہ رکن رسالت کا تکیہ گاہ  
کرسی بھی اس کی پشت کی تھی ڈھونڈھتی پناہ  
تھا جس حصیر پر وہ دو عالم کا بادشاہ  
حسرت سے عرش کرتا تھا اس فرش پر نگاہ  
اوج زمیں بہشت بریں سے دو چند تھا  
منبر کا نہ فلک سے بھی پایہ بلند تھا  

[14](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/04/14)

اصحاب خاص گرد تھے انجم کی طرح سب  
تاباں تھا بیچ میں وہ مہ ہاشمی لقب  
سر پر ملک صفات مگس راں تھے دو عرب  
جبریل تہ کیے ہوئے تھے زانوئے ادب  
خادم بلال و قنبر گروں اساس تھا  
نعلین اس کے پاس عصا اس کے پاس تھا  

[15](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/04/15)

گیسو تھے وہ مفسر و اللیل اذا سجا  
رخ سے عیاں تھے معنی و الشمس و الضحا  
وہ ریش پاک اور رخ سردار انبیا  
گویا دھرا تھا رحل پہ قرآں کھلا ہوا  
اوڑھے سیہ عبا جو وہ عالم پناہ تھا  
کعبہ کا صاف حاجیوں کو اشتباہ تھا  

[16](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/04/16)

پہلو میں بادشاہ کے تھا جلوہ گر وزیر  
سردار دیں علی ولی خلق کا امیر  
دونوں جہاں میں کوئی نہ دونوں کا تھا نظیر  
احمد تھے آفتاب تو حیدر مہ منیر  
ظاہر میں ایک نور کا دو جا ظہور تھا  
گر غور کیجیے تو وہی ایک نور تھا  

[17](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/04/17)

مصروف وعظ و پند تھے سلطان مشرقین  
جو گھر سے نکلے کھیلتے زہرا کے نور عین  
نانا بغیر دونوں نواسوں کو تھا نہ چین  
بڑھ جاتے تھے حسن کبھی آگے کبھی حسین  
کہتے تھے دیکھیں کون قدم جلد اٹھاتا ہے  
نانا کے پاس کون بھلا پہلے جاتا ہے  

[18](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/04/18)

وہ گورے گورے چہروں پہ زلفیں ادھر ادھر  
اختر سے وہ چمکتے ہوئے کان کے گہر  
رشک ہلال طوق گلے غیرت قمر  
ہیکل پہ نقش نام خدائے جلیل کے  
تعویذ گردنوں پہ پر جبرئیل کے  

[19](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/04/19)

مسجد میں آئے ہنستے ہوئے جب وہ گل بدن  
خوشبو سے صحن مسجد جامع بنا چمن  
تسلیم کو حسین سے پہلے جھکے حسن  
خوش ہو کے مسکرانے لگے سرور زمن  
بڑھ بڑھ کے خم سلام کو چھوٹے بڑے ہوئے  
بیٹھے رہے رسول ملک اٹھ کھڑے ہوئے  

[20](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/04/20)

بیٹوں کو تھا علی کا اشارہ کہ بیٹھ جاؤ  
لازم نہیں کہ وعظ میں نانا کو تم ستاؤ  
پھیلا کے ہاتھ بولے محمد کہ آؤ آؤ  
شبیر نے کہا ہمیں پہلے گلے لگاؤ  
بھائی حسن جو آپ کی گودی میں آئیں گے  
ہم تم سے نانا جان ابھی روٹھ جائیں گے  

[21](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/04/21)

بولے حسن کہ واہ ہمیں اور کریں نہ پیار  
اقرار کے چکے ہیں شہنشاہ نام دار  
بولے بہ چشم نم یہ حسین فلک وقار  
دیکھیں تو کون کاندھے پہ ہوتا ہے اب سوار  
سب سے سوا جو ہیں سو ہمیں ان کے پیارے ہیں  
آگے نہ بڑھیے آپ کہ نانا ہمارے ہیں  

[22](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/04/22)

بھائی سے تب کہا یہ حسن نے بہ التفات  
بے وجہ ہم سے روٹھے ہو تم اے نکو صفات  
نانا ہمارے کیا نہیں سلطان کائنات  
ہوتی ہے ناگوار تمہیں تو ذرا سی بات  
غصہ نہ اتنا چاہیئے خوش خو کے واسطے  
مچلے تھے یوں ہی بچۂ آہو کے واسطے  

[23](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/04/23)

یہ سن کے منہ علی کا لگے دیکھنے رسول  
ہنس کر کہا یہ دونوں ہیں میرے چمن کے پھول  
میں چاہتا ہوں ایک کی خاطر نہ ہو ملول  
روئیں گے یہ تو گھر سے نکل آئے گی بتول  
ہووے نہ رنج میرے کسی نور عین کو  
تم لو حسن کو گود میں میں لوں حسین کو  

[24](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/04/24)

شبر سے پھر اشارہ کیا ہو کے بے قرار  
غصہ نہ کھاؤ پہلے تمہیں کو کریں گے پیار  
پھر بولے دیکھ کر سوئے شبیر نامدار  
آ اے حسین آ تری باتوں کے میں نثار  
چھاتی سے ہم لگائیں گے جان اپنی جان کر  
دیکھیں تو پہلے کون لپٹتا ہے آن کر  

[25](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/04/25)

دوڑے یہ بات سن کے برابر وہ خوش سیر  
پاس آئے آفتاب رسالت کے دو قمر  
لپٹے حسین ہنس کے ادھر اور حسن ادھر  
تھے پانوں زانوؤں پہ تو بالائے دوش سر  
نانا کے ساتھ پیار میں دونوں کا ساتھ تھا  
گردن میں ایک ان کا اور ان کا ہاتھ تھا  

[26](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/04/26)

پھر پھر کے دیکھتے تھے شہنشاہ مشرقین  
گہہ جانب حسن تو کبھی جانب حسین  
بیٹھے جو زانوؤں پہ وہ زہرا کے نور عین  
تھا تن کو لطف قلب کو راحت جگر کو چین  
جھک جھک کے منہ رسول زمن چومنے لگے  
ان کا گلا تو ان کا دہن چومنے لگے  

[27](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/04/27)

شبیر چاہتے تھے کہ چومیں مرے بھی لب  
پر کچھ گلے کے بوسوں کا کھلتا نہ تھا سبب  
نانا کے منہ کے پاس یہ لاتے تھے منہ کو جب  
جھک جھک کے چومتے تھے گلا سید عرب  
بھائی کو دیکھ کر جو حسن مسکراتے تھے  
غیرت سے ان کی آنکھوں میں آنسو بھر آتے تھے  

[28](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/04/28)

اٹھے حسین زانوئے احمد سے خشمگیں  
غصے سے رنگ زرد اور آنکھوں پہ آستیں  
رخ پر پسینہ جسم میں رعشہ جبیں پہ چیں  
پوچھا کدھر چلے تو یہ بولے کہیں نہیں  
گھر میں اکیلے تیوری چڑھائے چلے گئے  
دیکھا نہ پھر کے سر کو جھکائے چلے گئے  

[29](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/04/29)

بیت الشرف میں آئے جو شبیر نام دار  
کرتے کو منہ پہ رکھ کے لگے رونے زارزار  
دوڑیں یہ کہہ کے فاطمہ زہرا جگر فگار  
ہے ہے حسین کیا ہوا تو کیوں ہے اشک بار  
تجھ کو رلا کے غم میں مجھے مبتلا کیا  
قربان ہو گئی تجھے کس نے خفا کیا  

[30](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/04/30)

میرا کلیجہ پھٹتا ہے اے دل ربا نہ رو  
زہرا ہزار جان سے تجھ پہ فدا نہ رو  
سر میں نہ درد ہو کہیں اے مہ لقا نہ رو  
بس بس نہ رو حسین برائے خدا نہ رو  
میری طرف تو دیکھو کہ بیتاب ہوتی ہوں  
چادر سے منہ کو ڈھانپ کے لو میں بھی روتی ہوں  

[31](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/04/31)

تو منہ تو کھول اے مرے شبیر خوش خصال  
تر ہو گئے ہیں آنسوؤں سے گورے گورے گال  
مل مل کے پشت دست سے آنکھ کرو نہ لال  
سلجھاؤں آؤ الجھے ہوئے گیسوؤں کے بال  
گھر سے گئے تھے ساتھ جدا ہو کے آئے ہو  
سمجھی میں کچھ حسن سے خفا ہو کے آئے ہو  

[32](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/04/32)

تم چپ رہو وہ گھر میں تو مسجد سے پھر کے آئیں  
گزری میں کھیل سے مرے بچے کو کیوں رلائیں  
ان سے نہ بولیو وہ تمہیں لاکھ گر منائیں  
لو آؤ جانے دو تمہیں چھاتی سے ہم لگائیں  
واری اگر حسن نے رلایا برا کیا  
پوچھوں گی کیا نہ میں مرے پیارے نے کیا کیا  

[33](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/04/33)

بولے حسین ہم تو ہیں اس بات پر خفا  
نانا نے چومے بھائی کے ہونٹ اور مرا گلا  
تم اماں جان منہ کو تو سونگھو مرے ذرا  
کچھ بوئے ناگوار ہے میرے دہن میں کیا  
بھائی کے لب سے اپنے لبوں کو ملاتے ہیں  
اب ہم نہ جائیں گے ہمیں نانا رلاتے ہیں  

[34](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/04/34)

منہ رکھ کے منہ پہ بولی یہ زہرا جگر فگار  
بوئے گلاب آتی ہے اے میرے گلغدار  
چوما اگر گلا تو خفا ہو نہ میں نثار  
تم کو زباں چوساتے تھے محبوب کردگار  
یہ مشک میں مہک نہ گل یاسمن میں ہے  
خوش بو اسی دہن کی تمہارے دہن میں ہے  

[35](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/04/35)

کہنے لگے حسین یہ ماں سے بہ چشم نم  
کیا جانو تم حسن سے ہمیں چاہتے ہیں کم  
یہ کیا انہیں پہ لطف و عنایت ہے دم بہ دم  
معلوم ہو گیا انہیں پیارے نہیں ہیں ہم  
رو رو کے آج جان ہم اپنی گنوائیں گے  
پانی نہ اب پئیں گے نہ کھانے کو کھائیں گے  

[36](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/04/36)

یہ بات سن کے ہو گیا زہرا کا رنگ فق  
بولی پسر سے رو کے وہ بنت رسول حق  
صدقے گئی کرو نہ کلیجے کو میرے شق  
ہے ہے یہ کیا کہا مجھے ہوتا ہے اب قلق  
میرا لہو بہے گا جو آنسو بہاؤ گے  
کاہے کو ماں جیے گی جو کھانا نہ کھاؤگے  

[37](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/04/37)

یہ کہہ کے اوڑھ لی سر پر نور پر ردا  
موزے پہن کے گود میں شبیر کو لیا  
در تک گئی جو گھر سے وہ دل بند مصطفا  
فضہ نے بڑھ کے بوزر و سلماں کو دی صدا  
پیش نبی حسین کو گودی میں لاتی ہیں  
ہٹ جاؤ سب کہ فاطمہ مسجد میں آتی ہیں  

[38](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/04/38)

اللہ رے آمد آمد زہرا کا بندوبست  
ساتوں فلک تھے اوج شرافت سے جس کے پست  
احمد کے گرد و پیش سے اٹھے خدا پرست  
انساں تو کیا ملک کو نہ تھی قدرت نشست  
آئیں تو شاد شاد رسول زمن ہوئے  
گھر میں خدا کے ایک جگہ پنج تن ہوئے  

[39](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/04/39)

تعظیم فاطمہ کو اٹھے سید البشر  
دیکھا کہ چشم فاطمہ ہے آنسوؤں سے تر  
غم تھے حسین دوش پہ ماں کے جھکائے سر  
تھا اک ہلال مہر کے پہلو میں جلوہ گر  
ماں کہتی تھی نہ رؤو مگر چپ نہ ہوتے تھے  
آنکھیں تھیں بند ہچکیاں لے لے کے روتے تھے  

[40](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/04/40)

گھبرا کے پوچھنے لگے محبوب ذو الجلال  
روتا ہے کیوں حسین یہ کیا ہے تمہارا حال  
بولیں بتول آج قلق ہے مجھے کمال  
رویا ہے یہ حسین کہ آنکھیں ہیں دونوں لال  
آتے ہیں ہنستے روتے ہوئے گھر میں جاتے ہیں  
شفقت بھی آپ ہی کرتے ہیں آپ ہی رلاتے ہیں  

[41](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/04/41)

ہاتھوں کو جوڑتی ہوں میں یا شاہ بحر و بر  
شفقت کی اس کے حال پہ ہر دم رہے نظر  
رونے سے اس کے ہوتا ہے ٹکڑے مرا جگر  
مجھ فاقہ کش غریب کا پیارا ہے یہ پسر  
حیدر سے پوچھیے مرے عسرت کے حال کو  
کس کس دکھوں سے پالا ہے اس نونہال کو  

[42](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/04/42)

اشک اس کے جتنے ٹپکے ہیں یا شاہ نیک خو  
اتنا ہی گھٹ گیا ہے مرے جسم کا لہو  
روئے ہیں پھوٹ پھوٹ کے یہ میرے رو بہ رو  
تر ہو گیا ہے آنسوؤں سے چاند سا گلو  
دیکھا نہ تھا یہ میں نے جو حال اس کا آج ہے  
حضرت تو جانتے ہیں کہ نازک مزاج ہے  

[43](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/04/43)

شفقت سے آج آپ نے چومے حسن کے لب  
بوسہ لیا نہ ان کے لبوں کا یہ کیا سبب  
رتبے میں دونوں ایک ہیں یا سرور عرب  
میں سچ کہوں یہ سن کے مجھے بھی ہوا عجب  
اس کو جو ہو خوشی تو دل اس کا بھی شاد ہو  
چھوٹے سے چاہیئے کہ محبت زیاد ہو  

[44](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/04/44)

آپ ان کے ناز اٹھاتے ہیں یا شاہ بحر و بر  
پھر کس سے روٹھیں آپ سے روٹھیں نہ یہ اگر  
اکثر انہیں چڑھایا ہے حضرت نے دوش پر  
گیسو دئیے ہیں ننھے سے ہاتھوں میں بیشتر  
روٹھے تھے یہ سو قدموں پہ سر دھرنے آئے ہیں  
منہ کے نہ چومنے کا گلا کرنے آئے ہیں  

[45](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/04/45)

یہ کہہ کے پھر حسین سے بولیں بہ چشم تر  
لو جا کے اب نبی کے قدم پر جھکاؤ سر  
آئے حسین ہاتھ جو ننھے سے جوڑ کر  
بے اختیار رونے لگے سید البشر  
رہ رہ کے دیکھتے تھے علی و بتول کو  
نزدیک تھا قلق سے غش آئے رسول کو  

[46](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/04/46)

تھی آنسوؤں سے ریش مبارک تمام نم  
فرط بکا سے خاک پہ جھکتے تھے دم بہ دم  
گاہے ستوں سے لگ کے ہوئے راست گاہ خم  
ہر لحظہ اضطراب زیادہ تھا صبر کم  
ہو سکتا تھا نہ ضبط شۂ مشرقین سے  
روتے تھے بار بار لپٹ کر حسین سے  

[47](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/04/47)

شبیر رو کے کہتے تھے نانا نہ روئیے  
روئیں گے اب نہ ہم شۂ والا نہ روئیے  
ہلنے لگے گا عرش معلےٰ نہ روئیے  
پھٹتا ہے اب ہمارا کلیجہ نہ روئیے  
سو بار دن میں ہم تو منہ اشکوں سے دھوتے ہیں  
حضرت ہمارے رونے پہ کاہے کو روتے ہیں  

[48](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/04/48)

گھبرا گئے علی ولی شاہ بحر و بر  
کی عرض فاطمہ نے جھکا کے قدم پہ سر  
بیٹی نثار ہو گئی یا سید البشر  
کیا وجہ ہے جو آپ ہیں اس طرح نوحہ گر  
جلدی بتائیے کہ مجھے تاب اب نہیں  
رونا خدا کے دوست کا یہ بے سبب نہیں  

[49](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/04/49)

حضرت کو علم غیب ہے یا شاہ انس و جاں  
آئندہ و گزشتہ کا سب حال ہے عیاں  
کیا آئی آج وحی خداوند دو جہاں  
ہونا ہے جو حسین پہ مجھ سے کرو بیاں  
فاقوں سے کاٹتی ہوں مصیبت جہان کی  
کیوں بابا جان خیر تو ہے اس کی جان کی  

[50](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/04/50)

بولے جگر کو تھام کے محبوب ذو الجلال  
تجھ سے سنا نہ جائے گا اے فاطمہ یہ حال  
کس منہ سے میں کہوں کہ قلق ہے مجھے کمال  
زہرا شہید ہوئے ہوویں گے تیرے یہ دونوں لال  
ماتم کی یہ خبر ابھی جبریل لائے تھے  
سارے ملک حسین کے پرسے کو آئے تھے  

[51](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/04/51)

الماس پی کے ہوئے گا بے جاں ترا حسن  
یہ وجہ ہے کہ چومتا ہوں اس کا میں دہن  
بھر جائے گا کلیجوں کے ٹکڑوں سے سب لگن  
ہوگا زمردی ترے اس لال کا بدن  
سوئے بہشت جب یہ جہاں سے سدھاریں گے  
بد کیش تیر اس کے جنازے پہ ماریں گے  

[52](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/04/52)

زہرا مجھے کلام کی طاقت نہیں ہے اب  
حلق حسین چومنے کا کیا کہوں سبب  
اک بن میں تین روز رہیں گے یہ تشنہ لب  
کٹ جائے گا گلا یہی خنجر سے ہے غضب  
نیزے پہ سر چڑھے گا ترے نور عین کا  
گھوڑوں سے روند ڈالیں گے لاشہ حسین کا  

[53](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/04/53)

روئے خبر یہ کہہ کے جو محبوب ذو المنن  
گھبرا کے منہ حسین کا تکنے لگے حسن  
زہرا پکاری ہائے لٹے گا مرا چمن  
میں مر گئی دہائی ہے یا سرور زمن  
یہ کیسی آگ ہے کہ مری کوکھ جل گئی  
ہے ہے چھری کلیجے پہ زہرا کے چل گئی  

[54](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/04/54)

فریاد یا نبی شۂ ابرار الغیاث  
اے مرسلان حق کے مددگار الغیاث  
اے بے کسوں کے وارث و سردار الغیاث  
قدرت ہے سب طرح کی شۂ مشرقین کو  
حضرت سے لوں گی اپنے حسن اور حسین کو  

[55](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/04/55)

کس جرم پر یہ لال مرے قتل ہوں گے آہ  
رو کر کہا رسول خدا نے کہ بے گناہ  
کی عرض فاطمہ نے کہ اے عرش بارگاہ  
بچوں کو میرے کیا نہ ملے گی کہیں پناہ  
تلواریں کھینچ کھینچ کے ظالم جو آئیں گے  
حضرت نہ کیا نواسوں کو اپنے بچائیں گے  

[56](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/04/56)

آساں ہے کیا جو قتل کریں گے ستم شعار  
کیا شیر حق کمر سے نہ کھینچیں گے ذو الفقار  
اعدا پہ کیا چلے گا نہ دست خدا کا وار  
بالوں کو کیا نہ کھولے گی زہرا جگر فگار  
ٹکڑے جگر جو ہوئے گا مجھ دل دو نیم کا  
پایہ نہ کیا ہلاؤں گی عرش عظیم کا  

[57](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/04/57)

زہرا سے رو کے کہنے لگے شاہ نیک خو  
بیٹی مجھے ستائیں گے تربت میں کینہ جو  
اس وقت قتل ہوئیں گے یہ دونوں ماہ رو  
دنیا میں جب نہ ہوگا علی اور نہ میں نہ تو  
لاشے پہ مجتبیٰ کے تو شبیر روئے گا  
شبیر جب مرے گا تو کوئی نہ ہوئے گا  

[58](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/04/58)

چلائی سر پٹک کے یہ زہرا کہ ہے ستم  
پیٹے گا کون تن سے جو نکلے گا اس کا دم  
ماتم کی صف بچھائے گا کون اے شہ امم  
پرسے کو کون آئے گا اس کے بہ چشم نم  
ہم میں سے ایسے وقت جو کوئی نہ ہوئے گا  
ہے ہے مرے حسین کو پھر کون روئے گا  

[59](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/04/59)

بچے کی میرے تعزیہ داری کرے گا کون  
منہ ڈھانپ ڈھانپ گریہ و زاری کرے گا کون  
دریائے اشک چشم سے جاری کرے گا کون  
امداد بعد مرگ ہماری کرے گا کون  
ہوگا کہاں نبی کے نواسے کا فاتحہ  
شربت پہ کون دیوے گا پیاسے کا فاتحہ  

[60](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/04/60)

بولے نبی کہ آپ کو زہرا نہ کر ہلاک  
فرما چکا ہے مجھ سے یہ وعدہ خدائے پاک  
پیدا کریں گے قوم اک ایسی بہ روئے خاک  
جو رات دن رہیں گے اسی غم میں درد ناک  
بزم عزا میں آئیں گے وہ دور دور سے  
تن خاک سے بنائیں گے دل ان کے نور سے  

[61](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/04/61)

ہوگی انہیں سے مجلس ماتم کی زیب و زین  
دیں گے انہیں وہ لب کہ رہے جس پہ وا حسین  
آنکھیں وہ دیں گے رونے کو سمجھیں جو فرض عین  
ہاتھ ایسے غیر سینہ زنی ہو جنہیں نہ چین  
سامان تعزیت کے کبھی کم نہ ہوئیں گے  
وہ حشر تک حسین کے ماتم میں روئیں گے  

[62](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/04/62)

ہوگا عیاں فلک پہ محرم کا جب ہلال  
رخت سیاہ پہنیں گے بر میں وہ خوش خصال  
کھولیں گی بیبیاں بھی سب اپنے سروں کے بال  
ہر گھر میں ہوگا شور کہ ہے ہے علی کا لال  
لیں گے صلے میں خلد ترے نور عین سے  
آنسو عزیز وہ نہ کریں گے حسین سے  

[63](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/04/63)

پیاسا شہید ہوگا جو تیرا یہ دل ربا  
مومن سبیلیں رکھیں گے پانی کی جا بجا  
ہووے گی شاد روح شہیدان کربلا  
بھر بھر کے آب سرد پکاریں گے برملا  
محبوب کبریا کے نواسے کی نذر ہے  
پیاسے نہ جائیو کہ یہ پیاسے کی نذر ہے  

[64](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/04/64)

کہنے لگی نبی سے بتول فلک جناب  
ہے ہے میں کیا کروں مرے دل کو نہیں ہے تاب  
اے بادشاہ کون و مکاں مالک الرقاب  
درگاہ حق میں آپ کی ہے عرض مستجاب  
کیجے دعا کہ خالق اکبر مدد کرے  
اللہ یہ بلا مرے بچے کی رد کرے  

[65](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/04/65)

بیٹی سے رو کے کہنے لگے شاہ کائنات  
روح الامیں نے مجھ سے تو یہ بھی کہی ہے بات  
چاہو تو رد کرے یہ بلا رب پاک ذات  
لیکن نہ ہوے گی مرے امت کی پھر نجات  
محبوب حق نثار ترے نور عین پر  
موقوف ہے یہ امر تو قتل حسین پر  

[66](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/04/66)

اللہ رے صبر دختر محبوب کردگار  
امت کا نام سن کے جھکایا سر ایک بار  
خوشنود ہو کے کہنے لگے شاہ ذوالفقار  
صدقے حسن حسین تصدق علی نثار  
اس راہ میں نہ مال نہ دولت عزیز ہے  
پیارے پسر نہیں ہمیں امت عزیز ہے  

[67](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/04/67)

کہنے لگے حسین سے پھر شاہ بحر و بر  
بتلا مجھے کہ کیا تری مرضی ہے اے پسر  
نانا سے بولے چھوٹے سے ہاتھوں کو جوڑ کر  
امت کے کام آئے تو حاضر ابھی ہے سر  
وعدہ کو ہم نہ بھولیں گے گو خورد سال ہیں  
چھوٹے نہیں ہیں مخبر صادق کے لال ہیں  

[68](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/04/68)

روتے ہیں آپ کس لیے یا سید امم  
راضی ہیں ہم پہ راہ خدا میں ہوں جو ستم  
تلواریں بھی چلیں تو نہیں مارنے کے دم  
امت پہ اپنے سر کو تصدق کریں گے ہم  
ہم راست گو ہیں بات پہ جس وقت آتے ہیں  
کہتے ہیں جو زباں سے وہی کر دکھاتے ہیں  

[69](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/04/69)

بچپن میں جو زباں سے کہا تھا کیا وہ کام  
جس وقت رن میں ٹوٹ پڑے شہ پہ فوج شام  
گردن جھکا کے برچھیاں کھایا کیے امام  
خوں میں قبا رسول کی تر ہو گئی تمام  
تیغیں علی کے لال کے شانے پہ چل گئیں  
چھاتی کے پار نیزوں کی نوکیں نکل گئیں  

[70](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/04/70)

پھیری نہ تھی جو پشت مبارک دم مصاف  
تھے دو ہزار زخم فقط سر سے تا بہ ناف  
سید سے بے وطن سے زمانہ تھا بر خلاف  
غل تھا کہ آج ہوتا ہے گھر فاطمہ کا صاف  
سنبھلا نہ جائے گا خلف بو تراب سے  
لو وہ قدم حسین کے نکلے رکاب سے  

[71](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/04/71)

مینہ کی طرح برسنے لگے شاہ دیں پہ تیر  
تھرا رہے تھے لگ کے تن نازنیں پہ تیر  
دامن پہ تیر جیب پہ تیر آستیں پہ تیر  
پہلو پہ تیغ سینہ پہ نیزہ جبیں پہ تیر  
داغوں سے خوں کے رخت بدن لالہ زار تھا  
شکل ضریح سینۂ اقدس فگار تھا  

[72](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/04/72)

تر تھی لہو میں زلف شکن در شکن جدا  
مجروح لعل لب تھے جدا اور دہن جدا  
درپئے تھے نیزہ دار جدا تیغ زن جدا  
کٹ کٹ کے ہو گیا تھا ہر اک عضو تن جدا  
سی پارہ تھا نہ صدر فقط اس جناب کا  
پرزے ورق ورق تھا خدا کی کتاب کا  

[73](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/04/73)

کرتا تھا وار برچھیوں والوں کا جب پرا  
تیغوں سے دم بھی لینے کی مہلت نہ تھی ذرا  
نیزوں میں خوں نبی کے نواسے کا تھا بھرا  
شمشیر و تیر نیزہ و خنجر کے ماورا  
تھیں سختیاں ستم کی شہ خوش خصال پر  
چلتے تھے سنگ فاطمہ زہرا کے لال پر  

[74](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/04/74)

تھے دو ہزار جسم شۂ بحر و بر پہ زخم  
ماتھے پہ زخم تیر کے تیغوں کے سر پہ زخم  
گردن پہ زخم سینہ پہ زخم اور کمر پہ زخم  
اور اس کے ماورا تھے بہتر جگر پہ زخم  
گھوڑے پہ گہہ سنبھلتے تھے گہہ ڈگمگاتے تھے  
غش آتا تھا تو ہرنے پہ سر کو جھکاتے تھے  

[75](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/04/75)

گھوڑے پہ جب سنبھلنے کی مطلق رہی نہ تاب  
ہاتھوں سے باگ چھوٹ گئی اور پاؤں سے رکاب  
گرنے لگا جو خاک پہ وہ آسماں جناب  
مرقد میں بے قرار ہوئی روح بو تراب  
غل تھا کہ خاک پر شہ کون و مکاں گرا  
بس اب زمیں الٹ گئی اور آسماں گرا  

[76](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/04/76)

جلتی ہوئی زمیں پہ تڑپنے لگے امام  
بے کس پہ ظالموں نے کیا اور اژدہام  
اس وقت شمر سے یہ عمر نے کیا کلام  
ہاں تن سے جلد کاٹ سر سرور انام  
ڈریو نہ سن کے فاطمہ زہرا کی آہ کو  
گل کر دے شمع قبر رسالت پناہ کو  

[77](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/04/77)

یہ سنتے ہی چڑھائی ستمگر نے آستیں  
خنجر کمر سے کھینچ کے آگے بڑھا لیں  
تھے قبلہ رو جھکے ہوئے سجدے میں شاہ دیں  
لب ہلتے دیکھے شاہ کے آیا وہ جب قریں  
سمجھا کہ تشنگی سے جو صدمے گزرتے ہیں  
اس وقت بد دعا مجھے شبیر کرتے ہیں  

[78](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/04/78)

جھک کر قریب کان جو لایا تو یہ سنا  
حق میں گناہ گاروں کے کرتے ہیں شہ دعا  
جاری زبان خشک پہ یہ ہے کہ اے خدا  
کر حاجتوں کو میرے محبوں کی تو روا  
شیعوں کا حشر روز جزا میرے ساتھ ہو  
میرا یہ خوں بہا ہے کہ ان کی نجات ہو  

[79](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/04/79)

یہ سن کے مستعد ہوا وہ شہ کے قتل پر  
زانو رکھا حسین کے سینے پہ بے خطر  
گردن پہ پھیرنے لگا خنجر جو بد گہر  
آئی صدا علی کی کہ ہے ہے مرے پسر  
زہرا پکاری کچھ بھی نبی سے حجاب ہے  
ظالم یہ بوسہ گاہ رسالت مآب ہے  

[80](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/04/80)

کیوں ذبح میرے لال کو کرتا ہے بے گناہ  
کیوں کاٹتا ہے میرے کلیجے کو رو سیاہ  
کشتی کو اہل بیت نبی کی نہ کر تباہ  
میں فاطمہ ہوں عرش ہلائے گی میری آہ  
ہوئے گا حشر قتل جو یہ بے وطن ہوا  
یہ مر گیا تو خاتمہ پنج تن ہوا  

[81](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/04/81)

آواز اپنی ماں کی یہ زینب نے جب سنی  
دوڑی نکل کے خیمے سے سر پیٹتی ہوئی  
دیکھا کہ ذبح کرتا ہے حضرت کو وہ شقی  
سر پیٹ کر یہ کہنے لگی وہ جگر جلی  
ہے ہے نہ تین روز کے پیاسے کو ذبح کر  
ظالم نہ مصطفی کے نواسے کو ذبح کر  

[82](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/04/82)

بانو پکارتی تھی یہ کیا کرتا ہے لعیں  
پیاسا ہے تین روز سے حیدر کا جا نشیں  
چلاتی تھی سکینہ کہ جینے کی میں نہیں  
بابا کو ذبح کرتا ہے کیوں اے عدوئے دیں  
خنجر نہ پھیر چاند سی گردن پہ رحم کر  
ابا کو چھوڑ دے مرے بچپن پہ رحم کر  

[83](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/04/83)

زخموں سے چور چور ہے زہرا کا یادگار  
جس چھاتی پر میں سوتی تھی اس پر ہے تو سوار  
بابا کے حلق پر نہ پھرا اب چھری کی دھار  
بدلے پدر کے سر کو مرے تن سے تو اتار  
سید پہ تشنہ لب پہ ستم اس قدر نہ کر  
پوتی ہوں فاطمہ کی مجھے بے پدر نہ کر  

[84](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/04/84)

رو کر بیاں یہ کرتی تھی وہ سوختہ جگر  
دے کر دہائی اہل حرم پیٹتے تھے سر  
کرتا تھا ذبح شہ کو وہاں شمر بد گہر  
فرماتے تھے یہ شاہ کہ پیاسا ہوں رحم کر  
پانی دیا نہ ہائے نبی کے نواسے کو  
جلاد ذبح کرنے لگا بھوکے پیاسے کو  

[85](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/04/85)

آخر سر امام امم تن سے کٹ گیا  
چلا کے فاطمہ نے یہ زینب کو دی صدا  
میداں سے جلد لے کے سکینہ کو گھر میں جا  
بے جرم کٹ گیا ترے ماں جائے کا گلا  
مارا بظلم شمر نے پیاسے کو جان سے  
میں لٹ گئی حسین سدھارے جہان سے  

[86](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/04/86)

بس اے انیسؔ بزم میں ہے نالہ و فغاں  
پوچھ ان کے دل سے جو ہیں سخن فہم نکتہ داں  
حق ہے سنا نہیں کبھی اس حسن کا بیاں  
گویا کہ یہ خلیق کی ہے سر بہ سر زباں  
سچ ہے کہ اس زباں کو کوئی جانتا نہیں  
جو جانتا ہے اور کو وہ مانتا نہیں  

### بخدا فارسِ میدانِ تہور تھا حُرؔ

https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/05

[1](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/05/1)

بخدا فارسِ میدانِ تہور تھا حُرؔ  
ایک دو لاکھ سواروں میں بہادر تھا حُرؔ  
نارِ دوزخ سے ابوذرؔ کی طرح حُر تھا حُرؔ  
گوہرِ تاجِ سرِ عرش ہو، وہ دُر تھا حُرؔ  
ڈھونڈھ لی راہِ خدا کام بھی کیا نیک ہوا  
پاک طینت تھی تو انجام بھی کیا نیک ہوا  

[2](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/05/2)

واہ رے طالعِ بیدار، رہے عزت و جاہ  
حُرؔ پہ کیا فضلِ خدا ہو گیا، اللہ اللہ  
پیشوائی کو گئے آپ، شہِ عرش پناہ  
خضرِ قسمت نے بتا دی اسے فردوس کی راہ  
مدتوں دور رہے جو وہ قریب ایسا ہو  
بخت ایسے ہوں، اگر ہو تو نصیب ایسا ہو  

[3](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/05/3)

نار سے نور کی جانب اسے لائی تقدیر  
ابھی ذرہ تھا ابھی ہو گیا خورشیدِ منیر  
شافعِ حشر نے خوش ہو کے بحل کی تقصیر  
تکیۂ زانوئے شبیرؔ ملا وقتِ اخیر  
اوج و اقبال و حشم فوجِ خدا میں پایا  
جب ہوا خاک تو گھر خاکِ شفا میں پایا  

[4](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/05/4)

اللہ اللہ حرِؔ صفدر و غازی کا نصیب  
جانِ محبوبِ الٰہی جسے فرمائے حبیب  
ہجر میں لطف ملاقات کا دوری میں قریب  
وہی کام آتے ہیں محسن کے، جو ہوتے ہیں نجیب  
صدقے ہو جائے اسے عشقِ ولی کہتے ہیں  
اس کو دنیا میں سعیدِ ازلی کہتے ہیں  

[5](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/05/5)

آیا کس شوق سے کعبے کی طرف چھوڑ کے دَیر  
کوئی حضرت کا یگانہ بھی نہ سمجھا اسے غیر  
حق نے لکھ دی تھی جو تقدیر میں فردوس کی سیر  
فتنہ و شر سے بچا، ہو گیا انجام بخیر  
ذکرِ خیر اس کے موے پر بھی ہوئے جاتے ہیں  
عملِ نیک ہر اک وقت میں کام آتے ہیں  

[6](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/05/6)

کفر کی راہ سے کارہ تھا، جو وہ نیک طریق  
کس بشاشت سے ہوا، رہبرِ ایماں کا رفیق  
تھے تو لاکھوں، پہ کسی کو بھی ہوئی یہ توفیق  
خُلق طینت میں ہے جس کے وہی ہوتے ہیں خلیق  
اوج دیندار کو، بے دیں کو سدا پستی ہے  
اصل جس تیغ کی اچھی وہی کستی ہے  

[7](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/05/7)

کیوں نہ بالیدہ ہو اس کا چمنِ جاہ و جلال  
جس کو سر سبز کرے خود اسد اللہ کا لال  
ہو گیا فاطمہؔ کے باغ میں آتے ہی نہال  
وہ ثمر پائے کہ پہونچے نہ جہاں دستِ خیال  
کِھِل گیا غنچۂ دل عذر جو منظور ہوئے  
صورتِ برگِ خزاں دیدہ، گنہ دور ہوئے  

[8](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/05/8)

حُرؔ کہاں، اور کہاں احمدِؔ مرسل کا خلف  
بخت نے دَیر سے پہونچا دیا کعبے کی طرف  
دل صفا ہو گیا سینے میں تو پائے یہ شرف  
جب کہ آنکھیں ہوئی حق بیں، تو ملا درِّ نجف  
نیک جو امر ہیں، دل پر وہی ٹھن جاتے ہیں  
جب خدا چاہے تو بگڑے ہوئے بن جاتے ہیں  

[9](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/05/9)

وصفِ حُر میں ہے زباں معترفِ عجز و قصور  
آمد آمد کی بہادر کا، سنو اب مذکور  
جب ہوئی مستعدِ جنگ، سپاہِ مقہور  
مہر افلاک امامت نے کیا رن میں ظہور  
غل ہوا جنگ کو، اللہ کے پیارے نکلے  
اے فلک دیکھ، زمیں پر بھی ستارے نکلے  

[10](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/05/10)

کیا کہوں شانِ جوانانِ جنودِ اللہ  
کوئی ہم طلعتِ خورشید، کوئی غیرتِ ماہ  
باندھی شیروں نے صفِ جنگ میانِ جنگاہ  
چمنِ خُلد سے کرنے لگیں حوریں بھی نگاہ  
واں لعینوں نے درِ ظلم و ستم کھول دیا  
بڑھ کے عباسؔ نے یاں سبز علم کھول دیا  

[11](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/05/11)

ہو گئے سرخ شجاعت سے رخِ آلِ نبیؐ  
آئی ٹھنڈی جو ہوا بھول گئے تشنہ لبی  
رن میں کڑکا ہوا، بجنے لگے باجے عربی  
یکہ تازوں نے کیا شورِ مبارز طلبی  
اک گھٹا چھا گئی ڈھالوں سے سیہ کاروں کی  
برق ہر صف میں چمکنے لگی تلواروں کی  

[12](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/05/12)

برچھیاں تول کے ہر غول سے خوں خوار بڑھے  
نیزے ہاتھوں میں سنبھالے ہوئے اسوار بڑھے  
تیر جوڑے ہوئے چلوں میں، کماں دار بڑھے  
بولے شہ یاں سے ابھی کوئی نہ زنہار بڑھے  
اسدِ حق کے گھرانے کا یہ دستور نہیں  
میں نبی زادہ ہوں سبقت مجھے منظور نہیں  

[13](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/05/13)

یہ سخن سن کے مخاطب ہوئے اعدا سے امام  
اے سپاہِ عرب و روم و رے و کوفہ و شام  
تم پہ کرتا ہے حسینؔ آخری حجت کو تمام  
پسرِ مصحفِ ناطق ہوں سنو میرا کلام  
سخنِ حق کی طرف کانوں کو مصروف کرو  
شو باجوں کا مناسب ہو تو موقوف کرو  

[14](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/05/14)

یہ صدا سنتے ہی خود رک گیا، قرنا کا خروش  
تھم گیا، طبلِ وغا کی بھی وہ آواز کا جوش  
ہو گیا جوڑ کے ہاتھوں کو، جلاجل خاموش  
کیا بجاتے کہ بجا تھے نہ کسی شخص کے ہوش  
چھیڑنا ان کو سرودوں کا بھی ناساز ہوا  
رعب فرزند نبیؐ سرمۂ آواز ہوا  

[15](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/05/15)

کم ہوا غلغلۂ فوج ستم جب اک بار  
یوں گہر بار ہوئے شہ کے لبِ گوہر بار  
صف کشی کس پہ ہے، یہ اے سپہِ ناہنجار  
قتل سادات کی، لشکر میں یہ کیسی ہے پکار  
وطن آواروں پہ، یہ قرق ہے کیوں پانی کا  
کیا زمانے میں یہی طور ہے مہمانی کا  

[16](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/05/16)

مجھ کو لڑنا نہیں منظور، یہ کیا کرتے ہو  
تیر جوڑے ہیں جو مجھ پر تو خطا کرتے ہو  
کیوں نبی زادے پہ غربت میں جفا کرتے ہو  
دیکھو اچھا نہیں یہ ظلم، برا کرتے ہو  
شمع ایماں ہوں، اگر سر مرا کٹ جائے گا  
یہ مرقعِ ابھی اک دم میں الٹ جائے گا  

[17](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/05/17)

میں ہوں سردارِ شبابِ چمنِ خلد بریں  
میں ہوں خالق کی قسم دوشِ محمد کا مکیں  
میں ہوں انگشتر پیغمبر خاتم کا نگیں  
مجھ سے روشن ہے فلک مجھے سے منور ہے زمیں  
ابھی نظروں سے نہاں نور جو میرا ہو جائے  
محفلِ عالمِ امکاں میں اندھیرا ہو جائے  

[18](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/05/18)

قلزم عز و شرف کا درِ شہوار ہوں میں  
سب جہاں زیرِ نگیں ہے وہ جہاندار ہوں میں  
آج گو مصلحتاً، بیکس و ناچار ہوں  
ورثۂِ احمدِ مختار کا، مختار ہوں میں  
بخدا دولتِ ایماں اسی دربار میں ہے  
سب بزرگوں کا تبرک مری سرکار میں ہے  

[19](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/05/19)

یہ قبا کس کی ہے بتلاؤ یہ کس کی دستار  
یہ زرہ کس کی ہے، پہنے ہوں جو میں سینہ فگار  
بر میں کس کا ہے یہ چار آئینۂ جوہر دار  
کس کا رہوار ہے یہ آج میں جس پر ہوں سوار  
کس کا یہ خود ہے، یہ تیغِ دوسر کس کی ہے  
کس جری کی یہ کماں ہے، یہ سپر کی کی ہے  

[20](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/05/20)

تنگ آئے گا تو رکنے کا نہیں پھر شبیرؔ  
ایک حملے میں فنا ہوں گے یہ دو لاکھ شریر  
چل سکیں گے نہ تبر مجھ پہ، نہ تلوار نہ تیر  
کاٹ جائے گی گلے سب کے یہ برّاں شمشیر  
شیر ہوں لختِ دل غالبِ ہر غالب ہوں  
میں جگر بند علیؔ ابنِ ابی طالبؔ ہوں  

[21](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/05/21)

مجھ کو ہوتا نہ اگر بخششِ امت کا خیال  
روک لیتا مجھے رستہ میں، یہ حر کی تھی مجال  
تھام سکتا تھا، لجامِ فرسِ برق مثال  
پوچھ لو دیکھا ہے اس نے، مرے شیروں کا جلال  
گفتگو میں سپر اس کی جو نہ ہم، ہو جاتے  
ہاتھ اِک وار میں، پہونچوں سے قلم ہو جاتے  

[22](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/05/22)

غیظ سے ہاتھ چباتے تھے علیؔ کے دلدار  
نیمچے تولتے تھے عون و محمد ہر بار  
اگلی پڑتی تھی جگر بند حسنؔ کی تلوار  
میں نے جب سر کی قسم دی تو رکے وہ جرار  
چلتی تلوار تو جنگل تہ و بالا ہوتا  
پھر نہ حُرؔ خلق میں ہوتا نہ رسالہ ہوتا  

[23](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/05/23)

تھا یہ بپھرا ہوا عباسؔ مرا شیر جواں  
سینۂ حُرؔ پہ رکھے دیتا تھا، نیزے کی سناں  
میں یہ کرتا تھا اشارہ کہ، نہ اے بھائی جاں  
رحم لازم ہے ہمیں، ہم ہیں امامِ دو جہاں  
کچھ تردد نہیں، سر تن سے اتارا جائے  
کوئی بندہ نہ مرے ہاتھ سے مارا جائے  

[24](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/05/24)

گرچہ یہ امر نہیں، اہل سخا کے شایاں  
کہ کسی شخص کو کچھ دے کے کرے سب پہ عیاں  
پوچھ لو حرؔ تو ہے موجود، عیاں راچہ بیاں  
اسی جنگل میں، مع فوج تھا، یہ تشنہ دہاں  
شور تھا آج، چلیں جسم سے جانیں سب کی  
منہ کے باہر نکل آئی تھیں زبانیں سب کی  

[25](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/05/25)

زیست ہر شے کی ہے، پانی سے، شجر ہو کہ بشر  
مجھ سے دیکھا نہ گیا، میں تو سخی کا ہوں پسر  
میں نے عباسؔ دلاور سے کہا، گھبرا کر  
مشکوں والے ہیں کہاں، اونٹ ہیں پانی کے کدھر  
کرم ساقیٔ کوثر کو دکھا دو بھائی  
جتنا پانی ہے وہ پیاسوں کو پلا دو بھائی  

[26](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/05/26)

رہ نہ جائے کوئی گھوڑا کوئی ناقہ بے آب  
چھاگلیں جلد منگاؤ، مرا دل ہے بے تاب  
سقے مشکیزوں کا منہ کھول کے آ پہونچے شتاب  
متوجہ ہوا میں خود کہ، وہ تھا، کارِ ثواب  
چین آیا نہ مجھے، بے انہیں آرام دیئے  
تھا جو اک جام کا پیاسا، اسے دو جام دیئے  

[27](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/05/27)

تھی یہی فصل یہی دھوپ یہی گرم ہوا  
ٹھنڈے پانی پہ گرے پڑتے تھے، حُرؔ کے رفقا  
تشنہ کاموں کا یہ مجمع تھا کہ ملتی نہ تھی جا  
سقے بھر بھر کے کٹوروں کو یہ دیتے تھے صدا  
بھائیو آؤ، جو پانی کی طلب گاری ہے  
چشمۂ فیضِ حسینؔ ابنِ علیؔ جاری ہے  

[28](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/05/28)

آبِ شیریں کا جو دریا ہوا جنگل میں رواں  
فرس و اشتر، و قاطر نہ رہے تشنہ دہاں  
شکر کرنے لگے تر ہو گئی، ہر خشک زباں  
پانی پی پی کے دعائیں مجھے دیتے تھے جواں  
شور تھا ابنِ یداللہ نے جاں بخشی کی  
دین و دنیا کے شہنشاہ نے جاں بخشی کی  

[29](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/05/29)

ایک دن وہ تھا اور اک دن یہ ہے، اللہ اللہ  
کہ اسی طرح، ہمیں پیاس میں، پانی کی ہے چاہ  
چشم امید ہو کیا، سب نے پھرالی ہے نگاہ  
کوئی اک جام بھی بھر کر ہمیں دیتا نہیں آہ  
ہر مسلماں پہ نبیؐ زادے کا حق ہوتا ہے  
بچے روتے ہیں تو سینہ مرا شق ہوتا ہے  

[30](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/05/30)

کئی معصوم ہیں کمسن جو موئے جاتے ہیں  
دم اکھڑتا ہے مرا جب انہیں غش آتے ہیں  
پانی پانی جو وہ کہتے ہیں تو شرماتے ہیں  
پاس دریا ہے پہ اک بوند نہیں پاتے ہیں  
سچ ہے غربت کی عجب شام و سحر ہوتی ہے  
تیسرا دن ہے، کہ فاقوں میں بسر ہوتی ہے  

[31](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/05/31)

شہ کہ مظلومی پہ گریاں ہوئی ظالم کی سپاہ  
عمرِ سعدؔ نے کی، مڑ کے رخِ حُرؔ پہ نگاہ  
بولا وہ اشہد باللہ، بجا کہتے ہیں شاہ  
محسن و منعم و آقا ہے مرا یہ ذی جاہ  
اِن کے احسان کا کیوں کر کوئی منکر ہو جائے  
سخن حق میں جو شک لائے وہ کافر ہو جائے  

[32](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/05/32)

ایک میں کیا ہوں، زمانے پہ ہے احساں اِن کا  
ابرِ رحمت ہیں خطا پوش ہے داماں، اِن کا  
خشک و تر پر ہے کرم، خلق میں، یکساں ان کا  
ہے خوشا حال جو غربت میں ہو مہماں ان کا  
جنّتی ہے جسے حاصل یہ شرف ہوجائے  
جو ادھر ہو گا خدا اس کی طرف ہو جائے  

[33](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/05/33)

یہ ابھی ہاتھ اٹھا کر جو دعا فرمائیں  
جتنے عالم کے گنہگار ہیں بخشے جائیں  
حق سے جس شے کے طلب گار ہوں، فوراً پائیں  
جامِ کوثر یہیں فردوس سے حوریں لائیں  
مثلِ خورشید ہے روشن وہ شرف ان کا ہے  
یہ وہ بندے ہیں، کہ اللہ پہ حق جن کا ہے  

[34](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/05/34)

ان سے قطرہ کوئی مانگے تو گہر دیتے ہیں  
ہیں سخی ابنِ سخی بات پہ سر دیتے ہیں  
پیٹ سائل کا یہ فاقوں میں بھی بھر دیتے ہیں  
یاں تور زر دیتے ہیں، فردوس میں گھر دیتے ہیں  
آس مجرم کی، گنہ گار کی امید ہیں یہ  
ذرہ پرور جنہیں کہتے ہیں، وہ خورشید ہیں یہ  

[35](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/05/35)

حُرؔ سے گھبرا کے یہ بولا عمرِؔ سعدِ شریر  
یہ تو ہے صاف طرفداریِٔ شہ کی تقریر  
اپنے حاکم کا نہ کچھ ذکر نہ تعریفِ امیر  
اللہ اللہ یہ اوصاف، یہ مدحِ شبیر  
سن چکا ہوں میں، کہ مضطر ہے کئی راتوں سے  
الفتِ شاہ ٹپکتی ہے تری باتوں سے  

[36](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/05/36)

نہ وہ آنکھیں، نہ وہ چتون، نہ وہ تیور، نہ مزاج  
سیدھی باتوں میں بگڑنا یہ نیا طور ہے آج  
تخت بخشا ہے محمدؐ کے نواسے نے کہ تاج  
جن کو سمجھا ہے غنی دل میں، وہ خود ہیں محتاج  
کون سا باغ تجھے شاہ نے دکھلایا ہے  
کہیں کوثر کے تو چھینٹوں میں نہیں آیا ہے  

[37](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/05/37)

کیا کسی حور کا، دکھلا دیا، حضرت نے جمال  
ملک گیا سایۂ طوبیٰ کہ جو ایسا ہے نہال  
قصرِ یاقوت میں پہونچا، جو ترا رنگ ہے لال  
کون سے میوۂ شیریں پہ ٹپکتی ہے رال  
دفعتہً حقِّ نمک کو بھی فراموش کیا  
کیا تجھے بادۂ تسنیم نے بے ہوش کیا  

[38](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/05/38)

میں جہاں دیدہ ہوں، سب مجھکو خبر ہے تیری  
قرّۃالعین محمدؐ پہ نظر ہے تیری  
ہونٹ بھی خشک ہیں اور چشم بھی تر ہے تیری  
جسم خاکی ہے اِدھر، جان اُدھر ہے تیری  
راہ میں کچھ جو سلوک اور نوازش کی ہے  
تو نے فرزندِ ید اللہ سے سازش کی ہے  

[39](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/05/39)

خیر مخفی نہ رہے گا یہ قصور اور فتور  
لکھیں گے عہدۂ اخبار پہ جو ہیں مامور  
حاکمِ شام ہے جابر، وہ سزا دے گا ضرور  
گر تجھے دار پہ کھینچے، تو کچھ اس سے نہیں دور  
سب تری قوم کے سر تن سے جدا ہوئیں گے  
زن و فرزند، گرفتارِ بلا ہوئیں گے  

[40](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/05/40)

نفع اس امر میں جس میں میں ہو مردم کا ضرر  
آنکھیں نکلیں گی، محبت سے جو دیکھے گا اُدھر  
شجرِ قامتِ سرور پہ، جو ڈالے گا نظر  
سر چڑھے گا ترا برچھی پہ، یہ ہے اس کا ثمر  
الفتِ زلف سے بھی پیچ میں تو آئے گا  
خال رخ دیکھا، تو گھر خانصے لگ جائے گا  

[41](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/05/41)

بدرِ پیشانیٔ سرور کا ہے جو سر میں خیال  
تو اسی ماہ میں نقصاں ترا ہوئے گا کمال  
سب میں ہو جائے گا انگشت نما شکل ہلال  
تیر و شمشیر ہے، ابرو کی محبت کا مآل  
عشق رخسار میں، رتبہ ترا گھٹ جائے گا  
منہ پہ کہتا ہوں کہ چہرہ ابھی کٹ جائے گا  

[42](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/05/42)

خوف کس بات کا پیاسوں سے یہ تھرّانا کیا  
لب پہ ہر مرتبہ، بیکس کی ثنا لانا کیا  
ننگ کی بات ہے دشمن کی طرف جانا کیا  
ہو نبی یا کہ وصی جنگ میں شرمانا کیا  
ابھی لے جائیں جو شبیر کا سر ہاتھ لگے  
خلد ہم اس کو سمجھتے ہیں کہ زر ہاتھ لگے  

[43](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/05/43)

حرؔ پکارا کہ زباں بند کراو نا ہموار  
قابلِ لعن ہے تو اور وہ تیرا سردار  
ابن زہراؔ ہے جگر بند رسولِ مختار  
میرا کیا منہ جو کروں مدحِ امامِ ابرار  
اک زمانہ صفِت آلِ عبا کرتا ہے  
آپ قرآں میں خدا ان کی ثنا کرتا ہے  

[44](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/05/44)

وصف ایسوں کا زباں پر کوئی کیونکر لائے  
تین سو آئے ہوں، تعریف میں جن کی، آئے  
کسی انساں نے یہ دنیا میں ہیں رتبے پائے  
اپنا محبوب و ولی جس کو خدا فرمائے  
الفتِ آل میں مریئے تو خوش اقبالی ہے  
سنگ ہے ان کی محبت سے جو دل خالی ہے  

[45](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/05/45)

اسفلوں سے ہے محبت تجھے اور سفلہ مزاج  
خاک پا اس کی ہوں میں ہے جو سرِ عرش کا تاج  
جس کو کاندھے پہ محمدؔ کے ملی ہے معراج  
میرے آقا سا سخی کون ہے کونین میں آج  
کیوں ترے سامنے مکروں کو نہیں بخشا ہے  
ہاں، مجھے شاہ نے، فردوس بریں بخشا ہے  

[46](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/05/46)

باغ جو مجھ کو دکھایا اسے کیا جانے تو  
راحتِ روح ہے، جس باغ کے ہر پھول کو بو  
مجھ کو اللہ نے بخشیں ہیں وہ حوریں خوش رو  
کہ جنہیں تیرے فرشتوں نے نہ دیکھا ہو کبھو  
نام کوثر کا نہ لے تو مجھے جوش آتا ہے  
انہیں چھینٹوں سے تو بیہوش کو ہوش آتا ہے  

[47](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/05/47)

عزتِ دیں شرفِ کون و مکاں ہیں شبیرؔ  
جانِ زہراؔ ہیں محمدؐ کی زباں ہیں شبیرؔ  
سنگ پانی ہو، وہ اعجاز بیاں ہیں شبیرؔ  
جان کیوں ہو نہ ادھر، جانِ جہاں ہیں شبیرؔ  
مہرباں ہوں تو ابھی عقدہ کشائی ہووے  
وہ نہ بخشیں تو خدا تک نہ رسائی ہووے  

[48](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/05/48)

کیا میں اور کیا وہ ریاست مری، کیا میرے عیال  
جبکہ آفت میں پھنسے احمدِ مختار کی آل  
داں کی املاک و زراعت کا ہو کیا مجھ کو خیال  
یاں ہوئی جاتی ہے سادات کی کھیتی پامال  
گھر کا اب دھیان نہ بچوں کا الم ہے مجھ کو  
خانہ بربادیِٔ شبیرؔ کا غم ہے مجھ کو  

[49](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/05/49)

دولتِ حاکم دوں پر ہے ترا دار و مدار  
دارِ دنیا سے تعلق نہیں رکھتے، دیں دار  
کیا مجھے دار پہ کھنیچے گا، وہ ظالم غدار  
خوابِ غفلت ہے اسے او مرے طالع بے دار  
کسی سردار نے یہ اوج نہ پایا ہوگا  
دارِ طوبیٰ کا مرے فرق پہ سایہ ہوگا  

[50](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/05/50)

ہے سر افراز سدا عاشق پیشانیِٔ شاہ  
سجدے کیجے کہ ہے بیت ابروؤں کی بیت اللہ  
عشق آنکھوں کا ہے مردم کے لئے نورِ نگاہ  
ہے وہ یوسف جسے ہو مصحفِ رخسار کی چاہ  
عاشق لب کو خدا لعل و گہر دیتا ہے  
وہ دہن، چشمۂ کوثر کی خبر دیتا ہے  

[51](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/05/51)

خالِ رخسار نہیںِ گوئے سعادت ہے یہ  
مجھ سے مجرم کے لئے مہر شفاعت ہے یہ  
ہوں جو آشفتۂ گیسو تو عبارت ہے یہ  
بخدا سلسلۂ بخششِ امت ہے یہ  
شب معراجِ رسولِ دو جہاں سمجھا ہوں  
اس کے ہر تار کو میں رشتۂ جاں سمجھا ہوں  

[52](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/05/52)

وصفِ دنداں میں زبان جس کی رہے گوہر بار  
موتیوں سے دہن اس شخص کا بھر دے غفار  
شوق میں سیب ذقن کے جسے آئے نہ قرار  
حوریں غرفے سے دکھائیں اسے رنگِ رخسار  
دم بہ دم چاہنے والوں کے لہو گھٹتے ہیں  
یہ گلا وہ ہے گلے، جس کے لئے کٹتے ہیں  

[53](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/05/53)

صدقے اُس سینے پہ ہیں، عاشقِ صافی سینا  
خاک اس دل پہ جو اس سینے سے رکھے کینا  
حق نما ہے تو جہاں میں ہے یہی آئینا  
اس کا عاشق ہو تو، ہوں کور کی آنکھیں بینا  
فیض پاتا ہے وہ دل جس میں ولا ہوتی ہے  
چشم کو اس کی زیارت سے جلا ہوتی ہے  

[54](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/05/54)

پاؤں یہ وہ ہیں کہ ان پاؤں کو جو ہاتھ لگائے  
تو سر دست سر افرازیِٔ کونین وہ پائے  
گردِ نعلین مبارک، جو اثر اپنا دکھائے  
توتیا ہوئے خجل، کحلِ جواہر شرمائے  
صدقے کر دیں گے سر ان پاؤں پہ ہم ایسے ہیں  
دوشِ احمدؔ پہ رہے جو، یہ قدم ایسے ہیں  

[55](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/05/55)

عملِ خیر سے بہکا نہ مجھے او ابلیس  
یہی کونین کا مالک ہے یہی راس و رئیس  
کیا مجھے دے گا ترا حاکم ملعون و خسیس  
کچھ تردد نہیں کہہ دے کہ لکھے پرچہ نویس  
ہاں سوئے ابنِ شہنشاہ عرب جاتا ہوں  
لے ستمگر، جو نہ جاتا تھا تو اب جاتا ہوں  

[56](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/05/56)

کہہ کے ڈاب سے غازی نے نکالی تلوار  
سرخ آنکھیں ہوئی ابرو پہ بل آئے اک بار  
تن کے دیکھا طرفِ فوجِ امامِ ابرار  
پاؤں رکھنے لگا بن بن کے زمیں پر رہوار  
غل ہوا سیدِ والا کا ولی جاتا ہے  
لو طرف دار حسینؔ ابنِ علیؔ جاتا ہے  

[57](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/05/57)

حرؔ نے نعرہ کیا، یا حیدرؔ صفدر مددے  
وقتِ امداد ہے، یا فاتحِ خیبر مددے  
زوجِ زہراؔ مددے، نفس پیمبر مددے  
بندۂ آل ہوں، یا خواجۂ قنبر مددے  
تنِ تنہا ہے غلام، اور بہت اظلم ہیں  
آئی آواز کہ اے حرؔ ترے حامی ہم ہیں  

[58](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/05/58)

مل گئی راہِ خدا واہ رے اقبال ترا  
پاک عصیاں سے ہوا نامۂ اعمال ترا  
جرمِ ماضی ہوئے سب عفو خوشا حال ترا  
جلد جا جلد کہ شائق ہے مرا لال ترا  
مرد ہے جس کی یہ ہمت یہ ارادہ ہووے  
ہاں بہادر تری توفیق زیادہ ہووے  

[59](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/05/59)

منتظر ہیں ترے سب فوجِ حسینی کے جواں  
درِ فردوس پہ مشتاق کھڑا ہے رضواں  
راہ تکتی ہیں تری دیر سے حورانِ جناں  
شور کوثر پہ ہے شبیرؔ کا مہماں ہے کہاں  
فوجِ قدسی تری ہمت کی ثنا کرتی ہے  
فاطمہؔ آج ترے حق میں دعا کرتی ہے  

[60](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/05/60)

تو بہشتی ہے، یہ کافر ہیں کنشتی اے حرؔ  
مٹ گئی سب ترے اعمال کی زشتی اے حرؔ  
دیکھ اب صورتِ حورانِ بہشتی اے حرؔ  
کس تلاطم میں بچی ہے تری کشتی اے حرؔ  
غضب اللہ کا شبیرؔ کی ناراضی ہے  
پنجتن تجھ سے ہیں راضی تو خدا راضی ہے  

[61](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/05/61)

اور بالیدہ ہوا سن کے یہ مژدہ وہ حزبر  
دل بیتاب پکارا کہ نہیں طاقتِ صبر  
اب تو اس فوج میں اک دم کی بھی تعویق ہے جبر  
قعرِ دوزخ ہے، مسلماں کے لئے صحبت گبر  
ہاں اٹھا باگ، جو شیدائے شہِ عالی ہے  
فوج اللہ و نبی میں تری جا خالی ہے  

[62](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/05/62)

سن کے یہ باگ جو لی، اسپ سبک تاز اڑا  
ڈر سے رنگِ عمرِ شعبدہ پرواز اڑا  
کیا اڑا رخش، کہ طاؤس بصد ناز اڑا  
دی پرندوں نے یہ آواز کہ شہباز اڑا  
باغِ زہراؔ میں، نسیم سحری جاتی ہے  
غل تھا دربار سلیماں میں پری جاتی ہے  

[63](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/05/63)

کیا دو تین رسالوں نے تعاقب ہر چند  
حرؔ کا ہاتھ آنا تو کیسا نہ ملی گردِ سمند  
کہتے تھے شرم سے وہ لے کے جو دوڑے تھے کمند  
یہ چھلاوا تھا کہ آندھی، یہ فرس تھا کہ پرند  
کیا سبک سوئے چمن بادِ بہاری پہونچی  
ہم یہیں رہ گئے واں حرؔ کی سواری پہونچی  

[64](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/05/64)

یاں ہوئے علمِ امامت سے شہِ دیں آگاہ  
ہنس کے عباسؔ سے فرمایا کہ اے غیرتِ ماہ  
میرے لشکر کی طرف ہے رخِ حرّ ذی جاہ  
سب سے کہہ دو کہ نہ روکے کوئی اس شخص کی راہ  
جاؤ لینے کو عجب رتبہ شناس آتا ہے  
میرا مہماں، مرا عاشق، مرے پاس آتا ہے  

[65](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/05/65)

ذکر یہ تھا کہ صدا دور سے آئی اِک بار  
الغیاث اے جگر و جانِ رسولِ مختار  
مجرم ایسا ہوں، کہ عصیاں کا نہیں جس کے شمار  
عفو کر عفو کر، اے چشمۂ فیضِ غفار  
پار دریائے خطا سے مری کشتی ہو جائے  
دوزخی بھی ترے صدقے سے بہشتی ہو جائے  

[66](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/05/66)

کئی روزوں سے تلاطم میں ہوں، اے شاہنشاہ  
مدد اے نوحِ غریباں، مرا بیڑا ہے تباہ  
دست و پا گم ہیں کچھ ایسے کہ نہیں سوجھتی راہ  
شور کرتا ہوں کہ بتلائے کوئی جائے پناہ  
ابرِ رحمت کی طرف جا یہ صدا دیتے ہیں  
سب ترے دامنِ دولت کا پتا دیتے ہیں  

[67](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/05/67)

ترے دامن کے نثار اے مرے آقائے جلیل  
رحم کر رحم کہ شرمندہ ہے یہ عبد ذلیل  
دل خنک ہوئے جو نکلے کوئی کوثر کی سبیل  
جان آ جائے جو مولائے دو عالم ہوں کفیل  
نہ وزیروں میں یہ ہمت نہ شہنشاہ میں ہے  
سب مرے درد کا درماں، تری درگاہ میں ہے  

[68](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/05/68)

خلق میں آپ کے والد کا کرم ہے مشہور  
بات میں بخش دیئے سینکڑوں بندوں کے قصور  
مجھ سے ہیں باگ پکڑ لینے پہ آزردہ حضور  
بخش دیجے تو کرم سے نہیں کچھ آپ کے دور  
یہ تو کیونکر کہوں، میں لائقِ تعزیر نہیں  
مگر اسود سے زیادہ مری تقصیر نہیں  

[69](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/05/69)

اے مددگار و معین الضعفا، ادرکنی  
اے خبر گیر گروہ غربا، ادرکنی  
پاؤں لغزش میں ہیں اے دست خدا ادرکنی  
ہاتھ باندھے ہوں میں اے عقدہ کشا، ادرکنی  
دیجئے حر کو سند نار سے آزادی کی  
آیئے جلد خبر لیجئے فریادی کی  

[70](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/05/70)

مرے اعمال میں ہر چند سراسر ہے بدی  
ہوں گہنگارِ خدائے ازلی و ابدی  
آپ ہیں مالکِ سرکارِ جنابِ احدی  
اے خداوندِ جہاں خُذ بیدی خُذ بیدی  
جو تہی دست ہیں تکتے ہیں شہنشاہ کا ہاتھ  
آپ کا ہاتھ زمانے میں ہے اللہ کا ہاتھ  

[71](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/05/71)

ایک یہ خستہ تن اور درپئے جاں لاکھ حریف  
اے سلیماں کہیں پامال نہ ہو مورِ ضعیف  
چھوڑ کر آپ کی سرکار، کہاں جائے نحیف  
کیجئے اب نظر لطف، کہ ہوتا ہے خفیف  
ہوں سرافراز جو اتنا ہی کرم ہو جائے  
نام قنبرؔ کے غلاموں میں رقم ہو جائے  

[72](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/05/72)

استغاثہ یہ کیا حُرؔ نے جو بادیدۂ نم  
آ گیا جوش میں اللہ کا دریائے کرم  
خود بڑھا ہاتھوں کو پھیلائے ہوئے شہنشاہِ امم  
حرُ کو یہ ہاتفِ غیبی نے صدا دی اس دم  
شکر کر سبط رسول الثقلین آتے ہیں  
لے بہادر ترے لینے کو حسین آتے ہیں  

[73](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/05/73)

حرُ نے دیکھا کہ چلے آتے ہیں پیدل شبیرؔ  
دوڑ کر چوم لئے پائے شہ عرشِ سریر  
شہ نے چھاتی سے لگا کر کہا اے با توقیر  
میں نے بخشی، مرے اللہ نے بخشی تقصیر  
میں رضا مند ہوں کس واسطے مضطر ہے تو  
مجھ کو عباسؔ دلاور کے برابر ہے تو  

[74](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/05/74)

کس کے کیوں باندھا ہے ہاتھوں کو میں ہوتا ہوں خجل  
سہل کر دیں اسے گر اور کوئی ہو مشکل  
بھائی آ، مجھ سے بغل گیر تو ہو، کھول کے دل  
غافر و راحم و تواب ہے ربِ عادل  
جرم سب محو کئے حق نے ترے دفتر سے  
آج پیدا ہوا گویا شکمِ مادر سے  

[75](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/05/75)

حرؔ پکارا بابیِ انت و امی یا شاہ  
قابل عفو نہ تھے بندۂ آثم کے گناہ  
مجھ سے گمراہ کو اک آن میں مل جائے یہ راہ  
سب ہے صدقہ انہیں قدموں کا خدا ہے آگاہ  
مہر ذرے پہ جو ہو نیرِ تاباں ہو جائے  
آپ جس مور کو چاہیں وہ سلیماں ہو جائے  

[76](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/05/76)

کون مقدادؔ تھے سلمانؔ و آباذرؔ تھے کون  
آپ فرمائیں کہ عمارِؔ دلاور تھے کون  
شور عالم میں جو ہے، مالکِؔ اشتر تھے کون  
اے خداوندِ جہاں حضرتِ قنبرؔ تھے کون  
انہیں قدموں کا تصدق تھا کہ ممتاز ہوئے  
اسی سرکار کے خلعت سے سر افراز ہوئے  

[77](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/05/77)

شہ نے فرمایا کہ خالق کی عنایت ہے یہ سب  
دے کسی شخص کو بندے میں یہ مقدور ہے کب  
اس مسبب کی عنایت کے یہ سارے ہیں سبب  
وہی منعم، وہی محسن، وہی رازق، وہی رب  
اپنے کیسے سے نہ دام اور درم دیتے ہیں  
جب وہ خالق ہمیں دیتا ہے تو ہم دیتے ہیں  

[78](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/05/78)

لاکھ ہاتھ اس کے ہیں دینے کے وہ ایسا ہے جواد  
ہم اسے بھولیں تو بھولیں، وہ ہمیں رکھتا ہے یاد  
رزق وہ حوصلۂ حرص سے دیتا ہے زیاد  
شکر کرتے نہیں معبود کا اس پر بھی عباد  
وہ غنی ہے کہ ہے محتاج زمانہ اس کا  
کبھی خالی نہیں ہوتا ہے خزانہ اس کا  

[79](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/05/79)

جس قدر اس سے طلب کیجئے خوشنود ہے وہ  
صاحبِ جود ہے وہاب ہے، محمود ہے وہ  
ہاتھ پھیلائے جو سو بار تو، موجود ہے وہ  
بخش دیتا ہے کہ ہم عبد ہیں، معبود ہے وہ  
پرورش جرم پہ بھی، صبح و مسا ہوتی ہے  
یاں سے ہوتی ہے خطا واں سے عطا ہوتی ہے  

[80](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/05/80)

کہہ کے یہ ساتھ لئے حُرؔ کو چلے شاہِ امم  
ہاتھ میں ہاتھ تھا مہمان کا، اللہ رے کرم  
راس و چپ قاسمؔ و اکبرؔ تھے، زہے شان و حشم  
سر پہ کھولے ہوئے تھے حضرتِ عباس علم  
دورسے اہلِ خطا، تیر جو برساتے تھے  
رفقا سائے میں ڈھالوں کے لئے آتے تھے  

[81](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/05/81)

لائے اس عزت و حرمت سے جو مہماں کو امام  
بولے عباس کمر کھول، اب اے نیک انجام  
شہ نے فرمایا مناسب ہے کوئی دم آرام  
عرض کی حُرؔ نے کمر خلد میں کھولے گا غلام  
فاتحہ پڑھ کے، یہ شمشیر و سپر باندھی ہے  
آج اس عزم پہ خادم نے کمر باندھی ہے  

[82](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/05/82)

ہے بہت شمر و عمر سے مجھے لڑنے کی امنگ  
ایک ہی وار میں دونوں کا کروں گا چورنگ  
لشکرِ شام سے پہیم چلے آتے ہیں، خدنگ  
شاہزادوں کے سپر ہوں، کہ عبادت ہے جنگ  
لیکن ایسا نہ ہو بچہ کوئی بے جاں ہو جائے  
پہلے یہ تازہ غلام آپ پہ قرباں ہو جائے  

[83](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/05/83)

شہ نے فرمایا کہ دشوار ہے فرقت تیری  
مجھکو مر کر بھی نہ بھولے گی محبت تیری  
وا دریغا، ہوئی کچھ ہم سے نہ خدمت تیری  
خیر فردوس میں ہو جائے گی دعوت تیری  
آج رتبہ ترا خیلِ شہدا میں ہوگا  
شب کو تو صحبتِ محبوب خدا میں ہوگا  

[84](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/05/84)

تجھ پہ مخفی نہیں ہفتم سے جو کچھ ہے مرا حال  
راہیں ہر سمت کی روکے ہوئے ہیں اہلِ ضلال  
قحط پانی کا ہے اس دشت میں گندم کا ہے کال  
نانِ جو کا بھی ہے ملنا کسی قریے میں محال  
سب کو ایذا عوضِ آب و غدا ملتی ہے  
دودھ اصغرؔ کو نہ عابدؔ کو دوا ملتی ہے  

[85](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/05/85)

حُرؔ نے رو کر سرِ تسلم جھکایا بہ ادب  
شہ نے رومال رکھا آنکھوں پہ رونے لگے سب  
جب چڑھا گھوڑے پہ وہ عاشقِ سلطانِ عرب  
شاہ بولے کہ عجب دوست چھٹا ہائے غضب  
دم بہ دم یاں سے جو آوازِ بکا جاتی تھی  
گریۂ آلِ محمد کی صدا آتی تھی  

[86](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/05/86)

حُرؔ چلا فوج مخالف پہ اڑا کے توسن  
چوکڑی بھول گئے جس کی تگاپو سے ہرن  
وہ جلال اور وہ شوکت، وہ غضب کی چتون  
ہاتھ میں تیغ، کماں دوش پہ بر میں جوشن  
دوسرے دوش پہ شملے کے جو بل کھاتے تھے  
کاکلِ حور کے سب پیچ کھلے جاتے تھے  

[87](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/05/87)

زور بازو کا نمایاں تھا بھرے شانوں سے  
دستِ فولاد دبا جاتا تھا دستانوں سے  
برچھیوں اڑتا تھا دب دب کے فرس رانوں سے  
آنکھ لڑ جاتی تھی، دریا کے نگہبانوں سے  
خودِ رومی کی، جو ضو، تابہ فلک کھاتے تھے  
چشمِ خورشید میں بجلی سی چمک جاتی تھی  

[88](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/05/88)

نیزۂ حُرؔ کی سناں پر نہ ٹھہرتی تھی نگاہ  
تھا یہ ظاہر کہ نکالے ہے زباں مارِ سیاہ  
قبضۂ تیغ پہ رکھے تھی سر عجز پناہ  
آفتابی وہ سپر، جس سے خجل گردۂ ماہ  
قدر اندازوں کو جانوں کے ادھر لالے تھے  
تیر ترکش میں نہ تھے آگ کے پرکالے تھے  

[89](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/05/89)

رن میں جب شہ کی طرف سے حُرِؔ دیں دار آیا  
کس بشاشت سے اڑاتا ہوا رہوار آیا  
غل ہوا سید مظلوم کا، غم خوار آیا  
جاں نثارِ خلفِ حیدرِ کرّار آیا  
تتّق نور سرِ راہ نظر آتا ہے  
جلوۂ قدرتِ اللہ نظر آتا ہے  

[90](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/05/90)

آنے جانے کا بہادر کے کروں کیا مذکور  
پہلے کچھ اور ہی جلوہ تھا، پر اب اور ظہور  
اے خوشا رتبہ فیضِ قدمِ پاک حضور  
غل تھا آتا ہے ملک پہنے ہوئے خلعتِ نور  
صحبت اہلِ ولا، دل کو جلا کرتی ہے  
مس کو اک آن مین اِکسیر طلا کرتی ہے  

[91](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/05/91)

واہ کیا فیض ہے، سرکارِ شہِ عالم میں  
ذرۂِ خاک کو خورشید کیا، اک دم میں  
نور یہ حور میں دیکھا، نہ بنی آدم میں  
یہ وہی حُرِؔ جری ہے جو ابھی تھا ہم میں  
تن ہے خوش بو، رخِ گل رنگ تر و تازہ ہے  
خاک نعلینِ مبارک کی عجب غازہ ہے  

[92](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/05/92)

مہر ذرہ ہے جہاں، چہرۂ روشن ایسا  
چاند بھی جس سے کرے کسبِ ضیا، تن ایسا  
حرز ہو، بازوئے داؤد کا، جوشن ایسا  
ہوش پریوں کے اڑے جاتے ہیں توسن ایسا  
گلشنِ دہر میں لو بادِ بہاری آئی  
قاف میں غل ہے، سلیماں کی سواری آئی  

[93](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/05/93)

حُرؔ پکارا کہ بجا کہتے ہو بے شک لاریب  
دامنِ حضرتِ شبیرؔ نے ڈھانپے مرے عیب  
دولتِ دیں سے نہ دامن مرا خالی ہے نہ جیب  
بارک اللہ کی دیتا ہے صدا ہاتفِ غیب  
فیض پا کر پئے شمشیر زنی آیا ہوں  
یاں سے محتاج گیا واں سے غنی آیا ہوں  

[94](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/05/94)

مجھکو خورشید کیا نورِ خدا کی ضو نے  
نور بخشا قمرِ فاطمہؔ کے پرتو نے  
بخت پائے ہیں سکندرؔ کے غلامِ نو نے  
گنج وہ لایا ہوں دیکھا جو نہ تھا خسرو نے  
دَور دَور آج سے میرا ہے، زمانہ میرا  
کبھی خالی نہیں ہونے کا خزانہ میرا  

[95](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/05/95)

رخِ روشن کو مرے تکتے ہو کیا حسرت سے  
مَل کے آیا ہوں منہ اپنا قدمِ حضرت سے  
نور وہ ہے جسے دیکھیں، نظرِ رغبت سے  
وائے وہ لوگ، جو محروم ہیں اس دولت سے  
مجھکو بھی دیکھ کے بیدار نہیں ہوتے ہو  
ہے غضب آنکھیں تو کھولے ہو، مگر سوتے ہو  

[96](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/05/96)

جانِ سلطانِ رسالت کو غنیمت جانو  
پسرِ شاہِ ولایت کو غنیمت جانو  
نورِ خالق کی زیارت کو غنیمت جانو  
قمر برج امامت کو غنیمت جانو  
ساتھ اس کے برکت خلق سے اٹھ جائے گی  
پھر جو ڈھونڈو گے یہ دولت تو نہ ہاتھ آئے گی  

[97](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/05/97)

ایک سید کے مٹا دینے میں ہے کون سا نام  
اس ہوا پر ہو کہ بجھ جائے چراغِ اسلام  
گر ہو دانا تو کہو بد ہے کہ ہے نیک یہ کام  
خوش نما کب ہے وہ تسبیح، نہ ہو جس میں امام  
شکرِ احسانِ جناب احدی کرتے ہیں  
پیشوا سے، کہیں پیرو بھی بدی کرتے ہیں  

[98](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/05/98)

یہ سخن سن کے پکارا پسرِ سعد شریر  
ہاں طرف دارِ شہِ دیں پہ چلیں نیزہ و تیر  
لئے حربوں کو بڑھا فوج کا انبوہِ کثیر  
فاتحہ پڑھ کے جواں مرد نے کھینچی شمشیر  
حُرؔ کا منہ سرخ ہوا، فوجِ ستم زرد ہوئی  
شعلۂ تیغ سے بجلی کی چمک گرد ہوئی  

[99](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/05/99)

رعد تھرا گیا نعرے جو سنے ضیغم کے  
استخواں کانپ گئے زیرِ زمیں رستم کے  
تہ و بالا ہوئیں لشکر کی صفیں جم جم کے  
برقِ شمشیر سے ڈر ڈر کے فرس بھی چمکے  
نوبتِ جنگ نہ آئی تھی کہ دل ٹوٹ گئے  
بیرقیں گر گئیں ہاتھوں سے نشاں چھوٹ گئے  

[100](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/05/100)

چھیڑ کر باگ، فرس کو جو ذرا گرمایا  
غیظ میں آن کے گھوڑا بھی غضب کف لایا  
شیر سا فوجِ مخالف پہ جھپٹ کر آیا  
روند ڈالا اسے دم میں جسے سرکش پایا  
اس کا قاتل تھا جو دشمن شہِ عالی کا تھا  
کاٹ ہر نعل میں شمشیر ہلالی کا تھا  

[101](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/05/101)

حشر برپا تھا کہ تیغِ حُؔرِ ذی جاہ چلی  
آگ برسانے کو بجلی سوئے جنگاہ چلی  
کس کرشمے سے وہ لیلیٰ ظفر، راہ چلی  
گہ تھمی گاہ بڑھ گاہ رکی گاہ چلی  
زخم سینوں کے گریباں کی طرح پھٹتے تھے  
چال کیا تھی کہ ہزاروں کے گلے کٹتے تھے  

[102](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/05/102)

کیں صفیں صاف، مگر منہ کی صفائی نہ گئی  
کج ادائی کو نہ چھوڑا، وہ لڑائی نہ گئی  
کاٹ چھانٹ اور وہ لگاوٹ وہ رُکھائی نہ گئی  
سیکڑوں خون کئے اور کہیں آئی نہ گئی  
شور تھا برق، پئے جلوہ گری نکلی ہے  
جان لینے کو اجل بن کے پری نکلی ہے  

[103](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/05/103)

جس طرف دیدۂ جوہر سے نظر کرتی ہے  
پل نہ گذرے کہ صفیں، زیر و زبر کرتی ہے  
چشم ہر چند کہ پتلی کو، سپر کرتی ہے  
ہے وہ طرار، کہ آنکھوں میں یہ گھر کرتی ہے  
اس کے افسوں سے جو ساحر ہو تو جل جاتا ہے  
سحر پریوں کا اسی طرح سے چل جاتا ہے  

[104](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/05/104)

پھونکے بجلی کو یہ اس آگ کی ہے، پرکالا  
کاٹ جائے تو کبھی لہر نہ لے پھر کالا  
برچھیاں چل گئیں اس پر جسے دیکھا بھالا  
آ گیا دام میں جس شخص پہ ڈورا ڈالا  
اس کے پانی مین کفِ مارِ سیہ گھولا ہے  
باڑھ ہے یا ملک الموت نے منہ کھولا ہے  

[105](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/05/105)

آئی جس غول پہ لاشوں سے زمیں پاٹ گئی  
دست و پا، صدر و کمر، گردن و سر کاٹ گئی  
چاٹ ایسی تھی لہو کی، کہ صفیں چاٹ گئی  
دیکھی تیغوں کی جدھر باڑھ، اسی گھاٹ گئی  
جس پہ جاتی تھی، نہ بے جان لئے پھرتی تھی  
ایک بجلی تھی، مگر لاکھ جگہ گرتی تھی  

[106](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/05/106)

گل نئے پھولے جو برچھی پہ لگا پھل اس کا  
زور دکھلاتا تھا، ہر ضرب میں کس بل، اس  
ڈھیر تھا خاک پہ کاٹا ہوا جنگل، اس کا  
جو بڑھا جنگ میں قصہ ہوا فیصل اس کا  
شور تھا دیکھئے کیوں کر یہ بلا ٹلتی ہے  
اس قدر جلد تو سیفی بھی نہیں چلتی ہے  

[107](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/05/107)

جنگ میں تیغ کو دعویٰ تھا کہ یکتا ہوں میں  
سر اٹھایا تھا یہ گھوڑے نے کہ عنقا ہوں میں  
چرخ کہتا تھا کہ یارب تہ و بالا ہوں میں  
برق کہتی تھی کہ تلوار ہے یہ، یا ہوں میں  
کس میں ہے یہ جو تڑپ زیر فلک میری ہے  
تیغ کرتی تھی اشارہ یہ چمک میری ہے  

[108](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/05/108)

نہ تھمی سنگ سے وہ اور نہ رکی آہن سے  
ہاتھ اڑا لے گئی پہونچوں سے تو سر گردن سے  
نہ اٹھی اس کی کڑی ضرب، کسی جوشن سے  
چل گئی بادِ مخالف جدھر آئی، سن سے  
جوش طوفاں کا دکھا کر وہ خوش اسلوب گئی  
خوں کے دریا میں ہر اک کشتیٔ تن ڈوب گئی  

[109](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/05/109)

کثرتِ جوہرِ ذاتی سے گو وہ جال میں تھی  
پر تڑپ صورتِ ماہی وہی ہر حال میں تھی  
تھی چمک جانے میں بجلی، تو پری چال میں تھی  
کبھی مغفر میں، کبھی سر میں، کبھی ڈھال میں تھی  
کہیں دم لینے کی مہلت تھی نہ بسمل کے لئے  
تھی جگر کے لئے برچھی تو چھری دل کے لئے  

[110](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/05/110)

صید کرنے کو جدھر صورتِ شہباز آئی  
لاکھ تڑپا پہ نہ بے جان لئے باز آئی  
غل ہوا شہپرِ شاہیں کے تلے، قاز آئی  
اڑ گیا طائرِ جاں اور نہ آواز آئی  
گرچہ قبضے میں لئے تھی اسے پر چھوڑ دیا  
تھا زبس صیدِ زبوں، کاٹ کے سر چھوڑ دیا  

[111](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/05/111)

آب نے آتش سوزاں کا اثر دکھلایا  
تاب نے مرگ مفاجات کا گھر، دکھلایا  
باڑھ نے جادۂ صحرائے سقر، دکھلایا  
کھاٹ نے آئینۂِ فتح و ظفر دکھلایا  
تیغ کہتی تھی در فتح کی مفتاح ہوں میں  
قول قبضے کا یہ تھا قابضِ ارواح ہوں میں  

[112](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/05/112)

خم وہ پایا تھا کہ شرمائے ہلالِ مہِ عید  
حُرؔ کے ہاتھ آ گئی تھی گلشنِ جنت کی کلید  
برش ایسی تھی کہ کٹ کٹ گئی سب فوجِ یزید  
جامۂ کفر کے پرزے تھے زہے قطع و برید  
نہ بچا تارِ نفس خلق میں، جینے کے لئے  
چاک زخموں کے فقط رہ گئے سینے کے لئے  

[113](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/05/113)

کئی حملے کئے پیہم جو کمانداروں پر  
چل گئے تیر ملامت کے خطا کاروں پر  
چٹکیاں سب کی دھری رہ گئیں سوفاروں پر  
رخ پھرا تھا کہ گری برق ستم گاروں پر  
جل کے خرمن ہوا یوں خاک کو خوشہ نہ ملا  
کشمکش میں کہیں چھپنے کا بھی گوشہ نہ ملا  

[114](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/05/114)

نیزۂ فوجِ ستمگار تھے دیکھے بھالے  
دم میں اس شیر نیستاں نے قلم کر ڈالے  
گرچہ تھے جان لڑائے ہوئے لڑنے والے  
آفتِ مرگ کو سر سے کوئی کیوں کر ٹالے  
جب سواروں کے پرے جنگ پہ تُل جاتے تھے  
بند سب ناخنِ شمشیر سے کُھل جاتے تھے  

[115](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/05/115)

الف گرز کو کر دیتی تھی ہر ضرب میں، دال  
تھی ئی آمد و رفت اور نئی طرح کی چال  
کہیں برچھی کی اَنی تھی تو کہیں تیر کی بھال  
کہیں تلوار، کہیں خنجرِ برّاں، کہیں ڈھال  
ضرب کو روک کے دشمن کو فنا کرتی تھی  
دم بہ دم فوج ستم گر بھی ثنا کرتی تھی  

[116](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/05/116)

شور تھا آگ ہے تلوار میں یا پانی ہے  
جل بجھی کشتیٔ تن خون میں طوفانی ہے  
ضرب میں فرد ہے یہ زور میں لاثانی ہے  
کہتا تھا حُرؔ یہ فقط قوتِ ایمانی ہے  
زور تھا مجھ میں نہ ایسا، نہ وغا کی طاقت  
سب ہے یہ سبطِ پیمبر کی دعا کی طاقت  

[117](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/05/117)

کہہ کے یہ فوج میں پھر تشنہ جگر ڈوب گیا  
ورطۂ قلزم آفت میں گہر ڈوب گیا  
لشکرِ شام کے بادل میں قمر ڈوب گیا  
کشمکش تھی کہ عرق میں گلِ تر ڈوب گیا  
تھا کبھی شیر سا بپھرا ہوا شمشیروں میں  
کبھی نیزوں کے نیستاں میں کبھی تیروں میں  

[118](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/05/118)

گہ چھپا اور کبھی نکلا وہ مہ برج شرف  
کبھی اس صف میں در آیا کبھی روندی وہ صف  
کبھی دریا کے کنارے کبھی صحرا کی طرف  
کبھی نعرہ تھا کہ صدقے ترے یا شاہِ نجف  
جتنے مجروح تھے دم ان کے نکل جاتے تھے  
شیر بھی نامِ علی سن کے دہل جاتے تھے  

[119](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/05/119)

نخل تھراتے تھے سب گونج رہا تھا جنگل  
سرکی جاتی تھی زمیں رن کی غضب تھی ہل چل  
کوند جاتی تھی، سروں پر جو وہ شمشیر اجل  
منہ کے بل گرتا تھا کوئی تو کوئی سر کے بل  
حشر برپا تھا سواروں پہ فرس لوٹتے تھے  
دو پہ چار، ایک پہ دو، پانچ پہ دس لوٹتے تھے  

[120](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/05/120)

بڑھ کے فرماتے تھے عباسؔ، زہے عزت و جاہ  
بارک اللہ کی دیتا تھا صدا دلبرِ شاہ  
کہتے تھے ابنِ حسنؔ، واہ حرِ غازی واہ  
شاہ ہر ضرب پہ فرماتے تھے، ماشاء اللہ  
اپنی جاں بازی کا غازی جو صلہ پاتا تھا  
مسکراتا ہوا تسلیم کو جھک جاتا تھا  

[121](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/05/121)

حیف جھکنے میں لعینوں نے جو فرصت پائی  
سامنا چھوڑ کے سب فوج عقب سے آئی  
لاکھ خوں ریز اُدھر، اور اِدھر تنہائی  
باگ گھوڑے کی پھرانا تھا کہ برچھی کھائی  
آ گیا موت کے پنجے میں نہ کچھ دیر لگی  
فرق پر گرز لگا دوش پہ شمشیر لگی  

[122](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/05/122)

سینہ غربال ہوا، تیر چلے اعدا کے  
رکھ دیا شیر نے قربوس پہ سر نہوڑا کے  
علیؔ اکبر نے یہ حضرت سے کہا چلا کے  
گر ہو ارشاد تو مہماں کو سنھالوں جا کے  
خانۂ زیں سے عدم کا سفری گرتا ہے  
خاک پر گھوڑے سے اب حرِّ جری گرتا ہے  

[123](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/05/123)

شاہ رونے لگے یہ سنتے ہی مہماں کی خبر  
ہو گئی آنسوؤں سے ریشِ مبارک سب تر  
علیؔ اکبر سے کہا تم ابھی ٹھہرو دلبر  
حُرؔ کی امداد کو ہم جائیں گے اے نورِ نظر  
کس سے اس وقت کہوں میں جو قلق مجھ پر ہے  
لاش مہماں کی اٹھاؤں گا کہ حق مجھ پر ہے  

[124](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/05/124)

عرض کی حضرتِ عباس نے جاتا ہے غلام  
جوشِ رقت میں کہا شہ نے نہیں اے گلفام  
میری الفت میں ہوا قتل حرِ نیک انجام  
دوست کیسے، جو برے وقت میں ہم آئیں نہ کام  
اس پہ جب سخت گھڑی ہو گی تو کام آئیں گے  
لاش کیا قبر میں مہمان کی ہم جائیں گے  

[125](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/05/125)

اس کے لاشے پہ نہ جائیں، یہ مروت سے ہے دور  
اس سے ہم شاد ہوئے، وہ بھی تو ہو کچھ مسرور  
قصرِ خلد اس کو دکھائیں کہ ہوئے عفوِ قصور  
سرخ رو جاتا ہے دنیا سے وہ خالق کے حضور  
ایسا ذی رتبہ کوئی خلق میں کم نکلے گا  
میرے مہماں کا مری گود میں دم نکلے گا  

[126](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/05/126)

یہ سخن کہہ کے چلے رن کو، جنابِ شبیرؔ  
واں گِرا خاک پہ گھوڑے سے، حُرِ با توقیر  
دیکھ کر شاہ کو آتے ہوئے بھاگے بے پیر  
پہونچے لاشے پہ امامِ دو جہاں وقتِ اخیر  
چمنِ ہستیِٔ مہماں کو اجڑتے دیکھا  
ایڑیاں خاک پہ زخمی کو رگڑتے دیکھا  

[127](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/05/127)

گر کے لاشے کے برابر یہ پکارے سرور  
ہائے اے میرے مددگار و معین و یاور  
گرز کیا تجھ کو لگا ٹوٹ گئی میری کمر  
گر پڑے گھوڑے سے اور آہ نہ کی ہم کو خبر  
دوست کے ہجر میں کس دوست کو چین آیا ہے  
کھول دے آنکھوں کو بھائی کہ حسینؔ آیا ہے  

[128](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/05/128)

وہ رے حُرِّ جری میں تری ہمت کے فدا  
اس کو کہتے ہیں محبت اسے کہتے ہیں وفا  
ہے یہ بیکس ترا شرمندۂ احساں بہ خدا  
بس یہی بھائی بھی کرتے ہیں جو کچھ تو نے کیا  
حق تعالیٰ چمنِ خلد میں گھر، دے بھائی  
اس ریاضت کا خدا تجھ کو ثمر دے بھائی  

[129](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/05/129)

حُرؔ کو چونکا کے حبیبؔ ابنِ مظاہر نے کہا  
آپ، بیتاب ہیں اے حؔرِ جری ہوش میں آ  
دیکھ دیدارِ جگر بندِ جنابِ زہراؔ  
کوچ در پیش ہے یہ وقت نہیں غفلت کا  
دم رکا ہے تو اشارے سے وصیت کر لے  
نزع میں نورِ الٰہی کی زیارت کر لے  

[130](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/05/130)

کسی آقا نے کبھی کی ہے یہ توقیرِ غلام  
دیکھ تو رحم، ترے واسطے، روتے ہیں امام  
بھائی فرماتے ہیں شفقت سے شہِ عرش مقام  
اے خوشا حال خدا سب کا کرے نیک انجام  
حشر تک خلق میں یہ ذکرِ غم انگیز رہا  
تو تو بچپن کے غلاموں سے بھی کچھ تیز رہا  

[131](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/05/131)

نیم وا چشم سے حُر نے، رخِ مولا دیکھا  
زیرِ سر، زانوئے شبیرؔ کا تکیا دیکھا  
مسکرا کر طرفِ عالمِ بالا دیکھا  
شہ نے فرمایا کہ اے حُرِ جری کیا دیکھا  
عرض کی حسن رخِ حور نظر آتا ہے  
فرش سے عرش تلک نور نظر آتا ہے  

[132](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/05/132)

باغ فردوس دکھاتا ہے مجھے اپنی بہار  
صاف نہریں ہیں رواں جھوم رہے ہیں اشجار  
شاخوں سے میری طرف بڑھتے ہیں میوے ہر بار  
حوریں لاتی ہیں جواہر کے طبق بہرِ نثار  
ہے یہ رضواں کی صدا دھیان کدھر تیرا ہے  
دیکھ اے شاہ کے مہمان یہ گھر تیرا ہے  

[133](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/05/133)

مجھ کو لینے چلے آتے ہیں فرشتے یا شاہ  
ملک الموت بھی کرتا ہے محبت کی نگاہ  
خلد سے شیرِ خدا نکلے ہیں اللہ اللہ  
لو برآمد ہوئے شبّر بھی پدر کے ہمراہ  
ننگے سر احمد مختار کی پیاری آئی  
دیکھئے آپ کے نانا کی سواری آئی  

[134](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/05/134)

قبلہ رو کیجئے لاشہ مرا اے قبلۂ دیں  
پڑھئے یٰسین کہ اب ہے یہ دم باز پسیں  
کوچ نزدیک ہے، اے باد شہِ عرش نشیں  
لیجئے تن سے نکلتی ہے مری جانِ حزیں  
بات بھی اب تو زباں سے نہیں کی جاتی ہے  
کچھ اڑھا دیجئے مولا، مجھے نیند آتی ہے  

[135](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/05/135)

کہہ کے یہ گود میں شبیرؔ کے لی انگڑائی  
آیا ماتھے پہ عرق چہرے پہ زردی چھائی  
شہ نے فرمایا ہمیں چھوڑ چلے کیوں بھائی  
چل بسے حُرِّ جری پھر نہ کچھ آواز آئی  
طائرِ روح نے پرواز کی طوبیٰ کی طرف  
پتلیاں رہ گئیں پھر کر شہِ والا کی طرف  

[136](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/05/136)

بس انیسؔ اب یہ دعا مانگ کہ اے ربِّ عباد  
لکھنؤ کے طبقے کو تو سدا رکھ آباد  
رونے والے، شہِ والا کے رہیں خلق میں شاد  
ان کے سائے میں، برومند ہوں ان کی اولاد  
عشرۂ ماہِ عزا نالہ کشی میں گزرے  
سال بھر شہ کے غلاموں کو خوشی میں گزرے  

### آمد آمد حرمِ شاہ کی دربار میں ہے

https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/06

[1](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/06/1)

آمد آمد حرمِ شاہ کی دربار میں ہے  
صبح سے جشن کا غل شام کے بازار میں ہے  
صحبتِ عیشِ طرب مجلس غدار میں ہے  
شور و فریاد و بکا عترتِ اظہار میں ہے  
نوبتیں بجتی ہیں دشمن تو خوشی ہوتے ہیں  
فاطمہؔ پیٹتی ہیں، شیرِ خداروتے ہیں  

[2](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/06/2)

آگے آگے تو ہیں سجادؔ جھکائے گردن  
پاؤں بیڑی میں، گلا طوق میں گردن میں رسن  
مثلِ خورشیدِ فلک شرم سے لرزاں ہے بدن  
چاک ہے غم میں گریبانِ قبا تا دامن  
بیٹھ جاتے ہیں تو جھنجھلا کے اٹھاتے ہیں لعیں  
بوڑیاں نیزوں کی، شانوں میں چھپاتے ہیں لعیں  

[3](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/06/3)

پنڈلیاں سوجی ہیں، اور طوق سے چھلتا ہے گلا  
سخت ایذا میں ہے ، فرزند شۂ کرب و بلا  
خار تلووں میں ہیں، مقتل سے جو پیدل ہے چلا  
دھجیاں پاؤں میں باندھے ہے، وہ نازوں کا پلا  
اس کی مظلومی پہ بیتاب حرم ہوتے ہیں  
دیدۂ حلقۂ زنجیر لہو روتے ہیں  

[4](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/06/4)

پیچھے بیمار کے ہے قافلۂ اہلِ حرم  
چپ ہیں تصویر سے گویا کہ کسی میں نہیں دم  
دخترِ فاطمہؔ زہرا کا عجب ہے عالم  
تھرتھری جسم میں ہے اٹھ نہیں سکتے ہیں قدم  
رو کے فرماتی ہیں کس گوشے میں جائے زینبؔ  
ہاتھ کھل جائیں تو منہ اپنا چھپائے زینبؔ  

[5](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/06/5)

کبھی سجادؔ سے کہتی ہیں، بہ آہ و زاری  
مجھ کو دربار کی آفت سے بچاؤ داری  
کر کے زاری وہ بیاں کرتا ہے وہ آزاری  
صبر فرماؤ جو مرضیِٔ جنابِ باری  
کم نہ کچھ مرتبۂ آلِ عبا ہوئے گا  
عاصیوں کا اسی پردہ میں بھلا ہوئے گا  

[6](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/06/6)

گردنیں بارہ اسیروں کی ہیں اور ایک رسن  
جس طرح ہوتے ہیں گلدستے ہیں گلہائے چمن  
رشتہ دارانِ علیؔ سب ہیں گرفتارِ محن  
شرم کے مارے موئی جاتی ہے اک شب کی دلہن  
دم بدم ساس بھی سر پیٹتی ہے ساتھ اس کے  
ابھی کنگنا نہ کھلا تھا کہ بندھے ہاتھ اس کے  

[7](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/06/7)

ہے اس رسی میں ننہا سا سکینہ کا گلو  
دم گھٹا جاتا ہے آنکھوں سے رواں ہیں آنسو  
چاک کرتے کا گریباں ہے، پریشاں گیسو  
سوجے تو گال ہیں کانوں سے ٹپکتا ہے لہو  
آہ ہر گام پہ سینے سے نکل جاتی ہے  
جب گھرکتے ہیں ستمگر تو دہل جاتے ہے  

[8](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/06/8)

ماں سے کرتی ہے اشارہ وہ گرفتارِ ستم  
رسی کھلوا دو نہیں گھٹ کے نکل جائے گا دم  
رو کے وہ کہتی ہے مجبور ہوں میں کشتۂ غم  
ہائے بچی تری قسمت میں تھا یہ درد و الم  
صدقے امّاں یہ گرہ عقد کشا کھولے گا  
بی بی اس عقدۂ مشکل کو خدا کھولے گا  

[9](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/06/9)

ماں سے رو رو کے وہ نادان یہ کرتی ہے بیاں  
کس کا دربار ہے، اس حال سے جاتی ہو کہاں  
یہ تو کہہ دو کہیں بابا بھی ملیں گے اماں  
کئی دن گذرے ہیں وہ ہیں مری آنکھوں سے نہاں  
بھول جائے گایہ سب دکھ جو انہیں پاؤں گی  
دوڑ کر چاند سی چھاتی سے لپٹ جاؤں گی  

[10](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/06/10)

کہیں دربار میں اماں وہ اگر مجھ کو ملے  
دیکھنا کرتی ہوں کیسے شۂ والا سے گلے  
وہ خبر لیویں نہ گردن مری رسی سے چلے  
اس کو یوں بھولتے ہیں باپ سے بچہ جو پلے  
وجہ کیا کون سی تفصیر پہ منہ موڑا ہے؟  
سیلیاں کھانے کو اعدا میں مجھے چھوڑا ہے  

[11](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/06/11)

کان زخمی ہوئے اور لی نہ خبر واہ رے پیار  
خوب بھولے مجھے بابا کی محبت کے نثار  
دن میں چھاتی سے لگاتے تھے مجھے سو سو بار  
مجھ پہ یہ ظلم ہیں آیا انہیں کس طرح قرار  
منہ دکھاتے نہیں شفقت سے بلانا کیسا  
خواب میں آئے نہ چھاتی پہ سلانا کیا  

[12](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/06/12)

روتے تھے سن کے سکینہؔ کا بیاں سارے امیر  
ہر قدم پر تھا یہی شور کہ ہے ہے شبیر  
اس طرف ہوتی تھی آرائشِ دربارِ شریر  
تخت پر آپ تھا اور کرسیوں پر سارے امیر  
اک طرف لوٹ کا سب زیور و زر رکھا تھا  
اور تلے فاطمہ کے لعل کا سر رکھا تھا  

[13](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/06/13)

نذریں ہاتھوں پہ لیے آتے تھے سب درباری  
پڑھتے تھے تہنیت فتح کو باری باری  
جمع دربار میں تھی، شہر کی خلفت ساری  
یاں تو تھا جشن کا غل، اور ادھر تھی زاری  
اس طرف تو دف و نے کی صدا آتی تھی  
اور اس سمت سے ہے ہے کی صدا آتی تھی  

[14](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/06/14)

دم بدم تخت سے اٹھ اٹھ کے یہ کہتا تھا شریر  
قیدی کیوں جلد نہیں آتے ہیں کیا ہے تاخیر  
بڑھ کے کرتے تھے خبردار یہ اُس دم تقریر  
ضعف سے پاؤں کو تھم تھم کے اٹھاتے ہیں اسیر  
مارے دہشت کے لہو ان کا گھٹا جاتا ہے  
ہر قدم ایک ضعیفہ کو غش آجاتا ہے  

[15](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/06/15)

بولا وہ کون سی عورت ہے وہ محبوسِ ستم  
عرض کی اس نے کہ ہمشیرِ شہنشاہِ امم  
باپ جس کا ہے علیؔ پشت و پناہِ عالم  
جس کی ماں فاطمہؔ ہے فخر جناب مریم  
ہے جو سلطانِ عرب اس کی نواسی ہے وہ  
کلمہ گو جس کے ہیں سب اس کی نواسی ہے وہ  

[16](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/06/16)

ہے وہی حضرتِ جعفرؔ کی بہو سینہ فگار  
وہی زینبؔ ہے جو شبیرؔ کی تھی عاشقِ زار  
لاش شہ پر، وہی اُشتر سے گری تھی کئی بار  
بعد مرنے کے بھی ہے بھائی بہن میں وہی پیار  
قافلہ یوں تو سبھی شام و سحر روتا ہے  
پر وہ روتی ہے تو شبیر کا سر روتا ہے  

[17](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/06/17)

بولا وہ کیا ہے پھر اوروں کے نہ آنے کا سبب  
عرض کی ایک ہی رسی میں ہیں جکڑے ہوئے سب  
خاک پہ گرتی ہے جب بنتِ شہنشاہِ عرب  
شور ہوتا ہے اسیروں میں کہ ہے ہے زینبؔ  
ہوش میں آن کے، بھائی کو وہ جب روتی ہے  
دیر تک قیدیوں میں سینہ زنی ہوتی ہے  

[18](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/06/18)

انہیں رانڈوں مین ہے اک دخترِ فرزند نبی  
خوگرِ سینۂ دلبند، رسولِ عربی  
آفتِ فاقہ کشی، بے پدری تشنہ لبی  
دم بہ دم لب پہ یہ ہے این ابی این ابی  
چھاتیاں پھٹتی ہیں اس درد سے وہ روتی ہے  
شمرؔ جب آنکھ دکھاتا ہے تو چپ ہوتی ہے  

[19](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/06/19)

ذکرِ یہ تھا کہ وہ قیدی سرِ دربار آئے  
سب پکارے کہ وہ حاکم کے گنہگار آئے  
آگے روتے ہوئے سجادِؔ دل افگار آئے  
سر برہنہ حرم احمد مختار آئے  
صاف خورشید سی شکلیں جو نظر آتی ہے  
آنکھیں سب ظالموں کی بند ہوئی جاتی ہے  

[20](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/06/20)

گو کہ اس روز تھیں سیدانیاں کھولے ہوئے بال  
منہ چھپانے کو کسی پاس نہ تھا اک رومال  
بیٹیوں کا اسد اللہ کی، اللہ رے جلال  
آنکھ اٹھا کر کوئی دیکھے، یہ کسی کی تھی مجال  
جلوۂ رشنیِ طور نظر آتا تھا  
کچھ نہ آنکھوں کو بجز نور نظر آتا ہے  

[21](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/06/21)

پردۂ چشم سے باہر نہ نکلتی تھی نظر  
ایک سے پوچھتا تھا ایک کہ قیدی ہیں کدھر؟  
بیٹیاں فاطمہؔ زہرا کی جو تھیں ننگے سر  
دست حیدرؔ تھا تماشائیوں کی آنکھوں پر  
تھا جو منظورِ خدا آلِ عبا کا پردہ  
فاطمہؔ روکتی تھی، اپنی ردا کا پردہ  

[22](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/06/22)

کہا ظالم نے کہ ہاں قیدیوں کو لاؤ قریب  
حکم یہ سنتے ہی دوڑے گئے دو چار نقیب  
شرم کے مارے ہوا، بیبیوں کا حال عجب  
اپنا سر پیٹ کے بانو نے کہا وائے نصیب  
کھینچ کر سب کو ستمگار جو لے جانے لگے  
حضرتِ زینب و کلثوم کو غش آنے لگے  

[23](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/06/23)

تخت کے سامنے روتے ہوئے آئے جو اسیر  
دیکھ کر سیدِ سجادؔ کو بولا وہ شریر  
سرکشی کر کے نہ سربر ہوئے مجھ سے شبپر  
شکر کرتا ہوں کہ خالق نے کیا تم کو حقیر  
بیٹھنے کا کہیں دنیا میں سہارا نہ رہا  
پنجتن اٹھ گئے اب زور تمہارا نہ رہا  

[24](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/06/24)

ہاں کہو آج حمایت کو پیمبر ہیں کہاں؟  
کیا ہوئے ابنِ علیؔ حیدر صفدر ہیں کہاں؟  
قید میں ان کی بہو آتی ہے شبّر ہیں کہاں؟  
ننگے سر زینبِ دلگیر ہے سرور ہیں کہاں؟  
ذبح خنجر سے ہوا جو وہ پدر کس کا ہے؟  
اک ذرا غور سے دیکھو تو یہ سر کس کا ہے؟  

[25](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/06/25)

کس کے ناموس لٹے کس کا ہوا گھر تاراج؟  
کون بے سر ہوا، اور کون ہوا صاحبِ تاج؟  
ایک چادر کے لیے کس کی بہن ہے محتاج؟  
کون کمزور ہے، اور کون زبردست ہے آج؟  
خلق میں کس کے لیے مرتبۂ عالی ہے؟  
کس کا اقبال ہے، اور کس کی بد اقبالی ہے؟  

[26](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/06/26)

نہر پر بازوئے شبیرؔ کو مارا کس نے؟  
جنگ میں اکبرؔ دلگیر کو مارا کس نے؟  
تیر سے اصغرِؔ بے شیر کو مارا کس نے؟  
شاہ سے صاحبِ شمشیر کو مارا کس نے؟  
فوج بے سر ہوئی سلطانِ حجازی نہ رہے  
جن کی تلوار کا شہرہ تھا وہ غازی نہ رہے  

[27](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/06/27)

سن کے یہ آگیا بنتِ شہ مرداں کو جلال  
تھرتھرا کر کہا کیا بکتا ہے او بد اقبال  
صاحبِ عزت و توقیر محمد کی ہے آل  
کبھی ہم لوگوں کی عزت پہ نہ آئے گا زوال  
ہم کو بے قدر جو سمجھا تو خطا کرتا ہے  
دیکھ مصحف میں خدا کس کی ثنا کرتا ہے  

[28](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/06/28)

ہاں بتا آیۂ تطہیر کسے آیا ہے؟  
دوست اپنا کسے اللہ نے فرمایا ہے؟  
ہل اتیٰ کس کے لیے روح امیں لایا ہے؟  
کس نے معراج کا دنیا میں شرف پایا ہے؟  
قرب ایسا کسے اللہ کی درگاہ میں ہے؟  
فرقِ قوسین بتا کس میں اور اللہ میں ہے؟  

[29](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/06/29)

زور اپنا کسے اللہ نے امداد کیا؟  
خانۂ کفر کو کس شیر نے برباد کیا؟  
حق نے قرآن کے سورۃ میں کسے یاد کیا؟  
کس کو اکملت لکم دینکم ارشاد کیا؟  
کس سے ہر جنگ میں عاجز صفِ کفار آئی؟  
بدر میں کس کے لیے عرش سے تلوار آئی؟  

[30](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/06/30)

آلِ احمد کو حقارت سے نہ دیکھ او مقہور  
سب پہ روشن ہے کہ ہم لوگ ہیں اللہ کے نور  
مار کر سبطِ پیمبر کو یہ نخوت یہ غرور  
خیر ہم دور نہ تو دور نہ محشر ہے دور  
حق کا دریائے غضب جوش میں جب آئے گا  
باندھنا ہاتھ کا سادات کے کھل جائے گا  

[31](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/06/31)

فخر کیونکر نہ کرے تو کہ یہ ہے فخر کی جا  
تو نے اللہ کے محبوب کا کاٹا ہے گلا  
ہو گئے سرخ لہو میں حسنِ سبز قبا  
فاطمہؔ ذبح ہوئی، شیر خدا قتل ہوا  
آگ دی خیمہ کو اور زیور و زر لوٹ لیا  
جس کے درباں تھے ملک، تو نے وہ گھر لوٹ لیا  

[32](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/06/32)

ترے ناموس تو ہیں پردہ نشیں او اظلم  
بال بکھرائے کھڑے ہیں، ترے دربار میں ہم  
ہائے بے پردہ ہے بانوئے امامِ عالم  
ہے سکینہؔ پہ وہ ظلم اور یہ کبراؔ پہ ستم  
ننگے سر قید میں اک رات کی بیاہی آئی  
تجھ کو شادی ہوئی اور ہم پہ تباہی آئی  

[33](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/06/33)

کیے زینبؔ نے فصاحت سے یہ جس وقت کلام  
کانپے سینوں میں جگر رونے لگے لوگ تمام  
تخت کے نیچے دھرا تھا جو سرِ پاکِ امام  
متوجہ ہوا شرما کے ادھر حاکمِ شام  
اور ان ظلم رسیدوں پہ جفا کرنے لگا  
لبِ فرزند پیمبر پہ چھری دھرنے لگا  

[34](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/06/34)

کھول کر چوب سے لب ہائے شہنشاہِ عرب  
کہتا تھا پارۂ یاقوت سے بہتر ہیں لب  
درِ دنداں ہیں یہ تاباں کہ خجل ہیں کوکب  
پیٹ کر سینے کو زینبؔ نے کہا ہائے غضب  
نہ محمدؔ سے نہ حیدرؔ سے حیا کرتا ہے  
قطع ہو جائے ترا ہاتھ، یہ کیا کرتا ہے  

[35](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/06/35)

اس چھڑی کو مرے بھائی کے لبوں سے سرکا  
بوسے لیتے تھے انہیں ہونٹوں کے محبوب خدا  
بہر امت انہیں ہونٹوں سے دعا کی ہے سدا  
انہیں دانتوں پہ گہر کرتی تھی صدقے زہراؔ  
تجھ کو پیارے نہیں گو، ہم کو تو پیارے ہیں یہ  
عرش تک جن کا ہے شہرہ وہ ستارے ہیں یہ  

[36](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/06/36)

یہ ستم بھائی پہ کن آنکھوں سے دیکھے ہمشیر  
ارے ظالم سرِ بے تن کی بھلا کیا تفصیر  
یہ چھڑی ہائے غضب اور لبِ پاک شبیرؔ  
نہ ستا مجھ کو میں ہوں بنتِ شۂ خیبر گیر  
ان کھلے بالوں کو اب ہاتھوں پہ دھرتی ہوں میں  
لے شکایت تری اللہ سے کرتی ہوں میں  

[37](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/06/37)

کہہ کے یہ غیظ میں آئی جو علیؔ کی جائی  
آسماں آ گئے جنبش میں زمیں تھرائی  
سر شبیر سے ناگاہ صدا یہ آئی  
تھام لے غصے کو زینبؔ ترے صدقے بھائی  
نہ تلاطم میں کہیں قہر الٰہی آ جائے  
کہیں امت کی نہ کشتی پہ تباہی آ جائے  

[38](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/06/38)

تم تو آگاہ ہو، شبیر نے جو دکھ پائے  
پر نہیں حرف شکایت کے ، زباں پر لائے  
سر کو نیوڑا لیا جب ذبح کو قاتل آئے  
ہم نے امت کے لیے چھاتی پہ نیزے کھائے  
اتنی سی بات پہ مصروفِ بکا ہوتی ہو  
تم چھڑی ہونٹوں پہ رکھنے سے خفا ہوتی ہو  

[39](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/06/39)

برچھیاں کھانے سے کیا اس میں کچھ ایذا ہے پڑی  
چپ رہے تن پہ جو تلوار یہ تلوار پڑی  
جانے دو رکھی تو رکھی مرے ہونٹوں پہ چھڑی  
اے بہن یہ بھی گذر جائے گی آفت کی گھڑی  
چپ ہیں جو ہم پہ ستم راہِ خدا میں ہوگا  
اس کا انصاف تو دربارِ خدا میں ہوگا  

[40](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/06/40)

سرِ شبیر نے زینبؔ سے جو یہ کی تقریر  
آ کے غصے میں لگا کانپنے وہ حاکم بے پیر  
شمرؔ سے بولا کہ بس اس کی یہی ہے تعزیر  
سب کو لے جا کے تو کر سخت خرابے میں اسیر  
بس انیسؔ اب جگر و قلب پھنکا جاتا ہے  
حال زنداں کا نہیں منہ سے کہاجاتا ہے  

### آج شبیرؔ پہ کیا عالمِ تنہائی ہے

https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/07

[1](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/07/1)

آج شبیرؔ پہ کیا عالمِ تنہائی ہے  
ظلم کی چاند پہ زہراؔ کی گھٹا چھائی ہے  
اس طرف لشکرِ اعدا میں صف آرائی ہے  
یاں نہ بیٹا نہ بھتیجا نہ کوئی بھائی ہے  
برچھیاں کھاتے چلے جاتے ہیں تلواروں میں  
مار لو پیاسے کو ہے شور ستمگاروں میں  

[2](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/07/2)

زخمی بازو ہیں کمرخم ہے بدن میں نہیں تاب  
ڈگمگاتے ہیں نکل جاتی ہے قدموں سے رکاب  
پیاس کا غلبہ ہے لب خشک ہیں آنکھیں ہیں پر آب  
تیغ سے دیتے ہیں ہر وار کا اعدا کو جواب  
شدتِ ضعف میں جس جا پہ ٹھہر جاتے ہیں  
سیکڑوں تیر ستم تن سے گذر جاتے ہیں  

[3](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/07/3)

گیسو آلودۂ خوں لپٹے ہیں رخساروں سے  
شانے کٹ کٹ کے لٹک آئے ہیں تلواروں سے  
تیرہ پیوست ہیں خوں بہتا ہے سوفاروں سے  
لاکھ آفت میں ہے اک جان دل آزاروں سے  
فکر ہے سجدۂ معبود ہیں سر دینے کی  
دار سے تیغوں کے فرصت نہیں، دم لینے کی  

[4](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/07/4)

خون سے تر پیچ عمامے کے ہیں سر زخمی ہے  
ہے جبیں چاند سی پر نور مگر زخمی ہے  
سینہ سب برچھیوں سے تا بہ کمر زخمی ہے  
تیرِ بیداد سے دل زخمی، جگر زخمی ہے  
ضربِ شمشیر سے بیکار ہیں بازو دونوں  
ظلم کے تیروں سے مجروح ہیں پہلو دونوں  

[5](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/07/5)

برچھی آ کر کوئی پہلو میں لگا جاتا ہے  
مارتا ہے کوئی نیزہ تو غش آجاتا ہے  
بڑھتے ہیں زخمِ بدن، زور گھٹا جاتا ہے  
بند آنکھیں ہیں، سرِ پاک جھکا جاتا ہے  
گردِ زہراؔ و علیؔ گریہ کناں پھرتے ہیں  
غل ہے گھوڑے سے امام دو جہاں گرتے ہیں  

[6](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/07/6)

گرتے ہیں قطرۂ خوں زخمِ جبیں سے پیہم  
دستِ مجروح سے کھنچ سکتے نہیں تیرِ ستم  
فکر ہے بخششِ امت کی کچھ اپنا نہیں غم  
کرتے ہیں شکرِ خدا خشک زباں سے ہر دم  
ہے عبا تیروں سے غرباں قبا گلگوں ہے  
ہونٹ یا وقت سے زخمی ہیں دہن پر خوں ہے  

[7](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/07/7)

زیں سے ہوتا ہے جدا دوشِ محمد کا مکیں  
چمنِ فاطمہ کا سرو ہے مائل بہ زمیں  
برچھیاں گرد ہیں اور بیچ میں ہیں سرورِ دیں  
ہے یہ نزدیک گرے مہرِ نبوت کا نگیں  
پاؤں ہر بار رکابوں سے نکل جاتے ہیں  
یا علیؔ کہتی ہے زینبؔ تو سنبھل جاتے ہیں  

[8](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/07/8)

لاکھ تلواریں ہیں اورایک تنِ اطہر ہے  
ایک مظلوم ہے اور ظالموں کا لشکر ہے  
سیکڑوں خنجرِ فولاد ہیں اور اک سر ہے  
نہ کوئی یار، نہ ہمدم، نہ کوئی یاور ہے  
باگ گھوڑے کی لٹکتی ہے، اٹھا سکتے نہیں  
سامنے اہلِ حرم روتے ہیں، جا سکتے ہیں  

[9](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/07/9)

کوئی سید کا نہیں آہ، بچانے والا  
حربے لاکھوں ہیں، اور اک زخم اٹھانے والا  
پیاس میں کوئی نہیں، پانی پلانے والا  
سنبھلے کس طرح بھلا، برچھیاں کھانے والا  
چرخ سے آگ برستی ہے زمیں جلتی ہے  
مارے گرمی کے زباں خشک ہے، لُو چلتی ہے  

[10](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/07/10)

کہیں دم لینے کو سایہ نہیں، ہے وقت زوال  
اینٹھی جاتی ہے زباں پیاس کی شدت ہے کمال  
کبھی زینبؔ کا ہے غم گاہ سکینہؔ کا خیال  
دن جو ڈھلتا ہے تو حضرت ہوئے جاتے ہیں نڈھال  
مثلِ خورشید، بدن ضعف سے تھراتا ہے  
نیر برجِ امامت پہ زوال آتا ہے  

[11](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/07/11)

کہتے ہیں ظالموں سے، خشک زباں دکھلا کر  
بہرِ حق پانی کا، اک جام پلادو لا کر  
اہلِ کیں کہتے ہیں یہ تیغِ ستم چمکا کر  
آبِ شمشیر پیو برچھیوں کے پھل کھا کر  
یہ سخن سن کے بھی غصہ نہیں فرماتے ہیں  
یاس سے سوئے فلک دیکھ کے رہ جاتے ہیں  

[12](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/07/12)

عرض کرتے ہیں یہ خالق سے کہ اے لبِ غفور!  
تو ہے عالم کہ نہیں کچھ ترے بندے کا قصور  
کرتے ہیں یہ مجھے بے جرم و خطا تیغوں سے چور  
ہاتھ امت پہ اٹھانا نہیں مجھ کو منظور  
جانتے ہیں کہ محمدؔ کا نواسا ہوں میں  
پانی دیتے نہیں دو روز کا پیاسا ہوں میں  

[13](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/07/13)

تو نے بچپن سے مرے ناز اٹھائے یارب  
وہ عنایت کیا جو تجھ سے کیا میں نے طلب  
تیرا محبوب بنا عید کو میرا مرکب  
روزہ رکھا تو چھپا مہر نمایاں ہوئی شب  
بھوک میں خلد کا کھانا مجھے امداد کیا  
بھیج کر ہرنی کا بچہ مرا دل شاد کیا  

[14](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/07/14)

اب اگر ہے یہ تری مصلحت اے ربِّ قدیر  
ہو رواں حلق پہ اس پیاسے کے آبِ شمشیر  
میرے مولا بہ سر و چشم ہے حاضر شبیر  
حکمِ حاکم میں یہ طاقت ہے کروں میں تاخیر  
جلد گردن پہ رواں، خنجرِ برّآں ہووے  
اے خوشا وہ، جو تری راہ میں قرباں ہووے  

[15](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/07/15)

غم نہیں کچھ مجھے گو بیکس و بے یار ہوں میں  
زیرِ شمشیر گلا رکھنے کو تیار ہوں میں  
تو مددگار ہے، مختار ہے لاچار ہوں میں  
وقتِ مشکل ہے، عنایت کا طلبگار ہوں میں  
تیرے سجدے میں یہ سر تن سے جدا ہو جاوے  
عہدِ طفلی کا جو وعدہ ہے، وفا ہو جاوے  

[16](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/07/16)

سختیاں مرگ کی کر اپنے کرم سے آساں  
لب پہ تکبیر ہو، جب خلق پہ خنجر ہو رواں  
دل میں ہو یاد تری، بند ہو جس وقت زباں  
دم بھروں تیرا ہی تن سے جو نکلنے لگے جاں  
بعدِ چہلم جو مجھے قبر میسر ہووے  
زخمی تن پر نہ فشار اے مرے داور ہووے  

[17](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/07/17)

رحم کر رحم کر شرمندہ ہوں اے یارِ خدا  
بندگی کا ترے جو حق تھا ادا ہو نہ سکا  
خوفِ محشر سے، بدن کانپتا ہے، سرتاپا  
ہوگی اعمال کی پرسش تو، کہوں گا میں کیا؟  
کوئی تحفہ ترے لائق نہیں پاتا ہے حسینؔ  
ہاتھ خالی ترے دربار میں آتا ہے حسینؔ  

[18](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/07/18)

تقویت دل کو کرم سے ہے ترے یا رحماں  
نہیں مایوس کہ رحمت ہے تری بے پایاں  
مشکلیں بندوں کی کر دیتا ہے دم میں آساں  
شکر الطاف و عنایات میں قاصر ہے زباں  
عاصیوں سے بھی محبت نہیں کم کرتا ہے  
جرم وہ کرتے ہیں تو لطف و کرم کرتا ہے  

[19](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/07/19)

میں تری راہ میں مظلومی سے ہوتا ہوں فدا  
تو ہے آگاہ کہ دو دن کا ہوں بھوکا پیاسا  
چاہتا ہوں میں یہی، اپنی شہادت کا صلا  
مغفرت امتِ عاصی کی ہو اے بارِ خدا  
ہے گوارا مجھے جو کچھ کہ اذیت ہووے  
ان کو دنیا میں بھی عقبیٰ میں بھی راحت ہووے  

[20](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/07/20)

عرض کرتے تھے یہ خالق سے شۂ بندہ نواز  
یک بیک عالمِ بالا سے یہ آئی آواز  
اے مرے شیر کے فرزند، نبی کے دمساز  
تجھ سے ہم خوش ہیں پذیرا ہے ترا عجر و نیاز  
مرد ہے عاشقِ کامل ہے، وفادار ہے تو  
جو کہا وہ ہی کیا صادق الاقرار ہے تو  

[21](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/07/21)

تو بھی مقبول ہے اور تیری عبادت بھی قبول  
یہ اطاعت بھی ہے مقبول، یہ طاعت بھی قبول  
عاجزی بھی تری مقبول، شہادت بھی قبول  
تیری خاطر سے ہمیں بخششِ امت بھی قبول  
ہم نے خیل شہدا کا تجھے سردار کیا  
امتِ احمد مختار کا مختار کیا  

[22](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/07/22)

دوست داروں کا ترے گلشنِ جنت ہے مقام  
تاابد سایۂ طوبیٰ میں کریں گے آرام  
ہوں گے محشور ترے ساتھ عزادار تمام  
تجھ کو جو روئیں گے آنچ ان پہ ہے دوزخ کی حرام  
غم نہ کھا! اہلِ جہاں تیرے محب سارے ہیں  
تو ہے پیارا، ترے پیارے میں بھی ہمیں پیارے ہیں  

[23](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/07/23)

ہوں گے ہر رنج سے، محفوظ ترے تعزیہ دار  
سختیِٔ مرگ نہ ان کو ہے، نہ ایذائے فشار  
دمِ مردن نظر آوے گا علیؔ کا دیدار  
قبر سے گلشنِ فردوس کی دیکھیں گے بہار  
دار دنیا ہی میں ہیں جو سو انہیں ایذا ہے  
آنکھیں جب بند ہوئیں پھر، درِ جنت وا ہے  

[24](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/07/24)

تجھ سا عابد نہ ہوا ہے، نہ کوئی ہووے گا  
تیر کھا کھا کے کسی نے بھی ہے یوں شکر کیا  
طاعتِ خلق سے اک سجدہ ہے افضل تیرا  
عرشِ اعظم پہ، ملائک تری کرتے ہیں ثنا  
سارا گھر میری محبت میں، فنا تو نے کیا  
بندگی کا تھا جو کچھ حق وہ ادا تو نے کیا  

[25](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/07/25)

حشر تک روئے گا مظلومی پہ تیری عالم  
تیرا ماتم نہیں ہووے گا جہاں میں کبھی کم  
روضۂ پاک کو تیرے یہ شرف بخشیں گے ہم  
آئیں گے جس کی زیارت کو ملک ہو کے بہم  
یہ زمیں عرش سے رتبے میں سوا ہووے گی  
خاک تربت کی تری خاکِ شفا ہووے گی  

[26](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/07/26)

یہ صدا سن کے ہوئے شاد شۂ ہر دوسرا  
آ گئی از سرِ نو جسم میں طاقت گویا  
جھک کے سجدے کی طرف عجز سے رو کر یہ کہا  
میرے مولا میں تری بندہ نوازی کے فدا  
کیوں نہ ممتاز ہو وہ تو جسے رتبہ بخشے  
اس کفِ خاک کو کیا رتبۂ اعلیٰ بخشے  

[27](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/07/27)

ابھی مولا نے سرِ عجز اٹھایا نہ تھا آہ  
نیزہ اک چھاتی پہ مارا جو کسی نے ناگاہ  
غش میں گرنے لگے گھوڑے سے امامِ ذی جاہ  
آئی خاتونِ قیامت کی صدا بسم اللہ  
تھامنے آئے علیؔ خلد سے گھبرائے ہوئے  
دوڑے محبوبِ خدا ہاتھوں کو پھیلائے ہوئے  

[28](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/07/28)

اک جفا کیش نے پھر پہلو پہ نیزہ مارا  
چھد گیا توڑ کے چھاتی کو کلیجہ سارا  
پشتِ تازی پہ، سنبھلنے کا نہ پایا یارا  
گر پڑا خاک پہ، وہ عرشِ خدا کا تارا  
گرد آلود قبائے شۂ پرنور ہوئی  
ریت زخموں کے لیے مرہم کافور ہوئی  

[29](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/07/29)

خاک و خوں میں جو تڑپتے تھے ، شہنشاہِ زمن  
گل کے مانند کھلے جاتے تھے سب زخمِ بدن  
طلبِ آب میں کھولے ہوئے تھے خشک دہن  
گرد کھینچے ہوئے تلواریں کھڑے تھے دشمن  
غمِ ناموس بھی تھا، پیاس کی بھی شدت تھی  
پھر سکینہؔ کو نہ دیکھ آئے یہی حسرت تھی  

[30](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/07/30)

کان میں آتی تھی زینبؔ کے صدائے جاںکاہ  
دل تڑپ جاتا تھا کرتے تھے عجب درد سے آہ  
راہ روکے ہوئے خیمے کی، کھڑے تھے گمراہ  
نیم وا چشم سے کرتے تھے سوئے خیمہ نگہ  
تنِ زخمی پہ جو پیکانِ ستم گڑتے تھے  
خاک سے اٹھتے تھے اور کانپ کے گر پڑتے تھے  

[31](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/07/31)

کہتا تھا فوج میں سب سے عمر بد اختر  
کھنچے کیوں تیغوں کو ہاتھوں میں کھڑے ہو ششدر  
ریگِ تفتیدہ پہ ہے غش میں، علیؔ کا دلبر  
جاؤ کیا دیر ہے ، کاٹو شۂ مظلوم کا سر  
تیغ سے فاطمہؔ زہرا کا گلا چاک کرو  
جلد ہاں خاتمۂ پنجتن پاک کرو  

[32](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/07/32)

ایسے مظلوم کا، سر کاٹنا کیا ہے دشوار  
جس کا کوئی بھی مددگار، نہ ہمدرد، نہ یار  
عورتیں ہیں کئی خیمے میں غریب و ناچار  
مر چکے پہلے ہی جو خون کے تھے دعویدار  
خوں بہا بھی نہ کوئی مانگنے کو آوے گا  
اک پسر ہے سو وہ بیمار ہے مرجاوے گا  

[33](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/07/33)

کانپ کر کہتے تھے سب ہم سے نہ ہوگا یہ ستم  
ذبح فرزندِ محمدؔ کو نہیں کرنے کے ہم  
ایسے مظلوم کی چھاتی پہ جو رکھے گا قدم  
پاؤں جل جائے گا تھرائے گا عرشِ اعظم  
پیٹتے قبر سے محبوب خدا آویں گے  
بخدا فاطمہ کی آہ سے جل جاویں گے  

[34](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/07/34)

کون بے کس کو بھلا ذبح کرے بے تقصیر  
پھرتا ہے کوئی پیاسے کے گلے پر شمشیر؟  
گو کہ بے کس ہے پہ آساں نہیں، قتلِ شبیرؔ  
حشر میں ہوئیں گے محبوبِ خدا دامن گیر  
تو سمجھتا ہے کہ اس کا کوئی خوں خواہ نہیں  
بنتِ احمدؔ نہیں، حیدر نہیں، اللہ نہیں  

[35](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/07/35)

تھا جو دمساز عمر ابن نمیر اظلم  
بڑھ کے تیغ اس نے سرِ شاہ پہ ماری اس دم  
تا جبیں ہو گیا مجروح سرِ شاہِ امم  
تھام کر سر کو پکارے یہ امامِ عالم  
نہ میسر تجھے اس ہاتھ سے کھانا ہووے  
تو تہی دست جہنم کو روانہ ہووے  

[36](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/07/36)

چاہا ظالم نے کہ پھر شۂ پہ کرے تیغ کا وار  
دیکھا انگشت بدنداں ہیں رسولؐ مختار  
خشک اس وقت ہوئے دستِ ستمگر اک بار  
ہاتھ سے تیغ گری خوف سے بھاگا، خوں خوار  
یاں سرِ پاک سے حضرت کے لہو جاری تھا  
خم سوئے قبلہ تھے، بند آنکھیں تھیں غش طاری تھا  

[37](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/07/37)

جب تڑپنے کی بھی طاقت نہ رہی سرور کو  
غل ہوا یہ کہ غش آیا، خلفِ حیدر کو  
فوج سے شمر بڑھا کھینچے ہوئے خنجر کو  
سب سے کہتا تھا کہ اب کاٹو سرِ سرور کو  
خلفِ احمدِ مختار کا قاتل ہوں میں  
کام میرا ہے، اسی کام کے قابل ہوں میں  

[38](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/07/38)

مجھ کو حیدرؔ سے غرض ہے نہ محمدؔ سے ہے کام  
رو دیں محبوبِ خدا ہووے خوشی حاکمِ شام  
دولتِ فاطمہؔ لے جاؤں میں پاؤں انعام  
روح حیدرؔ کی ہو بے چین، مجھے ہو آرام  
منہ نہ میں دولتِ دنیا سے کبھی پھیروں گا  
آج زہراؔ کے کلیجے پہ چھری پھیروں گا  

[39](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/07/39)

تیز کرتا ہوا خنجر کو گیا شہ کے قریں  
آسماں ہل گیا تھرا گئی مقتل کی زمیں  
رو رو چلانے لگی زینبِؔ ناشادِ حزیں  
غش میں بھی گھیرے ہیں، ہے ہے مرے بھائی کو لعیں  
رحم زہراؔ کے پسر پر نہیں کھاتا کوئی  
خاک سے بھی نہیں زخمی کو اٹھاتا کوئی  

[40](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/07/40)

کس سے فریاد کروں، جا کے میں دکھیا ہے ہے  
نہ محمدؔ ہیں نہ حیدرؔ ہیں نہ زہرا ہے ہے  
لاکھ دشمن ہیں مرا بھائی ہے تنہا ہے ہے  
تیغوں سے کٹتا ہے، زہراؔ کا کلیجا ہے ہے  
سروِ گلزارِ رسالت کو قلم کرتے ہیں  
ہائے سید پہ، مسافر پہ ستم کرتے ہیں  

[41](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/07/41)

گرد زینب کے تھا ناموس پیمبر کا ہجوم  
بانو روتی تھی، کھڑی پیٹتی تھی سر، کلثوم  
کہتی تھی دیکھ کے میداں کو سکینہ معصوم  
اے پھوپھی! نرغۂ اعدا میں ہیں شاہِ مظلوم  
جاؤں گی اب میں ٹھہرنے کی نہیں آپ کے پاس  
شمرؔ خنجر لیے جاتا ہے ، مرے باپ کے پاس  

[42](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/07/42)

باپ کے پاس سے ، جا کر اسے سرکاؤں گی  
جوڑ کر ہاتھوں کو منت سے میں سمجھاؤں گی  
اپنے بابا کی میں چھاتی سے لپٹ جاؤں گی  
خیمے تک ان کو سنبھالے ہوئے لے آؤں گی  
بھوکے پیاسے، مرے بابا کو نہ مارے کوئی  
ان کے بدلے، مرا سر تن سے اتارے کوئی  

[43](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/07/43)

کتنا روکا اسے بانو نے پہ ہرگز نہ رکی  
چھوٹے سے ہاتھون سے سر پیٹتی میداں کو چلی  
پیچھے سر کھولے ہوئے خیمے سے زینبؔ نکلی  
پہونچی رن میں تو سکینہؔ یہ عمر سے بولی  
او لعیں حیدرِؔ کرار کی پوتی ہوں میں  
رحم کر! مجھ پہ کہ بِن باپ کی ہوتی ہوں میں  

[44](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/07/44)

دیکھ غربت کو مری کر مرے بچپن پہ نظر  
باپ مارا گیا میرا تو جیوں گی کیوں کر؟  
سر پہ آوے گی یتیمی تو میں جاؤں گی کدھر؟  
میں تو ہوں باپ کی شیدا مرا عاشق ہے پدر  
باپ بن ایک دم آرام نہ آوے گا مجھے  
کون پھر رات کو چھاتی پہ سلاوے گا مجھے  

[45](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/07/45)

ہنسلیاں اپنی گلے سے تجھے دیتی ہوں اتار  
لے مرے کان کا دُر، پر مرے بابا کو نہ مار  
ہاتھوں کو جوڑتی ہوں میں ترے آگے ناچار  
منع کردے کوئی بیکس کو نہ مارے تلوار  
گھر میں جو کچھ زر و زیور ہے، وہ لادوں گی میں  
جان بابا کی بچے گی تو دعا دوں گی میں  

[46](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/07/46)

بھیڑ میں مجھ کو نظر آتے نہیں بابا جاں  
اتنا کہہ دے کہ سرک جائیں یہ سب بے ایماں  
گرد پھر پھر کے، میں ہوں اپنے پدر کے قرباں  
جا کے دیکھوں گی، بدن پر ہیں لگے زخم کہاں  
دمِ آخر تو بھلا کام میں آؤں ان کے  
اپنے کرتے سے لہو منہ کا چھڑاؤں ان کے  

[47](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/07/47)

کتنا کہتی رہی وہ بنتِ شۂ عرشِ جناب  
اس ستمگر نے دیا کچھ نہ سکینہؔ کو جواب  
پیٹ کر سر کہا زینبؔ نے کہ او خانہ خراب  
تجھ کو آتا نہیں کچھ روحِ پیمر سے حجاب  
ظلم مت کر اسد اللہ کی جائی ہوں میں  
ننگے سر پردے سے باہر نکل آئی ہوں میں  

[48](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/07/48)

میری اماں کا ہے مشہور جہاں میں پردا  
بعدِ رحلت بھی جنازہ نہ کسی نے دیکھا  
اس کی بیٹی ہوں، ترے ظلم سے ، یہ وقت پڑا  
سر برہنہ ہوں، گریباں بھی ہے کرتے کا پھٹا  
منہ کو اللہ و پیمبر سے چھپاتا ہے تو  
میں تو فریادی ہوں، اور آنکھ چراتا ہے تو  

[49](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/07/49)

مارا جاتا ہے ترے سامنے زہراؔ کا پسر  
دیکھتا ہے تو یہ تلواریں ہیں پڑتی کس پر  
تیر کس کو لگے غربال ہوا کس کا جگر  
ذبحِ کرنے کو کسے کھینچے ہے ظالم خنجر  
دلِ زہرا، جگر شیرِ خدا، کٹتا ہے  
ظلم سے تیرے، محمدؔ کا گلا کٹتا ہے  

[50](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/07/50)

قتل مظلوم کو کیوں کرتا ہے، بے جرم و گناہ  
اب تلک میں نے بہت صبر کیا ہے واللہ  
دل جلی ہوں میں ابھی سینے سے کھینچوں گر آہ  
تو بی جل جائے، تری فوج بھی ہو خاک سیاہ  
بد دعا دوں میں تو نازل ابھی آفت ہووے  
سر کے بالوں کو جو کھولوں تو قیامت ہووے  

[51](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/07/51)

غش میں حضرت نے سنے جبکہ یہ زینبؔ کے سخن  
کھول کر دیدۂ پرخوں کو اٹھائی گردن  
دیکھا سر ننگے کھڑی روتی ہیں مقتل میں بہن  
بنتِ زہراؔ کو پکارے یہ شہنشاہِ زمن  
کیا کیا تم نے کہ پردے سے کھلے سر نکلیں  
جیتے جی میرے سر پردے سے باہر نکلیں  

[52](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/07/52)

کس کو سمجھاتی ہو، کوئی نہ سنے گا فریاد  
باز آئے گا نہیں، قتل سے میرے جلاد  
جتنا تم پیٹتی ہو، اور لعیں ہوتے ہیں شاد  
حشر کے روز خدا دیوے گا اس خون کی داد  
شوق مرنے کا ہے، سر تن سے جدا ہونے دو  
جاؤ گھر میں، مجھے امت پہ فدا ہونے دو  

[53](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/07/53)

گود میں میری سکینہؔ کو اٹھاؤ ہمشیر  
کوئی اصغر کی طرح مار نہ بیٹھے اسے تیر  
پھر یہ بیٹی کو پکارے ترے صدقے شبیرؔ  
تو بھی جا ساتھ پھوپھی جان کے اب اے دلگیر  
وقتِ طاعت ہے ذرا یادِ خدا کر لیویں  
ہم بھی اب آتے ہیں، سجدے کو ادا کر لیویں  

[54](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/07/54)

کہہ کے یہ غش ہوئے پھر رن میں شہنشاہ امم  
شمرِ اظلم نے رکھا، سینۂ اقدس پہ قدم  
جگرِ فاطمہؔ زہرا پہ چلی تیغِ دو دم  
آگے زینبؔ کے ہوئے ذبح حسینؔ آہ ستم  
پیٹ کر بنت شہنشاہِ زمن رونے لگی  
باپ کو بیٹی، برادر کو بہن رونے لگی  

[55](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/07/55)

فتح کا فوج مخالف میں بجا نقارا  
غل ہوا قتل ہوا شیر خدا کا پیارا  
بس انیسؔ اب نہیں گویائی کا مجھ کو یارا  
غم سے خوں ہو گیا سینہ میں کلیجا سارا  
کس سے اس درد و مصیبت کا بیاں ہوتا ہے  
آنکھیں روتی ہیں قلم روتا ہے دل روتا ہے  

### یارب چمنِ نظم کو گلزارِ اِرم کر

https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/08

[1](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/08/1)

یارب چمنِ نظم کو گلزارِ اِرم کر  
اے ابرِ کرم خشک زراعت پہ کرم کر  
تو فیض کا مبدا ہے توجہ کوئی دَم کر  
گمنام کو اعجاز بیانوں میں رقم کر  
جب تک یہ چمک مہر کے پر تو سے نہ جائے  
اقلیم سخن میرے قلم رَو سے نہ جائے  

[2](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/08/2)

اس باغ میں چشمے ہیں ترے فیض کے جاری  
بلبل کی زباں پر ہے تری شکر گزاری  
ہر نخل برومند ہے یا حضرتِ باری  
پھل ہم کو بھی مل جائے ریاضت کا ہماری  
وہ کل ہوں عنایت چمن طبعِ نِکو کو  
بلبل نے بھی سونگھا نہ وہ جن پھولوں کی بو کو  

[3](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/08/3)

غواص طبیعت کو عطا کر وہ لالیٰ  
ہو جن کی جگہ تاجِ سرِ عرش پہ خالی  
ایک ایک لڑی نظمِ ثریا سے ہو عالی  
عالم کی نگاہوں سے گرے قطبِ شمالی  
سب ہوں دریکتا نہ علاقہ ہو کسی سے  
نذر ان کی یہ ہوں گے جنہیں رشتہ ہے نبی سے  

[4](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/08/4)

بھر دے درِ مقصود سے اس درجِ وہاں کو  
دریائے معانی سے بڑھا طبع رواں کو  
آگاہ کر اندازِ تکلم سے زباں کو  
عاشق ہو فصاحت بھی وہ دے حسن بیاں کو  
تحسیں کا سموت سے غل تابہ سمک ہو  
ہرگوش بنے کانِ ملاحت وہ نمک ہو  

[5](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/08/5)

تعریف میں چشمے کو سمندر سے ملا دوں  
قطرے کو جو دوں آپ تو گوہر سے ملا دوں  
ذرے کی چمک مہرِ منور سے ملا دوں  
خاروں کو نزاکت میں گلِ تر سے ملا دوں  
گلدستۂ معنی کو نئے ڈھنگ سے باندھوں  
اک پھول کا مضموں ہو تو سو رنگ سے باندھوں  

[6](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/08/6)

گر بز کی جانب ہو توجہ دمِ تحریر  
کھنچ جائے ابھی گلشنِ فردوس کی تصویر  
دیکھے نہ کبھی صحبت انجم فلک پیر  
ہوجائے ہوا بزمِ سلیماں کی بھی توقیر  
یوں تختِ حسینان معانی اتر آئے  
ہر چشم کو پریوں کا اکھاڑا نظر آئے  

[7](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/08/7)

ساقی کے کرم سے ہو وہ دور اور چلیں جام  
جس میں عوضِ نشہ ہو کیفیت انجام  
ہر مست، فراموش کرے گردشِ ایام  
صوفی کی زباں بھی نہ رہے فیض سے ناکام  
ہاں بادہ کشو پوچھ لو میخانہ نشیں سے  
کوثر کی یہ موج آ گئی ہے خلدِ بیرں سے  

[8](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/08/8)

آؤں طرفِ رزم ابھی چھوڑ کے جب بزم  
خیبر کی خبر لائے مری طبعِ اولو العزم  
قطعِ سرِ اعداد کا ارادہ ہو جو بالجزم  
دکھلائے یہں سب کو زباں معرکۂ رزم  
جل جائیں عدد آگ بڑھکتی نظر آئے  
تلوار پہ تلوار چمکتی نظر آئے  

[9](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/08/9)

مصرع ہوں صف آرا سفتِ لشکرِ جرار  
الفاظ کی تیزی کو نہ پہونچے کوئی تلوار  
نقطے ہوں جو ڈھالیں تو الفِ خنجر خونخوار  
مَد آگے بڑھیں برچھیوں کو تول کے اک بار  
غل ہو کبھی یوں فوج کو لڑتے نہیں دیکھا  
مقتل میں رن ایسا کبھی پڑتے نہیں دیکھا  

[10](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/08/10)

ہو ایک زباں ماہ سے تامسکن ماہی  
عالم کو دکھا دے برشِ سیفِ الہٰی  
جرأت کا دھنی تو ہے یہ چلائیں سپاہی  
لاریب ترے نام پہ ہے سکۂ شاہی  
ہر دم یہ اشارہ ہو دوات اور قلم کا  
تو مالک و مختار ہے اس طبل و علم کا  

[11](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/08/11)

تائید کا ہنگام ہے یا حیدرؑ صفدر  
امداد ترا کام ہے یا حیدرؑ صفدر  
تو صاحبِ اکرام ہے یا حیدرؑ صفدر  
تیرا بھی کرم عام یا حیدرؑ صفدر  
تنہا ترے اقبال سے شمشیر بکف ہوں  
سب ایک طرف جمع ہوں میں ایک طرف ہوں  

[12](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/08/12)

نا قدریئ عالم کی شکایت نہیں مولا  
کچھ دفترِ باطل کی حقیقت نہیں مولا  
باہم گل و بلبل میں محبت نہیں مولا  
میں کیا ہوں کسی روح کو راحت نہیں مولا  
عالم ہے مکدر، کوئی دل صاف نہیں ہے  
اس عہد میں سب کچھ ہے پر انصاف نہیں ہے  

[13](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/08/13)

نیک و بدِ عالم کا تامل نہیں کرتے  
عارف کبھی اتنا بھی تجاہل نہیں کرتے  
خاروں کے لئے رخ طرفِ گل نہیں کرتے  
تعریف خوش الحانی بلبل نہیں کرتے  
خاموش ہیں، گو شیشہ دل چور ہوئے ہیں  
اشکوں کے ٹپک پڑنے سے مجبور ہوئے ہیں  

[14](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/08/14)

الماس سے بہتر یہ سمجھتے ہیں خذف کو  
در کو تو گھٹاتے ہیں، بڑھاتے ہیں صدف کو  
اندھیر یہ ہے چاند بتاتے ہیں کلف کو  
کھو دیتے ہیں شیشے کے لئے درِ نجف کو  
ضائع ہیں درو لعل بد خشاں و عدن کے  
مٹی میں ملاتے ہیں جواہر کو سخن کے  

[15](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/08/15)

ہے لعل و گہر سے یہ دہن کانِ جواہر  
ہنگامِ سخن کھلتی ہے، دکانِ جواہر  
ہیں بد مرضع تو ورق خواں جواہر  
دیکھے اسے، ہاں ہے کوئی خواہانِ جواہر  
بینائے رقومات ہنر چاہئے اس کو  
سودا ہے جواہر کا، نظر چاہئے اس کو  

[16](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/08/16)

کیا ہو گئے وہ جو ہریانِ سخن اک بار  
ہر وقت جو اس جنس کے رہتے تھے طلب گار  
اب ہے کوئی طالب نہ شناسا نہ خریدار  
ہے کون دکھائیں کسے یہ گوہرِ شہوار  
کس وقت یہاں چھوڑ کے ملکِ عدم آئے  
جب اٹھ گئے بازار سے گاہک تو ہم آئے  

[17](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/08/17)

خواہاں نہیں یا قوتِ سخن کا کوئی، گو آج  
ہے آپ کی سرکا تو یا صاحبِ معراج  
اے باعثِ ایجادِ جہاں، خلق کے سرتاج  
ہوجائے گا دم بھر میں غنی بندۂ محتاج  
امید اسی گھر کی، وسیلہ اسی اسی گھر کا  
دولت یہی میری، یہی توشہ ہے سفر کا  

[18](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/08/18)

میں کیا ہوں مری طبع ہے کیا اے شبہ ساہان  
حسان و فرزدق ہیں یہاں عاجز وحیراں  
شرمندہ زمانے سے گئے وامل و سحباں  
قاصر ہیں سخن فہم و سخن سنج و سخن داں  
کیا مدح کفِ خاک سے ہو نور خدا کی  
لکنت یہیں کرتی ہیں زبایں فصحا کی  

[19](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/08/19)

لا یعلم ولا علم کی کیا سحر بیانی  
حضرت پہ ہویدا ہے، مری ہیچ مدانی  
نہ ذہن میں جودت، نہ طبیعت میں روانی  
گویا ہوں، فقط ہے یہ تری فیض رسانی  
میں کیا ہوں فرشتوں کی طلاقت ہے تو کیا ہے  
وہ خاص یہ بندے ہیں کہ مداح خدا ہے  

[20](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/08/20)

تھا جوش کچھ ایسا ہی جو دعویٰ کیا میں نے  
خود سربہ گریباں ہوں کہ، یہ کیا کیا میں نے  
اک قطرۂ نا چیز کو دریا کیا میں نے  
تقصیر بحل کیجئے، بے جا کیا میں نے  
ہاں سچ ہے کہ اتنی بھی تعلّی نہ روا تھی  
مولا یہ کلیجے کے پھپھولوں کی دوا تھی  

[21](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/08/21)

مجرم ہوں، کبھی ایسی خطا کی نہیں میں نے  
بھولے سے بھی آپ اپنی ثنا کی نہیں میں نے  
دل سے کبھی مدحِ اُمرا کی نہیں میں نے  
تقلید کلامِ جہلا کی نہیں میں نے  
نازاں ہوں محبت پہ امامِ ازلی کی  
ساری یہ تعلّی ہے حمایت سے علیؑ کی  

[22](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/08/22)

ہر چند زباں کیا مری اور کیا مری تقریر  
دن رات وظیفہ ہے ثنا خوانئ شبیرؑ  
منظور ہے اک باب میں دو فصل کی تحریر  
مولا کی مدد کا متمنی ہے یہ دل گیر  
یہ فصل نئے رنگ سے کاغذ پہ رقم ہو  
اک بزم ہو شادی کی تو اک صحبتِ غم ہو  

[23](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/08/23)

شعباں کی ہے تاریخِ سویم روزِ ولادت  
اور ہے دہم ماہِ عزا یوم شہادت  
دونوں میں بہر حال ہے تحصیلِ سعادت  
وہ بھی عملِ خیر ہے یہ بھی ہے عبادت  
مدّاح ہوں کیا کچھ نہیں اس گھر سے ملا ہے  
کوثر ہے صلا اس کا بہشت اس کا صلا ہے  

[24](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/08/24)

مقبول ہوئی غرض، گنہ عفو ہوئے سب  
امید بر آئی مرا حاصل ہوا مطلب  
شامل ہوا افضالِ محمدؐ کرمِ رب  
ہوتے ہیں علم فوجِ مضامیں کے نشاں اب  
پستی پہ ہیں سب رکنِ رکیں دینِ متیں کے  
ڈنکے سے ہلا دیتا ہوں طبقوں کو زمیں کے  

[25](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/08/25)

نازاں ہوں عنایت پہ شہنشاہِ زمن کی  
بخشی ہے رضا جائزہ فوجِ سخن کی  
چہرے کی بحالی سے قبا چست ہے تن کی  
لو برطرفی پڑ گئی مضمون کہن کی  
اک فرد پرائی نہیں دفتر میں ہمارے  
بھرتی ہے نئی فوج کی لشکر میں ہمارے  

[26](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/08/26)

ہاں اے فلکِ پیر نئے سر سے جواں ہو  
اے ماہِ شبِ چار دہم نور فشاں ہو  
اے ظلمتِ غم دیدۂ عالم سے نہاں ہو  
اے روشنیِ صبح شبِ عید عیاں ہو  
شادی ہے ولادت کی یداللہ کے گھر میں  
خورشید اترتا ہے شہنشاہ کے گھر میں  

[27](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/08/27)

اے شمس و قمر، اور قمر ہوتا ہے پیدا  
نخلِ چمنِ دیں کا ثمر، ہوا ہے پیدا  
مخدومۂ عالم کا پسر، ہوتا ہے پیدا  
جو عرش کی ضو ہے، وہ گہر ہوتا ہے پیدا  
ہر جسم میں جاں آتی ہے مذکور سے جس کے  
نو نورِ خدا ہوں گے عیاں، نور سے جس کے  

[28](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/08/28)

اے کعبۂ ایماں، تری حرمت کے دن آئے  
اے رکنِ یمانی، تری شوکت کے دن آئے  
اے بیتِ مقدس، تری عزت کے دن آئے  
اے چشمۂ زمزم، تری چاہت کے دن آئے  
اے سنگِ حرم، جلوہ نمائی ہوئی تجھ میں  
اے کوہِ صفا، اور صفائی ہوئی تجھ میں  

[29](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/08/29)

اے یثرب و بطحا، ترے والی کی ہے آمد  
اے رتبۂ اعلیٰ، شہہ عالی کی ہے آمد  
عالم کی تغیری پہ بحالی کی ہے آمد  
کہتے ہیں چمن، ماہِ جلالی کی ہے آمد  
یہ خانۂ کعبہ کے مباہات کے دن ہیں  
یعقوبؑ سے یوسفؑ کی ملاقات کے دن ہیں  

[30](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/08/30)

اے ارضِ مدینہ، تجھے فوق اب ہے فلک پر  
رونق جو سما پر ہے، وہ اب ہوگی سمک پر  
خورشید ملا، تیرا ستارہ ہے، چمک پر  
صدقے گلِ تر ہے تری پھولوں کی مہک پر  
پر جس پہ فرشتوں کے بچھیں فرش وہی ہے  
جس خاک پہ ہو نورِ خدا عرش وہی ہے  

[31](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/08/31)

یا ختمِ رسل گوہرِ مقصود مبارک  
یا نورِ خدا رحمتِ معبود مبارک  
یا شاہِ نجف شادیِ مولود مبارک  
یا خیرالنساؑ ، اخترِ مسعود مبارک  
رونق ہو سدا نور دوبالا رہے گھر میں  
اس ماہِ دو ہفتہ کا اجالا رہے گھر میں  

[32](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/08/32)

اے امتیو ہے یہ دم شکر گزاری  
ہر بار کرو سجدۂ شکریہِّ باری  
اللہ نے حل کردیا مشکل کو تمہاری  
فردیں عملِ زشت کی اب چاک ہیں ساری  
لکھے گئے بندوں میں ولی ابن ولی کے  
ناجی ہوئے صدقے سے حسینؓ ابن علیؓ کے  

[33](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/08/33)

اے ماہِ معظم ترے اقبال کے صدقے  
شوکت کے فدا عظمت و اجلال کے صدقے  
اتری برتک، فاطمہ کے لال کے صدقے  
جس سال یہ پیدا ہوئے اس سال کے صدقے  
قرباں سحر عید آگر ہو تو بجا ہے  
نو روز بھی اس شب کی بزرگی پر فدا ہے  

[34](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/08/34)

قربان شبِ جمعہ، شعبانِ خوش انجام  
پیدا ہوا جس شب کو محمدؐ کا گل اندام  
قائم ہوا دیں اور بڑھی رونقِ اسلام  
ہم پلّۂ صبحِ شبِ معراج تھی وہ شام  
خورشید کا اجلال و شرف بدر سے پوچھو  
کیا قدر تھی اس شب کی شبِ قدر سے پوچھو  

[35](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/08/35)

وہ نورِ قمر اور در افشانیئ انجم  
تھے جس کے سبب روشنی دیدۂ مردم  
وہ چہچہے رضواں کے، وہ حوروں کا تبسم  
آپس میں وہ ہنس ہنس کے فرشتوں کا تکلم  
میکال شگفتہ ہوئے جاتے تھے خوشی سے  
جبریل تو پھولوں نہ سماتے تھے خوشی سے  

[36](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/08/36)

روشن تھا مدینے ک اہر اک کوچہ و بازار  
جو راہ تھی خوشبو، جو محلہ تھا وہ گلزار  
کھولے ہوئے تھا آہوئے شب نافۂ تاتار  
معلوم یہ ہوتا تھا کہ پھولو کا ہے انبار  
گردوں کو بھی اک رشک تھا زینت پہ زمیں کی  
ہر گھر میں ہوا آتی تھی فردوس بریں کی  

[37](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/08/37)

کیا شب تھی وہ سعود و ہمایون و معظم  
رخ رحمتِ معبود کا تھ جانبِ عالم  
جبریل و سرافیل کو مہلت نہ تھی اک دم  
بالائے زمیں آتے تھے اور جاتے تھے باہم  
باشندوں کی یثرب کے خبر تھی نہ گھروں کی  
سب سنتے تھے آواز فرشتوں کے پروں کی  

[38](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/08/38)

تھیں فاطمہؓ بے چین ادھر دردِ شکم سے  
منہ فق تھا اور آنسو تھے رواں دیدۂ نم سے  
وابستہ تھی راحت جو اسی بی بی کے دم سے  
مضطر تھے علیؓ بنتِ پیمبرؐ کے الم سے  
آرام تھا اک دم نہ شہِ قلعہ شکن کو  
پھرتے تھے لگائے ہوئے چھاتی سے حسنؑ کو  

[39](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/08/39)

کرتے تھے دعا بادشہِ یثرب و بطحا  
راحم ہے تری ذاتِ مقدس مرے مولا  
زہرا ہے کنیز اور مرا بچہ ترا بندا  
آسان کر اے بار خدا مشکل زہرا  
نادار ہے اور فاقہ کش و زار و حزیں ہے  
مادر بھی تشفی کے لئے پاس نہیں ہے  

[40](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/08/40)

ناگاہ درِ حجرہ ہوا مطلع انوار  
دکھلانے لگے نو تجلی در و دیوار  
اسما نے علی سے یہ کہا دوڑ کے اک بار  
فرزند مبارک تمہیں یا حیدر کرار  
اسپند کرو فاطمہ کے ماہِ جبیں پر  
فرزند نہیں چاند یہ اترا ہے زمیں پر  

[41](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/08/41)

دیکھا نہیں اس طرح کا چہرا کبھی پیارا  
نقشہ ہے محمدؐ سے شہنشاہ کا سارا  
ماتھے پہ چمکتا ہے جلالت کا ستارا  
اللہ نے اس گھر میں عجب چاند اتارا  
تصویرِ رسولِ عربیؐ دیکھ رہے ہیں  
آنکھوں کی ہے گردش کہ بنی دیکھ رہے ہیں  

[42](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/08/42)

مژدہ یہ سنا احمدؐ مختار نے جس دم  
پس شکر کے سجدے کو گرے قبلۂ عالم  
آئے طرفِ خانۂ زہرا خوش و خرم  
فرمایا مبارک پسرائے ثانیِ مریم  
چہرہ مجھے دکھلادو مرے نورِ نظر کا  
ٹکڑا ہے یہ فرزندِ محمدؐ کے جگر کا  

[43](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/08/43)

کی عرض یہ اسما نے کہ اے خاصۂ داور  
نہلا لوں تو لے آؤں اسے حجرے سے باہر  
ارشاد کیا احمدِؐ مختار نے ہنس کر  
لے آ کہ نواسا ہے مرا طاہر و اطہر  
اس چاند کو تاجِ سرِ افلاک کیا ہے  
یہ وہ ہے، خدا نے جسے خود پاک کیا ہے  

[44](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/08/44)

میں اس سے ہوں اور مجھ سے ہے یہ تو نہیں باہر  
یہ نورِ الہٰی ہے یہ ہے طیب و طاہر  
اسرار جو مخفی ہیں وہ اب ہوئیں گے ظارہ  
یہ آیتِ ایماں ہے یہ ہے حجتِ باہِر  
بڑھ کر مدد سید لولاک کرے گا  
کفار کے قصے کو یہی پاک کرے گا  

[45](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/08/45)

جس دم یہ خبر مخبر صادق نے سنائی  
اسما اسے اک پارچۂ نرم پہ لائی  
بو اس گلِ تازہ کی محمدؐ نے جو پائی  
ہنسنے لگ، سرخی رخِ پرنور پہ آئی  
منہ چاند سا دیکھا جو رسولِؐ عربی نے  
لپٹا لیا چھاتی سے نواسے کو نبیؐ نے  

[46](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/08/46)

جاں اغئی یعقوبؑ نے یوسفؑ کو جو پایا  
قرآں کی طرح رحلِ دو زانو پہ بٹھایا  
منہ ملنے لگے منہ سے بہت پیار جو آیا  
بوسے لئے اور ہاتھوں کو آنکھوں سے لگایا  
دل ہل گیا کی جب کہ نظر سینہ و سر پر  
چوما جو گلا، چل گئی تلوار جگر پر  

[47](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/08/47)

جوش آیا تھا رونے کا مگر تھام کے رقت  
اس کان میں فرمائی اذاں اس میں اقامت  
حیدر سے یہ فرمایا کہ اے شاہِ ولایت  
کیوں تم نے بھی دیکھی مرے فرزند کی صورت  
پر نور ہے گھر، تو کو ملا ہے قمر ایسا  
دنیا میں کسی نے نہیں پایا پسر ایسا؂  

[48](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/08/48)

کیوں کر نہ ہو تم سا پدر اور فاطمہؓ سی ماں  
دو شمس و قمر کا ہے یہ اک نیر تاباں  
کی عرض یہ حیدر نے کہ اے قبلۂ ایماں  
حق اس پہ رکھے سایۂ پیغمبر ذی شاں  
اعلیٰ ہے وہ سب سے جو مقامِ شہ دیں ہے  
بندہ ہوں میں اور یہ بھی غلامِ شہ دیں ہے  

[49](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/08/49)

عالم میں ہے یہ سب برکت آپ کے دم سے  
سرسبزی دنیا ہے اسی ابر کرم سے  
تا عرش پہونچ جاتا ہے سر فیضِ قدم سے  
عزت ہے غلاموں کی شہنشاہ امم سے  
کچھ اس میں نہ زہرا کا ہے باعث نہ علی کا  
سب ہے یہ بزرگی کہ نواسا ہے نبی کا  

[50](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/08/50)

فرمانے لگے ہنس کے شہِ یثرب و بطحا  
بھائی کہو فرزند کا کچھ نام بھی رکھا  
کی عرض یہ حیدر نے کہ اے سید والا  
سبقت کروں میں حضرت پہ، یہ مقدور ہے میرا  
فرمایا کہ موقوف ہے یہ ربِّ عُلا پر  
میں بھی سبقت کر نہیں سکتا ہوں خدا پر  

[51](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/08/51)

بس اتنے میں نازل ہوئے جبریل خوش انجام  
کی عرض کہ فرماتا ہے یہ خالقِ علام  
پیارا ہے نہایت ہمیں زہرا کا گل اندام  
یا ختمِ رسل ہم نے ’’حسین‘‘ اس کا رکھا نام  
یہ حسن میں سردار حسینانِ زمن ہے  
مشتق ہے تو احسان سے تصغیر حسن ہے  

[52](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/08/52)

ح سے یہ اشارہ کہ یہ ہے حامیِ امت  
سمجھیں گے اسی سین کو سب سینِ سعادت  
یَ اس کی بزرگی میں یٰسین کی آیت  
ہے نون سے ظاہر کہ یہ ہے نورِ نبوت  
ناجی ہے وہ اس نام کو لے  
یہ حسن میں دس حصے زیادہ ہے حسن سے  

[53](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/08/53)

دو نور کے دریا کو جو ہم نے کیا اک جا  
تب اس سے ہوا گوہرِ نایاب یہ پیدا  
توقیر میں بے مثل، شجاعت میں ہے یکتا  
اب اور نہ ہو گا کوئی اس حسن کا لڑکا  
ہم جانتے ہیں جو نہیں ظاہر ہے کسی پر  
کام اس سے جو لینا ہے وہ ہے ختم اسی پر  

[54](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/08/54)

فیاض نے کونین کی دولت اسے دی ہے  
دی ہے جو علیؓ کو وہ شجاعت اسے دی ہے  
صبر اس کو عنایت کیا، عزت اسے دی ہے  
ان سب کے سوا اپنی محبت اسے دی ہے  
اعلیٰ ہے، معظم ہے، مکرم ہے، ولی ہے  
ہادی ہے، وفادار ہے، زاہد ہے سخی ہے  

[55](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/08/55)

جب کر چکے ذکرِ کرم مالکِ تقدیر  
جبریلؑ نے پاس آن کے دیکھا رخِ شپیرؐ  
کی صلِّ علیٰ کہہ کے محمدؐ سے یہ تقریر  
یا شاہ، یہ مہرو تو ہے صاف آپ کی تصویر  
جب کہ ہے زیارت پئے تسلیم جھکے ہیں  
اس نور کو ہم عرش پہ بھی دیکھ چکے ہیں  

[56](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/08/56)

ہے اس پہ ازل سے نظرِ رحمتِ معبود  
یہ پیشتر آدم سے بھی تھا عرش پہ موجود  
ہے ذاتِ خدا صاحبِ فیض و کرم وجود  
تھا خلق دو عالم سے یہی مطلب و مقصود  
مظلومی و غربت ہے عجب نام پہ اس کے  
سب روتے ہیں اور روئیں گے انجام پہ اس کے  

[57](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/08/57)

یہ ہے سبب تہنیت و تعزیت اس دم  
ہے شادی و غم گلشن ایجاد میں توام  
لپٹائے ہیں چھاتی سے جسے قبلۂ عالم  
بے جرم و خطا ذبح کریں گے اسے اظلم  
گر حشر بھی ہوگا تو یہ آفت نہ ٹلے گی  
سجدے میں چھری حلقِ مبارک پہ چلے گی  

[58](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/08/58)

ہوگا یہ محرم میں ستم اے شہہ ذی جاہ  
چھپ جائے گا آنکھوں سے اسی چاند میں یہ ماہ  
تاریخ دہم جمعہ کے دن عصر کے وقت آہ  
نیزے پہ چڑھائیں گے سرِ پاک کو گمراہ  
کٹ جائے جب سر تو ستم لاش پہ ہوں گے  
گھوڑوں کے قدم سینۂ صد پاش پہ ہوں گے  

[59](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/08/59)

چلائے محمد کہ میں بسمل ہوا بھائی  
اے وائے اخی کیا یہ خبر مجھ کو سنائی  
دل ہل گیا برچھی سی کلیجے میں در آئی  
یہ واقعہ سن کر نہ جئے گی مری جائی  
ممکن نہیں دنیا میں دوا زخمِ جگر کی  
کیوں کر کہوں زہرا سے خبر مرگِ پسر کی  

[60](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/08/60)

جس وقت سنی فاطمہؓ نے یہ خبرِ غم  
شادی میں دلادت کی بپا ہوگیا ماتم  
چلاتی تھی سرپیٹ کے وہ ثانیِ مریم  
بیٹی پہ چھری چل گئی یا سیدِ عالم  
خنجر کے تلے چاندسی تصویر کی گردن  
کٹ جائے گی ہے ہے مرے شپیر کی گردن  

[61](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/08/61)

ہے ہے کئی دن تک نہ ملے گا اسے پانی  
ہے ہے یہ سہے گا تعبِ تشنہ دہانی  
ہو جائیں گے اِک جان کے سب دشمنِ جانی  
ہے ہے مرا محبوب، مرا یوسفِ ثانی  
پیراہنِ صد چاک کفن ہووے گا اس کا  
سر نیزہ پہ اور خاک پہ تن ہوے گا اس کا  

[62](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/08/62)

صبر اپنا دکھانے کو یہ آئے ہیں جہاں میں  
یوں خلق سے جانے کو یہ آئے ہیں جہاں میں  
جنگل کے بسانے کو یہ آئے ہیں جہاں میں  
اماں کے رلانے کو یہ آئے ہیں جہاں میں  
ہم چاند سی صورت پہ نہ شیدا ہوئے ہوتے  
اے کاش مرے گھر میں نہ پیدا ہوئے ہوتے  

[63](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/08/63)

دنیا مجھے اندھیر ہے اس غم کی خبر سے  
شعلوں کی طرح آہ نکلتی ہے جگر سے  
دامن پہ ٹپکتا ہے لہو دیدۂ تر سے  
بس آج سفر کر گئی شادی مرے گھر سے  
جس وقت تلک جیتی ہوں ماتم میں رہوں گی  
مظلوم حسینؓ آج سے اس کو میں کہوں گی  

[64](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/08/64)

بیٹی کو یہ معلوم نہ تھا یا شہِ عالم  
بچھے گی زچہ خانے کے اندر صفِ ماتم  
اب دن ہے چھٹی کا مجھے عاشورِ محرم  
تارے بھی نہ دیکھے تھے کہ ٹوٹا فلک غم  
پوشاک نہ بدلوں گی نہ سر دھوؤں گی بابا  
چلے میں بھی چہلم کی طرح روؤں کی بابا  

[65](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/08/65)

حیدر ہے کہاں آ کے دلاسا نہیں دیتے  
زہراؓ کا برا حال ہے سمجھا نہیں دیتے  
اس زخم کا مرہم مجھے بتلا نہیں دیتے  
ہے ہے مجھے فرزند کا پرسا نہیں دیتے  
حجرے میں الگ بیٹھے ہیں کیوں چھوڑ کے گھر کو  
آواز تو سنتی ہوں کہ روتے ہیں پس کو  

[66](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/08/66)

پھر دیکھ کے فرزند کی صورت یہ پکاری  
اے میرے شہید اے مرے بیکس ترے واری  
ہاں بعد مرے ذبح کریں گے تجھے ناری  
بنتی ہوں ابھی سے میں عزادار تمہاری  
دل اور کسی شغل میں مصروف نہ ہو گا  
بس آج سے رونا مرا موقوف نہ ہو گا  

[67](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/08/67)

مرجائیگا تو تشنہ دہن ہائے حسینا  
ہو جائے گا ٹکڑے یہ بدن ہاے حسینا  
اک جان پپہ یہ رنج و محن ہائے حسینا  
کوئی تجھے دے گا نہ کفن ہائے حسینا  
گاڑیں گے نہ ظالم تنِ صد پاش کو ہے ہے  
رہواروں سے روندیں گے تری لاش کو ہے ہے  

[68](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/08/68)

فرمایا محمدؐ نے کہ اے فاطمہؓ زہرا  
کیا مرضیِ معبود سے بندے کا ہے چارہ  
خالق نے دیا ہے اسے تہ رتبۂ اعلیٰ  
جبریل سوا کوئی نہیں جاننے والا  
میں بھی ہوں فدا اس پہ کہ یہ فدیۂ رب ہے  
یہ لال ترا بخشش امت کا سبب ہے  

[69](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/08/69)

اس بات کا غم ہے اگر اے جانِ پیمبرؐ  
بے دفن و کفن رن میں رہے گا ترا دلبر  
جب قید سے ہووے گا رہا عابدِ مظطر  
تگربت میں اسے دفن کرے گا وہی آ کر  
ارواحِ رسولانِ زمن روئیں گی اس کو  
سر پیٹ کے زینب سی بہن روئیں گی اس کو  

[70](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/08/70)

جب چرخ پہ ہوئے گا عیاں ماہِ محرم  
ہر گھر میں بپا ہوے گی اک مجلسِ ماتم  
آئیں گے ملک عرش سے داں رونے کو باہم  
ماتم یہ وہ ماتم ہے کہ ہوگا نہ کبھی کم  
پر نور سدا اس کا عزا خانہ رہے گا  
خورشید جہاں گرد بھی پروانہ رہے گا  

[71](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/08/71)

کیا اوج ہے، کیا رتبہ ہے اس بزمِ عزا کا  
غل عرش سے ہے فرش تلک صلِّ علیٰ کا  
مشتاق ہے فردوزِ بریں یاں کی فضا کا  
پانی میں بھی ہے یاں کی مزا آبِ بقا کا  
دربارِ معلّیٰ ہے ولی ابنِ ولی کا  
جاری ہے یہ سب فیض حسینؓ ابن علی کا  

[72](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/08/72)

لوریاں سے بس اب مجلسِ ماتم کا بیاں ہے  
وہ فصل خوشی ختم ہوئی غم کا بیاں ہے  
مظلومیِ سلطانِ دو عالم کا بیاں ہے  
ہنگامۂ عاشورِ محرم کا بیاں ہے  
ہاں دیکھ لے مشتاق جو ہو فوجِ خدا کا  
لوبزم میں کھلتا ہے مرقع شہدا کا  

[73](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/08/73)

اے خضرِ بیابانِ سخن راہبری کر  
اے نیرِ تابانِ خرد جلوہ گری کر  
اے درد عطا لذتِ زخمِ جگری کر  
اے خوفِ الٰہی مجھے عصیان سے بری کر  
بندوں میں لکھا جاؤں امامِ ازلی کے  
آزاد ہوں صدقے میں حسینؓ ابن علیؓ کے  

[74](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/08/74)

قدسی کو نہیں بار، یہ دربار ہے کس کا  
فردوس کو ہے رشک یہ گلزار ہے کس کا  
سب جنسِ شفاعت ہے، یہ بازار ہے کس کا  
خود بکتا ہے یوسفؑ یہ خریدار ہے کس کا  
ملتی ہے کہاں مفت متاعِ حسن ایسی  
دیکھی نہیں انجم نے کبھی انجمن ایسی  

[75](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/08/75)

مجلس کا زہے نور خوشا محفلِ عالی  
حیدر کے محبوں سے کوئی جا نہیں خالی  
عاشق ہیں سب اس کے جو ہے کونین کا والی  
اثنا عشری، پنجتنی، شیعۂ غالی  
ششدر نہ ہو کیوں چرخ عجب جلوہ گری ہے  
یہ بزمِ عزا آج ستاروں سے بھری ہے  

[76](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/08/76)

ان میں جو مسن ہیں وہ پیمبر کے ہیں مہماں  
اور جو متوسط ہیں، وہ حیدر کے ہیں مہماں  
جو تازہ جواں ہیں، علی اکبر کے ہیں مہماں  
شیعوں کے پسر سب علی اصغر کے ہیں مہماں  
ہر خورد و کلاں عاشقِ شاہِ مدنی ہیں  
پانچ انگلیوں کی طرح یہ سب پنجتنی ہیں  

[77](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/08/77)

ارشادِ نبیؐ ہے کہ مددگار ہیں میرے  
فرماتے ہیں حیدر کہ یہ غم خوار ہیں میرے  
حضرت کا سخن ہے کہ عزادار ہیں میرے  
میں ان کا ہوں طالب یہ طلب گار ہیں میرے  
یہ آج اگر رو کے ہمیں یاد کریں گے  
ہم قبر میں ان لوگوں کی امداد کریں گے  

[78](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/08/78)

غم میں مرے بچوں کے یہ سب کرتے ہیں فریاد  
اللہ سلامت رکھے ان لوگوں کی اولاد  
بستی مرے شیعوں کی رہے خلق میں آباد  
یہ حشر کے دن آتشِ دوزخ سے ہوں آزاد  
مرتا ہے کوئی گر تو بکا کرتا ہوں میں بھی  
ان کے لئے بخشش کی دعا کرتا ہوں میں بھی  

[79](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/08/79)

مردم کے لئے واجب عینی ہے یہ زاری  
رونا ہی وسیلہ ہے شفاعت کا ہماری  
ہے وقتِ معین پہ ادا طاعتِ باری  
یہ خیر ہے وہ خیر جو ہر وقت ہے جاری  
رو لو کہ یہ وقت اور یہ صحبت نہ ملے گی  
جب آنکھ ہوئی بند تو مہلت نہ ملے گی  

[80](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/08/80)

مہلت جو اجل دے تو غنیمت اسے جانو  
آمادہ ہو رونے پہ، سعادت اسے جانو  
آنسو نکل آئیں تو عبادت اسے جانو  
ایذا ہو جو محفل میں تو راحت اسے جانو  
فاقے کئے ہیں دھوپ میں لب تشنہ رہے ہیں  
آقا نے تمہارے لئے کیا ظم سہے ہیں  

[81](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/08/81)

تکلیف کچھ ایسی نہیں سایہ ہے ہوا ہے  
پانی ہے خنک مروحہِ کش بادِ صبا ہے  
کچھ گرمیِ عاشورہ کا بھی حال سنا ہے  
سر پیٹنے کا وقت ہے ہنگامِ بکا ہے  
گذری ہے بیابان میں وہ گرمی شہِ دیں پر  
بھن جاتا تھا دانہ بھی جو گرتا تھا زمیں پر  

[82](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/08/82)

لوں چلتی تھی ایسی کہ جلے جاتے تھے اشجار  
تھا عنصرِ خاکی پہ گمانِ کرۂ نار  
پانی پہ دو دوام گرے پڑتے تھے ہر بار  
سب خلق تو سیراب تھی پیاسے شہِ ابرار  
خاک اڑ کے جمی جانی تھی زلفوں پہ قبا پر  
اس دھوپ میں سایہ بیھ نہ تھا نورِ خدا پر  

[83](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/08/83)

قطرے جو پسینے کے ٹپک پڑتے تھے ہر بار  
ثابت یہی ہوتا تھا کہ ہیں اخترِ سیار  
شاہد المِ فاقہ سے ہے زردیِ رخسار  
بے آبی سے اودے تھے لبِ لعل گہر بار  
رنیا میں ترستے رہے وہ آب رواں کو  
جن ہونٹوں نے چوما تھا محمدؐ کی زباں کو  

[84](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/08/84)

دنیا بھی عجب گھر ہے کہ راحت نہیں جس میں  
وہ گل ہے یہ گل بوئے محبت نہیں جس میں  
وہ دوست ہے یہ دوستِ مروت نہیں جس میں  
وہ شہد ہے یہ شہد حلاوت نہیں جس میں  
بے درد و الم شامِ غریباں نہیں گزری  
دنیا میں کسی کی کبھی یکساں نہیں گزری  

[85](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/08/85)

گودی ہے کبھی ماں کی کبھی قبر کا آغوش  
کل پیرہن اکثر نظر آتے ہیں کفن پوش  
سرگرمِ سخن ہے کبھی انساں کبھی خاموش  
گہہ تخ ہے اور گاہ جنازہ بسرِ دوش  
اک طور پہ دیکھا نہ جواں کو نہ مسن کو  
شب کو تو چھپر کھٹ میں ہیں تابوت مین دن کو  

[86](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/08/86)

شادی ہو کہ اندوہ ہو آرام ہو یا جور  
دنیا میں گزر جاتی ہے انساں کو بہر طور  
ماتم کی کبھی فصل ہے، عشرت کا کبھی دور  
ہے شادی و ماتم کا مرقع جو کرو غور  
کس باغ پہ آسیبِ خزاں آ نہیں جاتا  
گل کون سا کھلتا ہے جو مرجھا نہیں جاتا  

[87](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/08/87)

ہے عالمِ فانی کی عجب صبح عجب شام  
گہہ غم کبھی شادی کبھی ایذا کبھی آرام  
نازوں سے پلا فاطمہ زہراؓ کا گل اندام  
وا حسرت و دردا کہ وہ آغاز یہ انجام  
راحت نہ ملی گھر کے تلاطم سے دہم تک  
مظلوم نے فاقے کئے ہفتم سے دہم تک  

[88](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/08/88)

ریتی یہ عزیزوں کا مرقع تو ہے ابتر  
شہ کا ہے یہ نقشہ کہ میں تصویر سے ششدر  
فرزند نہ ملسم کے نہ ہمشیر کے دلبر  
قاسم ہیں نہ عباس نہ اکبر ہیں نہ اصغر  
سب نذر کو دربار پیمبر میں گئے ہیں  
رخصت کو اکیلے شہہ دیں گھر میں گئے ہیں  

[89](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/08/89)

منظور ہے پھر دیکھ لیں ہمشیر کی صورت  
پھر لے گئی ہے گھر میں سکینہ کی محبت  
سجاد سے کچھ کہتے ہیں اسرار امامت  
بانووے دو عالم سے بھی ہے آخری رخصت  
مطلوب ہے یہ زیبِ بدن رختِ کہن ہو  
تا بعد شہادت وہی ملبوسِ کفن ہو  

[90](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/08/90)

خیمے میں مسافر کا وہ آنا تھا قیامت  
ایک ایک کو چھاتی سے لگانا تھا قیامت  
آنا تو غنیمت تھا یہ جانا تھا قیامت  
تھوڑا سا وہ رخصت کا زمانہ تھا قیامت  
واں بین ادھر صبر و شکیبائی کی باتیں  
افسانۂ ماتم تھیں بہن بھائی کی باتیں  

[91](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/08/91)

حضرت کا وہ کہنا کہ بہن صبر کرو صبر  
امت کے لئے والدہ صاحب نے سہے جبر  
وہ کہتی تھی کیوں کر نہ میں روؤں صفتِ ابر  
تم پہنو کفن اور نہ بنے ہائے مری قبر  
لٹتے ہوئے اماں کا گھر ان آنکھوں سے دیکھوں  
ہے ہے تہِ خنجر تمہیں کن آنکھوں سے دیکھوں  

[92](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/08/92)

اس عمر میں تھوڑے غمِ جانکاہ اٹھائے  
اشک آنکھوں سے اماں کے جنازے پہ بہائے  
آنسو نہ تھمے تھے کہ پدر خوں میں نہائے  
ٹکڑے دلِ شبیر کے لگن میں نظر آئے  
حضرت کے سوا اب کوئی سر پر نہیں بھائی  
انساں ہوں کلیجہ مرا پتھر نہیں بھائی  

[93](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/08/93)

ہر شخص کو ہے یوں تو سفر خلق سے کرنا  
دشوار ہے اک آن مسافر کا ٹھہرنا  
ان آنکھوں سے دیکھا ہے بزرگوں کا گزرنا  
ہے سب سے سوا ہائے یہ مظلومی کا مرنا  
صدقے گئی یوں رن کبھی پڑتے نہیں دیکھا  
اک دن میں بھرے گھر کو اجڑتے نہیں دیکھا  

[94](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/08/94)

ہے ہے تمہیں لے کے میں کہاں چھپ رہوں بھائی  
لٹتی ہے مرے چار بزرگوں کی کمائی  
کس دشتِ پر آشوب میں قسمت مجھے لائی  
یارب کہیں مر جائے ید اللہ کی جائی  
زہراؓ کا پسر وقتِ جدائی مجھے روئے  
سب کو تو میں روئی ہوں یہ بھائی مجھے روئے  

[95](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/08/95)

زینب کی وہ زاری وہ سکینہ کا بلکنا  
وہ ننھی سی چھاتی میں کلیجے کا دھڑکنا  
وہ چاند سا منہ اور وہ بندے کا چمکنا  
حضرت کا وہ بیٹی کی طرف یاس سے تکنا  
حسرت سے یہ ظاہر تھا کہ معذور ہیں بی بی  
پیدا تھا نگاہوں سے کہ مجبور ہیں بی بی  

[96](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/08/96)

وہ کہتی تھی بابا ہمیں چھاتی سے لگاؤ  
فرماتے تھے شہ آؤ نہ جانِ پدر آؤ  
ہم کڑھتے ہیں لو آنکھوں سے آنسو نہ بہاؤ  
خوشبو تو ذرا گیسوئے مشکیں کو سنگھاؤ  
کوثر یہ ہے، تم بن نہیں آرام چچا کو  
ہم جاتے ہیں کچھ دیتی ہو پیغام چچا کو  

[97](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/08/97)

بی بی کہو کیا حال ہے اب ماں کا تمہاری  
کس گوشے میں بیٹھی ہیں کہاں کرتی ہیں زاری  
جب سے سوئے جنت گئی اکبر کی سواری  
دیکھا نہ انہیں گھر میں ہم آئے کئی باری  
تھی سب کی محبت انہیں بیٹے ہی کے دم تک  
کیا آخری رخصت کو بھی آئیں گی نہ ہم تک  

[98](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/08/98)

کس جا ہیں طلب ہم کو کریں یا وہی آئیں  
ممکن نہیں اب وہ ہمیں یا ہم انہیں پائیں  
کچھ ہم سے سنیں کچھ ہمیں حال اپنا بتائیں  
اک دم کے مسافر ہیں ہمیں دیکھ تو جائیں  
بعد اپنے یہ لوٹا ہوا گھر اور کٹے گا  
افسوس کہ اک عمر کا ساتھ آج چھٹے گا  

[99](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/08/99)

غش میں جو سنی بانوئے مضطر نے یہ تقریر  
ثابت ہو مرنے کو چلے حضرت شبیر  
سر ننگے اٹھی چھوڑ کے گہوارۂ بے شیر  
چلائی مجھے ہوش نہ تھا یا شہِ دل گیر  
جاں تن سے کوئی آن میں اب جاتی ہے آقا  
یہ خادمہ رخصت کے لئے آتی ہے آقا  

[100](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/08/100)

یہ سن کے بڑھے چند قدم شاہِ خوش اقبال  
قدموں پہ گری دوڑ کے وہ کھولے ہوئے بال  
تھا قبلۂ عالم کا بھی اس وقت عجب حال  
روتے تھے غضب آنکھوں پہ رکھے ہوئے رومال  
فرماتے تھے جانکاہ جدائی کا الم ہے  
اٹھو تمہیں روحِ علی اکبر کی قسم ہے  

[101](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/08/101)

وہ کہتی تھی کیوں کر میں اٹھوں اے مری سرتاج  
والی انہیں قدموں کی بدولت ہے مرا راج  
سر پر جو نہ ہوگا پسرِ صاحبِ معراج  
چادر کے لئے خلق میں جاؤں گی محتاج  
چھوٹے جو قدم مرتبہ گھٹ جائے گا میرا  
قربان گئی تخت الٹ جائے گا میرا  

[102](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/08/102)

یاں آئی میں جب خانۂ کسریٰ ہوا برباد  
وہ پہلی اسیری کی اذیت ہے مجھے یاد  
کی عقدہ کشائے دو جہاں نے مری امداد  
حضرت کے تصدق میں ہوئی قید سے آزاد  
لونڈی تھی، بہو ہو گئی زہراؓ و علیؓ کی  
قسمت نے بٹھایا مجھے مسند پہ نبیؐ کی  

[103](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/08/103)

چھبیس برس تک نہ چھٹا آپ کا پہلو  
اب ہجر ہے تقدیر میں یا سید خوش خو  
شب بھر رہے تکیہ سرِ اقدس کا جو بازو  
ہے ہے اسے اب رسی سے باندھیں گے جفا جو  
سر پر نہ ردا ہوگی تو مر جاؤں گی صاحب  
چھپنے کو میں جنگل میں کدھر جاؤں گی صاحب  

[104](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/08/104)

حضرت نے کہا کس کا سدا ساتھ رہا ہے  
ہر عاشق و معشوق نے یہ داغ سہا ہے  
دارِ محن اس دار کو داور نے کہا ہے  
ہر چشم سے خونِ جگر اس غم میں بہا ہے  
فرقت میں عجب حال تھا خالق کے ولی کا  
ساتھ آٹھ برس تک رہا زہراؓ و علیؓ کا  

[105](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/08/105)

سو سو برس اس گھر میں محبت سے رہے جو  
اس موت نے دم بھر میں جدا کر دیا ان کو  
کچھ مرگ سے چارہ نہیں اے بانوئے خوش خو  
ہے شاق فلک کو کہ رہیں ایک جگہ دو  
کس کس پہ زمانے نے جفا کی نہیں صاحب  
اچھوں سے کبھی اس نے وفا کی نہیں صاحب  

[106](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/08/106)

لازم ہے خدا سے طلبِ خیر بشر کو  
تھامے گا تباہی میں وہی رانڈ کے گھر کو  
آنا ہے تمہیں بھی وہیں جاتے ہیں جدھر کو  
وارث کی جدائی میں پٹکتے نہیں سر کو  
کھولے گا وہی رسی بندھے ہاتھ تمہارے  
سجاد سا بیٹا ہے جواں ساتھ تمہارے  

[107](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/08/107)

زینب کو تو دیکھو کہ ہیں کس دکھ میں گرفتار  
ایسا کوئی اس گھر میں نہیں بے کس و ناچار  
تنہا ہیں کہ بے جاں ہوے دو چاند سے دلدار  
دنیا سے گیا اکبرِ ناشاد ساغم خوار  
بیٹے بھی نہیں گود کاپالا بھی نہیں ہے  
ان کو تو کوئی پوچھنے والا بھی نہیں ہے  

[108](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/08/108)

یہ کہہ کے کچھ آہستہ کہا گوشِ پسر میں  
بیمار کے رونے سے قیامت ہو گئی گھر میں  
اندھیر زمانہ ہوا بانو کی نظر میں  
غش ہو گئی زینبؓ یہ اتھا درد جگر میں  
ٹھہر نہ گیا واں، شہِ والا نکل آئے  
تنہا گئے روتے ہوئے تنہا نکل آئے  

[109](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/08/109)

کچھ پڑھ کے پھرے جانبِ قبلہ شہہ بے پر  
کج کی طرفِ دوشِ یمیں گردنِ انور  
تھراتے ہوئے ہاتھوں پہ عمامے کو رکھ کر  
کی حق سے مناجات کہ اے خالقِ اکبر  
حرمت ترے محبوب کی دنیا میں بڑی ہے  
کر رحم کہ آل ان کی تباہی میں پڑی ہے  

[110](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/08/110)

یارب یہ ہے سادات کا گھر تیرے حوالے  
رانڈیں ہیں کئی کستہ جگر تیرے حوالے  
بیکس کا ہے بیمار پسر تیرے حوالے  
سب ہیں ترے دریا کے گہر تیرے حوالے  
عالم ہے غربت میں گرفتاری بلا ہوں  
میں تیری حمایت میں انہیں چھوڑ چلا ہوں  

[111](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/08/111)

میرے نہیں، بندے ہیں ترے اے مرے خالق  
بستی ہو کہ جنگل توہی حافظ تو ہی رازق  
باندھے ہیں کمر ظلم و تعدی پہ منافق  
نے دوست ہے دنیا، نہ زمانہ ہے موافق  
حرمت ہے ترے ہاتھ امامِ ازلی کی  
دو بیٹیاں، دو بہوئیں ہیں اس گھر میں علی کی  

[112](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/08/112)

میں یہ نہیں کہتا کہ اذیت نہ اٹھائیں  
یا اہلِ ستم آگ سے خیمے نہ جلائیں  
ناموس لٹیں قید ہوں اور شام میں جائیں  
مہلت مرے لاشے پہ بھی رونے کی نہ پائیں  
بیڑی میں قدم طوق میں عابد کا گلا ہو  
جس میں ترے محبوب کی امت کا بھلا ہو  

[113](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/08/113)

یہ کہہ کے گریبانِ مبارک کو کیا چاک  
اور ڈال لی پیراہن پر نور پہ کچھ خاک  
میت ہونے شبیر کفن بن گئی پوشاک  
بس فاتحۂ خیر پڑھا بادلِ غم ناک  
مڑکر نہ کسی دوست نہ غم خوار کو دیکھا  
پاس آئے تو روتے ہوئے رہوار کو دیکھا  

[114](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/08/114)

گردان کے دامن علی اکبر کو پکارے  
تھامو مرے گھوڑے کا رکاب اے مرے پیارے  
لختِ دلِ شبیر کدھر اس وقت سدھارے  
بھائی ہیں کہاں ہاتھ میں دیں ہاتھ ہمارے  
آتے نہیں مسلم کے جگر بند کہاں ہیں  
دونوں مری ہمشیر کے فرزند کہاں ہیں  

[115](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/08/115)

تنہائی میں اک ایک کو حضرت نے پکارا  
کون آئے کہ فردو میں تھا قافلہ سارا  
گھوڑے پہ چھڑا خود اسد اللہ کا پیارا  
اونچا ہوا افلاکِ امامت کا ستارا  
شوخی سے فرس پاؤں نہ رکھتا تھا زمیں پر  
غل تھا کہ چلا قطبِ زماں عرشِ بریں پر  

[116](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/08/116)

شبدیز نے چھل بل میں عجب ناز دکھایا  
ہر گام پہ طاؤس کا انداز دکھایا  
زیور نے عجب حسنِ خداداد دکھایا  
فتراک نے اوجِ پرِ پرواز دکھایا  
تھا خاک پہ اک پاؤں تو اک عرشِ بریں پر  
غل تھا کہ پھر اترا ہے براق آج زمیں پر  

[117](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/08/117)

اعداد کی زبانوں پر یہ حیرت کی تھی تقریر  
حضرت یہ رجز پڑھتے تھے تولے ہوئے شمشیر  
دیکھوں نہ مٹاؤ مجھے اے فرقۂ بے پیر  
میں یوسفِ کنعانِ رسالت کی ہوں تصویر  
واللہ تعلّی نہیں یہ کلمۂ حق ہے  
عالم کے مرقعے میں حسین ایک ورق ہے  

[118](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/08/118)

واللہ جہاں میں مرا ہمسر نہیں کوئی  
محتاج ہوں پر مجھ سا توانگر نہیں کوئی  
ہاں میرے سوا شافعِ محشر نہیں کوئی  
یوں سب ہیں مگر سبطِ پیمبر نہیں کوئی  
باطل ہے اگر دعویٰ اعجاز کرے گا  
کس بات پہ دنیا میں کوئی ناز کرے گا  

[119](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/08/119)

ہم وہ ہیں کہ اللہ نے کوثر ہمیں بخشا  
سرداریِ فردوس کا افسر ہمیں بخشا  
اقبالِ علی خلق پیمبر ہمیں بخشا  
قدرت ہمیں دی، زور ہمیں، زر ہمیں بخشا  
ہم نور ہیں گھر طورِ تجلا ہے ہمارا  
تختِ بنِ داؤد مصلا ہے ہمارا  

[120](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/08/120)

نانا وہ کہ ہیں جن کے قدم عرش کے سرتاج  
قوسینِ مکان، ختمِ رسل، صاحبِ معراج  
ماں ایسی کہ سب جس کی شفاعت کے ہیں محتاج  
باپ ایسا صنم خانوں کو جس نے کیا تاراج  
لڑنے کو اگر حیدر صفدر نہ نکلتے  
بت گھر سے خدا کے کبھی باہر نہ نکلتے  

[121](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/08/121)

کس جنگ میں سینے کو سپر کر کے نہ آئے  
کس مرحلۂ صعف کو سر کر کے نہ آئے  
کس فوج کی صف زیر و زبر کر کے نہ آئے  
تھی کون سی شب جس کو سحر کر کے نہ آئے  
تھا کون جو ایماں تہِ صمصام نہ لایا  
اس شخص کا سر لائے جو اسلام نہ لایا  

[122](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/08/122)

اصنام نہ کچھ کم تھے، نہ کفار تھے تھوڑے  
طاقت تھی کہ عزیٰ کو کوئی لات سے توڑے  
بد کیشوں نے سجدے بھی کئے ہاتھ بھی جوڑے  
بے توڑے وہ بت حیدر صفدر نے نہ چھوڑے  
کعبے کو صفا کردیا خالق کے کرم سے  
نکلے اسد اللہ اذاں دے کے حرم سے  

[123](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/08/123)

اس عہد میں مالک اسی تلوار کے ہم ہیں  
جرار پسر، حیدر کرار کے ہم ہیں  
فرزند محمدؐ سے جہاں دار کے ہم ہیں  
وارثِ شہِ لولاک کی سرکار کے ہم ہیں  
کچھ غیر کفن ساتھ نہیں لے کے گئے ہیں  
تابوت سکینہ بھی ہمیں دے کے گئے ہیں  

[124](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/08/124)

یہ فرق یہ عمامۂ سردارِ زمن ہے  
یہ تیغِ علی ہے یہ کمر بندِ حسن ہے  
یہ جوشنِ داؤد ہے جو حافظ تن ہے  
یہ پیراہنِ یوسفِ کنعانِ محن ہے  
دکھلائیں سند دستِ رسول عربیؐ کی  
یہ مہر سلیماں ہے، یہ خاتم ہے نبی کی  

[125](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/08/125)

دیکھو تو یہ ہے کون سے جرار کی تلوار  
کس شیر کے قبضے میں ہے کرار کی تلوار  
دریا نے بھی دیکھی نہیں اس دھار کی تلوار  
بجلی کی تو بجلی ہے یہ، تلوار کی تلوار  
قہر و غضب اللہ کا ہے کاٹ نہیں ہے  
کہتے ہیں اسے موت کا گھر گھاٹ نہیں ہے  

[126](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/08/126)

دم لے کہیں رک کر وہ روانی نہیں اس میں  
چلنے میں سبک تر ہے، گرانی نہیں اس میں  
جز حرفِ ظفر اور نشانی نہیں اس میں  
جل جاؤ گے سب آگ ہے پانی نہیں اس میں  
چھوڑے گی نہ زندہ اسے جو دشمن دیں ہے  
نابیں نہیں، غصے سے اجل چیں بہ جبیں ہے  

[127](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/08/127)

سب قطرے ہیں گر فیض کے دریا ہیں تو ہم ہیں  
ہر نقطۂ قرآں کے شناسا ہیں تو ہم ہیں  
حق جس کا ہے جامع وہ ذخیرہ ہیں تو ہم ہیں  
افضل ہیں تو ہم، عالم و دانا ہیں تو ہم ہیں  
تعلیم ملک عرش پہ تھا ورد ہمارا  
جبریل سا استاد ہے شاگرد ہمارا  

[128](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/08/128)

گر فیض ظہورِ شہِ لولاک نہ ہوتا  
بالائے زمیں گنبدِ افلاک نہ ہوتا  
کچھ خاک کے طبقے میں، بجز خاک نہ ہوتا  
ہم پاک نہ کرتے تو جہاں پاک نہ ہوتا  
یہ شور اذاں کا سحر و شام کہاں تھا  
ہم عرش پہ جب تھے تو یہ اسلام کہاں تھا  

[129](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/08/129)

محسن سے بدی ہے یہی احساں کا عوض واہ  
دشمن کے ہوا خواہ ہوئے دوست کے بد خواہ  
گمراہ کے بہکانے سے روکو نہ مری راہ  
لو اب بھی مسافر کو نکل جانے دو لِلّٰلہ  
مل جائے گی اک دم میں اماں رنج و بلا سے  
میں ذبح سے بچ جاؤں گا، تم قہر خدا سے  

[130](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/08/130)

بستی میں کہیں مسکن و ماوا نہ کروں گا  
یثرب میں بھی جانے کا ارادہ نہ کروں گا  
صابر ہوں کسی کا کبھی شکوا نہ کروں گا  
اس ظلم کا میں ذکر بھی اصلا نہ کروں گا  
رونا نہ چھٹے گا کہ عزیزوں سے چھپا ہوں  
جو پوچھے گا کہہ دوں گا کہ جنگل میں لٹا ہوں  

[131](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/08/131)

اعدا نے کہا قہرِ خدا سے نہیں ڈرتے  
ناری تو ہیں دوزخ کی جفا سے نہیں ڈرتے  
فریاد رسولِؐ دوسرا سے نہیں ڈرتے  
خاتونِ قیامت کی بکا سے نہیں ڈرتے  
ہم لوگ جدھر دولتِ دنیا ہے ادھر ہیں  
اللہ سے کچھ کام نہیں بندۂ زر ہیں  

[132](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/08/132)

حضرت نے کہا خیر خبردار صفوں سے  
آیا غضب اللہ کا ہشیار صفوں سے  
بجلی سا گزر جاؤں گا ہر بار صفوں سے  
کب پنجتنی رکتے ہیں دو چار صفوں سے  
عربت کے چلن دیکھ چکے، حرب کو دیکھو  
لو بندۂ زر ہو، تو مری ضرب کو دیکھو  

[133](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/08/133)

یاں گوشۂ عزلت، خمِ شمشیر نے چھوڑا  
واں سہم کے چلے کو ہر ایک تیر نے چھوڑا  
کس قہر سے گھر موت کی تصویر نے چھوڑا  
ساحل کو صفِ لشکرِ بے پیر نے چھوڑا  
عنقائے ظفر فتح کا در کھول کے نکلا  
شہباز اجل، صید کو، پر تول کے نکلا  

[134](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/08/134)

جلوہ کیا بدلی سے نکل کر مہِ نونے  
دکھلائے ہوا میں دوسر، اک شمع کی لو نے  
تڑپا دیا بجلی کو فرس کی تگ و دَو نے  
تاکاسپر مہر کو شمشیر کی ضو نے  
اعدا تو چھپانے لگے ڈھالوں پہ سروں کو  
جبریل نے اونچا کیا گھبرا کے پروں کو  

[135](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/08/135)

بالا سے جو آئی وہ بلا جانبِ پستی  
بس نیست ہوئی دم میں ستم گاروں کی بستی  
چلنے لگی یک دست جو شمشیر دو دستی  
معلوم ہوا لٹ گئی سب کفر کی بستی  
زور ان کے ہر اک ضرب میں اللہ نے توڑے  
ٹوٹیں جو صفیں بت اسد اللہ نے توڑے  

[136](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/08/136)

بجلی سی جو گِر کر صفِ کفار سے نکلی  
آواز بزن تیغ کی جھنکار سے نکلی  
گہہ ڈھال میں ڈوبی کبھی تلوار سے نکلی  
در آئی جو پیکاں میں تو سو فار سے نکلی  
تھے بند خطا کاروں پہ دا امن و اماں کے  
چلے بھی چھپے جاتے تھے گوشوں میں کماں کے  

[137](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/08/137)

افلاک پہ چمکی کبھی، سر پر کبھی آئی  
کوندی کبھی جوشن پی، سپر پر کبھی آئی  
گہہ پڑھ گئی سینہ پہ، جگر پر کبھی آئی  
تڑپی کبھی پہلو پہ، کبھی کمر پر کبھی آئی  
طے کر کے پھر کون سا قصہ تھا فرس کا  
باقی تھا جو کچھ کاٹ، وہ حصہ تھا فرس کا  

[138](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/08/138)

بے پاؤں جدھر ہاتھ سے چلتی ہوئی آئی  
ندی ادھر اک خوں کی ابلتی ہوئی آئی  
دم بھر میں سو سورنگ بدلتی ہوئی آئی  
پی پی کے لہو لعل اگلتی ہوئی آئی  
ہیرا تھا بدن، رنگ زمرد سے ہرا تھا  
جوہر نہ کہو پیٹ جواہر سے بھرا تھا  

[139](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/08/139)

زیبا تھا دمِ جنگ پر ی وش اسے کہنا  
معشوقِ بنی سرخ لباس اس نے جو پہنا  
اس اوج پہ وہ سر کو جھکائے ہوئے رہنا  
جوہر تھے کہ پہنے تھی دلہن پھولوں کا گہنا  
سیب چمنِ خلد کی بو باس تھی پھل میں  
رہتی تھی وہ شبیر سے دولہا کی بغل میں  

[140](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/08/140)

سر ٹپکے تو موج اس کی روانی کو نہ پہونچے  
قلزم کا بھی دھارا ہو تو پانی کو نہ پہونچے  
بجلی کی تڑپ شعلہ فشانی کو نہ پہونچے  
خنجر کی زباں تیغ زبانی کو نہ پہونچے  
دوزخ کی زبانوں سے بھی آنچ اس کی بری تھی  
برچھی تھی، کٹاری تھی، سر وہی تھی، چھری تھی  

[141](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/08/141)

موجود بھی ہر غول میں اور سب سے جدا بھی  
دم خم بھی، لگاوٹ بھی، صفائی بھی، ادا بھی  
اک گھاٹ پہ تھی آگ بھی، پانی بھی، ہوا بھی  
امرت کا بھی، ہلاہل بھی، مسیحا بھی، قضا بھی  
کیا صاحب جوہر تھی عجب ظرف تھا اس کا  
موقع تھا جہاں جس کا وہیں صرف تھا اس کا  

[142](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/08/142)

ہرڈھال کے پھولوں کو اڑاتا تھا پھل اس کا  
تھا لشکرِ باغی میں ازل سے عمل اس کا  
ڈر جاتی تھی منہ دیکھ کے ہر دم اجل اس کا  
تھا قلعۂ چار آئینہ، گویا عمل اس کا  
اس در سے گئی کھول کے وہ در نکل آئی  
گہہ صدر میں بیٹھی، کبھی باہر نکل آئی  

[143](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/08/143)

نیزوں پہ گئی برچھیوں والوں کی طرف سے  
جا پہونچی کماں داروں پہ پھالوں کی طرف سے  
پھر آئی سواروں کے رسالوں کی طرف سے  
منہ تیغوں کی جانب کیا ڈھالوں کی طرف سے  
بس ہو گیا دفتر نظری، نام و نسب کا  
لاکھوں تھے، تو کیا دیکھ لیا جائزہ سب کا  

[144](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/08/144)

پہونچی جو سپر تک تو کلائی کو نہ چھوڑا  
ہر ہاتھ میں ثاب کسی گھائی کو نہ چھوڑا  
شوخی کو، شرارت کو، لڑائی کو نہ چھوڑا  
تیزی کو، رکھائی کو، صفائی کو نہ چھوڑا  
اعضائے بدن قطع ہوئے جاتے تھے سب کے  
قینچی سی زباں چلتی تھی فقرے تھے غضب کے  

[145](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/08/145)

چار آئینہ والوں کو نہ تھا جنگ کا یارا  
چو رنگ تھے سینے تو کلیجہ تھا دو پارا  
کہتے تھے زرہ پوش نہیں جنگ کا یارا  
بچ جائیں تو جانیں کہ ملی جان دوبارہ  
جوشن کو سنا تھا کہ حفاظت کا محل ہے  
اس کی نہ خبر تھی کہ یہی دامِ اجل ہے  

[146](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/08/146)

بد کشی لڑائی کا چلن بھول گئے تھے  
نادک فگنی تیر فگن بھول گئے تھے  
سب حیلہ گری، عہد شکن بھول گئے تھے  
بے ہوشی میں ترکش کا دہن بھو گئے تھے  
معلوم نہ تھا جسم میں جاں ہے کہ نہیں ۃے  
چلاتے تھے قبضے میں کماں ہے کہ نہیں ہے  

[147](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/08/147)

ڈر ڈر کے قدِ راست سنانوں نے جھکائے  
دب دب کے سرِ عجز کمانوں نے جھکائے  
ہٹ ہٹ کے علم، رن میں جوانوں نے جھکائے  
سر خاک پہ گرگر کے نشانوں نے جھکائے  
غل تھا کہ پناہ، اب ہمیں یا شاہِ زماں دو  
پھیلائے تھے دامن کو، پھریرے، کہ اماں دو  

[148](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/08/148)

شہ کہتے تھے ہے باڑھ پہ دریا نہ رکے گا  
اس موج پہ آفت کا طمانچہ نہ رکے گا  
بے فتح و ظفر، دلبر زہرا نہ رکے گا  
تاغرق نہ فرعون ہو، موسیٰؑ نہ رکے گا  
ہے بحرِ غضب نام ہے قہر صمد اس کا  
رکنے کا نہیں شام تلک جزر و مد اس کا  

[149](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/08/149)

اس صف سے گئے بیچ سے اس غول کے نکلے  
جو فوج چھڑی منہ پہ اسے رول کے نکلے  
انبوہ سے یوں تیغِ دوسر تول کے نکلے  
گویا درِ خیبر کو، علی کھول کے نکلے  
دنیا جو بچی، روحِ محمدؐ کا سبب تھا  
شبیر اگر رحم نہ کرتے تو غضب تھا  

[150](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/08/150)

لڑتے تھے مگر غیظ سے رحمت تھی زیادہ  
شفقت بھی نہ کم تھی جو شجاعت تھی زیادہ  
نانا کی طرح خاطرِ امّت تھی زیادہ  
بیٹوں سے غلاموں کی محبّت تھی زیادہ  
تلوار نہ ماری جسے منہ موڑتے دیکھا  
آنسو نکل آئے جسے دم توڑتے دیکھا  

[151](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/08/151)

فرماتے تھے اعدا کو ترائی سے بھگا کر  
کیوں چھوڑ دیا گھاٹ کو، روکو ہمیں آ کر  
دعوت یونہی کرتے ہیں مسافر کو بلا کر؟  
ہم چاہیں تو پانی بھی پئیں نہر میں جا کر  
پر صبر کے دریا میں ہمیں پیاس نہیں ہے  
اب زہر یہ پانی ہے کہ عبّاس نہیں ہے  

[152](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/08/152)

بھولی نہیں اکبر کی ہمیں تشنہ دہانی  
وہ چاند سا رخ، وہ قد و قامت، وہ جوانی  
وہ سوکھے ہوئے ہونٹ، وہ اعجاز بیانی  
دکھلا کے زباں مانگتے تھے نزع میں پانی  
کس سے کہیں جو خونِ جگر ہم نے پیا ہے  
بعد ایسے پسر کے بھی، کہیں باپ جیا ہے؟  

[153](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/08/153)

یہ کہہ کے سکینہ کے بہشتی کو پکارے  
الفت ہمیں لے آئی ہے پھر پاس تمھارے  
لڑتے ہوئے آ پہنچے ہیں دریا کے کنارے  
عبّاس، غش آتا ہے ہمیں پیاس کے مارے  
اِن سوکھے ہوئے ہونٹوں سے ہونٹوں کو ملا دو  
کچھ مشک میں پانی ہو تو بھائی کو پلا دو  

[154](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/08/154)

لیٹے ہوئے ہو ریت میں کیوں منہ کو چھپائے  
اٹھو کہ سکینہ کو یہاں ہم نہیں لائے  
غافل ہو، برادر تمھیں کس طرح جگائے  
ہے عصر کا وقت، اے اسداللہ کے جائے  
خوش ہوں گا میں، آگے جو عَلم لے کے بڑھو گے  
کیا بھائی کے پیچھے نہ نماز آج پڑھو گے؟  

[155](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/08/155)

کہہ کر یہ سخن رونے لگا بھائی کو بھائی  
تلوار سے مہلت ستم ایجادوں نے پائی  
جس فوج نے رن چھوڑ دیا تھا وہ پھر آئی  
دو روز کے پیاسے یہ، گھٹا شام کی چھائی  
بارش ہوئی تیروں کی ولی ابنِ ولی پر  
سب ٹوٹ پڑے ایک حسین ابنِ علی پر  

[156](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/08/156)

کی شہ نے جو سینے پہ نظر پونچھ کے آنسو  
سب چھاتی سے تھے پہلوؤں تک تیر سہ پہلو  
ہر سمت سے تیغیں جو لگاتے تھے جفا جو  
سالم نہ کلائی تھی، نہ شانہ تھا، نہ بازو  
برگشتہ زمانہ تھا شہِ تشنہ گلُو سے  
پھل برچھیوں کے سرخ تھے سیّد کے لہو سے  

[157](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/08/157)

زخموں سے جو وہ دستِ مبارک ہوئے بیکار  
ہرنے پہ دھری شاہ نے سپر، میان میں تلوار  
بس کعبۂ ایماں کے قریب آ گئے کفّار  
مظلوم کو تیغیں جو لگانے لگے اک بار  
یوں شاہ کو گھیرے تھے پرے فوجِ ستم کے  
جس طرح صف آرا تھے صنم گرد حرم کے  

[158](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/08/158)

سجدے کی جگہ چھوڑی نہ تیروں نے جبیں پر  
تقدیر نے لکھّے کئی نقش ایک نگیں پر  
کثرت تھی جراحت کی رخِ قبلۂ دیں پر  
ہر جا خطِ شمشیر تھی قرآنِ مبیں پر  
تلواروں کے ٹکڑے تھے ہر اک جزوِ بدن پر  
مجموعہ پریشان تھا، سی پار تن پر  

[159](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/08/159)

حضرت کی یہ صورت تھی، فرس کا تھا یہ احوال  
منہ تیغوں سے زخمی تھا بدن تیروں سے غربال  
گھائل تھی جبیں، خون میں ڈوبی ہوئی تھی یال  
گردن کا وہ کینڈا نہ وہ شوخی تھی نہ وہ چال  
ہر سمت سے تیروں کا جو مینہ اس پہ پڑا تھا  
پر کھولے ہوئے دھوپ میں طاؤس کھڑا تھا  

[160](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/08/160)

جھک جاتے تھے ہرنے پہ جو غش میں شہِ ابرار  
منہ پھیر کے آقا کی طرف تکتا تھا راہوار  
چمکار کے فرماتے تھے شبیّرِ دل افگار  
اب خاتم جنگ ہے اے اسپِ وفادار  
اتریں گے بس اب تجھ سے چھٹا ساتھ ہمارا  
نہ پاؤں ترے چلتے ہیں، نہ ہاتھ ہمارا  

[161](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/08/161)

زخمی ہے، نہیں اب تری تکلیف گوارا  
گرتے ہیں سنبھلنے کا ہمیں بھی نہیں یارا  
کیا بات تری، خوب دیا ساتھ ہمارا  
آ پہنچا ہے منزل پہ ید اللہ کا پیارا  
تو جس میں پلا ہے وہ گھر اک دم میں لٹے گا  
بچپن کا ہمارا ترا اب ساتھ چھٹے گا  

[162](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/08/162)

گھیرے ہیں عدو، خیمے تلک جا نہیں سکتے  
کھوئی ہے جو طاقت اسے اب پا نہیں سکتے  
مشکل ہے سنبھلنا، تجھے دوڑا نہیں سکتے  
پہلو ترے مجروح ہیں، ٹھکرا نہیں سکتے  
حیواں کو بھی دکھ ہوتا ہے زخموں کے تعب کا  
میں درد رسیدہ ہوں، مجھے درد ہے سب کا  

[163](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/08/163)

کس طرح دکھاؤں کہ ترے زخم ہیں کاری  
میں نے تو کسی دن تجھے قمچی نہیں ماری  
گھوڑے نے سنی درد کی باتیں جو یہ ساری  
دو ندّیاں اشکوں کی ہوئیں آنکھوں سے جاری  
حیواں کو بھی رقّت ہوئی اس لطف و کرم پر  
منہ رکھ دیا مڑ کر شہِ والا کے قدم پر  

[164](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/08/164)

گردن کو ہلایا کہ مسیحا، نہ اُتریے  
دم ہے ابھی مجھ میں مرے آقا، نہ اُتریے  
تلواریں لیے گرد ہیں اعدا، نہ اُتریے  
سب فوج چڑھی آتی ہے مولا، نہ اُتریے  
اے وائے ستم صدر نشیں خاک نشیں ہو  
حسرت ہے کہ مر جاؤں تو خالی مری زیں ہو  

[165](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/08/165)

شہ نے کہا، تا چند مسافر سے مَحبّت  
وہ تو نے کیا، ہوتا ہے جو حقِ رفاقت  
بتلا تو سنبھلنے کی بھلا کون ہے صورت  
نہ ہاتھ میں، نہ پاؤں میں نہ قلب میں طاقت  
بہتر ہے کہ اتروں، نہیں تیورا کے گروں گا  
پھٹ جائیں گے سب زخم جو غش کھا کے گروں گا  

[166](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/08/166)

ہے عصر کا ہنگام، مناسب ہے اترنا  
اس خاک پہ ہے شکر کا سجدہ ہمیں کرنا  
گو مرحل صعب ہے دنیا سے گزرنا  
سجدے میں کٹے سر کہ سعادت ہے یہ مرنا  
طاعت میں خدا کی نہیں صرفہ تن و سر کا  
ذی حق ہیں ہمیں اس کے کہ ورثہ ہے پدر کا  

[167](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/08/167)

اترا یہ سخن کہہ کے وہ کونین کا والی  
خاتم سے نگیں گر گیا، زیں ہو گیا خالی  
اس دکھ میں نہ یاور تھے، نہ مولا کے موالی  
خود ٹیک کے تلوار کو سنبھلے شہِ عالی  
کپڑے تنِ پُر نور کے سب خوں میں بھرے تھے  
اک ہاتھ کو راہوار کی گردن پہ دھرے تھے  

[168](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/08/168)

منہ یال پہ رکھ رکھ کے یہ فرماتے تھے ہر بار  
جا ڈیوڑھی پہ اے صاحبِ معراج کے راہوار  
اب ذبح کریں گے ہمیں اک دم میں ستمگار  
زینب سے یہ کہنا کہ سکینہ سے خبردار  
رہنا وہیں جب تک مرا سر تن سے جدا ہو  
لے جائیو بانو کو جدھر حکمِ خدا ہو  

[169](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/08/169)

یہ کہہ کے جو سرکا اسداللہ کا جایا  
اک تیر جبیں پر بنِ اشعث نے لگایا  
فریاد نے زہرا کی دو عالم کو ہلایا  
پیکانِ سہ پہلو عقبِ سر نکل آیا  
تڑپے نہ، زہے صبر امامِ دو جہاں کا  
سوفار نے بوسہ لیا سجدے کے نشاں کا  

[170](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/08/170)

حضرت نے جبیں سے ابھی کھینچا نہ تھا وہ تیر  
جو سر پہ لگی تیغِ بنِ مالکِ بے پیر  
ابرو تک اتر کر جو اٹھی ظلم کی شمشیر  
سر تھام کے بس بیٹھ گئے خاک پہ شبّیر  
چلّائے ملک دیکھ کے خوں سبطِ نبی کا  
تھا حال یہی مسجدِ کوفہ میں علی کا  

[171](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/08/171)

بیٹھے جو سوئے قبلہ دو زانو شہِ بے پر  
جھکتے تھے کبھی غش میں اٹھاتے تھے کبھی سر  
تھے ذکرِ خدا میں کہ لگا تیر دہن پر  
یاقوت بنے ڈوب کے خوں میں لبِ اطہر  
بہہ آیا لہو تا بہ زنخدانِ مبارک  
ٹھنڈے ہوئے دو گوہرِ دندانِ مبارک  

[172](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/08/172)

نیزے کا بنِ وہب نے پہلو پہ کیا وار  
کاندھے پہ چلی ساتھ زرارہ کی بھی تلوار  
ناوک بنِ کامل کا کا کلیجے کے ہوا پار  
بازو میں در آیا تبرِ خولیِ خونخوار  
تلوار سے وقفہ نہ ملا چند نَفَس کا  
دم رک گیا نیزہ جو لگا ابنِ انَس کا  

[173](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/08/173)

تھرّا کے جھکے سجدۂ حق میں شہِ ابرار  
شورِ دہلِ فتح ہوا فوج میں اک بار  
خوش ہو کے پکارا پسرِ سعد جفا کار  
اے خولی و شیث و بنِ ذی الجوشنِ جرّار  
آخر ہے بس اب کام امامِ ازلی کا  
سر کاٹ لو سب مل کے حسین ابنِ علی کا  

[174](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/08/174)

لکھتا ہے یہ راوی کہ بپا ہو گیا محشر  
بارہ ستم ایجاد بڑھے کھینچ کے خنجر  
اک سیّدہ نکلی درِ خیمہ سے کھلے سر  
برقع تھا، نہ مقنع تھا، نہ موزے تھے نہ چادر  
چلّائے لعیں خوف سے ہاتھ آنکھوں پہ دھر کے  
لو فاطمہ آتی ہے بچانے کو پسر کے  

[175](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/08/175)

ہلتا تھا فلک، ہاتھوں سے جب پیٹتی تھی سر  
بجلی کی طرح کوندتے تھے کانوں کے گوہر  
فرماتی تھیں، فِضّہ جو اڑھا دیتی تھی مِعجَر  
فریادی ہوں، فریادی کو زیبا نہیں چادر  
سر ننگے یونہی جاؤں میں روضے پہ نبی کے  
پردہ تو گیا ساتھ حسین ابنِ علی کے  

[176](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/08/176)

اُس بھیڑ میں آ کر وہ ضعیفہ یہ پکاری  
اے سبطِ نبی، ابنِ علی، عاشقِ باری  
گھوڑا تو ہے کوتل، کدھر اتری ہے سواری  
بھیّا، بہن آئی ہے زیارت کو تمھاری  
مر جاؤں گی حضرت کو جو پانے کی نہیں میں  
بے آپ کے دیکھے ہوئے جانے کی نہیں میں  

[177](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/08/177)

اُس وقت شہِ دیں نے سنی زاریِ خواہر  
جس وقت کہ تھا حلقِ مبارک تہِ خنجر  
فرمایا اشارے سے کہ اے شمرِ ستم گر  
زینب نکل آئی ہے، ٹھہر جا ابھی دم بھر  
آخر تو سفر ہوتا ہے اس دارِ محن سے  
دو باتیں تو کر لینے دے بھائی کو بہن سے  

[178](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/08/178)

منہ پھیر لیا شمر نے خنجر کو ہٹا کے  
دی شہ نے یہ زینب کو صدا اشک بہا کے  
تڑپاتی ہو بھائی کو بہن بلوے میں آ کے  
دیکھو گی کِسے، ہم تو ہیں پنجے میں قضا کے  
اٹھ سکتے نہیں جسم پہ تلواریں پڑی ہیں  
گھبراؤ نہ، امّاں مرے پہلو میں کھڑی ہیں  

[179](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/08/179)

جاؤ صفِ ماتم پہ کرو گریہ و زاری  
گھر سے نکل آئے نہ سکینہ مری پیاری  
فردوس سے آ پہنچی ہے نانا کی سواری  
بس اب نہ سنو گی بہن آواز ہماری  
رونا ہے تو رو لیجو مرے لاشے پہ آ کے  
ہٹ جاؤ کہ سر کٹتا ہے سجدے میں خدا کے  

[180](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/08/180)

دوڑی یہ صدا سن کے ید اللہ کی جائی  
چلّائی کہ دیدار تو میں دیکھ لوں بھائی  
پر ہائے، بہن بھائی تلک آنے نہ پائی  
یاں ہو گئی سیّد کے تن و سر میں جدائی  
قاتل کو نہ گردن کو نہ شمشیر کو دیکھا  
پہنچیں تو سناں پر سرِ شبّیر کو دیکھا  

[181](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/08/181)

سر دیکھ کے بھائی کا وہ بے کس یہ پکاری  
دکھ پائی بہن آپ کی مظلومی کے واری  
خنجر سے یہ گردن کی رگیں کٹ گئیں ساری  
تم مر گئے پوچھے گا خبر کون ہماری  
آفت میں پھنسی آل رسولِ عَرَبی کی  
اب جائیں کہاں بیٹیاں زہرا و علی کی  

[182](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/08/182)

ہے ہے، پسرِ صاحبِ معراج حُسینا  
پردیس میں بیووں کا لٹا راج حُسینا  
گویا کہ علی قتل ہوئے آج حُسینا  
ہے ہے، کفن و گور کے محتاج حُسینا  
پرسا بھی ترا دینے کو آتا نہیں کوئی  
لاشا بھی زمیں پر سے اٹھاتا نہیں کوئی  

[183](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/08/183)

قربان بہن، اے مرے سرور، مرے سیّد  
مذبوحِ قفا کشت خنجر، مرے سیّد  
اے فاقہ کش و بیکس و بے پر، مرے سیّد  
پنجے میں ہے قاتل کے ترا سر، مرے سیّد  
دیتے ہو صدا کچھ، نہ بلاتے ہو بہن کو  
کس یاس سے تکتے چلے جاتے ہو بہن کو  

[184](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/08/184)

بھیّا، مرا کوئی نہیں، تم خوب ہو آگاہ  
احمد ہیں، نہ زہرا، نہ حَسن ہیں نہ یداللہ  
ڈھارس تھی بڑی آپ کی اے سیّدِ ذی جاہ  
چھوڑا مجھے جنگل میں یہ کیا قہر کیا، آہ  
چلتے ہوئے کچھ مجھ سے نہ فرما گئے بھائی  
بھینا کو نجف تک بھی نہ پہنچا گئے بھائی  

[185](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/08/185)

اے میرے شہید اے مرے ماں جائے برادر  
کس سے ترا لاشہ بہن اٹھوائے برادر  
کس طرح مرے دل کو قرار آئے برادر  
پانی بھی نہ قاتل نے دیا ہائے برادر  
انساں پہ ستم یہ کبھی انساں نہیں کرتا  
حیواں کو بھی پیاسا کوئی بے جاں نہیں کرتا  

[186](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/08/186)

خاموش انیس اب کہ ہے دل سینے میں بے چین  
لکھّے نہیں جاتے جو زینب نے کیے بین  
اب حق سے دعا مانگ کہ اے خالقِ کونین  
حاسد ہیں بہت، دل کو عطا کر مرے تو چین  
ناحق ہے عداوت انھیں اس ہیچ مداں سے  
بے تیغ کٹے جاتے ہیں شمشیرِ زباں سے  

### نمک خوان تکلم ہے، فصاحت میری

https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/09

[1](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/09/1)

نمک خوان تکلم ہے، فصاحت میری  
ناطقے بند ہیں سن سن کے بلاغت میری  
رنگ اڑتے ہیں وہ رنگیں ہے عبارت میری  
شور جس کا ہے وہ دریا ہے طبیعت میری  
عمر گزری ہے اسی دشت کی سیاحی میں  
پانچویں پشت ہے شبیرؔ کی مداحی میں  

[2](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/09/2)

ایک قطرے کو جو دوں بسط تو قلزم کردوں  
بحر مواج فصاحت کا تلاطم کر دوں  
ماہ کو مہر کروں ذروں کو انجم کردوں  
گنگ کو، ماہر انداز تکلم کر دوں  
درد سر ہوتا ہے بے رنگ نہ فریاد کریں  
بلبلیں مجھ سے گلستاں کا سبق یاد کریں  

[3](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/09/3)

اس ثنا خواں کے بزرگوں میں ہیں کیا کیا مداح  
جدّ اعلیٰ سے نہ ہوگا کوئی اعلیٰ مداح  
باپ مداح کا مداح ہے دادا مداح  
عم ذی قدر ثنا خوانوں میں یکتا مداح  
جو عنایات الٰہی سے ہوا نیک ہوا  
نام بڑھتا گیا جب ایک کے بعد ایک ہوا  

[4](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/09/4)

طبع ہر ایک کی موزوں قد زیبا موزوں  
صورت سرو ازل سے ہیں سراپا موزوں  
نثربے سجع نہیں، نظم معلیٰ موزوں  
کہیں سکتہ نہیں آ سکتا، کجا ناموزوں  
تول لے عقل کی میزاں میں جو فہمیدہ ہے  
بات جو منہ سے نکلتی ہے وہ سنجیدہ ہے  

[5](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/09/5)

خلق میں مثل خلیق اور تھا خوش گو کوئی کب  
نام لے دھو لے زباں کوثر و تسنیم سے جب  
بلبل گلشن زہرا و علی عاشق رب  
متبع مرثیہ گوئی میں ہوئے جس کے سبب  
ہو اگر ذہن میں جودت ہے کہ موزونی ہے  
اس احاطے سے جو باہر ہے وہ بیرونی ہے  

[6](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/09/6)

بھائی خوش فکرت و خوش لہجہ و پاکیزہ خصال  
جن کا سینہ گہر علم سے ہے مالا مال  
یہ فصاحت، یہ بلاغت، یہ سلاست یہ کمال  
معجزہ گر نہ اسے کہیے تو ہے سحر حلال  
اپنے موقع پہ جسے دیکھیے لاثانی ہے  
لطف حضرت کا یہ ہے رحمت یزدانی ہے  

[7](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/09/7)

کیوں نہ ہو بندۂ موروثیٔ مولا ہوں میں  
قلزم رحمت معبود کا قطرہ ہوں میں  
جس میں لاکھوں در و مرجاں ہیں وہ دریا ہوں میں  
مدح خوانِ پسرِ حضرتِ زہرا ہوں میں  
وصف جوہر کا کروں یا صفت ذات کروں  
اپنے رتبے پہ نہ کیوں آپ مباہات کروں  

[8](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/09/8)

مبتدی ہوں مجھے توقیر عطا کر یارب  
شوقِ مداحیِٔ شپیر عطا کر یارب  
سنگ ہو موم وہ تقریر عطا کر یارب  
نظم میں رونے کی تاثیر عطاکر یا رب  
جد و آبا کے سوا اور کوئی تقلید نہ ہو  
لفظ مغلق نہ ہوں گنجلک نہ ہوں تعقید نہ وہ  

[9](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/09/9)

وہ مرقع ہو کہ دیکھیں اسے گر اہل شعور  
ہر ورق میں کہیں سایہ نظر آئے کہیں نور  
غل ہو یہ ہے کششِ مو قلم طرۂ حور  
صاف ہر رنگ سے ہو صنعت صانع کا ظہور  
کوئی ناظر جو یہ نایاب نظیریں سمجھے  
نقشِ ارژنگ کو کاواک لکیریں سمجھے  

[10](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/09/10)

قلمِ فکر سے کھینچوں جو کسی بزم کا رنگ  
شمعِ تصویر پہ گرنے لگیں آ آ کے پتنگ  
صاف حیرت زدہ مانیؔ ہو تو بہزادؔ ہو دنگ  
خوں برستا نظر آئے جو دکھاؤں صفِ جنگ  
رزم ایسی ہو کہ دل سب کے پھڑک جائیں ابھی  
بجلیاں تیغوں کی آنکھوں میں چمک جائیں ابھی  

[11](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/09/11)

روزمرہ شرفا کا ہو سلامت ہو وہی  
لب و لہجہ وہی سارا ہو متانت ہو وہی  
سامعیں جلد سمجھ لیں جسے، صنعت ہو وہی  
یعنی موقع ہو جہاں جس کا عبارت ہو وہی  
لفظ بھی چست ہوں مضمون بھی عالی ہووے  
مرثیہ درد کی باتوں سے نہ خالی ہووے  

[12](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/09/12)

ہے کجی عیب مگر حسن ہے ابرو کے لیے  
تیرگی بد ہے مگر نیک ہے گیسو کے لیے  
سرمہ زیبا ہے فقط نرگسِ جادو کے لیے  
زیب ہے خالِ سیۂ چہرۂ گلرو کے لیے  
داند آنکس کہ فصاحت بہ کلامے دارد  
ہر سخن موقع و ہر نکتہ مقامے دارد  

[13](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/09/13)

بزم کا رنگ جدا، رزم کا میداں ہے جدا  
یہ چمن اور ہے زخموں کا گلستاں ہے جدا  
فہم کامل ہو، تو ہر نامے کا عنواں ہے جدا  
مختصر پڑھ کے رلا دینے کا ساماں ہے جدا  
دبدبہ بھی ہو، مصائب بھی ہوں، توصیف بھی ہو  
دل بھی محفوظ ہوں، رقت بھی ہو تعریف بھی ہو  

[14](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/09/14)

ماجرا صبحِ شہادت کا بیان کرتا ہوں  
رنج و اندوہ و مصیبت کا بیاں کرتا ہوں  
تشنہ کاموں کی عبادت کا بیاں کرتا ہوں  
جاں نثاروں کی اطاعت کا بیاں کرتا ہوں  
جن کا ہمتا نہیں، ایک ایک مصاحب ایسا  
ایسے بندے نہ کبھی ہوں گے ، نہ صاحب ایسا  

[15](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/09/15)

صبح صادق کا ہوا چرخ پہ جس وقت ظہور  
زمزمے کرنے لگے یادِ الٰہی میں طیور  
مثلِ خورشید برآمد ہوئے خیمے سے حضور  
یک بیک پھیل گیا چار طرف دشت میں نور  
شش جہت میں رخِ مولا سے ظہور حق تھا  
صبح کا ذکر ہے کیا، چاند کا چہرہ فق تھا  

[16](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/09/16)

ٹھنڈی ٹھنڈی وہ ہوائیں وہ بیاباں وہ سحر  
دم بدم جھومتے تھے وجد کے عالم میں شجر  
اوس نے فرشِ زمرد پہ بچھائے تھے گہر  
لوٹی جاتی تھی لہکتے ہوئے سبزے پہ نظر  
دشت سے جھوم کے جب بادِ صبا آتی تھی  
صاف غنچوں کے چٹکنے کی صدا آتی تھی  

[17](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/09/17)

بلبلوں کی وہ صدائیں، وہ گلوں کی خوشبو  
دل کو الجھاتے تھے، سنبل کے وہ پر خم گیسو  
قمریاں کہتی تھیں شمشاد پہ یاہو یاہو  
فاختہ کی یہ صدا سرو پہ تھی ، کو کو کو  
وقت تسبیح کا تھا عشق کا دم بھرتے تھے  
اپنے معبود کی سب، حمد و ثنا کرتے تھے  

[18](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/09/18)

آئے سجادۂ طاعت پہ امامِ دو جہاں  
اس طرف طبل بجا یاں ہوئی لشکر میں اذاں  
وہ مصلی کہ زباں جن کی حدیث و قرآں  
وہ نمازی کہ جو ایماں کے تنِ پاک کی جاں  
زاہد ایسے تھے کہ ممتاز تھے، ابراروں میں  
عابد ایسے تھے کہ سجدے کیے تلواروں میں  

[19](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/09/19)

عرشِ اعظم کو ہلاتی تھیں دعائیں ان کی  
وجد کرتے تھے ملک، سن کے صدائیں ان کی  
وہ عمامے، وہ قبائیں، وہ عبائیں ان کی  
حوریں لیتی تھیں بصد شوق بلائیں ان کی  
ذکرِ خالق میں لب ان کے جو ہلے جاتے تھے  
غنچے فردوس کے شادی سے کھلے جاتے تھے  

[20](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/09/20)

کیا جوانانِ خوش اطوار تھے، سبحان اللہ  
کیا رفیقانِ وفادار تھے، سبحان اللہ  
صفدر و غازی و جرار تھے، سبحان اللہ  
زاہد و عابد و ابرار تھے، سبحان اللہ  
زن و فرزند سے فرقت ہوئی، مسکن چھوڑا  
مگر احمد کے نواسے کا نہ دامن چھوڑا  

[21](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/09/21)

اللہ اللہ عجب فوج عجب غازی تھے  
عجب اسوار تھے بے مثل، عجب تازی تھے  
لائقِ مدح و سزاوارِ سر افرازی تھے  
گو بہت کم تھے، پہ آمادۂِ جاں بازی تھے  
پیاس ایسی تھی کہ آ آ گئی جاں ہونٹوں پر  
صابر ایسے تھے کہ پھیری نہ زباں ہونٹوں پر  

[22](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/09/22)

زہد میں حضرت سلماںؔ کے برابر کوئی  
دولتِ فقر و قناعت میں ابوذرؔ کوئی  
صدقِ گفتار میں عمارؔ کا ہمسر کوئی  
حمزۂؔ عصر کوئی مالکِ اشترؔ کوئی  
ہوں گے ایسے ہی محمدؔ کے جو شیدا ہوں گے  
پھر جہاد ایسا نہ ہوگا، نہ وہ پیدا ہوں گے  

[23](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/09/23)

گو مصیبت میں تلاطم میں، تباہی میں رہے  
سرکٹے پاؤں مگر راہِ الٰہی میں رہے  
یوں سرافراز، وہ سب لشکرِ شاہی میں رہے  
جس طرح تیغِ دو دم دستِ سپاہی میں رہے  
اس مصیبت میں نہ پایا کبھی شاکی ان کو  
آبرو ساقیِٔ کوثر نے عطا کی ان کو  

[24](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/09/24)

وہ تخشع، وہ تضرع، وہ قیام اور وہ قعود  
وہ تذلل وہ دعائیں وہ رکوع اور وہ سجود  
یادِ حق دل میں، تو سوکھے ہوئے ہونٹوں پہ درود  
یہ دعا خالقِ اکبر سے کہ اے ربِ ودود  
یوں لٹیں ہم کہ، نہ آل اور نہ اولاد رہے  
مگر احمدؔ کے نواسے کا گھر آباد رہے  

[25](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/09/25)

موم فولاد ہو آوازوں میں وہ سوز و گداز  
اپنے معبود سے سجدوں میں عجب راز و نیاز  
سر تو سجادوں پہ تھے عرش معلی پہ نماز  
شیر دل منتخبِ دہر وحید و ممتاز  
چاند شرمندہ ہو، چہرے متجلی ایسے  
نہ امام ایسا ہوا پھر نہ مصلی ایسے  

[26](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/09/26)

جب فریضے کو ادا کر چکے وہ خوش کردار  
کس کے کمروں کو بصد شوق لگائے ہتھیار  
جلوہ فرما ہوئے گھوڑے پہ شۂ عرش وقار  
علمِ فوج کو عباس نے کھولا اک بار  
دشت میں نکہتِ فردوس بریں آنے لگی  
عرش تک اس کے پھریرے کی ہوا جانے لگی  

[27](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/09/27)

لہر وہ سبز پھریرے کی، وہ پنجے کی چمک  
شرم سے ابر میں چھپ جاتا تھا خورشید فلک  
کہتے تھے صلِ علیٰ چرخ پہ اٹھ اٹھ کے ملک  
دنگ تھے سب وہ سماں سے تھا سماں تا بہ فلک  
کہیے پستی اسے جو اوج ہما نے دیکھا  
وہ سماں پھر نہ کبھی ارض و سما نے دیکھا  

[28](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/09/28)

اس طرح جب علمِ دلبرِ زہرا جائے  
کس سے پھر معرکۂ رزم میں ٹھہرا جائے  
سانپ دشمن کی نہ کیوں چھاتی پہ لہرا جائے  
لہر میں تا بہ فلک جس کا پھریرا جائے  
رفع شر کو، علم خیر بشر آیا تھا  
سورۂ نصر پئے فتح و ظفر آیا تھا  

[29](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/09/29)

وہ علم دار کہ جو شیرِ الٰہی کا خلف  
گوہر بحرِ وفا، نیرِ دیں درِ نجف  
فخرحمزہؔ سے نمودار کا جعفرؔ کا شرف  
کس طرح چاند کہوں، چاند میں ہے عیب کلف  
کس نے پایا وہ جو تھا جاہ و حشم ان کے لیے  
یہ علم کے لیے تھے اور علم ان کے لیے  

[30](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/09/30)

سرو شرمائے، قد اس طرح کا، قامت ایسی  
اسد اللہ کی تصویر تھے، صورت ایسی  
شیر نعروں سے دہل جاتے تھے ، صولت ایسی  
جا کے پانی نہ پیا نہر پہ ہمت ایسی  
جان جب تک تھی اطاعت میں رہے بھائی کی  
تھے علم دار، مگر بچوں کی سقائی کی  

[31](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/09/31)

وہ بہشتی نے کیا، جس کو وفا کہتے ہیں  
ہم انہیں عاشقِ شاہِ شہدا کہتے ہیں  
ان کو قبلہ تو انہیں قبلہ نما کہتے ہیں  
جو بہادر ہیں، وہ شمشیرِ خدا کہتے ہیں  
عشقِ سردار و علمدار کا افسانہ ہے  
وہ چراغِ رہِ دیں ہے تو یہ پروانہ ہے  

[32](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/09/32)

اک طرف اکبرِ مہرو سا جوانِ نایاب  
کچھ جو بچپن تھا تو کچھ آمدِ ایام شباب  
روشنی چہرے پہ ایسی کہ خجل ہو مہتاب  
آنکھیں ایسی کہ رہا، نرگسِ شہلا کو حجاب  
جس نے ان گیسوؤں میں رخ کی ضیا کو دیکھا  
شبِ معراج میں، محبوبِ خدا کو دیکھا  

[33](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/09/33)

ؔاے خوشا حسنِ رخِ یوسفِ کنعانِ حسن  
ؔراحتِ روحِ حسین، ابن علی، جانِ حسن  
ؔجسم میں زورِ علی، طبع میں احسانِ حسن  
ؔہمہ تن خلقِ حسن، حسنِ حسن، شانِ حسن  
تن پہ کرتی تھی نزاکت سے گرانی پوشاک  
کیا بھلی لگتی تھی بچپن میں سہانی پوشاک  

[34](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/09/34)

اللہ اللہ اسدِ حق کے نواسوں کا جلال  
چاند سے چہروں پہ بل کھائے ہوئے زلفوں کے بال  
نیمچے کاندھوں پہ رکھے ہوئے، مانندِ ہلال  
گرچہ بچپن تھا، پہ رستم کو سمجھتے تھے وہ زال  
صف سے گھوڑوں کو بڑھا کر جو پلٹ جاتے تھے  
مورچے لشکرِ کفار کے ہٹ جاتے تھے  

[35](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/09/35)

آستینوں کو چڑھائے ہوئے آمادۂ جنگ  
وہی سارا اسد اللہ کا نقشہ، وہی ڈھنگ  
سرخ چہرے تھے کہ شیروں کا یہی ہوتا ہے رنگ  
ولولہ صف کے الٹنے کا، لڑائی کی امنگ  
جسم پر تیر چلیں، نیزۂ خونخوار چلے  
شوق اس کا تھا کہ جلدی کہیں تلوار چلے  

[36](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/09/36)

یک بیک طبل بجا فوج میں گرجے بادل  
کوہ تھراے، زمیں ہل گئی گونجا جنگل  
پھول ڈھالوں کے چمکنے لگے تلواروں کے پھل  
مرنے والوں کو نظر آنے لگی شکلِ اجل  
واں کے چاؤش بڑھانے لگے دل لشکر کا  
فوجِ اسلام میں نعرہ ہوا یا حیدر کا  

[37](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/09/37)

شور میدانیوں میں تھا، کہ دلیرو نکلو!  
نیزہ بازی کرو، رہواروں کو پھیرو نکلو!  
نہر قابو میں ہے، اب پیاسوں کو گھیرو نکلو!  
غازیو! صف سے بڑھو غول سے شیرو نکلو!  
رستمو! دادِ وغا دو، کہ یہ دن داد کا ہے  
سامنا حیدر کرار کی اولاد کا ہے  

[38](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/09/38)

شور سادات میں تھا، یا شۂ مرداں مددے  
کعبۂ دیں مددے، قبلۂ ایماں مددے  
قوتِ بازوئے پیغمبرِ ذی شاں مددے  
دم تائید ہے، اے فخرِ سلیماں مددے  
تیسرا فاقہ ہے، طاقت میں کمی ہے مولا!  
طلب قوتِ ثابت قدمی ہے مولا!  

[39](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/09/39)

پیاس میں حرف نہ شکوے کا زباں پر لائیں  
دم بدم سینوں پہ فاقوں میں سنانیں کھائیں  
دل نہ تڑپے، جو دمِ نزع نہ پانی پائیں  
تیرے فرزند کی تائید کریں، مرجائیں  
لاشے مقتل میں ہوں لاشِ شہ دلگیر کے پاس  
سر ہوں نیزے پہ سرِ حضرتِ شبیر کے پاس  

[40](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/09/40)

سامنے بڑھ کے یکایک صفِ کفار آئی  
جھوم کر تیرہ گھٹا، تاروں پہ اک بار آئی  
روزِ روشن کے چھپانے کو شبِ تار آئی  
تشنہ کاموں کی طرف، تیروں کی بوچھار آئی  
ہنس کے منہ بھائی کا شاہِ شہدا نے دیکھا  
اپنے آقا کو بہ حسرت رفقا نے دیکھا  

[41](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/09/41)

عرض عباسؔ نے کی جوش ہے جراروں کو  
تیر سب کھاتے ہیں، تولے ہوئے تلواروں کو  
میہمانوں کا نہیں پاس، ستمگاروں کو  
مصلحت ہو تو رضا دیجیے، غمخواروں کو  
رو سیاہوں کو مٹا دیں کہ بڑھے آتے ہیں  
ہم جو خاموش ہیں وہ منہ پہ چڑھے آتے ہیں  

[42](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/09/42)

یہی ہنگامہ رہا صبح سے، تا وقتِ زوال  
لاش پر لاش گری، بھر گیا میدانِ قتال  
سرخرو خلق سے اٹھے، اسد اللہ کے لال  
مورچے سب تہہ و بالا تھے، پرے سب پامال  
کھیت ایسے بھی کسی جنگ میں کم پڑتے ہیں  
جو لڑا سب یہی سمجھے کہ علی لڑتے ہیں  

[43](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/09/43)

قاسم و اکبر و عباس کا اللہ رے جہاد  
غل ہر اک ضرب پہ تھا اب ، ہوئی دنیا برباد  
الاماں کا تھا کہیں شور کہیں تھی فریاد  
دے گئے خلق میں مردانگیٔ حرب کی داد  
گو وہ دنیا میں نہیں، عرش مقام ان کا ہے  
آج تک عالمِ ایجاد میں نام ان کا ہے  

[44](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/09/44)

دوپہر میں وہ چمن بادِ خزاں نے لوٹا  
پتا پتا ہوا تاراج تو بوٹا بوٹا  
باپ بیٹے سے چھٹا، بھائی سے بھائی چھوٹا  
ابنِ زہراؔ کی کمر جھک گئی بازو ٹوٹا  
پھر سے نہ یاور، نہ وہ جاں باز نہ وہ شیدا تھے  
ظہر کے وقت حسینؔ ابنِ علی تنہا تھے  

[45](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/09/45)

ساتھ جو جو کہ بہادر تھے، وطن سے آئے  
سامنے سوتے تھے ریتی پہ سنائیں کھائے  
دھوپ میں پیاس سے مثلِ گلِ تر مرجھائے  
مرگئے پر نہ غریبوں نے کفن تک پائے  
دھوپ پڑتی تھی یہ دن چرخ نے دکھلایا تھا  
نہ تو چادرتھی کسی لاش پہ نے سایا تھا  

[46](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/09/46)

صاحبِ فوج پہ طاری تھا عجب رنج و ملال  
زرد تھا رنگ، تو آنکھیں تھیں لہو رونے سے لال  
کبھی بھائی کا الم تھا، کبھی بیٹے کا خیال  
کبھی دھڑکا تھا کہ لاشیں نہ کہیں ہوں پامال  
کبھی بڑھتے تھے وغا کو، کبھی رک جاتے تھے  
سیدھے ہوتے تھے کبھی، اور کبھی جھک جاتے تھے  

[47](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/09/47)

بڑھ کے چلاتے تھے بے درد کہ اب آپ آئیں  
جوہر تیغِ شہنشاہِ نجف دکھلائیں  
مرنے والے نہیں جیتے جو سنائیں کھائیں  
کاٹ لیں آپ کا سر تن سے تو فرصت پائیں  
پسرِ سعد سے وعدہ ہے، صلا لینے کا  
حکم ہے خیمۂ اقدس کے جلا دینے کا  

[48](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/09/48)

شہ نے فرمایا، مجھے خود ہے شہادت منظور  
نہ لڑائی کی ہوس ہے، نہ شجاعت کا غرور  
جنگ منظور نہ تھی ان سے پہ اب ہوں مجبور  
خیر، لڑ لو کہ ستاتے ہیں یہ بے جرم و قصور  
ذبح کرنے کے لیے لشکرِ ناری آئے  
کہیں جلدی مرے سر دینے کی باری آئے  

[49](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/09/49)

حکم پانا تھا کہ شیروں نے اڑائے تازی  
مثل شہباز گیا ایک کے بعد اک غازی  
واہ ری حرب، خوشا ضرب، زہے جانبازی  
اڑ گیا ہاتھ بڑھا جو پئے دست اندازی  
لوٹتے رن میں سر و جسم نظر آتے تھے  
ایک حملے میں قدم فوج کے جم جاتے تھے  

[50](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/09/50)

جس پہ غصہ میں گئے صید پہ شہباز گرا  
یہ کماں کٹ کے گری، وہ قدر انداز گرا  
جب گرا خاک پہ گھوڑے سے، تو ممتاز گرا  
نہ اٹھا پھر کبھی، جو تفرقہ پرداز گرا  
ہاتھ منہ کٹ گئے، سر اڑ گئے جی چھوٹ گئے  
مورچے ہو گئے پامال، پرے ٹوٹ گئے  

[51](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/09/51)

بعد غیروں کے عزیزوں نے کیا عزمِ نبرد  
سر کو نہیوڑا کے بھرا سبطِ نبیؐ نے دم سرد  
ہوک اٹھی کبھی سینے میں، تو دل میں کبھی درد  
سرخ ہوتا تھا کبھی چاند سا چہرہ کبھی زرد  
کوئی گل رو تو کوئی سرو سہی بالا تھا  
وہ بچھڑنے لگے، گودی میں جنہیں پالا تھا  

[52](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/09/52)

زلفوں والا تھا کوئی، کوئی مرادوں والا  
کوئی بھائی کا پسر، کوئی بہن کا پالا  
چاند سا منہ جو کسی کا تھا تو گیسو ہالا  
کوئی قامت میں بہت کم کوئی قد میں بالا  
نوجواں کون سا خوش رو و خوش انداز نہ تھا  
کتنے ایسے تھے کہ سبزہ ابھی آغاز نہ تھا  

[53](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/09/53)

ہاتھ وہ بچوں کا، اور چھوٹی سی وہ تلواریں  
موم کردیتی تھیں فولاد کہ جن کی دھاریں  
آب ہو شیر کا زہرہ ہے، جسے وہ للکاریں  
بجلیاں کوند رہی ہیں کسے نیزہ ماریں  
کس بشاشت سے ہزاروں یہ، دلیر آتے ہیں  
بچے آتے ہیں کہ بپھرے ہوئے شیر آتے ہیں  

[54](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/09/54)

شہ نے فرمایا کہ سر کاٹ لو، حاضر ہوں میں  
نہ تو لڑنے میں، نہ مرجانے میں قاصر ہوں میں  
فوج بھی اب نہیں بے یاور و ناصر ہوں میں  
شہر و صحرا بھی تمہارا ہے، مسافر ہوں میں  
لوٹ لو پھونک دو، تاراج کرو بہتر ہے  
کلمہ گویو! یہ تمہارے ہی نبی کا گھر ہے  

[55](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/09/55)

کئی سیدانیاں خیمے میں ہیں پردے والی  
جن کا رتبہ ہے زمانے میں ہر اک پر حالی  
اب نہ وارث کوئی سر پر ہے، نہ کوی والی  
ان کو دیجو! کوئی رہ جائے جو خیمہ خالی  
یہ نبی زادیاں بے پردہ نہ ہوئیں جس میں  
ایک گوشہ ہو کہ سب بیٹھ کے روئیں جس میں  

[56](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/09/56)

سن کے ان باتوں کا اعدا نے دیا جو کہ جواب  
گر لکھوں اس کو تو ہو جائے جگر سنگ کا آب  
قلب تھرا گیا ہر گز نہ رہی ضبط کی تاب  
دیکھ کر رہ گئے گردوں کو، شۂ عرش جناب  
اشک خالی اسے کرتے ہیں جو دل بھر آئے  
آپ رونے کے لیے خیمے کے در پر آئے  

[57](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/09/57)

تھم کے چلائے کہ اے زینبؑ و ام کلثوم  
تم سے رخصت کو پھر آیا ہے حسینِ مظلوم  
آ مرے قتل کے درپے ہے یہ سب لشکرِ شوم  
ہاں جگادو اسے غش ہو جو سکینہ معصوم  
نہیں ملتا جو زمانے سے گزر جاتا ہے  
کہہ دو عابدؔ سے کہ مرنے کو پدر جاتا ہے  

[58](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/09/58)

یہ صدا سن کے حرم خیمے سے، مضطر دوڑے  
شہ کی آواز پہ سب بے کس و بے پر دوڑے  
گر پڑیں سر سے ردائیں تو کھلے سر دوڑے  
بچے روتے ہوئے ماؤں کے برابر دوڑے  
رو کے چلائی سکینہ شہ والا آؤ!  
میں تمہیں ڈھونڈتی تھی، دیر سے بابا آؤ!  

[59](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/09/59)

آؤ اچھے مرے بابا، میں تمہاری واری  
دیکھو تم بن ہیں گلے تک مرے آنسو جاری  
آج یہ کیا ہے کہ بھولے مرے خاطر داری  
ہاتھ پھیلا کے کہو! آ مری بیٹی پیاری  
منہ چھپانے کی ہے کیا وجہ نہ شرماؤ تم  
اب میں پانی بھی نہ مانگوں گی، چلے آؤ تم  

[60](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/09/60)

دیکھ کر پردہ سے یہ کہنے لگی، زینبِؑ زار  
ابنِ زہراؔ تری مظلومی و غربت کے نثار  
آؤ چادر سے کروں پاک، میں چہرے کا غبار  
شہ نے فرمایا، بہن مر گئے سب مونس و یار  
تم نے پالا تھا جسے، ہم اسے رو آئے ہیں  
علی اکبرؑ سے جگر بند کو کھو آئے ہیں  

[61](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/09/61)

منہ دکھائیں کسے، سب سے ہے ندامت زینبؔ  
گھر میں آنے کی نہیں، بھائی کو مہلت زینبؔ  
کھینچ لائی ہے سکینہ کی محبت زینبؔ  
بھائی جاتا ہے، دکھا دو ہمیں صورت زینبؔ  
نہ تو سر کھولو، نہ منہ پیٹو، نہ فریاد کرو  
بھول جاؤ ہمیں، اللہ کو اب یاد کرو  

[62](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/09/62)

صبر سے خوش ہے خدا، اے مری غم خوار بہن  
سہل ہوجاتا ہے، جو امر ہو دشوار بہن  
اپنی ماں کا ہے طریقہ، تمہیں درکار بہن  
پھر میں کہتا ہوں سکینہ سے خبردار بہن  
ناز پرور ہے مرے بعد الم اس پہ نہ ہو  
بُندے کانوں سے اتارو کہ ستم اس پہ نہ ہو  

[63](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/09/63)

کہیو عابد سے یہ پیغام مرا بعد سلام  
غش تھے تم پھر گئے دروازے تلک آ کے امام  
قید میں پھنس کے نہ گھبرائیو اے گل اندام  
کاٹیو صبر و رضا سے، سفرِ کوفہ و شام  
ناؤ منجدھار میں ہے شور طلاطم جانو!  
نا خدا جاتا ہے، گھر جانے اور اب تم جانو!  

[64](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/09/64)

کہہ کے یہ باگ پھرآئی طرفِ لشکرِ شام  
پڑ گیا خیمۂ ناموس نبی میں کہرام  
رن میں گھوڑے کو اڑاتے ہوئے آئے جو امام  
رعب سے فوج کے دل ہل گئے کانپے اندام  
سر جھکے ان کے جو کامل تھے زباں دانی میں  
اڑ گئے ہوش فصیحوں کے رجز خوانی میں  

[65](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/09/65)

تھا یہ نعرہ کہ محمد کا نواسا ہوں میں  
مجھ کو پہچانو! کہ خالق کا شناسا ہوں میں  
زخمی ہونے سے نہ مرنے سے ہراسا ہوں میں  
تیسرا دن ہے یہ گرمی میں کہ پیاسا ہوں میں  
چین کیا چیز ہے، آرام کسے کہتے ہیں؟  
اس پہ شکوہ نہیں کچھ، صبر اسے کہتے ہیں  

[66](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/09/66)

اس کا پیارا ہوں جو ہے ساقیِٔ حوضِ کوثر  
اس کا بیٹا ہوں، جو ہے فاتحِ بابِ خیبر  
اس کا فرزند ہوں کی جس نے مہم بدر کی سر  
اس کا دلبر ہوں میں، دی جس کو نبی نے دختر  
صاحبِ تخت ہوئے، تیغ ملی، تاج ملا  
دوش احمدؔ پہ انہیں رتبۂ معراج ملا  

[67](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/09/67)

بے وطن ہوں نہ مسافر کو ستاؤ اللہ  
قتل کیوں کرتے ہو تم، کون سا میرا ہے گناہ  
اب نہ یاور ہے کوئی ساتھ نہ لشکر نہ سپاہ  
تم کو لازم ہے غریبوں پہ ترحم کی نگاہ  
ہاتھ آئے گا نہ انعام، نہ زر پاؤگے  
یاد رکھو! مرا سر کاٹ کے پچھتاؤگے  

[68](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/09/68)

نہ بھی ختم ہوئی تھی یہ مسلسل تقریر  
حجت اللہ کے فرزند پہ چلنے لگے تیر  
چوم کر تیغ کے قبضے کو پکارے شبیر  
لو خبردار! چمکتی ہے علیؔ کی شمشیر  
پسرِ فاتحِ صفین و حنین آتا ہے  
لو صفیں باندھ کے روکو تو حسینؔ آتا ہے  

[69](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/09/69)

لو کھنچو تیغِ دوسر، فوج پہ آفت آئی  
لو ہلا، قائمۂ عرش، قیامت آئی  
فتح تسلیم کو، آداب کو نصرت آئی  
فخر سے غاشیہ برداری کو شوکت آئی  
چوم لوں پاؤں، جلال اس تگ و دو میں آیا  
ہاتھ جوڑے ہوئے اقبال جلو میں آیا  

[70](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/09/70)

آپ سیدھے جو ہوئے رخش نے بدلے تیور  
دونوں آنکھیں ابل آئیں کہ ڈرے بانیِٔ شر  
تھوتھنی مل گئی سینے سے کیا، دُم کو چنور  
مثلِ طاؤس اڑا، گاہ اِدھر، گاہ اُدھر  
دم بدم گرد نسیمِ سحری پھرتی تھی  
جھوم کر پھرتا تھا، گویا کہ پری پھرتی تھی  

[71](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/09/71)

ابر ڈھالوں کا اٹھا تیغِ دو پیکر چمکی  
برق چھپتی ہے، یہ چمکی تو برابر چمکی  
سوئے پستی کبھی کوندی، کبھی سر پر چمکی  
کبھی انبوہ کے اندر، کبھی باہر چمکی  
جس طرف آئی وہ ناگن اسے ڈستے دیکھا  
مینہ سروں کا صفِ دشمن میں برستے دیکھا  

[72](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/09/72)

دھار ایسی کی رواں ہوتا ہے دھارا جیسے  
گھاٹ وہ گھاٹ کہ دریا کا کنارا جیسے  
چمک ایسی کہ حسینوں کا اشارا جیسے  
روشنی وہ کہ گرے ٹوٹ کے تارا جیسے  
کوندنا برق کا شمشیر کی ضو میں دیکھا  
کبھی ایسا نہیں دم خم مہ نو میں دیکھا  

[73](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/09/73)

اک اشارے میں، برابر کوئی دو تھا کوئی چار  
نہ پیادہ کوئی بچتا تھا سلامت نہ سوار  
برق گرتی تھی کہ چلتی تھی صفوں پر تلوار  
غضب اللہ علیہم کے عیاں تھے آثار  
موت ہر غول کو برباد کیے جاتی تھی  
آگ گھیرے ہوئے دوزخ میں لیے جاتی تھی  

[74](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/09/74)

تیغیں آری ہوئی ڈھالوں کے اڑے پرکالے  
بند سب بھول گئے خوف سے نیزوں والے  
جو بڑھے ہاتھ سرِ دست قلم کر ڈالے  
تیغ کہتی تھی، یہ سب ہیں مرے دیکھے بھالے  
صف بہ صف باندھ کے نیزوں کو عبث تولے ہیں  
ایسے عقدے مرے ناخن نے بہت کھولے ہیں  

[75](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/09/75)

جب کبھی جائزۂِ فوج ستم لیتی ہوں  
موت سے رحم نہ کرنے کی قسم لیتی ہوں  
دو زبانوں سے سدا کارِ قلم لیتی ہوں  
چہرے کٹ چکتے ہیں، لشکر کے تو دم لیتی ہوں  
ہر طرف ہو کے، عدم کے سفری ہوتے ہیں  
طبقلیں کٹتی ہیں، چہرے نظری ہوتے ہیں  

[76](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/09/76)

وہ برش وہ چمک اس کی وہ صفائی اس کی  
کسی تلوار نے تیزی نہیں پائی اس کی  
اس کا بازو جو اڑایا، تو کلائی اس کی  
مل گئی جس کے گلے سے اجل آئی اس کی  
صورتِ مرگ کسی نے بھی نہ آتے دیکھا  
سر پہ چمکی تو کمر سے اسے جاتے دیکھا  

[77](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/09/77)

کبھی ڈھالوں پہ گری اور کبھی تلواروں پر  
پیدلوں پر کبھی آئی کبھی اسواروں پر  
کبھی ترکش پہ رکھا منہ، کبھی سوفاروں پر  
کبھی سر کاٹ کے آ پہنچی کمانداروں پر  
گر کے اس غول سے اٹھی تو اس انبوہ میں تھی  
کبھی دریا میں، کبھی بر میں، کبھی کوہ میں تھی  

[78](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/09/78)

کبھی چہرہ کبھی شانہ، کبھی پیکر کاٹا  
کبھی در آئی جگر میں، تو کبھی سر کاٹا  
کبھی مغفر، کبھی جوشن، کبھی بکتر کاٹا  
طول میں راکب و مرکب کا برابر کاٹا  
برشِ تیغ کا غسل، قاف سے تا قاف رہا  
پی گئی خون ہزاروں کا، پہ منہ صاف رہا  

[79](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/09/79)

نہ رکی خود پہ وہ، اور نہ سر پر ٹھہری  
نہ کسی تیغ پہ دم بھر، نہ سپر پر ٹھہری  
نہ جبیں پر نہ گلے پر، نہ جگر پر ٹھہری  
کاٹ کر زین کو، گھوڑے کی کمر پر ٹھہری  
جان گھبرا کے تنِ دشمنِ دیں سے نکلی  
ہاتھ بھر ڈوب کے تلوار، زمیں سے نکلی  

[80](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/09/80)

کٹ گئی، تیغ تلے جب صفِ دشمن آئی  
یک بیک فصلِ فراقِ سر و گردن آئی  
بگڑی اس طرح لڑائی کہ نہ کچھ بن آئی  
تیغ کیا آئی کہ اڑتی ہوئی ناگن آئی  
غل تھا بھاگو کہ یہ ہنگام ٹھہرنے کا نہیں  
زہر اس کا جو چڑھے گا تو اترنے کا نہیں  

[81](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/09/81)

وہ چمک اس کی، سروں کا وہ برسنا، ہرسو  
گھاٹ سے تیغ کے، اک حشر بپا تھا لبِ جو  
آب میں صورت آتش تھی، جلا دینے کی خو  
اور دم بڑھتا تھا، پیتی تھی جو اعدا کا لہو  
کبھی جوشن، تو کبھی صدرِ کشادہ کاٹا  
جب چلی ضربتِ سابق سے زیادہ کاٹا  

[82](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/09/82)

تنِ تنہا شۂ دیں لاکھ سواروں سے لڑے  
بے سپر برچھیوں والوں کی قطاروں سے لڑے  
صورتِ شیر خدا، ظلم شعاروں سے لڑے  
دو سے اک لڑ نہیں سکتا، یہ ہزاروں سے لڑے  
گر ہو غالب، تو ہزاروں پہ وہی غالب ہو  
جو دل و جانِ علیؔ ابن ابی طالبؔ ہو  

[83](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/09/83)

تیسرے فاقے میں یہ جنگ، یہ حملے یہ جدال  
پیاس وہ پیاس کہ نیلم تھے سراسرلب لعل  
دھوپ وہ دھوپ کہ سوکھے ہوئے تھے تازہ نہال  
لُو وہ لُو جس کی حرارت سے پگھلتے تھے جبال  
سنگ ریزوں میں، تب و تاب تھی انگاروں کی  
سر پہ یا دھوپ تھی، یا چھاؤں تھی تلواروں کی  

[84](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/09/84)

شیر سے تھے کبھی جنگل میں، ترائی میں کبھی  
ڈھال کو چہرے پہ روکا نہ لڑائی میں کبھی  
تیغ حیدر نے کمی کی نہ صفائی میں کبھی  
فرق آیا نہ سر و تن کی جدائی میں کبھی  
کبھی ابرو کا بھی ایسا نہ اشارا دیکھا  
جس پہ اک وار کیا اس کو دوبارا دیکھا  

[85](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/09/85)

آنکھ وہ آنکھ کہ شیروں کی جلالت جس میں  
رخش وہ رخش، کہ سب برق کی سرعت جس میں  
تیغ وہ تیغ، عیاں موت کی صورت جس میں  
ہاتھ وہ ہاتھ، ید اللہ کی طاقت جس میں  
روک لے دار، جگر کیا کسی بے پیر کا ہے  
زور وہ، جس میں اثر فاطمہؔ کے شیر کا ہے  

[86](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/09/86)

جنگ میں پیاس کا صدمہ شۂ دیں سے پوچھو  
تنِ تنہا کی وغا، لشکرِ کیں سے پوچھا  
زلزلہ دشت پر آفت کا، زمیں سے پوچھو  
ضربِ شمشیر دو سر، روحِ امیں سے پوچھو  
باپ اس فوج میں تنہا، پسر اس لشکر میں  
کربلا میں یہ تلاطم ہوا، یا خیبر میں  

[87](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/09/87)

اسد اللہ کے صدقے، شہ والا کے نثار  
وہی حملے تھے، وہی زور، وہی تھی تلوار  
فتحِ حیدر نے کیا جنگ میں خیبر کا حصار  
مورچے فوج کے، حضرت نے بھی توڑے کئی بار  
کیوں نہ ہو احمدِ مرسل کے نواسے تھے حسینؔ  
فرق اتنا تھا کہ دو روز کے پیاسے تھے حسینؔ  

[88](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/09/88)

ہر طرف فوج میں غل تھا کہ دہای مولا!  
ہم نے دیکھی ترے ہاتھوں کی صفائی مولا!  
الاماں خوب سزا جنگ کی پائی مولا!  
آپ کرتے ہیں بروں سے بھی بھلائی مولا!  
ہاتھ ہم باندھتے ہیں پھینک کے شمشیروں کو  
بخشیے امتِ نا اہل کی تقصیروں کو  

[89](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/09/89)

آتی ہاتف کی یہ آواز کہ اے عرشِ مقام  
یہ وغا تیسرے فاقے میں، بشر کا نہیں کام  
اے محمدؔ کے جگر بند، امام ابنِ امام  
لوحِ محفوظ پہ مرقوم ہے، صابر ترا نام  
اب نہیں حکم لعینوں سے وغا کرنے کا  
ہاں! یہی وقت ہے وعدے کے وفا کرنے کا  

[90](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/09/90)

آج ہے آٹھوں بہشتوں کی نئی تیاری  
نخل سرسبز ہیں فردوس میں نہریں جاری  
شب سے حوریں ہیں مکلل بجواہر ساری  
خانۂ دوست میں ہے، دوست کی مہانداری  
پیشوائی کو رسول الثقلین آتے ہیں  
عرش تک شور یہی ہے کہ حسینؔ آتے ہیں  

[91](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/09/91)

تھم گئے سن کے یہ آواز شۂ جن و بشر  
روک کر تیغ کو فرمایا کہ حاضر ہے یہ سر  
عید ہو جلد اگر ذبح کریں بانیِ شر  
شمرِؔ اظلم ہے کدھر؟ کھینچ کے آئے خنجر  
ہے وہ عاشق جو فدا ہونے کو موجود رہے  
بس مری فتح یہی ہے کہ وہ خوشنود رہے  

[92](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/09/92)

کہہ کے یہ میان میں مولا نے رکھی تیغِ دو دم  
ہاتھ اٹھا کر یہ اشارہ کیا گھوڑے کو کہ تھم  
رہ گیا سر کو جھکا کر فرسِ تیز قدم  
چار جانب سے مسافر پہ چلے تیرِ ستم  
نیزے یوں گرد تھے جسے گلِ تر خاروں میں  
گھر گئے سبطِ نبی، ظلم کی تلواروں میں  

[93](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/09/93)

پہلے تیروں سے کمانداروں نے چھاتی چھانی  
نیزے پہلو پہ لگاتے تھے ستم کے بانی  
سر پہ تلواریں چلیں، زخمی ہوئی پیشانی  
خوں سے تر ہو گیا حضرت کا رخِ نورانی  
جسم سب چور تھا، پرزے تھے زرہ جامے کے  
پیچ کٹ کٹ کے کھلے جاتے تھے عمامے کے  

[94](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/09/94)

برچھیاں مارتے تھے، گھاٹ پہ جو تھے پہرے  
کس طرف جائے، کہاں تیغوں میں بیکس ٹھہرے  
ایک ہزار اور کوئی سو زخم تھے تن پر گہرے  
دیکھنے والوں کے ہو جاتے تھے، پانی زہرے  
خوں میں ڈوبا ہوا وہ مصحفِ رخ سارا تھا  
جزو ہر اک تن شبیر کا سی پارا تھا  

[95](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/09/95)

ہاتھ سے باگ جدا تھی، تو رکابوں سے قدم  
غش میں سیدھے کبھی ہوتے تھے فرس پر کبھی خم  
بہتے تھے پہلوؤں سے، خوں کے دڑیڑے پیہم  
کوئی بیکس کا مددگار نہ تھا ہائے ستم  
مارے تلواروں کے مہلت تھی نہ دم لینے کی  
کوششیں ہوتی تھیں کعبے کے گرادینے کی  

[96](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/09/96)

دشت سے آتی تھی زہراؔ کی صدا ہائے حسینؔ  
میرے بیکس، میرے بے بس، مرے دکھ پائے حسینؔ  
در سے چلاتی تھی زینبؔ مرے ماں جائے حسینؔ  
کون تیغوں سے بچا کر تجھے لے آئے حسینؔ  
فاطمہؔ رو رہی ہیں، ہاتھوں سے پہلو تھامے  
حکم گر ہو تو بہن دوڑ کے بازو تھامے  

[97](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/09/97)

ہائے سیدا ترا تن اور ستم کے بھالے  
کس کو چلاؤں کہ جیتے نہیں مرنے والے  
اس پہ یہ ظلم دکھوں سے جسے زہراؔ پالے  
کون سر سے ترے تلواروں کی آفت ٹالے  
کون فریاد سنے بے سر و سامانوں کی  
یاں تو بستی بھی نہیں کوئی مسلمانوں کی  

[98](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/09/98)

نہ رہا جب کہ ٹھہرنے کا فرس پر یارا  
گرپڑا خاک پہ، وہ عرش خدا کا تارا  
غش سے کچھ دیر میں چونکا جو علیؔ کا پیارا  
نیزہ سینے پہ، سناں ابنِ انس نے مارا  
واں تو نیزے کی انی پشت سے باہر نکلی  
یاں بہن خیمے کی ڈیوڑھی سے کھلے سر نکلی  

[99](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/09/99)

کھینچ کر سینے سے نیزہ جو ہٹا دشمنِ دیں  
جھک کے حضرت نے رکھی خاک پہ سجدے میں جبیں  
تیز کرتا ہوا خنجر کو بڑھا شمر لعیں  
آسماں ہل گئے تھرا گئی مقتل کی زمیں  
کیا کہوں تیغ کو کس طرح گلے پر رکھا  
پاؤں قرآں پہ رکھا، حلق پہ خنجر رکھا  

[100](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/09/100)

ڈھانپ کر ہاتھوں سے منہ بنتِ علی چلائی  
ذبح ہوتے ہو مرے سامنے ہے ہے بھائی  
ضربِ اول تھی کہ تکبیر کی آواز آئی  
گر پڑی خاک پہ غش کھا کے علی کی جائی  
آنکھ کھولی تھی کہ ہنگامۂ محشر دیکھا  
سر اٹھایا تو سرِ شہ کو سناں پر دیکھا  

[101](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/09/101)

رو کے چلائی کہ ہے ہے ہمرے مظلوم حسینؔ  
فوجِ اعدا میں، ترے قتل کی ہے دھوم حسینؔ  
کچھ مجھے آنکھوں سے ہوتا نہیں معلوم حسینؔ  
ہائے میں رہ گئی دیدار سے محروم حسینؔ  
مڑ کے دیکھو کہ مصیبت میں پڑی ہوں بھائی  
ننگے سر بلوۂ اعدا میں کھڑی ہوں بھائی  

[102](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/09/102)

بس انیسؔ آگے نہ لکھ زینبِ ناشاد کے بین  
قتل ہو جانے پہ بھی دھوپ میں تھی لاشِ حسینؔ  
قبر میں بھی نہ ملا احمدِؔ مختار کو چین  
گھر جلا، قید ہوئی، آلِ رسول الثقلین  
کتنے گھر شاہ کے مر جانے سے برباد ہوئے  
لٹ گئے یوں کہ نہ سادات پھر آباد ہوئے  

### کیا غازیانِ فوجِ خدا نام کر گئے

https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/10

[1](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/10/1)

کیا غازیانِ فوجِ خدا نام کر گئے  
لاکھوں سے تشنہ کام لڑے کام کر گئے  
امت کی مغفرت کا سر انجام کر گئے  
فیض اپنا مثلِ ابر کرم عام کر گئے  
پڑھتے ہیں سب درود جو ذکر ان کے ہوتے ہیں  
ایسے بشر وہ تھے کہ ملک جن کو روتے ہیں  

[2](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/10/2)

دیندار و سرفروش و شجاع و خوش اعتقاد  
ہاتھوں میں تیغیں اور دلوں میں خدا کی یاد  
زخموں کو نخلِ قد پہ وہ سمجھے گلِ مراد  
مرادنگی یہ پیاس میں فاقوں میں یہ جہاد  
تیغوں سے بند کون سا ان کا کٹا نہ تھا  
پر معرکے سے پاؤں کسی کا ہٹا نہ تھا  

[3](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/10/3)

برسوں رہے گا چرخ میں، گر آسمانِ پیر  
لیکن نظر نہ آئے گا ان کا کہیں نظیر  
گورے نہ ان کے پاؤں، نہ روئے مہِ منیر  
خورشید جن کے سامنے اک ذرۂ حقیر  
پرخوں قبائیں جسم میں، سینے تنے ہوئے  
پہنچے ریاضِ خلد میں دولہا بنے ہوئے  

[4](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/10/4)

رستم اٹھا نہ سکتا تھا سر ان کے سامنے  
شیروں کے کانپتے تھے جگر ان کے سامنے  
پھیکی تھی روشنیِٔ قمر ان کے سامنے  
اڑتا تھا رنگ روئے سحر، ان کے سامنے  
بخشا تھا نور، حق نے ہر اک خوش صفات کو  
ہوتا تھا دن، جو گھر سے نکلتے تھے رات کو  

[5](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/10/5)

پیشانیوں پہ جلوہ نما اختر سجود  
دیکھیں جو ان کا نور تو قدسی پڑھیں درود  
رخ سے عیاں جلال و جوانمردی و نمود  
شیدائے آل، شیفتۂ واجب الوجود  
جینے کی شاہ دیں کو دعا دے کے مر گئے  
ایماں کے آئینہ کو جِلا دے کے مر گئے  

[6](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/10/6)

تاثیر کر گئی تھی انہیں صحبتِ امام  
تھا نزع میں بھی خشک لبوں پہ خدا کا نام  
لبریز تھے محبت حیدرؔ سے دل کے جام  
ذی قدر، ذی شعور، دلاور خجستہ کام  
لشکر جو ان پہ ٹوٹ پڑے شام و روم کے  
تلواریں کھائیں جسم پہ کیا جھوم جھوم کے  

[7](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/10/7)

لاکھوں میں انتخاب ہزاروں میں لا جواب  
تھا خشک و تر پہ جن کا کرم صورتِ سحاب  
وہ نور، وہ جلال، وہ رونق، وہ آب و تاب  
زہراؔ کے گھر کے چاند، زمانے کے آفتاب  
بس یک بہ یک جہاں میں اندھیرا سا چھا گیا  
دن بھی ڈھلا نہ تھا کہ زوال ان پہ آ گیا  

[8](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/10/8)

گل ہو گئے عقیلؔ کی تربت کے جب چراغ  
جعفر کے لاڈلوں نے دیئے شہ کے دل کو داغ  
ماتم سے بھانجوں کے ہوا تھا نہ انفراغ  
پامال ہو گیا، حسنِؔ مجتبیٰ کا باغ  
لاشے اٹھائے جنگ کرے یا بکا کرے  
جس پر گریں یہ کوہ مصیبت وہ کیا کرے  

[9](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/10/9)

صدمہ یہ تھا کہ لٹنے لگی دولتِ پدر  
نکلے نبرد کو اسد اللہ کے پسر  
مارے گئے جہاد میں جس دم وہ شیر نر  
رخصت ہوئے حسینؔ سے عباسِؔ نام ور  
ددریا بہے لہو کے بڑا کشت و خوں ہوا  
ڈھلتی تھی دوپہر کہ علم سر نگوں ہوا  

[10](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/10/10)

پیری میں قہر ہے، خبر مرگ نوجواں  
ریتی پہ تھر تھرا کے گرے شاہِ انس و جاں  
نکلیں سروں کو پیٹتی، خیمے سے بیبیاں  
تھا خانۂ علی میں تلاطم کہ الا ماں  
یوں گھر الٹ پلٹ تھا امامِ حجاز کا  
جس طرح ٹوٹ جاتا ہے لنگر جہاز کا  

[11](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/10/11)

غل تھا کہ خوں میں بھر گیا سقائے اہل بیت  
دنیا سے کوچ کر گیا، سقائے اہل بیت  
ہم لٹ گئے گذر گیا سقائے اہل بیت  
فریاد ہے کہ مر گیا، سقائے اہل بیت  
ہے ہے کہاں سے اپنے بہشتی کو لائیں گے  
سوکھی زبان، اب کسے بچے دکھائیں گے  

[12](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/10/12)

ہلتا تھا خیمہ روتے تھے یوں اہل بیت شاہ  
صدمے سے حالِ زوجۂ عباسؔ تھا تباہ  
چلاتی تھی کہ نہر کی مجھ کو بتاؤ راہ  
لوٹی گئی میں دشت پُر آفت میں آہ آہ  
خم تھے گرا تھا کوہِ مصیبت حسینؔ پر  
ماتم تھا بیبیوں میں سکینہؔ کے بین پر  

[13](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/10/13)

ماتم ادھر تھا، جشن میں تھے اہل شر اُدھر  
بجتے تھے شادیانۂ فتح و ظفر اُدھر  
انعام بانٹتا تھا ہر اک کو عمر ادھر  
روتے تھے دیکھ دیکھ کے حضرت اِدھر اُدھر  
غل تھا کہ بس حسینؔ بہت روئے بھائی کو  
کوئی جواں ہو اور تو بھیجو لڑائی کو  

[14](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/10/14)

باقی نہیں کوئی تو وِغا کو خود آیئے  
حیدرؔ کی ذوالفقار کے جوہر دکھایئے  
زخمِ سنان و خنجر و شمشیر کھایئے  
گرمی بڑی ہے آج لہو میں نہایئے  
آمادہ ہم تو دیر سے بہرِ ستیز ہیں  
تیغیں بھی ہیں اُپی ہوئی خنجر بھی تیز ہیں  

[15](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/10/15)

کاٹے ہیں جس نے بازوئے لخت دلِ امیر  
ہے خوب آبدار، وہ شمشیرِ بے نظیر  
چھیدا ہے جس سے مشک کو موجود ہے وہ تیر  
ہر گرز وہ ہے، ضرب سے جس کی ہوئے اخیر  
تڑپے تھے جس سے مشک کو دانتوں سے چھوڑ کر  
برچھی یہ ہے جو نکلی تھی پہلو کو توڑ کر  

[16](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/10/16)

صابر بڑے ہیں آپ تو یا شاہِ انس و جاں  
اک بھائی کے فراق میں یہ نالہ و فغاں  
رونے سے جی اٹھیں گے نہ عباسِ نوجواں  
حضرت پکارتے ہیں کسے، بھائی اب کہاں  
ملتا ہے کب جہاں میں بھلا جو گزر گیا  
اب فکر اپنی کیجئے وہ شیر مر گیا  

[17](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/10/17)

اکبر نے کی غضب کی نظر سوئے فوج شام  
کانپے یہ غیظ سے کہ اگلنے لگی حسام  
کی عرض ہاتھ جوڑ کے اے قبلۂ انام  
سنتے ہیں آپ لشکرِ اعدا کا یہ کلام  
خوں تن میں جوش کھاتا ہے ہنگام جنگ ہے  
مولا بس اب تو حوصلۂ صبر تنگ ہے  

[18](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/10/18)

ان کے کلام سننے کی کس کے جگر میں ہے تاب  
خادم زبانِ تیغ سے دے گا انہیں جواب  
کیا اپنے دل میں سمجھے ہیں، یہ خانماں خراب  
نعرہ کروں تو شیر کا زہرہ ہو آب آب  
آداب شاہ سے نہیں ہم بول سکتے ہیں  
زخمِ جگر پہ اب تو نمک یہ چھڑکتے ہیں  

[19](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/10/19)

ہم کو یہ طعن و طنز کی باتیں نہیں پسند  
کوفے میں لیں گے دم جو اٹھائیں گے پھر سمند  
ہونٹوں پہ غم سے اب ہے، یہاں جانِ دردمند  
کاٹیں تبر سے، تیغ سے خنجر سے بند بند  
ہنس ہنس کے جسم پر، تبر و تیر کھائیں گے  
تیغِ زباں کے زخم اٹھائے نہ جائیں گے  

[20](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/10/20)

گھبرا کے دیکھنے لگے بیٹے کے منہ کو شاہ  
فرمایا خیر کہہ لیں جو کہتے ہیں روسیاہ  
کیوں کانپتے ہو غیظ سے، اے میرے رشک ماہ  
لازم ہے صبر و شکر کہ راضی رہے الٰہ  
غصہ اسی طرح اگر آئے گا آپ کو  
خنجر کے نیچے دیکھو گے کس طرح باپ کو  

[21](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/10/21)

برہم نہ ہو تمہیں، سر شبیرؔ کی قسم  
لو گھر میں جاؤ خیر سمجھ لیں گے ان سے ہم  
دیکھو ہمیں کہ بھائی کے بازو ہوئے قلم  
تلوار، دل پہ چل گئی، مارا نہ ہم نے دم  
سب جل کے خاک ہوں جو ابھی بد دعا کروں  
پر امت نبی ہے، بجز صبر کیا کروں  

[22](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/10/22)

یہ سن کے زرد ہو گئے ہم شکلِ مصطفی  
رو کر کہا یہ کرتے ہیں ارشاد آپ کا  
وہ وقت، وہ گھڑی، نہ دکھائے ہمیں خدا  
بابا نہ ہو تو بیٹے کے جینے کا کیا مزہ  
آمادۂ فنا ہیں، خوشی دل سے فوت ہے  
پھر خضرؔ کی حیات ملے گر تو موت ہے  

[23](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/10/23)

کیا پہلے سر کٹایئے گا یا شہِ زماں  
کس اشتیاق سے شہ دیں نے کہا کہ ہاں  
آگے جو کچھ رضائے خدا، اے پدر کی جاں  
جیتے ہیں پیر، سامنے مرتے ہیں نوجواں  
دیکھو کہ چھوٹے بھائی کے ماتم میں روتے ہیں  
پالا تھا جن کو ہم نے وہ دریا پہ سوتے ہیں  

[24](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/10/24)

یہ کہہ کے اٹھ کھڑے ہوئے سلطانِ بحر و بر  
پٹکے سے باندھنے لگے، ٹوئی ہوئی کمر  
قدموں یہ گر پڑے، علیؔ اکبر بہ چشمِ تر  
کی عرض رحم کیجئے، مر جائے گا پسر  
آگے مرے جو ہو گی شہادت امام کی  
دنیا میں آبرو نہ رہے گی غلام کی  

[25](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/10/25)

چھوٹے تھے جو کہ سِن میں بڑے کر گئے وہ کام  
یا شاہ کیا لڑائی کے قابل نہیں غلام  
عمو کے خوں کا لیں گے لعینوں سے انتقام  
ہم نے بھی تیغ باندھی ہے بچپن سے یا امام  
عزت ملی ہے خلق میں صدقے سے آپ کے  
بیٹا وہی جو رنج میں کام آئے باپ کے  

[26](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/10/26)

انصاف آپ کیجئے یا سرورِ عرب  
بیٹا تو گھر میں بیٹھے، لڑے باپ تشنہ لب  
مارا گیا نہ آج، تو کل یہ کہیں گے سب  
کیسا لہو سفید ہے، دنیا کا ہے غضب  
سر کو کٹا کے باپ جہاں سے گزر گیا  
بیٹا جوان، باپ کے آگے نہ مر گیا  

[27](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/10/27)

بہرِ رسول رن کی رضا دیجئے مجے  
صدقہ علی کا، اذن وغا دیجئے مجھے  
مرتا ہوں یا امام، جلا دیجئے مجھے  
یادِ خدا میں دل سے بھلا دیجئے مجھے  
کھولیں کمر، حضور تو دل کو قرار ہو  
کہہ دیجئے کہ جا! علیؔ اکبر نثار ہو  

[28](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/10/28)

شہ نے کہا تمہیں مرے دل کی نہیں خبر  
پیارے کہاں سے لاؤں میں اس طرح کا جگر  
ہے باپ کو عصائے ضعیفی، جواں پسر  
جب تم نہ ہو گے پاس تو مر جائے گا پدر  
ایسے ہنسے نہ تھے کہ ہمیں تم رلاتے ہو  
شادی کے دن جو آئے، تو مرنے کو جاتے ہیں  

[29](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/10/29)

راتیں یہ عیش کی ہیں مرادوں کے ہیں یہ دن  
پورے جواں نہیں، ابھی کیا ہے تمہارا سِن  
اکبرؔ تری جوانی پہ روئیں گے انس و جن  
کیوں کر قرار آئے گا ماں کو تمہارے بن  
کیسی ہوا چلی، چمن روزگار میں  
سید کا باغ لٹتا ہے فصلِ بہار میں  

[30](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/10/30)

دیتا اگر تمہیں کوئی فرزند زوالجلال  
ہوتی پدر کی قدر سمجھتے ہمارا حال  
رخصت کا آپ سے یوں ہی کرتا وہ جب سوال  
تب جانتے کہ دیتے اسے رخصتِ جدال  
کیا جانے وہ مزاج سے اس کا ملا نہیں  
اچھا سدھارو تم سے ہمیں کچھ گلا نہیں  

[31](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/10/31)

تسلیم کر کے بولے علیؔ اکبرِ غیور  
لاکھوں برس جہاں میں سلامت رہیں حضور  
فرمایا شہ نے خیر اجل بھی نہیں ہے دور  
برچھی لگا کے دل پہ خوشامد یہ کیا ضرور  
تقریر میں پدر کو نہ اب بند کیجیے  
خیمے میں جا کے ماں کو رضامند کیجیے  

[32](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/10/32)

ہیں مبتلائے رنج بھلا کیا ہمارا پیار  
تم سے جو پسر ہوں تو اس راہ میں نثار  
ہر دم خدا سے خیر کا ہوں میں امیدوار  
ہاں ماں نہ جانے دے تو مرا کیا ہے اختیار  
سینے میں دل ہلے گا بدن تھرتھرائے گا  
رخصت کا نام سنتے ہی غش اس کو آئے گا  

[33](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/10/33)

سب جانتے ہیں جو ہے پھوپھی کو تمہاری چاہ  
معلوم ہو گا جاؤ گے جب سوئے خیمہ گاہ  
باہیں گلے میں ڈالے گی زینبؔ بہ اشک و آہ  
قدموں پہ گر کے آپ کی ماں ہوگی سَدِ راہ  
یہ مرحلہ بھی کم نہیں زنجیر و طوق سے  
دونوں رضا جو دیں تو چلے جاؤ شوق سے  

[34](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/10/34)

روتے ہوئے چلے علیؔ اکبر سوئے خیام  
کانپا یہ دل کہ بیٹھ گئے خاک پر امام  
روتا ہوا جو ڈیوڑھی سے آیا وہ نیک نام  
دوڑی پسر کو دیکھ کے بانوئے تشنہ کام  
دامن سے آ کے بالی سکینہؔ چمٹ گئی  
زینبؔ بلائیں لے کے گلے سے لپٹ گئی  

[35](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/10/35)

ماں گرد پھر کے بولی کہ اے میرے گلعذار  
تم صبح سے گئے تھے اب آئے یہ ماں نثار  
در پر تڑپ تڑپ کے میں جاتی تھی بار بار  
کھولو بس اب کمر کہ مرا دل ہے بے قرار  
گرمی یہ اور قحط کئی دن سے آب کا  
رخ تمتما گیا ہے مرے آفتاب کا  

[36](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/10/36)

تر ہے قبا پسینے میں پنکھا کوئی بلاؤ  
سونلا گئے ہو دھوپ میں، واری ہوا میں آؤ  
جھاڑوں ردا سے گرد میں، زلفوں کی، بیٹھ جاؤ  
گھٹ جائے گا لہو مرا آنسو نہ تم بہاؤ  
صدمہ جو دل پہ ہو اسے کچھ منہ سے کہتے ہیں  
کیا ہے جو اشک نرگسی آنکھوں سے بہتے ہیں  

[37](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/10/37)

صغراؔ کی تو وطن سے کچھ آئی نہیں خبر  
جلدی کہو کہ منھ سے نکلتا ہے اب جگر  
اکبرؔ نے عرض کی کہ ہیں سب خیر سے مگر  
لٹتا ہے کوئی آن میں خیر النسا کا گھر  
ملتی نہیں رضا ہمیں آنسو بہاتے ہیں  
بابا گلا کٹانے کو میداں میں جاتے ہیں  

[38](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/10/38)

اس وقت کس سے دردِ دل اپنا کہوں میں آہ  
تم بھی ہو سدّ راہ پھوپھی بھی ہیں سدّ راہ  
چھائی ہے واں گھٹا کی طرح شام کی سپاہ  
اماں مدد کرو کہ کمر باندھتے ہیں شاہ  
اب زندگی ہے تلخ بہت دق ہیں جان سے  
الفت نے آپ کی ہمیں کھویا جہان سے  

[39](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/10/39)

دیتے نہیں رضا جو امامِ فلک اساس  
خاطر فقط یہ آپ کی ہے اور پھوپھی کا پاس  
اب غیرِ یاس کوئی نہیں ان کے آس پاس  
ناطاقتی ہے ضعف ہے فاقہ ہے اور پیاس  
کیوں کر لڑیں گے وہ کہ سراپا ضعیف ہیں  
پیری ہے دل ضعیف ہے اعضا ضعیف ہیں  

[40](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/10/40)

عباس جب سے مر گئے روتے ہیں دم بہ دم  
رخ زرد ہے کماں کی طرح ہو گئے ہیں غم  
چلوں میں تیر جوڑے ہیں واں بانیٔ ستم  
قرباں ہوں کس طرح پسرِ خاطر فاطمہؔ پہ ہم  
سب روکتے ہیں رن کی طرف جائیں کس طرح  
ماں کو پھوپھی کو بہنوں کو سمجھائیں کس طرح  

[41](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/10/41)

بابا کا حکم ہے کہ رضا جا کے ماں سے لاؤ  
راضی پھوپھی ہوں جب تو لڑو اور زخم کھاؤ  
مرضی ہے آپ کی کہ مرے پاس سے نہ جاؤ  
یا فاطمہؔ تمہیں علیؔ اکبر کے کام آؤ  
چلنے لگیں نہ تیر شہِ مشرقین پر  
نرغہ ہے ظالموں کا تمہارا حسینؔ پر  

[42](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/10/42)

دیکھی گئی نہ ماں سے یہ بیتابیِٔ پسر  
وارث کی بے کسی پہ لگا کانپنے جگر  
ہاتھوں سے دل کو تھام کے بولی وہ نوحہ گر  
دولت پہ فاطمہؔ کی تصدق تمام گھر  
پہلے نہ کچھ کہا تھا نہ اب روکتی ہوں میں  
روتے ہو کس لیے تمہیں کب روکتی ہوں میں  

[43](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/10/43)

زہراؔ کے لال پر مرے مادر پدر نثار  
عابدؔ نثار اصغرِؔ تشنہ جگر نثار  
جانیں ہزار ہوں تو فدا لاکھ سر نثار  
قربان گھر، کنیز تصدق، پسر نثار  
کِسرائی گو کہ ہوں پہ بہو میں علیؔ کی ہوں  
مانگو گے جو وہ دوں گی کہ لونڈی سخی کی ہوں  

[44](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/10/44)

مجھ پر حوالہ کرتے ہیں گر شاہِ خوش خصال  
رخصت نہ تم کو دوں یہ بھلا ہے مری مجال  
صدقہ انہیں کا ہے کہ ملا تم سا نونہال  
رخصت کا صدقے جاؤں پھوپھی سے کرو سوال  
ہم سب کنیزیں بنتِ امیر عرب کی ہیں  
اصغرؔ ہو یا کہ تم وہی مختار سب کی ہیں  

[45](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/10/45)

کہنے کو یوں ہیں چاہنے والے تمہارے سب  
لیکن ہے ان کے عشق سے نسبت کسی کو کب  
دن کو انہوں نے دن کبھی جانا نہ شب کو شب  
لیجے انہیں سے آپ کو جس شے کی ہے طلب  
مجھ سے نہ کچھ نہ سید عالی سے پوچھیے  
گر پوچھیے تو پالنے والی سے پوچھیے  

[46](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/10/46)

روتے ہوئے گئے علیؔ اکبر پھوپھی کے پاس  
دیکھا کہ غش پڑی ہے زمیں پر وہ حق شناس  
زانو پہ سر لیے ہوئے کبراؔ ہے بے حواس  
اس حال میں بھی لب پہ یہی ہے کلام یاس  
اب تاب و طاقت جسد و روح و دل گئی  
کیوں صاحبو! رضا علیؔ اکبر کو مل گئی  

[47](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/10/47)

اکبرؔ سے مجھ کو یہ نہ توقع تھی ہے غضب  
اتنا نہیں خیال کہ ہے کون جاں بہ لب  
اس گُل نے ہائے میری ریاضت بھلائی سب  
نامِ خدا جواں ہوئے کیا ہم سے کام اب  
ہیں محو رن کے شوق میں رخصت کے دھیان میں  
سچ ہے کسی کا کون ہوا ہے جہان میں  

[48](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/10/48)

یا بے ہمارے چین نہ آتا تھا کوئی دم  
مالک اب اور ہو گئے کوئی ہوئے نہ ہم  
کیا دخل تھا جو ڈیوڑھی سے باہر رکھیں قدم  
ہے ہے وہ میرا دردِ مصیبت وہ رنج و غم  
جاگی ہوں میں جو چونک کے راتوں کو روئے ہیں  
پوچھو تو کس کی چھاتی پہ بچپن میں سوئے ہیں  

[49](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/10/49)

کنگھی کسی کے ہاتھ کی بھاتی نہ تھی کبھی  
بے میرے لیٹے نیند انہیں آتی نہ تھی کبھی  
بے ان کی ماں کی قبر پہ جاتی نہ تھی کبھی  
روئیں پسر، پہ ان کو رلاتی نہ تھی کبھی  
میرے سوا کسی کو کبھی جانتے نہ تھے  
جو تھی سو میں تھی ماں کو تو پہچانتے نہ تھے  

[50](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/10/50)

ہر چند دونوں تھے مرے فرزند خورد سال  
پر اِن کے آگے اُن کا مجھے کچھ نہ تھا خیال  
راتوں کو جب لپٹتے تھے مجھ سے وہ نونہال  
میں کہتے تھی ہٹو علیؔ اکبر ہے میرا لال  
وہ دونوں مرنے والے تو پہلو میں ہوتے تھے  
پھیلا کے پاؤں یہ مری چھاتی پہ سوتے تھے  

[51](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/10/51)

چھوٹا تو ضد بھی کرتا تھا راتوں کو بارہا  
پرعونؔ کیا عقیلؔ تھا بخشے اسے خدا  
دن رات تھی خوشامدِ ہم شکل مصطفا  
سینے پہ جب یہ سوئے تو اس نے یہی کیا  
آقا کے نور عین ہیں عالی مقام ہیں  
اماں یہ شاہزادے ہیں اور ہم غلام ہیں  

[52](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/10/52)

رہتے تھے پاس باپ کے وہ غیرتِ قمر  
الفت میں ان کی مجھ کو کچھ ان کی نہ تھی خبر  
قرآن پڑھنے بیٹھتی تھی جب دمِ سحر  
صورت پہ تھی انہیں کی تلاوت میں بھی نظر  
غافل نہ ان کے پیار سے میں ایک آن تھی  
قرآں تو رحل پر تھا حمائل میں جان تھی  

[53](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/10/53)

میں نے انہیں پہ صدقے کئے اپنے دونوں لال  
تسکین تھی کہ باقی ہے اکبر سا نونہال  
مانگے تو آگے مجھ سے بھلا رخصتِ جدال  
نکلوں گی ساتھ خیمے سے بکھرا کے سر کے بال  
کیا خوب جیتے جی مَرے جائیں گے مرنے کو  
تلوار باندھ لی ہے ہمیں ذبح کرنے کو  

[54](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/10/54)

بچپن میں تھا نہ ہم سے زیادہ کسی کا پیار  
اب کیا غرض گزر گئی وہ فصل وہ بہار  
بھیگیں مسیں نمود ہوا سبزۂ عذار  
مالک ہیں خود بھلا مرا اب کیا ہے اختیار  
ثابت ہوا اِدھر سے اُدھر مرنے جائیں گے  
میں مر بھی جاؤں گی تو وہ یاں تک نہ آئیں گے  

[55](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/10/55)

باہر سدھارے یا ابھی ہیں ماں سے کچھ کلام  
بھابی نے کیوں لیا تھا ابھی رو کے میرا نام  
سینے پہ منہ کو رکھ کے یہ بولا وہ لالہ فام  
آنکھیں تو آپ کھولیے حاضر ہے یہ غلام  
خادم جدا نہ تھا شہِ گردوں سریر سے  
کس جرم پہ حضور خفا ہیں حقیر سے  

[56](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/10/56)

کیا ہے قصور جس پہ یہ غصہ ہے یہ عتاب  
کرتا ہوں بات میں کوئی بے مرضیِٔ جناب  
روتا ہوں اب کہ صبر کی مجھ کو نہیں ہے تاب  
شکوہ یہ خاکسار کا اے بنتِ بوتراب  
ہر دکھ میں ہر بلا میں مددگار آپ ہیں  
پالا ہے مجھ کو مالک و مختار آپ ہیں  

[57](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/10/57)

پیدا ہوا تو آپ کی صحبت مجھے ملی  
کرتی ہے روح شکر وہ راحت مجھے ملی  
یوسف کو کب ملی تھی جو دولت مجھے ملی  
رکھا عزیز آپ نے عزت مجھے ملی  
صدقہ ہے اس قدم کا جو سر تا فلک گیا  
کی مہر آفتاب نے، ذرہ چمک گیا  

[58](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/10/58)

مرضی نہ ہو تو رن کو بھی جائے نہ یہ غلام  
بندے ہیں ہم اطاعتِ مالک سے ہم کو کام  
تکرار کی مجال نہ اصرار کا مقام  
مرتے اگر تو اس میں بھی تھا آپ ہی کا نام  
روتی ہیں آپ کس لیے اچھا نہ جائیں گے  
پر یاد رکھیے منہ نہ کسی کو دکھائیں گے  

[59](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/10/59)

یہ کہہ کے جھک گیا جو قدم پر وہ ذی وقار  
بس ہو گئیں محبتِ قلبی سے بے قرار  
پھیلا کے دونوں ہاتھوں کو اٹھیں بحال زار  
شکوے کے بدلے منہ سے یہ نکلا کہ میں نثار  
امڈا یہ دل کہ چشم کے ساغر چھلک پڑے  
دیکھا جو آفتاب کو آنسو ٹپک پڑے  

[60](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/10/60)

لے کر بلایں بولیں کہ واری خفا نہ ہو  
صدقے ہے تم پہ جان ہماری خفا نہ ہو  
باتیں تھیں یہ تو پیار کی ساری خفا نہ ہو  
روتے ہو کیوں منگاؤ سواری خفا نہ ہو  
آئے بلا حسینؔ پہ جو اس کو رد کرو  
اچھا سدھارو دکھ میں پدر کی مدد کرو  

[61](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/10/61)

الفت کے جوش میں تو یہ منہ سے کہا مگر  
اٹھا یہ دل میں درد کہ تھرا گیا جگر  
کبراؔ کو روتے دیکھ کے بولی وہ نوحہ گر  
کیا ماجرا ہوا مجھے مطلق نہیں خبر  
میں روکنے نہ پائی کہ وار ان کا چل گیا  
کیا میں نے کہہ دیا کہ کلیجہ نکل گیا  

[62](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/10/62)

کیا جا کے اب نہ آئے گا گھر میں یہ نونہال  
ہے ہے مری کمائی پہ آ جائے گا زوال  
جس وقت سے شہید ہوئے رن میں دونوں لال  
بیہوش ہوں، حواس میں ہے میرے اختلال  
ایسا ہے اضطراب کہ کچھ جس کی حد نہیں  
جو آپ میں نہ ہو سخن اس کا سند نہیں  

[63](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/10/63)

میں ہوش میں نہ تھی یہ قدم پر گرے تھے جب  
میں بھی کہوں، یہ پاؤں پہ گرنے کا کیا سبب  
لو مجھ پہ اب کھلا کہ یہ رخصت کی تھی طلب  
اکبرؔ کو میں نے ہاتھ سے کھویا تھا ہے غضب  
اِصلا خبر نہیں مرے دلبر نے کیا کہا  
میں نے جواب کیا دیا اکبرؔ نے کیا کہا  

[64](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/10/64)

کیا کہہ دیا تھا مرنے کو جائے یہ گل بدن  
راضی ہوئی تھی میں کہ خزاں ہو مرا چمن  
بیخود ہوں جب سے رن میں سدھارے شہِ زمن  
کہتی ہوں کچھ زباں سے نکلتا ہے کچھ سخن  
اتنی خبر نہیں علیؔ اکبر کے پیار میں  
قابو میں ہے نہ دل نہ زباں اختیار میں  

[65](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/10/65)

زندوں میں ہوتی گر تو یہ کہتی کہ مرنے جائیں  
اس پیاس میں شہید ہوں فاقوں میں زخم کھائیں  
اٹھا رواں برس ہے دلھن تو مجھے دکھائیں  
پالا ہے منتوں سے، مُرادیں مری برآئیں  
مرتی ہوں اشتیاق میں سہرا تو دیکھ لوں  
سہرے کے نیچے چاند سا چہرا تو دیکھ لوں  

[66](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/10/66)

رخصت کے نام سے مرا پھٹتا ہے اب جگر  
ایسا نہ ہو کہ بانوئے بے کس کو ہو خبر  
گر سن لیا تو دل میں کہے گی وہ نوحہ گر  
پیارا ہوا نہ بنتِ علیؔ کو مرا پسر  
سمجھیں تھیں کیا جو دی اسے رخصت جدال کی  
زینبؔ نے ہائے قدر نہ کی میرے لال کی  

[67](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/10/67)

سچ ہے کہ اس کی چاہ سے نسبت مجھے کہاں  
ہوں لاکھ ان کی چاہنے والی وہ پھر ہے ماں  
آنکھوں کا نور قلب کی طاقت بدن کی جاں  
آنچ آتما کی ہے وہ قیامت کہ، الاماں  
کیا سوچتے ہو صاحبو کچھ تم کو خیر ہے  
ماں ہے تو ماں ہے خلق میں پھر غیر غیر ہے  

[68](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/10/68)

ماں کی نہ کم توجہی اور نہ کسی کا پیار  
غصہ ہو، یا کہ سخت کہے دل میں ہے نثار  
بلبل فدا ہے گل پہ، شکایت کرے ہزار  
دنیا میں عاشقوں کے دلوں کو کہاں قرار  
دیں ماں کا ساتھ نامِ خدا اب جوان ہیں  
میرا ہے جب یہ حال، پھر اس کی تو جان ہیں  

[69](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/10/69)

جس دم سنے یہ دُور سے بانو نے سب کلام  
آئی قریب حضرت زینب وہ نیک کام  
کی غرض ہاتھ جوڑ کے اے خواہر امام  
میں ہوں کنیز آپ کی اور یہ پسر غلام  
کس کی مجال ہے جو کہے گا یہ کیا کیا  
بی بی نے دی غلام کو رخصت، بجا کیا  

[70](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/10/70)

لونڈی ہے فاطمہ کی کنیزوں میں با وفا  
ہو قطع وہ زباں جو کرے آپ کا گلا  
حضرت کو ان کے سر پہ سلامت رکھے خدا  
مالک ہیں آپ اس میں کسی کو ہے دخل کیا  
کچھ جائے گفتگو ہے نہ ماں کو نہ باپ کو  
ہے دخل اذن دینے نہ دینے کا آپ کو  

[71](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/10/71)

غم کھائیے نہ خونِ جگر آپ پیجئے  
عابدؔ کو بھیج دیجیے اصغرؔ کو بھیجئے  
ہے اختیار دیجیے رخصت نہ دیجیے  
قربان جاؤں جو ہو مناسب وہ کیجیے  
شادی ہو یا کہ غم ہو شریکِ ثواب ہوں  
ہر طرح سے میں تابع حکمِ جناب ہوں  

[72](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/10/72)

گھر میرا جب سے لٹ گیا اس گھر میں آئی ہوں  
شکوے کا کوئی حرف کبھی لب پہ لائی ہوں  
کسریٰ کی گو کہ پوتی ہوں سلطاں کی جائی ہوں  
لونڈی ہوں آپ کی علیؔ اکبر کی دائی ہوں  
صدقہ یہ آپ کا ہے جو شہ کو عزیز ہوں  
بھاوج نہ جانیے مجھے ادنیٰ کنیز ہوں  

[73](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/10/73)

آپ اس کی ماں ہیں آپ کا فرزند ہے یہ لال  
دخل اس معاملہ میں کوئی دے یہ کیا مجال  
یہ عازم جدال ہے اور آپ کا یہ حال  
قدموں کو چھوڑتا نہ کبھی یہ نکو خصال  
آپ اس کو چاہتی ہیں یہ صدقے ہے آپ پر  
پر کیا کرے کہ آج مصیبت ہے باپ پر  

[74](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/10/74)

قسمت بری ہے اس میں کسی کا قصور کیا  
اچھا رہیں کہ جائیں ہمارا بھی ہے خدا  
پروا ہماری ہے نہ خیال ان کو آپ کا  
تابع ہم آپ کے بھی ہیں ان پر بھی ہیں فدا  
عابدؔ ہوں یا کہ یہ سبھی، آنکھوں کے تارے ہیں  
پر اب تو یہ نہ آپ کے ہیں، نہ ہمارے ہیں  

[75](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/10/75)

یہ سن کے کانپنے لگی زینبؔ جگر فگار  
آئی صدائے فاطمہؔ بیٹی یہ ماں نثار  
اللہ یہ محبتِ فرزند اور یہ پیار  
تنہا ستم کی فوج میں ہے میرا گل عذار  
رخصت نہ دے گی تو اگر اس نور عین کو  
کون اب بچائے گا مرے بیکس حسینؔ کو  

[76](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/10/76)

آواز سن کے کانپ گئی بنتِ مرتضا  
بانوؔ کے منہ کو دیکھ کے اکبرؔ سے یہ کہا  
واری سدھارو خیر جو کچھ مرضیِٔ خدا  
ترکِ ادب ہے تم کو اگر اب نہ دوں رجا  
یاں والدہ بہشت سے تشریف لائی ہیں  
بنتِ نبی تمہاری سفارش کو آئی ہیں  

[77](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/10/77)

تسلیم کرکے خیمے سے وہ سیم بر چلا  
پیچھے حرم کا قافلہ سب ننگے سر چلا  
بانوؔ پکارتی تھی کہ پیارا پسر چلا  
چلاتی تھی پوپھی مرا لختِ جگر چلا  
لٹتے ہیں اہلِ بیت دہائی امام کی  
تصویر گھر سے جاتی ہے خیر الانام کی  

[78](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/10/78)

بھائی کے غم سے عابدِ بیکس تھے بے قرار  
اٹھتے تھے اور زمین پہ گرتے تھے باربار  
بہنیں پکارتی تھیں کہ بھیا ترے نثار  
سینوں کو پیٹتی تھیں خواصیں بہ حال زار  
اک حشر تھا جدا علیؔ اکبر جو ہوتے تھے  
جھولے میں پھوٹ پھوٹ کے اصغرؔ بھی روتے تھے  

[79](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/10/79)

ہلتا تھا خیمہ رانڈوں میں تھی، یہ دھڑا دھڑی  
آہوں کی بجلیاں تھیں تو اشکوں کی تھی جھڑی  
کوئی ادھر کو غش تھی کوئی تھی اُدھر پڑی  
آفت کا وقت تھا تو قیامت کی تھی گھڑی  
ماتم تھا یہ حسینؔ کے تازہ جوان کا  
جاتا ہے گھر سے جیسے جنازہ جوان کا  

[80](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/10/80)

نکلا حرم سرا سے جو وہ نورِ حق کا نور  
خادم نے دی صدا کہ برآمد ہوئے حضور  
حضرت کھڑے تھے خیمے کی ڈیوڑھی سے کچھ جو دور  
دستِ ادب کو جوڑ کے بولا وہ ذی شعور  
رخصت ہوں اب جو حکم شہ نامدار ہو  
رو کر کہا حسینؔ نے اچھا سوار ہو  

[81](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/10/81)

گھوڑے پہ شاہزادۂ عالم ہوا سوار  
گویا چلے جہاد کو محبوب کردگار  
تھا ثانیِٔ براق فلک سیر راہوار  
صرصر سے تند و تیز تو بجلی سے بے قرار  
یوں سامنے سے وہ دمِ جولاں نکل گیا  
گویا ہوا پہ تختِ سلیماں نکل گیا  

[82](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/10/82)

حضرت تو یاں زمیں پہ گرے تھام کر جگر  
جاسوس نے یہ لشکر اعدا کو دی خبر  
آتا ہے اک جوانِ حسیں غیرت قمر  
چہرہ پہ اس کے نور محمد ہے جلوہ گر  
شان و شکوہ سب اسدِ کبریا کی کی ہے  
کہتے ہیں سب بشر نہیں قدرت خدا کی ہے  

[83](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/10/83)

ہے دھوم ذرے ذرے میں اس آفتاب کی  
خوشبو ہے زلف و جسم میں مشک و گلاب کی  
سر تا قدم ہے شان رسالت مآب کی  
تصویر ہے رسولِ خدا کے شباب کی  
گھوڑے کے گرد جن و ملک کا ہجوم ہے  
صلّو علی النبی کی بیاباں میں دھوم ہے  

[84](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/10/84)

روشن کیا ہے روئے منور نے راہ کو  
رخ پر نہیں ٹھہرنے کا یارا نگاہ کو  
حیراں ہے عقل دیکھ کے زلفِ سیاہ کو  
آغوش میں لیے ہے شبِ قدر ماہ کو  
چہرے کے نور سے شبِ مہتاب ماند ہے  
خالق گوا ہ ہے کہ اندھیرے کا چاند ہے  

[85](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/10/85)

یہ ذکر تھا کہ نورِ خدا جلوہ گر ہوا  
گویا رسولِ پاک کا رن میں گذر ہوا  
چلائے اہلِ شام کہ طالع قمر ہوا  
ہنگامِ ظہر تھا پہ گمانِ سحر ہوا  
جلوہ دکھایا برق تجلیِٔ طور نے  
خورشید کو چھپا دیا چہرے کے نور نے  

[86](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/10/86)

غش کھا گیا کوئی کوئی گر کر سنبھلا گیا  
صلِّ علیٰ کسی کی زباں سے نکل گیا  
خجلت سے آفتاب کا نقشبہ بدل گیا  
چمکا جو نور دھوپ کا جو بن بھی ڈھل گیا  
دریائے نور حق کا فقط اوج موج تھا  
سب پست تھے زمیں کے ستارے کا اوج تھا  

[87](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/10/87)

صحرا کو شمعِ حسن نے تابند کر دیا  
جو مردہ دل تھے دم میں انہیں زندہ کر دیا  
ذروں کو آفتاب درخشندہ کر دیا  
گردوں کو اس زمین نے شرمندہ کر دیا  
پایہ زمیں کا عرش کے ہم دست ہو گیا  
جادے سے اوجِ کاہکشاں پست ہو گیا  

[88](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/10/88)

اللہ رے نبیرۂ مشکل کشا کی شان  
تھی جس کے عضو عضو سے پیدا خدا کی شان  
حیراں تھے لوگ دیکھ کے اس مہ لقا کی شان  
حمزہ کا رعب زورِ علی مصطفی کی شان  
پاکیزگی نسب میں بزرگی صفات میں  
شیرینیٔ کلام حسنؔ بات بات میں  

[89](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/10/89)

کچھ حسن بچپنے کا تو کچھ آمد شباب  
وہ گل سا جسم اور وہ چہرے کی آب و تاب  
اپنی جگہ یہ خال کے نقطے ہیں انتخاب  
پتلی کا نور جن کی سیاہی سے بہرہ یاب  
گردن کی ضو میں طَور تجلیٔ طُور کے  
سب عضو تن ڈھلے ہوئے سانچے میں نور کے  

[90](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/10/90)

دل پاک روح پاک نطر پاک جسم پاک  
طینت میں آبِ خلد تھا اور کربلا کی خاک  
غرفوں سے جس کے حسن کی حوروں کو جھانک تاک  
یوسف جو دیکھ لیں تو کہے روحنا فداک  
نام اس کا لوح پر جو قلم نے رقم کیا  
سو بار پڑھ کے سورۂ نور اس پہ دم کیا  

[91](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/10/91)

کیا دخل، چار ہو، جو کسی بے ادب کی آنکھ  
رکھتی تھی رعب یہ، نہ عجم نہ عرب کی آنکھ  
لاکھوں تھے اس طرف پہ جھپکتی تھی سب کی آنکھ  
غصہ ستم کا، قہر کی چتون غضب کی آنکھ  
پانی تھا، خوف جاں سے جگر، ہر دلیر کا  
آہو شکار کرتے تھے میداں میں شیر کا  

[92](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/10/92)

غل تھا رسولِ پاک کے ثانی کو دیکھنا  
حسنِ بہار باغ جوانی کو دیکھنا  
کھلتے ہیں گل شگفتہ بیانی کو دیکھنا  
یہ سب تو ہے پہ غنچہ دہانی کو دیکھنا  
نازک لب اس صفت کے دہن اس طریق کا  
خاتم پہ جڑ دیا ہے نگینہ عقیق کا  

[93](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/10/93)

کچھ عمر بھی نہیں ابھی اٹھارواں ہے سال  
یہ باغ کس بہار میں ہوتا ہے پائمال  
قامت یہ ہے کہ سروِ گلستانِ اعتدال  
ماں باپ دیکھ دیکھ کے کیوں کر نہ ہوں نہال  
آنکھوں کے سامنے جو یہ قامت نہ ہوئے گی  
بتلاؤ ماں کہ دل پہ قیامت نہ ہوئے گی  

[94](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/10/94)

زخمی جو ہوگی تیر سے یہ چاند سی جبیں  
پٹکے گی سر کو خاک پہ بانوئے دل حزیں  
تیغوں سے جب کٹیں گے یہ رخسار نازنیں  
پیٹیں گے دونوں ہاتھوں سے منہ اپنا شاہِ دیں  
سینہ چھدے پسر کا تو کیا دل کو کل پڑے  
ایوبؔ بھی جو ہوں تو کلیجہ نکل پڑے  

[95](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/10/95)

ناگاہ فوج کیں سے عمرؔ نے کیا کلام  
یہ وقت کار زار ہے اے ساکنانِ شام  
بس ہے یہی بساط شہنشاہِ خاص و عام  
مارا گیا یہ شیر تو مر جائیں گے امام  
لُوٹو جناب فاطمہؔ زہرا کے باغ کو  
ٹھنڈا کرو حسینؔ کے گھر کے چراغ کو  

[96](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/10/96)

تصویر مصطفی کی مٹائے گا آج جو  
کہتا ہوں میں کہ صاحب جاگیر ہوگا وہ  
محبوب کبریا کے مشابہ ہے گر تو ہو  
اب مصلحت یہی ہے کہ مہلت اسے نہ دو  
ہے اس سے کیا مراد حسیں ہے کہ نیک ہے  
دو لاکھ اس طرف ہیں دلاور وہ ایک ہے  

[97](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/10/97)

دنیا نہ جائے دین کا گر ہو تو ہو ضرر  
ٹکڑے کرو اسے کہ یہ دشمن کا ہے پسر  
تم آب دیدہ ہو لبِ خشک اس کے دیکھ کر  
قطرہ نہ دوں میں گھٹنیوں اصغرؔ بھی آئے گر  
غیر از یزیدؔ اور کوئی حکمراں نہ ہو  
اولاد مرتضیٰ میں کسی کا نشاں نہ ہو  

[98](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/10/98)

ہاں غازیو نہ اس کی جوانی کا غم کرو  
نیزے پہ نیزے مارو ستم پر ستم کرو  
برچھی اٹھاؤ ہاتھوں پہ تیغیں علم کرو  
نخلِ مرادِ سبطِ نبی کو قلم کرو  
بیٹا نہ جب رہا تو کدھر جائیں گے حسینؔ  
گھوڑے سے یہ گرے گا تو مرجائیں گے حسینؔ  

[99](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/10/99)

چھد جائے گا سناں سے جو اس شیر کا جگر  
تڑپیں گے کیا زمیں پہ شہنشاہ بحر و بر  
ڈیوڑھی سے ماں پکارے گی ہے ہے مرا پسر  
نکلے گی خیمہ گاہ سے زینبؔ برہنہ سر  
حضرت تو پیٹتے ہوئے لاشے پہ آئیں گے  
ہم لوٹنے کو خیمۂ اقدس میں جائیں گے  

[100](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/10/100)

یہ گل عذار دخترِ حیدرؔ کی جان ہے  
بہنوں کی زندگی ہے برادر کی جان ہے  
بابا کی روح ہے تنِ مادر کی جان ہے  
بے جاں کرو اسے کہ یہ سب گھر کی جان ہے  
جوشن یہی ہے بازوئے برناوپیر کا  
بعد اس کے خاتمہ ہے صغیر و کبیر کا  

[101](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/10/101)

یہ سن کے فوجِ کیں ہوئی آمادۂ نبرد  
دردِ دل حسین کا تھا ایک کو نہ درد  
غل سن کے ہو گیا شہ والا کا رنگ زرد  
کانپے جو پاؤں بیٹھ گئے بھر کے آہ سرد  
ماں گر پڑی زمیں پہ پھوپھی بلبلا گئی  
بدلی ستم کی واں علیؔ اکبر پہ چھا گئی  

[102](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/10/102)

قرنا پھکی سپاہ میں طبلِ وغا بجا  
باندھے پرے سواروں نے بڑھ بڑھ کے جابجا  
پیدل، چلے نبرد کو باجے بجابجا  
چلاے اہلِ بیت کہ ہے ہے یہ کیا بجا  
حضرت پکارے لال پہ اعدا کے ریلے ہیں  
رانڈو دعا کرو علیؔ اکبر اکیلے ہیں  

[103](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/10/103)

لڑنے کو اس طرف سے عدو سب کے سب بڑھے  
تنہا ادھر سے اکبرؔ عالی نسب بڑھے  
چومے قدم نہیب نے جھک کر یہ جب بڑھے  
گویا پئے جہاد امیر عرب بڑھے  
دہشت سے فوج شام کی بدلی سمٹ گئی  
قدرت خدا کی دن جو بڑھا رات گھٹ گئی  

[104](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/10/104)

ڈھالوں کو رکھ کے چہروں پہ گر گر پڑے حسود  
گو تھے کئی ہزار پہ کیا ان کی ہست و بود  
تھرا گیا تمام جنودِ سقر و رود  
نورِ خدا کے سامنے ظلمت کی کیا نمود  
عبرت سپاہ شام پہ دِہ چند ہو گئی  
باجوں کی فوجِ کیں کے صدا بند ہو گئی  

[105](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/10/105)

جرار کی زرہ پہ لگے جب کئی خدنگ  
صفدر نے پڑھ کے فاتحہ، لی تیغ شعلہ رنگ  
چمکا اک آئینہ کہ ہوئی فوجِ شام دنگ  
دکھلائے تیغ تیز نے بجلی کے رنگ ڈھنگ  
تھی کس کو تاب صاعقۂ شعلہ بار کی  
یاد آ گئی ہر اک کو چمک ذوالفقار کی  

[106](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/10/106)

تھم تھم کے یوں گیا صفِ اعدا پہ وہ دلیر  
جاتا ہے داؤں کر کے غزالوں پہ جیسے شیر  
غازی جو بھوک پیاس میں تھا زندگی سے سیر  
کشتوں کے پشتے ہو گئے دم میں سروں کے ڈھیر  
اک سیل زور شور سے آئی گذر گئی  
ثابت نہ یہ ہوا صفِ اول کدھر گئی  

[107](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/10/107)

جب یہ بڑھے لہو تنِ اعدا کا گھٹ گیا  
باقی تھا جو حساب وہ لاشوں سے پٹ گیا  
لشکر میں فرد فرد کا چہرا جو کٹ گیا  
پس دفعتاً سپاہ کا دفتر الٹ گیا  
سر داخلِ خزانۂ سرکار ہوگئے  
پہلا ہی جائزہ تھا کہ بیکار ہوگے  

[108](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/10/108)

چہرے پہ ایک کے نہ بحالی نظر پڑی  
جو صف بھری ہوئی تھی وہ خالی نظر پڑی  
سر پر سبھوں کے تیغ ہلالی نظر پڑی  
سوئے جنوب فوجِ شمالی نظر پڑی  
غل تھا کہ تیغ تیز نہیں موت آتی ہے  
کیوں کر قدم تھمیں کہ زمیں سرکی جاتی ہے  

[109](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/10/109)

ٹکڑے پڑے تھے خاک پہ بھالے اِدھر اُدھر  
چھپتے تھے ڈر کے برچھیوں والے اِدھر اُدھر  
پیشِ نظر تھے خون کے تھالے اِدھر اُدھر  
ابتر تھے دشتِ کیں میں رسالے اِدھر اُدھر  
ملتا تھا فصل کا نہ ٹھکانا نہ باب کا  
شیرازہ کھل گیا تھا ستم کی کتاب کا  

[110](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/10/110)

بڑھ کر کسی نے وار جو روکا سپر کٹی  
چار آئینہ کٹا زرہِ خیرہ سر کٹی  
نیزے کی ہرگرہ صفتِ نیشکر کٹی  
سینہ کٹا جگر ہوا زخمی کمر کٹی  
رہوار بھی دو نیم میانِ مصاف تھا  
ان سب کے بعد منہ کو جو دیکھا تو صاف تھا  

[111](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/10/111)

وہ گھاٹ باڑھ اور وہ اس کی چمک دمک  
کانپی کبھی زمیں کبھی تھرا گئے فلک  
شعلے میں یہ چمک تھی نہ بجلی میں یہ لپک  
ہر ضرب میں سما سے تلاطم تھا تا سمک  
کونین میں حواس بجا تھے نہ ایک کے  
گاوِ زمیں سمٹتی تھی گھنٹوں کو ٹیک کے  

[112](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/10/112)

سیدھی چلی وہ جب صفِ دشمن الٹ گئی  
باقی تھی جتنی عمر تہِ تیغ کٹ گئی  
آ کر زمیں پہ جب سوئے گردن پلٹ گئی  
بجلی سے رعد رعد سے بجلی لپٹ گئی  
گرتے تھے جن، زمین پہ منہ ڈھانپ ڈھانپ کے  
ہٹتے تھے جبرئیل امیں کانپ کانپ کے  

[113](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/10/113)

ملتا نہ تھا صفوں میں عَلم کا نشاں کہیں  
چلے کہیں تھے شست کہیں اور کماں کہیں  
نیزے کہیں تھے ڈانڈ کہیں اور سناں کہیں  
جمدھر کہیں کمند کہیں برچھیاں کہیں  
اک اک سیاہ رو کا جگر داغ داغ تھا  
جنگل تمام ڈھالوں کے پھولوں سے باغ تھا  

[114](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/10/114)

چمکی گری اٹھی ادھر آئی اُدھر گئی  
خالی کیے پرے تو صفیں خوں میں بھر گئی  
کاٹے کبھی قدم کبھی بالائے سر گئی  
ندی غضب کی تھی کہ چڑھی اور اتر گئی  
اک شور تھا یہ کیا ہے جو قہر صمد نہیں  
ایسا تو رودِ نیل میں بھی جزر و مد نہیں  

[115](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/10/115)

سر خود سروں کے چنبر گردن سے اڑ گئے  
ہاتھ آستیں سے اڑ گئے سر تن سے اڑ گئے  
ڈر ڈر کے سب پرند نشیمن سے اڑ گئے  
پائی جو راہ طائرِ جاں سَن سے اڑ گئے  
تھے قتلِ عام پر علیؔ اکبر تلے ہوئے  
رستے تھے بند زخموں کے کوچے کھلے ہوئے  

[116](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/10/116)

اللہ رے دو زبانیٔ تیغ دو دم کا کاٹ  
آفت تھی جس کی باڑھ قیامت تھا جس کا گھاٹ  
مقتل سے تا بہ نہر تھا دریائے خوں کا پاٹ  
ہر دم تھی اس کو تازہ لہو چاٹنے کی چاٹ  
سختی کو جوڑ بند کے کب مانتی تھی وہ  
ہر استخواں کو مغز قلم جانتی تھی وہ  

[117](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/10/117)

آئی جدھر پلٹ کے صفوں کو بچھا گئی  
تن سے اڑا دیا وہی سر جس کو پا گئی  
ہر اک کڑی کو نرم سمجھ کر چبا گئی  
فولاد کی زرہ کو اشارے میں کھا گئی  
چار آئینہ کا کاٹ بھی اس پر حوالہ تھا  
ذکر اس کا کیا ہے خود تو منہ کا نوالہ تھا  

[118](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/10/118)

یارا قرار کا تھا نہ صورت فرار کی  
پیدل کی موت تھی تو خرابی سوار کی  
روئیں تنوں کو، تاب نہ تھی ایک وار کی  
ٹکڑے تھے دو کے ہاتھ یہ گھائی تھی چار کی  
آگے بڑھے تو منہ وہیں کٹ جائے گیو کا  
بجلی کی تھی کڑک کہ طمانچہ تھا دیو کا  

[119](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/10/119)

اتری زمیں پہ وہ سر دشمن پہ جب چڑھی  
دم بھر میں آبِ تیغ کی ندی غضب چڑھی  
اک شور تھا صفوں میں کب اتری یہ کب چڑھی  
سب کو بخارِ تیغ سے لرزے کی تپ چڑھی  
مقتل سے بھاگنے پہ تنک ظرف تُل گئے  
کانپے یہ نیزہ باز کہ سب بند کُھل گئے  

[120](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/10/120)

زندہ کسی کو تیغ دو دم چھوڑتی نہ تھی  
پیاسی یہ تھی کہ جسم میں دم چھوڑتی نہ تھی  
بے دم کیے گلا کوئی دم چھوڑتی نہ تھی  
بھاگیں کہاں کہ موت قدم چھوڑتی نہ تھی  
خود وہ دبے جو لڑتے تھے گھوڑوں کو داب کے  
بیڑی قدم میں بن گئے، حلقے رکاب کے  

[121](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/10/121)

قعرِ سقر میں کشتۂ ضربِ نخست تھے  
بے سر ہوئے بہت جو لڑائی میں چست تھے  
قبضہ میں تھا نہ زور نہ بازو درست ھے  
کھینچیں کسے کمانوں کے بازو بھی سست تھے  
ہر کج نہاد تیر اجل کا نشانہ تھا  
شانے بھی تھے قلم یہ نیا شاخسانہ تھا  

[122](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/10/122)

تیغوں کو ڈر کے عربدہ جو پھینکنے لگے  
مغفر سروں سے مثل سبو پھینکنے لگے  
حلقے کماں کے سب لب جو پھینکنے لگے  
تنکا سمجھ کے تیر عدو پھینکنے لگے  
ترکش بھی اہل ظلم کے آفت رسیدہ تھے  
چلّے بھی کشمکش میں کماں سے کشیدہ تھے  

[123](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/10/123)

کرتے تھے فتح جنگ کو جو ایک آن میں  
رعشہ تھا ان کے ہاتھ میں لکنت زبان میں  
الجھاتے تھے کمند کمینے کمان میں  
ترکش میں تیغیں رکھتے تھے تیروں کو میان میں  
تلوار رکھ کے ہاتھ سے منہ ڈھانپ لیتے تھے  
آتی تھی تیغ جب تو سپر پھینک دیتے تھے  

[124](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/10/124)

بڑھتے تھے جو پرے سے بڑے بول بول کے  
پہلے انہیں کو مار لیا رول رول کے  
حملہ کیا جو تیغِ دو دم تول تول کے  
ہتھیار سب نے پھینک دیے کھول کھول کے  
اس شان سے کبھی نہ عجم نہ عرب لڑے  
دو دن کی پیاس میں علیؔ اکبر غضب لڑے  

[125](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/10/125)

دہشت سے کتنے ڈوب کے دریا میں مر گئے  
اس گھاٹ پر جو آئے سر ان کے اتر گئے  
رستہ تھا ایک اِدھر وہ گئے یا اُدھر گئے  
ہر پھر کے ہر طرف سے میانِ سقر گئے  
نار ان کے اشتیاق میں آب ان کی لاگ میں  
پھینکا ہوا نے آب میں پانی نے آگ میں  

[126](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/10/126)

وہ حرب وہ شکوہ وہ شان پیمبری  
نعرے وہ زور و شور کے وہ ضرب حیدریؔ  
وہ تیغ خوں چکاں وہ جلالِ غضنفری  
راکب جو رشکِ حور تو رہوار بھی پری  
چالاک آہوانِ ختن اس قدر نہ تھے  
اڑ جاتا تھا ہما کی طرح اور پر نہ تھے  

[127](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/10/127)

باریک جلد وہ کہ نظر آئے تن کا خوں  
کنڈے کو دیکھ کر مہِ نو ہووے سرنگوں  
رفتار میں وہ سحر کہ پریوں کو ہو جنوں  
غنچے بھی کچھ بڑے ہیں کنوتی کو کیا کروں  
قرباں ہزار جان، فرس بے نظیر پر  
پیکان دو چڑھے ہوئے ہیں ایک تیر پر  

[128](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/10/128)

کوتاہ و گرد و صاف کنوتی کمر کفل  
کیا خوشنما کشادگیِٔ سینہ و بغل  
سیماب کی طرح نہیں آرام ایک پل  
پھرتا تھا اس طرح کہ پھرے جس طرح سے کَل  
راکب نے سانس لی کہ وہ کوسوں روانہ تھا  
تارِ نفس بھی اس کے لیے تازیانہ تھا  

[129](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/10/129)

وہ جست خیز سرعتِ چالاکیِٔ سمند  
سانچے میں تھے ڈھلے ہوئے سب اس کے جوڑ بند  
سُم قرص ماہتاب سے روشن ہزار چند  
نازک مزاج و شوخ و سیہ جسم سر بلند  
گر ہل گئی ہوا سے ذرا باگ اڑ گیا  
پُتلی سوار کی نہ پھری تھی کہ مُڑ گیا  

[130](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/10/130)

آہو کی جست شیر کی آمد پری کی چال  
کبکِ دری خجل پر طاؤس پائمال  
سبزہ سبک روی میں قدم کے تلے نہال  
اک دو قدم میں بھول گئے چوکڑی غزال  
جو آ گیا قدم کے تلے گرد برد تھا  
چھل بل غضب کی تھی کہ چھلاوا بھی گرد تھا  

[131](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/10/131)

بجلی کبھی بنا کبھی رہوار بن گیا  
آیا عرق تو ابر گہر بار بن گیا  
گہ قطب، گاہ گنبد دوّار بن گیا  
نقطہ کبھی بنا کبھی پرکار بن گیا  
تیراں تھے اس کے گشت پہ لوگ اس ہجوم کے  
تھوڑی سی جا میں پھرتا تھا کیا جھوم جھوم کے  

[132](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/10/132)

جب اس جری نے قتل کیے پانچ سو جواں  
ہر صف سے ہر پرے سے اٹھا شور الاماں  
چلایا ابن سعدِ سیہ قلب و سخت جاں  
نکلیں وہ دس ہزار کماندار ہیں کہاں  
برچھی کا اب ہے کام نہ تلوار چاہیے  
اس نوجواں پہ تیروں کی بوچھار چاہیے  

[133](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/10/133)

یہ سن کے تشنہ لب پہ چلے چار سو سے تیر  
پتھر عقب سے پڑنے لگے رو برو سے تیر  
آتے تھے فوج فوج، سپاہِ عدو سے تیز  
سب سرخ تھے شبیہ نبی کے لہو سے تیر  
مقتل میں کیا ہجوم تھا اس نور عین پر  
پروانے گر رہے تھے چراغِ حسینؔ پر  

[134](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/10/134)

سینے پہ تیر کھا کے اٹھایا جو راہوار  
بجلی چمک کے ہو گئی گویا فلک کے پار  
سر خاک پر گرانے لگی تیغِ آبدار  
تیروں کو پھینک پھینک کے بھاگے خطا شعار  
حملہ کیا تھا جن پہ رخ ان کے تو پھر گئے  
پر یہ پلٹ کے برچھیوں والوں میں گھر گئے  

[135](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/10/135)

یوں آ گیا سنانوں میں وہ آسماں جناب  
ہو جس طرح خطوطِ شعاعی میں آفتاب  
سوکھی زباں میں پڑ گئے کانٹے بغیر آب  
طاقت بھی فرط ضعف سے دینے لگی جواب  
آمد ہوئی جو غش کی سرِ پاک جھک گیا  
واحسرتا کہ ہاتھ بھی لڑنے سے رک گیا  

[136](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/10/136)

اس حال میں بھی تیغ سے کیں برچھیاں قلم  
لیکن جگر پہ لگ گیا اک نیزۂ ستم  
زخمِ جگر سے بہنے لگا خون دم بہ دم  
نکلے ہوئے رکابوں سے تھراتے تھے قدم  
کھینچا جو اس نے سینے سے نیزہ تکاں کے ساتھ  
دو پارۂ جگر نکل آئے سناں کے ساتھ  

[137](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/10/137)

نیزہ لگا کے بھاگ چلا تھا وہ نابکار  
قربان جرأتِ پسرِ شاہِ نامدار  
زخمِ سناں تھا سینۂ انور کے وار پار  
ماری شقی کو دوڑ کے اک تیغ آبدار  
پہونچوں سے اس کے ہاتھ قلم ہو کے گر پڑے  
لیکن فرس سے آپ بھی خم ہو کے گر پڑے  

[138](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/10/138)

گرنا تھا بس کہ سر پہ لگا گرز ہے ستم  
یوں جھک گئے کہ ہوتے ہیں سجدے میں جیسے خم  
رکھ دی گلے پر شیثؔ نے شمشیر تیز دم  
تلوار اک پڑی کہ ہوئیں پسلیاں قلم  
غل تھا کرو نہ رحم تنِ پاش پاش پر  
دوڑا دو گھوڑے اکبرؔ مہرو کی لاش پر  

[139](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/10/139)

حضرت کھڑے تھے خیمے کی پکڑے ہوئے طناب  
سن کر یہ غل رہی نہ دلِ ناتواں کو تاب  
ناگاہ رن سے آئی صدا اے فلک جناب  
بیٹا جہاں سے جاتا ہے اب آئیے شتاب  
لاشے پہ ظلم و جور بد افعال کرتے ہیں  
گھوڑوں سے اہل کیں ہمیں پامال کرتے ہیں  

[140](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/10/140)

سن کر یہ استغاثۂ فرزند خوش خصال  
سید نے آہ کی کہ ہلا عرش ذو الجلال  
کھولے جناب فاطمہؔ کی بیٹیوں نے بال  
بانوؔ پکاری خیر تو ہے اے علیؔ کے لال  
ہے ہے پسر سے کون سی مادر بچھڑ گئی  
صاحب بتاؤ کیا مری بستی اجڑ گئی  

[141](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/10/141)

نیزے سے کس کے لال کا زخمی ہوا جگر  
کرتے ہیں کس کی لاش کو پامال اہلِ شر  
کہتا ہے کون رن میں تڑپ کر پدرپدر  
اب گھر سے میں نکلتی ہوں ہے ہے مرا پسر  
پردہ نہ مجھ سے کیجیے سب جانتی ہوں میں  
آواز یہ اسی کی ہے پہچانتی ہوں میں  

[142](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/10/142)

بانوؔ کو قسمیں دے کے چلے شاہِ نامدار  
وہ پیاس اور وہ دھوپ کا صدمہ وہ اضطرار  
دل تھا الٹ پلٹ تو کلیجہ تھا بے قرار  
اٹھتے تھے اور زمین پہ گرتے تھے باربار  
چلاتے تھے شبیہ پیمبر ہم آتے ہیں  
گھبرائیو نہ اے علیؔ اکبر ہم آتے ہیں  

[143](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/10/143)

بیٹا پکارو پھر کہ بصارت میں فرق ہے  
اے نور عین جسم کی طاقت میں فرق ہے  
تم یہ نہ جانیو کہ محبت میں فرق ہے  
زخمی ہے قلب روح کی راحت میں فرق ہے  
داغِ جگر ملا ہمیں گودی میں پال کے  
کس کو دکھاؤں اپنا کلیجہ نکال کے  

[144](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/10/144)

آؤں کدھر کو اے علیؔ اکبر جواب دو  
چلا رہی ہے ڈیوڑھی پہ مادر جواب دو  
اکبرؔ برائے خالقِ اکبر جواب دو  
بیٹا جواب دو مرے دلبر جواب دو  
گرتے ہیں ہم ثواب کا ہاتھوں سے کام لو  
بیٹا ضعیف باپ کے بازو کو تھام لو  

[145](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/10/145)

کچھ سوجھتا نہیں کہ کدھر جاؤں کیا کروں  
اے نورِ چشم تجھ کو کہاں پاؤں کیا کروں  
مضطر ہے جان و دل کسے سمجھاؤں کیا کروں  
کیوں کر پسر کو ڈھونڈھ کے میں لاؤں کیا کروں  
پایا تھا مدتوں میں جسے خاک چھان کے  
وہ لال ہم نے کھو دیا جنگل میں آن کے  

[146](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/10/146)

بس اب خبر حسینؔ کی لے جلد اے اجل  
اے جسم زار، زیست کا باقی نہیں محل  
اے جانِ ناتواں تنِ مجروح سے نکل  
ہاں اے نفس چھری کی طرح سے گلے پہ چل  
چھوٹے نہ اس کا ہاتھ جو پیری کی آس ہو  
لاشہ بھی لاشۂ علیؔ اکبر کے پاس ہو  

[147](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/10/147)

جنگل سے بے حواس پھرے نہر پر گئے  
واں بھی جو وہ گہر نہ ملا سوئے بر گئے  
دوڑے کسی طرف تو کسی جا ٹھہر گئے  
تھالے ملے لہو کے برابر جدھر گئے  
ٹپکا ہوا زمیں پہ جگر کا لہو ملا  
لیکن کہیں نہ وہ پسر ماہ رو ملا  

[148](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/10/148)

جا کر صفوں کے پاس پکارے باشکِ آہ  
ہے کس طرف مرے علیؔ اکبر کی قتل گاہ  
اے ظالمو، یہ شب ہے کہ دن ہو گیا سیاہ  
کس ابر میں چھپا ہے مرا چودھویں کا ماہ  
بتلاؤ جان ہے کہ نہیں جسم زار میں  
زخمی پڑا ہے شیر مرا کس کچھار میں  

[149](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/10/149)

لاش پسر کو ڈھونڈھتے تھے شاہِ بحر و بر  
سر پیٹنے کی جا ہے کہ ہنستے تھے اہل شہر  
کہتا تھا شمر اے پسر سید البشر  
کس کو حضور ڈھونڈھتے ہیں مر گیا پسر  
خود ڈھونڈھ لیجیے جسد پاش پاش کو  
بتلائیں گے نہ ہم علیؔ اکبر کی لاش کو  

### فرزند پیمبر کا مدینے سے سفر ہے

https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/11

[1](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/11/1)

فرزند پیمبر کا مدینے سے سفر ہے  
سادات کی بستی کے اجڑنے کی خبر ہے  
در پیش ہے وہ غم، کہ جہاں زیر و زبر ہے  
گل چاک گریباں ہیں صبا خاک بہ سر ہے  
گل رو صفتِ غنچہ کمر بستہ گھڑے ہیں  
سب ایک جگہ صورتِ گلدستہ کھڑے ہیں  

[2](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/11/2)

آراستہ ہیں بہر سفر، سروِ قبا پوش  
عمامے سروں پر ہیں عبائیں بسر دوش  
یارانِ وطن ہوتے ہیں آپس میں ہم آغوش  
حیراں کوئی تصویر کی صورت کوئی خاموش  
منہ ملتا ہے رو کر کوئی سرور کے قدم پر  
گر پڑتا ہے کوئی علیؔ اکبر کے قدم پر  

[3](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/11/3)

عباسؔ کا منہ دیکھ کے کہتا ہے کوئی آہ  
اب آنکھوں سے چھپ جائے گی تصویر یداللہ  
کہتے ہیں گلے مل کے یہ قاسم کے ہوا خواہ  
واللہ دلوں پر ہے عجب صدمۂ جانکاہ  
ہم لوگوں سے شیریں سخنی کون کرے گا  
یہ انس، یہ خُلقِ حسنی کون کرے گا  

[4](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/11/4)

روتے ہیں وہ، جو عون و محمد کے ہیں، ہم سن  
کہتے ہیں کہ مکتب میں نہ جی بہلے گا تم بن  
اس داغ سے چین آئے ہمیں، یہ نہیں ممکن  
گرمی کا مہینہ ہے سفر کے یہ نہیں دن  
تم حضرتِ شبیرؔ کے سایے میں پلے ہو  
کیوں دھوپ کی تکلیف اٹھانے کو چلے ہو  

[5](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/11/5)

ہم جولیوں سے کہتے تھے وہ دونوں برادر  
ہاں بھائیو تم بھی ہمیں یاد آؤ گے اکثر  
پالا ہے ہمیں شاہ نے، ہم جائیں نہ کیوں کر  
ماموں رہیں جنگل میں تو اپنا ہے وہی گھر  
وہ دن ہو کہ ہم حقِّ غلامی سے ادا ہوں  
تم بھی یہ دعا مانگو کہ ہم شہ پہ فدا ہوں  

[6](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/11/6)

رخصت کے لئے لوگ چلے آتے ہیں باہم  
ہر قلب حزیں ہے، تو ہر اک چشم ہے پُر نم  
ایسا نہیں گھر کوئی کہ جس میں نہیں ماتم  
غل ہے کہ چلا دلبرِ مخدومۂ عالم  
خدام کھڑے پیٹتے ہیں قبر نبی کے  
روضہ پہ اداسی ہے رسولِ عربی کے  

[7](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/11/7)

ہے جب سے کھلا حالِ سفر بند ہے بازار  
یہ جنسِ غم ارزاں ہے کہ روتے ہیں دکاں دار  
خاک ارتی ہے ویرانیِ یثرب کے ہیں آثار  
ہر کوچے میں ہے شور، کہ ہے ہے شہِ ابرار  
اب یاں کوئی والی نہ رہا آہ ہمارا  
جاتا ہے مدینے سے شہنشاہ ہمارا  

[8](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/11/8)

تدبیر سفر میں ہیں ادھر سبطِ پیمبر  
گھر میں کبھی آتے ہیں کبھی جاتے ہیں باہر  
اسباب نکلواتے ہیں عباسؔ دلاور  
تقسیم سواری کے تردد میں ہیں اکبرؔ  
شہ کو جنہیں لے جانا ہے، وہ پاتے ہیں گھوڑے  
خالی ہوا اصطبل، چلے آتے ہیں گھوڑے  

[9](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/11/9)

حاضر درِ دولت پہ ہیں، سب یاور و انصار  
کوئی تو کمر باندھتا ہے اور کوئی ہتھیار  
ہودج بھی کسے جاتے ہیں، محمل بھی ہیں تیار  
چلاتے ہیں درباں، کؤی آئے نہ خبردار  
ہر محمل و ہودج پہ گھٹا ٹوپ پڑے ہیں  
پردے کی قناتیں لئے فراش کھڑے ہیں  

[10](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/11/10)

عوراتِ محلہ چلی آتی ہیں بصد غم  
کہتی ہیں یہ دن رحلتِ زہراؔ سے نہیں کم  
پُرسے کی طرح رونے کا غل ہوتا ہے ہر دم  
فرش اٹھتا ہے کیا بچھتی ہے گویا صفِ ماتم  
غل ہوتا ہے ہر سمت، جدا ہوتی ہے زینبؔ  
ہر اک کے گلے ملتی ہے اور روتی ہے زینبؔ  

[11](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/11/11)

لے لے کے بلائیں یہی سب کرتی ہیں تقریر  
اس گرمی کے موسم میں کہاں جاتے ہیں شبیرؔ  
سمجھاتی نہیں بھائی کو اے شاہ کی ہمشیر  
مسلم کا خط آ لے تو کریں کوچ کی تدبیر  
للّٰلہ ابھی قبر پیمبرؐ کو نہ چھوڑیں  
گھر فاطمہؔ زہرا کا ہے اس گھر کو نہ چھوڑیں  

[12](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/11/12)

وہ گھر ہے ملک رہتے تھے جس گھر کے نگہباں  
کیوں اپنے بزرگوں کا مکاں کرتے ہیں ویراں  
کوفے کی بھی خلقت تو نہیں صاحب ایماں  
بی بی یہ مدینے کی تباہی کا ہے ساماں  
ایک ایک شقی دشمنِ اولادِ علیؔ ہے  
شمشیر ستم واں سرِ حیدر پہ چلی ہے  

[13](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/11/13)

اجڑے گا مدینہ جو یہ گھر ہوئے گا خالی  
بربادیِ یثرب کی بنا چرخ نے ڈالی  
کیا جانیں پھر آئیں کہ نہ آئیں شہِ عالی  
حضرت کے سوا کون ہے اس شہر کا والی  
زہراؔ ہیں نہ حیدرؔ نہ پیمبر نہ حسنؔ ہیں  
اب ان کی جگہ آپ ہیں یا شاہِ زمن ہیں  

[14](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/11/14)

گرمی کا یہ دن اور پہاڑوں کا سفر آہ  
ان چھوٹے سے بچوں کا نگہبان ہے اللہ  
رستے کی مشقت سے کہاں ہیں ابھی آگاہ  
ان کو تو نہ لے جائیں سفر میں شہِ ذی جاہ  
قطرہ بھی دمِ تشنہ دہانی نہیں ملتا  
کوسوں تلک اس راہ میں پانی نہیں ملتا  

[15](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/11/15)

منہ دیکھ کے اصغر کا چلا آتا ہے رونا  
آرام سے مادر کی کہاں گود میں سونا  
جھولا یہ کہاں اور کہاں نرم بچھونا  
لکھا تھا اسی سن میں مسافر انہیں ہونا  
کیا ہوگا جو میداں میں ہوا گرم چلے گی  
یہ پھول سے کمھلائیں گے، ماں ہاتھ ملے گی  

[16](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/11/16)

ان بیبیوں سے کہتی تھی یہ شاہ کی ہمشیر  
بہنوں ہمیں یثرب سے لئے جاتی ہے تقدیر  
اس شہر میں رہنا نہیں ملتا کسی تدبیر  
یہ خط پہ خط آئے ہیں کہ مجبور ہیں شبیرؔ  
مجھ کو بھی ہے رنج ایسا کہ کچھ کہہ نہیں سکتی  
بھائی سے جدا ہو کے مگر رہ نہیں سکتی  

[17](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/11/17)

اماں کی لحد چھوڑ کے میں یاں سے نہ جاتی  
فاقے بھی اگر ہوتے تو غم اس کا نہ کھاتی  
بھائی کی طرف دیکھ کے شق ہوتی ہے چھاتی  
بے جائے، مجھے بات کوئی بن نہیں آتی  
ظاہر میں تو مابین لحد سوتی ہیں اماں  
میں خواب میں جب دیکھتی ہوں روتی ہیں اماں  

[18](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/11/18)

ہے روح پہ اماں کی قلق کرتی ہیں زاری  
سر پیٹتے میں نے انہیں دیکھا کئی باری  
روداد بیاں کر گئی ہیں مجھ سے وہ ساری  
فرماتی تھیں بھائی سے خبر دار میں واری  
غم خوار ہے تو اور خدا حافظِ جاں ہے  
نہ باپ ہے سر پر مرے بچے کے نہ ماں ہے  

[19](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/11/19)

یاد آتی ہے ہر دم مجھے اماں کی مصیبت  
کچھ جان کی تھی فکر نہ ان کو دمِ رحلت  
آہستہ یہ فرماتی تھیں باصد غم و حسرت  
شبیرؔ سدھارے جو سوئے وادیِٔ غربت  
اس دن مری تربت سے بھی منہ موڑیو زینبؔ  
اس بھائی کو تنہا نہ کبھی چھوڑیو زینبؔ  

[20](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/11/20)

اماں کی وصیت کو بجا لاؤں نہ کیوں کر  
گھر بھائی سے تھا بھائی نہ ہوگا تو کہاں گھر  
دو بہنیں ہیں ماں جائیاں اور ایک برادر  
رسی سے بندھے ہاتھ کہ بلوے میں کھلے سر  
جو ہووے سو ہو بھائی کے ہمراہ ہے زینبؔ  
اس کوچ کے انجام سے آگاہ ہے زینبؔ  

[21](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/11/21)

یہ کہتی تھی زینبؔ کہ پکارے شہِ عادل  
تیار ہیں دروزاے پہ سب ہودج و محمل  
طے شام تلک ہوگی کہیں آج کی منزل  
رخصت کرو لوگوں کو بس اب رونے سے حاصل  
چلتی ہے ہوا سرد ابھی وقت سحر ہے  
بچے کئی ہمراہ ہیں گرمی کا سفر ہے  

[22](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/11/22)

رخصت کرو ان کو جو کہ ہیں ملنے کو آئے  
کہہ دو کوئی گہوارۂ اصغر کو بھی لائے  
نادان سکینہؔ کہیں آنسو نہ بہائے  
جانے کی خبر میری نہ صغراؔ کہیں پائے  
ڈر ہے کہیں گھبرا کے نہ دم اس کا نکل جائے  
باتیں کرو ایسی کہ وہ بیمار بہل جائے  

[23](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/11/23)

رخصت کو ابھی قبر پیمبر پہ ہے جانا  
کیا جانیے پھر ہو کہ نہ ہوئے مرا آنا  
اماں کی لحد پر ہے ابھی اشک بہانا  
اس مرقدِ انور کو ہے آنکھوں سے لگانا  
آخر تو لئے جاتی ہے، تقدیر وطن سے  
چلتے ہوئے ملنا ہے ابھی قبرِ حسن سے  

[24](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/11/24)

سن کر یہ سخن بانوئے ناشاد پکاری  
میں لٹتی ہوں کیسا سفر اور کیسی سواری  
غش ہو گئی ہے فاطمہؔ صغرا مری پیاری  
یہ کس کے لئے کرتے ہیں سب گریہ و زاری  
اب کس پہ میں اس صاحبِ آزار کو چھوڑوں  
اس حال میں کس طرح سے بیمار کو چھوڑوں  

[25](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/11/25)

ماں ہوں میں، کلیجہ نہیں، سینہ میں سنبھلتا  
صاحب مرے دل کو ہے کوئی ہاتھوں سے ملتا  
میں تو اسے لے چلتی، یہ کچھ بس نہیں چلتا  
رہ جاتیں جو بہنیں بھی تو دل اس کا بہلتا  
دروازے پہ تیار سواری پہ کھڑی ہے  
پر اب تو مجھے جان کی صغراؔ کی پڑی ہے  

[26](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/11/26)

چلاتی تھی کبراؔ کہ بہن آنکھ تو کھولو  
کہتی تھی سکینہؔ کہ ذرا منہ سے تو بولو  
ہم جاتے ہیں تم اٹھ کے بغل گیر تو ہو لو  
چھاتی سے لگو باپ کی دل کھول کے رو لو  
تم جس کی ہو شیدا وہ برادر نہ ملے گا  
گھر بھر میں جو ڈھونڈو گی تو اکبر نہ ملے گا  

[27](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/11/27)

ہشیار ہو کیا صبح سے بیہوش ہے خواہر  
اصغرؔ کو کرو پیار کلیجے سے لگا کر  
چھاتی سے لگو اٹھ کے کھڑی روتی ہیں مادر  
ہم روتے ہیں دیکھو تو ذرا آنکھ اٹھا کر  
افسوس، اسی طور سے غفلت میں رہو گی  
کیا آخری بابا کی زیارت نہ کرو گی  

[28](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/11/28)

سن کر یہ سخن شاہ کے آنسو نکل آئے  
بیمار کے نزدیک گئے سر کو جھکائے  
منہ دیکھ کے بانو کا سخن لب پہ یہ لائے  
کیا ضعف و نقاہت ہے، خدا اس کو بچائے  
جس صاحبِ آزار کا یہ حال ہو گھر میں  
دانستہ میں کیوں کر اسے لے جاؤں سفر میں  

[29](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/11/29)

کہہ کر یہ سخن بیٹھ گئے سید خوش خو  
اور سورۂ الحمد پڑھا تھام کے بازو  
بیمار نے پائی گلِ زہراؔ کی جو خوش بو  
آنکھوں کو تو کھولا پہ ٹپکنے لگے آنسو  
ماں سے کہا مجھ میں جو حواس آئے ہیں اماں  
کیا میرے مسیحا مرے پاس آئے ہیں اماں  

[30](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/11/30)

ماں نے کہا ہاں ہاں وہی آئے ہیں مری جاں  
جو کہنا ہو کہہ لو کہ یہاں اور ہے ساماں  
دیکھو تو ادھر روتے ہیں بی بی شہِ ذی شاں  
صغراؔ نے کہا ان کی محبت کے میں قرباں  
وہ کون سا ساماں ہے جو یوں روتے ہیں بابا  
کھل کر کہو مجھ سے کہ جدا ہوتے ہیں بابا  

[31](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/11/31)

یہ گھر کا سب اسباب گیا کس لئے باہر  
نہ فرش، نہ ہے مسندِ فرزند پیمبر  
دالان سے کیا ہوگیا گہورۂ اصغرؔ  
اجڑا ہوا لوگو نظر آتا ہے مجھے گھر  
کچھ منہ سے تو بولو مرا دم گھٹتا ہے اماں  
کیا سبطِ پیمبر سے وطن چھٹتا ہے اماں  

[32](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/11/32)

شبیرؔ کا منہ تکنے لگی بانوئے مغموم  
صغراؔ کے لئے رونے لگیں زینبؔ و کلثومؔ  
بیٹی سے یہ فرمانے لگی سیدِ مظلوم  
پردہ رہا اب کیا تمہیں خود ہوگیا معلوم  
تم چھٹتی ہو اس واسطے سب روتے ہیں صغراؔ  
ہم آج سے آوارہ وطن ہوتے ہیں صغراؔ  

[33](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/11/33)

اب شہر میں اک دم ہے ٹھہرنا مجھے دشوار  
میں پا بہ رکاب، اور ہو تم صاحبِ آزار  
پھر آتا ہے وہ گھر میں، سفر میں جو ہو بیمار  
تکلیف تمہیں دوں یہ مناسب نہیں زنہار  
غربت میں بشر کے لئے سو طرح کا ڈر ہے  
میرا تو سفر رنج و مصیبت کا سفر ہے  

[34](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/11/34)

لُو چلتی ہے خاک اڑتی ہے گرمی کے ہیں ایام  
جنگل مین نہ راحت، نہ کہیں راہ میں آرام  
بستی میں کہیں صبح، تو جنگل میں کہیں شام  
دریا کہیں حائل، کہیں پانی کا نہیں نام  
صحّت میں گوارا ہے جو تکلیف گذر جائے  
اس طرح کا بیمار نہ مرتا ہو تو مرجائے  

[35](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/11/35)

صغراؔ نے کہا کھانے سے خود ہے مجھے انکار  
پانی جو کہیں راہ میں مانگوں تو گنہگار  
کچھ بھوک کا شکوہ نہیں کرنے کی یہ بیمار  
تبرید فقط آپ کا ہے شربتِ دیدار  
گرمی میں بھی راحت سے گزر جائے گی بابا  
آئے گا پسینہ تپ اتر جائے گی بابا  

[36](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/11/36)

کیا تاب اگر منہ سے کہوں درد ہے سر میں  
اف تک نہ کروں، بھڑکے اگر آگ جگر میں  
بھولے سے بھی شب کو نہ کراہوں گی سفر میں  
قربان گئی، چھوڑ نہ جاؤ مجھے گھر میں  
ہو جانا خفا راہ میں گر روئے گی صغراؔ  
یاں نیند کب آتی ہے جو واں سوئے گی صغراؔ  

[37](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/11/37)

وہ بات نہ ہوگی، کہ جو بے چین ہوں مادر  
ہر صبح میں پی لوں گی دوا آپ بنا کر  
دن بھر، مری گودی میں رہیں گے علی اصغرؔ  
لونڈی ہوں سکینہؔ کی، نہ سمجھو مجھے دختر  
میں یہ نہیں کہتی کہ عماری میں بٹھا دو  
بابا مجھے فضہ کی سواری میں بٹھا دو  

[38](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/11/38)

شہہ بولے کہ واقف ہے مرے حال سے اللہ  
میں کہہ نہیں سکتا مجھے درپیش ہے جو راہ  
کھل جائے گا یہ راز بھی، گو تم نہیں آگاہ  
ایسا بھی کوئی ہے جسے بیٹی کی نہ ہو چاہ  
ناچار یہ فرقت کا الم سہتا ہوں صغراؔ  
ہے مصلحتِ حق یہی جو کہتا ہوں صغراؔ  

[39](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/11/39)

اے نورِ بصر آنکھوں پہ لے کر تجھے چلنا  
تو مجھ سے بہلتی، مرا دل تجھ سے بہلتا  
تپ ہے تجھے، اور غم سے جگر ہے مرا جلتا  
یہ ضعف کہ دم تک نہیں سینے میں سنبھلتا  
جز ہجر علاج اور کوئی ہو نہیں سکتا  
دانستہ تمہیں ہاتھ سے میں کھو نہیں سکتا  

[40](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/11/40)

منہ تکنے لگی ماں کا وہ بیمار بصد غم  
چتون سے عیاں تھا کہ چلیں آپ موئے ہم  
ماں کہتی تھی مختار ہیں، بی بی شہ عالم  
میرے تو کلیجے پہ چھری چلتی ہے اس دم  
وہ درد ہے جس درد سے چارا نہیں صغراؔ  
تقدیر سے کچھ زور ہمارا نہیں صغراؔ  

[41](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/11/41)

صغراؔ نے کہا کوئی کسی کا نہیں زنہار  
سب کی یہی مرضی ہے کہ مر جائے یہ بیمار  
اللہ نہ وہ آنکھ کسی کی ہے، نہ وہ پیار  
اک ہم ہیں کہ ہیں، سب پہ فدا سب کے ہیں غم خوار  
بیزار ہیں سب ایک بھی شفقت نہیں کرتا  
سچ ہے کوئی مردے سے محبت نہیں کرتا  

[42](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/11/42)

ہمشیر کے عاشق ہیں سلامت رہیں اکبرؔ  
اتنا نہ کہا مر گئی یا جیتی ہے خواہر  
میں گھر میں تڑپتی ہوں وہ ہیں صبح سے باہر  
وہ کیا کریں برگشتہ ہے اپنا ہی مقدر  
پوچھا نہ کسی نے کہ وہ بیمار کدھر ہے  
نہ بھائیوں کو دھیان نہ بہنوں کو خبر ہے  

[43](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/11/43)

کیا ان کو پڑی تھی جو وہ غم کھانے کو آتے  
میں کون جو صورت مجھے دکھلانے کو آتے  
ہوتی جو غرض چھاتی سے لپٹانے کو آتے  
زلفیں جو الجھتی تو، سلجھوانے کو آتے  
کل تک تو مرے حالِ پریشاں پہ نظر تھی  
تقدیر کے اس پیچ کی مجھ کو نہ خبر تھی  

[44](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/11/44)

مانوس سکینہؔ سے ہیں عباسؔ دلاور  
میں کون ہوں جو میری خبر پوچھتے آ کر  
سرسبز رہے خلق میں نو بادۂ شبّر  
شادی میں بلائیں مجھے یہ بھی نہیں باور  
بے دولہا بنے منہ کو چھپاتے ہیں ابھی سے  
میں جیتی ہوں اور آنکھ چراتے ہیں ابھی سے  

[45](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/11/45)

کس سے کہوں اس درد کو میں بیکس و رنجور  
بہنیں بھی الگ مجھ سے ہیں اور بھائی بھی ہیں دور  
اماں کا سخن یہ ہے کہ بیٹی میں ہوں مجبور  
ہمراہیٔ بیمار کسی کو نہیں منظور  
دنیا سے سفر، رنج و مصیبت میں لکھا تھا  
تنہائی کا مرنا مری قسمت میں لکھا تھا  

[46](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/11/46)

سب بیبیاں رونے لگیں سن سن کے یہ تقریر  
چھاتی سے لگا کر اسے کہنے لگے شبیرؔ  
لو صبر کرو، کوچ میں اب ہوتی ہے تاخیر  
منہ دیکھ کے چپ رہ گئی وہ بیکس و دلگیر  
نزدیک تھا دل چیر کے پہلو نکل آئے  
اچھا تو کہا منہ سے پہ آنسو نکل آئے  

[47](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/11/47)

بانو کو اشارہ کیا حضرت نے کہ جاؤ  
اکبر کو بلاؤ، علیؔ اصغر کو بھی لاؤ  
آئے علیؔ اکبر تو کہا شاہ نے آؤ  
روٹھی ہے بہن تم سے گلے اس کو لگاؤ  
چلتے ہوئے جی بھر کے ذرا پیار تو کر لو  
لینے انہیں کب آؤ گے اقرار تو کر لو  

[48](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/11/48)

پاس آن کے اکبرؔ نے یہ کی پیار کی تقریر  
کیا مجھ سے خفا ہوگئیں صغراؔ مری تقصیر  
چلانے لگی، چھاتی پہ منہ رکھ کے، وہ دلگیر  
محبوب برادر ترے قربان یہ ہمشیر  
صدقے ترے سر پر سے اتارے مجھے کوئی  
بل کھائی ہوئی زلفوں پہ وارے مجھے کوئی  

[49](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/11/49)

رخساروں پہ سبزے کے نکلنے کے میں صدقے  
تلوار لئے شان سے چلنے کے میں صدقے  
افسوس سے ان ہاتھوں کے ملنے کے میں صدقے  
کیوں روتے ہو اشک آنکھوں سے ڈھلنے کے میں صدقے  
جلد آن کے بھینا کی خبر لیجیو بھائی  
بے میرے کہیں بیاہ نہ کر لیجیو بھائی  

[50](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/11/50)

لکھنا مجھے نسبت کا اگر ہو کہیں سامان  
حقدار ہوں میں نیگ کی میرا بھی رہے دھیان  
اور مر گئی پیچھے تو رہے دل میں سب ارمان  
لے آنا دولہن کو مری تربت پہ میں قربان  
خوشنود مری روح کو کر دیجیو بھائی  
حق نیگ کا تم قبر پہ دھر دیجیو بھائی  

[51](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/11/51)

پیارے مرے بھیا مرے مہ رو، علیؔ اکبر  
چھپ جائیں گے آنکھوں سے یہ گیسو، علیؔ اکبر  
یاد آئے گی یہ جسم کی خوشبو، علیؔ اکبر  
ڈھونڈھیں گی یہ آنکھیں تمہیں، ہر سو علیؔ اکبر  
دل سینے میں کیوں کر تہہ و بالا نہ رہے گا  
جب چاند چھپے گا تو اجالا نہ رہے گا  

[52](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/11/52)

کیا گذرے گی جب گھر سے چلے جاؤ گے بھائی  
کیسے مجھے ہر بات میں یاد آؤ گے بھائی  
تشریف خدا جانیے کب لاؤ گے بھائی  
کی دیر تو جیتا نہ ہمیں پاؤ گے بھائی  
کیا دم کا بھروسہ کہ چراغِ سحری ہیں  
تم آج مسافر ہو تو ہم کل سفری ہیں  

[53](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/11/53)

ہا سچ ہے کہ بیمار کا بہتر نہیں جانا  
صحت سے جو ہیں ان میں کہاں میرا ٹھکانا  
بھیا جو اب آنا تو مری قبر پہ آنا  
ہم گور کی منزل کی طرف ہوں گے روانا  
کیا لطف کسی کو نہیں گر چاہ ہماری  
وہ راہ تمہاری ہے تو یہ راہ ہماری  

[54](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/11/54)

مرنا تو مقدم ہے، غم اس کا نہیں زنہار  
ڈھڑکا ہے کہ جب ہوں گے عیاں موت کے آثار  
قبلہ کی طرف، کون کرے گا رخِ بیمار  
یٰسین بھی پڑھنے کو نہ ہوگا کوئی غم خوار  
سانس اکھڑے گی جس وقت تو فریاد کروں گی  
میں ہچکیاں لے لے کے تمہیں یاد کروں گی  

[55](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/11/55)

ماں بولی یہ کیا کہتی ہے صغراؔ ترے قربان  
گھبرا کے نہ اب تن سے نکل جائے مری جان  
بیکس مری بچی، ترا اللہ نگہبان  
صحّت ہو تجھے میری دعا ہے یہی ہر آن  
کیا بھائی جدا بہنوں سے ہوتے نہیں بیٹا  
کنبے کے لئے جان کو کھوتے نہیں بیٹا  

[56](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/11/56)

میں صدقے گئی بس نہ کرو گریہ و زاری  
اصغرؔ مرا روتا ہے صدا سن کے تمہاری  
وہ کانپتے ہاتھوں کو اٹھا کر یہ پکاری  
آ آ مرے ننھے سے مسافر ترے واری  
چھٹتی ہے یہ بیمار بہن جان گئے تم  
اصغرؔ مری آواز کو پہچان گئے تم  

[57](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/11/57)

تم جاتے ہو اور ساتھ بہن جا نہیں سکتی  
تپ ہے تمہیں چھاتی سے میں لپٹا نہیں سکتی  
جو دل میں ہے لب پر وہ سخن لا نہیں سکتی  
رکھ لوں تمہیں اماں کو بھی سمجھا نہیں سکتی  
بیکس ہوں مرا کوئی مددگار نہیں ہے  
تم ہو سو تمہیں طاقتِ گفتار نہیں ہے  

[58](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/11/58)

معصوم نے جس دم یہ سنی درد کی گفتار  
صغراؔ کی طرف ہاتھوں کو لٹکا دیا اک بار  
لے لے کے بلائیں یہ لگی کہنے وہ بیمار  
جھک جھک کے دکھاتے ہو مجھے آخری دیدار  
دنیا سے کوئی دن میں گذر جائے گی صغراؔ  
تم بھی یہ سمجھتے ہو کہ مر جائے گی صغراؔ  

[59](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/11/59)

عباس نے اتنے میں یہ ڈیوڑھی سے پکارا  
چلنے کو ہے اب قافلہ تیار ہمارا  
لپٹا کے گلے فاطمہؔ صغرا کو دوبارا  
اٹھے شہِ دیں، گھر تہہ و بالا ہوا سارا  
جس چشم کو دیکھا سو وہ پر نم نظر آئی  
اک مجلسِ ماتم تھی، کہ برہم نظر آئی  

[60](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/11/60)

بیت الشرفِ خاص سے نکلے شہِ ابرار  
روتے ہوئے ڈیوڑھی پہ گئے عترتِ اطہار  
فراشوں کو عباس پکارے یہ بہ تکرار  
پردے کی قناتوں سے خبردار! خبردار  
باہر حرم آتے ہیں، رسول دوسرا کے  
شقہ کوئی جھک جائے نہ جھونکے سے ہوا کے  

[61](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/11/61)

لڑکا بھی جو کوٹھے پہ چڑھا ہو وہ اتر جائے  
آتا ہو ادھر جو وہ، اسی جا پہ ٹھہر جائے  
ناقے پہ بھی کوئی نہ برابر سے گذر جائے  
دیتے رہو آواز جہاں تک کہ نظر جائے  
مریمؔ سے سوا حق نے شرف ان کو دیئے ہیں  
افلاک پہ آنکھوں کو ملک بند کیے ہیں  

[62](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/11/62)

عباسؔ علی سے علیؔ اکبر نے کہا تب  
ہیں قافلہ سالارِ حرم حضرت زینبؔ  
پہلے وہ ہوں اسوار تو محمل میں چڑھیں سب  
حضرت نے کہا ہاں یہی میرا بھی ہے مطلب  
گھر میں مرنے زہراؔ کی جگہ بنتِ علیؔ ہے  
میں جانتا ہوں ماں مرے ہمراہ چلی ہے  

[63](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/11/63)

پہنچی جو ہیں ناقے کے قریں دخترِ حیدرؔ  
خود ہاتھ پکڑنے کو بڑھے سبطِ پیمبر  
فضہ تو سنبھالے ہوئے تھی گوشۂ چادر  
تھے پردۂ محمل کو اٹھائے علیؔ اکبر  
فرزند کمر بستہ چپ و راس کھڑے تھے  
نعلین اٹھا لینے کو عباسؔ کھڑے تھے  

[64](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/11/64)

اک دن تو مہیا تھا، یہ سامانِ سواری  
اک روز تھا وہ، گرد تھے نیزے لئے ناری  
محمل تھا، نہ ہودج، نہ کجاوہ، نہ عماری  
بے پردہ تھی وہ حیدر کرار کی پیاری  
ننھے کئی بچوں کے گلے ساتھ بندھے تھے  
تھے بال کھلے چہروں پہ اور ہاتھ بندھے تھے  

[65](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/11/65)

زینت دہِ محمل جو ہوئی دخترِزہراؓ  
ناقوں پہ چڑھے سب حرمِ سیدِ والا  
آنے لگے رہوار، کھلا گرد کا پردا  
عباسؔ سے بولے یہ شہِ یثرب و بطحا  
صدمہ ہے بچھڑنے کا مرے روحِ نبی پر  
رخصت کو چلو قبرِ رسولِ عربی پر  

[66](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/11/66)

ہے قبر پہ نانا کی مقدم مجھے جانا  
کیا جانیے پھر ہو کہ نہ ہو شہر میں آنا  
اماں کی ہے تربت پہ ابھی اشک بہانا  
اس مرقدِ انور کو ہے آنکھوں سے لگانا  
آخر تو لیے جاتی ہے تقدیرِ وطن سے  
چلتے ہوئے ملنا ہے ابھی قبرِ حسنؔ سے  

[67](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/11/67)

پیدل شہِ دیں روضۂ احمد کو سدھارے  
تربت سے صدا آئی کہ آ آ مرے پیارے  
تعویذ سے شبیرؔ لپٹ کر یہ پکارے  
ملتا نہیں آرام نواسے کو تمہارے  
خط کیا ہیں اجل کا یہ پیام آیا ہے نانا  
آج آخری رخصت کو غلام آیا ہے نانا  

[68](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/11/68)

خادم کو کہیں امن کی اب جا نہیں ملتی  
راحت کوئی ساعت مرے مولا نہیں ملتی  
دکھ کون سا اور کون سی ایذا نہیں ملتی  
ہیں آپ جہاں، راہ وہ اصلا نہیں ملتی  
پابندِ مصیبت ہوں گرفتارِ بلا ہوں  
خود پاؤں سے اپنے طرفِ قبر چلا ہوں  

[69](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/11/69)

میں اک تنِ تنہا ہوں ستم گار ہزاروں  
اک جان ہے اور درپئے آزار ہزاروں  
اک پھول سے رکھتے ہیں، خلشِ خار ہزاروں  
اک سر ہے فقط اور خریدار ہزاروں  
واں جمع کئی شہر کے خوں ریز ہوئے ہیں  
خنجر مری گردن کے لئے تیز ہوئے ہیں  

[70](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/11/70)

فرمایے اب جائے کدھر آپ کا شبیرؔ  
یاں قید کی ہے فکر ادھر قتل کی تدبیر  
تیغیں ہیں کہیں میرے لئے اور کہیں زنجیر  
خوں ریزی کو کعبہ تلک آ پہنچے ہیں بے پیر  
بچ جاؤں، جو پاس اپنے بلا لیجئے نانا  
تربت میں نواسے کو چھپا لیجئے نانا  

[71](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/11/71)

یہ کہہ کے مَلا قبر سے شہہ نے جو رخِ پاک  
ہلنے لگا صدمے سے مزارِ شہِ لولاک  
جنبش جو ہوئی قبر کو تھرا گئے افلاک  
کانپی جو زمیں صحنِ مقدس میں اڑی خاک  
اس شور میں آئی یہ صدا روضۂ جد سے  
تم آگے چلو ہم بھی نکلتے ہیں لحد سے  

[72](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/11/72)

باتوں نے تری دل کو مرے کر دیا مجروح  
تو شہر سے جاتا ہے تڑپتی ہے مری روح  
بے تیغ کیا، خنجرِ غم نے ترے مذبوح  
ہے کشتیِٔ امت پہ تباہی، کہ چلا نوح  
افلاکِ امامت کا تجھے بدر نہ سمجھے  
بے قدر ہیں ظالم کہ تری قدر نہ سمجھے  

[73](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/11/73)

مارا گیا جس روز سے شبرؔ مرا پیارا  
اس روز سے ٹکڑے ہے کلیجہ مرا سارا  
اب قتل میں ہوتا ہوں ترے ساتھ دوبارا  
امت نے کیا پاسِ ادب خوب ہمارا  
زہراؔ کی جو بستی کو اجاڑیں تو عجب کیا  
اعدا مجھے تربت سے اکھاڑیں تو عجب کیا  

[74](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/11/74)

اس ذکر پہ رویا کیے شہہ سر کو جھکائے  
واں سے جو اٹھے فاطمہؔ کی قبر پہ آئے  
پائینِ لحد گر کے بہت اشک بہائے  
آواز یہ آئی کہ میں صدقے مرے جائے  
ہے شور ترے کوچ کا جس دن سے وطن میں  
پیارے میں اسی دن سے تڑپتی ہوں کفن میں  

[75](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/11/75)

تربت میں جو کی میں نے بہت گریہ و زاری  
گھبرا کے علیؔ آئے نجف سے کئی باری  
کہتے تھے کہ اے احمدِ مختار کی پیاری  
تم پاس ہو تربت ہے بہت دور ہماری  
گھر لٹتا ہے کیوں کر ہمیں چین آئے گا زہراؓ  
کیا ہم سے نہ رخصت کو حسینؔ آئے گا زہراؓ  

[76](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/11/76)

میں نے جو کہا قبر سے کیوں نکلے ہو باہر  
نہ سر پہ عمامہ ہے نہ ہے دوش پہ چادر  
فرمایا کہ ماتم میں ہوں اے بنتِ پیمبر  
مرنے کو پسر جاتا ہے برباد ہوا گھر  
ترسیں گے وہ پانی کو جو نازوں کے پلے ہیں  
تلواریں ہیں اب اور مرے بچوں کے گلے ہیں  

[77](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/11/77)

پھرتا ہے مری آنکھوں میں شبیرؔ کا مقتل  
وہ نہرِ فرات اور کئی کوس کا جنگل  
وہ بجلیاں تلواروں کی اور شام کا بادل  
دریا سے وہ پیاسوں کے ہٹا دینے کی ہلچل  
شبیرؔ کے سر پر سے یہ آفت نہ ٹلے گی  
دسویں کو محرم کی چھری مجھ پہ چلے گی  

[78](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/11/78)

سن کر یہ بیاں باپ کا مادر کی زبانی  
رو رو کے پکارا اسد اللہ کا جانی  
ہاں والدہ سچ ہے نہ ملے گا مجھے پانی  
پیاسے ہیں مرے خون کے یہ ظلم کے بانی  
بچپن میں کیا تھا، مرا ماتم شہ دیں نے  
نانا کو خبر دی تھی مری روح امیں نے  

[79](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/11/79)

پہلو میں جو تھی فاطمہؔ کے تربتِ شبرؔ  
اس قبر سے لپٹے بہ محبت شہِ صفدر  
چلائے کہ شبیرؔ کی رخصت ہے برادر  
حضرت کو تو پہلو ہوا اماں کا میسر  
قبریں بھی جدا ہیں تہِ افلاک ہماری  
دیکھیں ہمیں لے جائے کہاں خاک ہماری  

[80](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/11/80)

یہ کہہ کے چلے قبر حسن سے شہِ مظلوم  
رہوار جو مانگا تو سواری کی ہوئی دھوم  
یارانِ وطن گرد تھے افسردۂ مغموم  
چلاتے تھے خادم کہ چلا خلق کا مخدوم  
خالی ہوا گھر آج رسول عربی کا  
تابوت اسی دھوم سے نکلا تھا بنی کا  

[81](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/11/81)

جب اٹھ گئی تھیں خلق سے مخدومۂ عالم  
سر پیٹتے تھے لوگ اسی طرح سے باہم  
برپا تھا جنازے پہ علیؔ کے یونہیں ماتم  
تھا رحلتِ شبرؔ میں محبوں کا یہی غم  
بس آج سے بے وارث و والی ہے مدینہ  
اب پنجتن پاک سے خالی ہے مدینہ  

[82](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/11/82)

چلاتی تھیں رانڈیں کہ چلی شہہ کی سواری  
لے گا خبر اب کون مصیبت میں ہماری  
آنکھوں سے یتیموں کی دُرِ اشک تھا جاری  
مضطر تھے اپاہج ضعفا کرتے تھے زاری  
کہتے تھے گدا، ہم کو غنی کون کرے گا  
محتاجوں کی فاقہ شکنی کون کرے گا  

[83](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/11/83)

تھا، ناکے تلک شہر کے اک شورِ قیامت  
سمجھاتے ہوئے سب کو چلے جاتے تھے حضرت  
رو رو کے وہ کہتا تھا جسے کرتے تھے رخصت  
پائیں گے کہاں ہم، یہ غنیمت ہے زیارت  
آخر تو بچھڑ کر کفِ افسوس ملیں گے  
دس بیس قدم اور بھی ہمراہ چلیں گے  

[84](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/11/84)

قسمیں انہیں دے دے کے کہا شہ نے کہ جاؤ  
تکلیف تمہیں ہوتی ہے اب ساتھ نہ آؤ  
اللہ کو سونپا تمہیں آنسو نہ بہاؤ  
پھرنے کے نہیں، ہم سے بس اب ہاتھ اٹھاؤ  
اس بیکس و تنہا کی خبر پوچھتے رہنا  
یارو مری صغراؔ کی خبر پوچھتے رہنا  

[85](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/11/85)

روتے ہوئے وہ لوگ پھرے شاہ سدھارے  
جو صاحبِ قسمت تھے وہ ہمراہ سدھارے  
کس شوق سے مردانِ حق آگاہ سدھارے  
عابد طرفِ خانۂ اللہ سدھارے  
اترے نہ مسافر کسی مخلوق کے گھر میں  
عاشق کو کشش لے گئی معشوق کے گھر میں  

[86](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/11/86)

روشن ہوئی کعبہ کی زمیں نورِ خدا سے  
مکہ نے شرف اور بھی پایا شرفا سے  
جھک جھک کے ملے، سبطِ پیمبر غربا سے  
آباد ہوا شہر، نمازوں کی صدا سے  
خوش ہو کے ہوا خواہ یہ کہتے تھے علیؓ کے  
سب باپ کی خو بو ہے نواسے میں نبی کے  

[87](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/11/87)

کعبے مین بھی اک دن نہ ملا شاہ کو آرام  
کوفے سے چلے آتے تھے نامے سحر و شام  
اعدا نے گذرنے نہ دیے، حج کے بھی ایام  
کھولا پسرِ فاطمہ نے باندھ کے احرام  
عازم طرفِ راہِ الٰہی ہوئے حضرت  
تھی ہشتم ذی الحجہ کہ راہی ہوئے حضرت  

[88](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/11/88)

جاتے تھے دل افسردہ و غمگیں شہِ ابرار  
ہر گام پہ ہوتے تھے عیاں موت کے آثار  
قبریں نظر آتیں کسی صحرا میں جو دو چار  
فرماتے تھے شہ فاعتبرو یا اولی الابصار  
جز خاک نہ ہوئے گا نشان بھی بدنوں کا  
انجام یہ ہے ہم سے غریب الوطنوں کا  

[89](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/11/89)

احباب کہیں، گھر ہے کہیں، آپ کہیں ہیں  
آگے تو زمیں پر تھے پر اب زیرِ زمیں ہیں  
خالی ہیں مکاں آپ تہِ خاک مکیں ہیں  
جو دور نہ رہتے تھے وہ اب پاس نہیں ہیں  
حسرت یہ رہی ہوگی کہ پہنچے نہ وطن میں  
کیا منہ کو لپیٹے ہوئے سوتے ہیں کفن میں  

[90](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/11/90)

باتیں تھیں یہی یاس کی اور درد کی تقریر  
منزل پہ بھی آرام سے سوتے تھے نہ شبیرؔ  
شب کو کہیں اترے، تو سحر کو ہوئے رہگیر  
جلدی تھی کہ، ہو جائے شہادت میں نہ تاخیر  
مقتل کا یہ تھا شوق شہِ جن و بشر کو  
جس طرح سے ڈھونڈھے کوئی معشوق کے گھر کو  

[91](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/11/91)

ملتا تھا کوئی مرد مسافر جو سر راہ  
یوں پوچھتے تھے اس سے بہ حسرت شہہ ذی جاہ  
ایسا کوئی صحرا بھی ہے اے بندۂ اللہ  
اک نہر سوا جس میں ہو چشمہ نہ کوئی چاہ  
کیا ملتا ہے، اس دشت میں اور کیا نہیں ملتا  
ہم ڈھونڈھتے پھرتے ہیں، وہ صحرا نہیں ملتا  

[92](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/11/92)

وہ عرض یہ کرتا تھا کہ سبطِ شہِ لولاک  
ہے سخت پُر اندوہ، وہ صحرا تہہ افلاک  
ہنستا ہوا واں جائے تو ہو جاتا ہے غمناک  
سنتا ہوں وہاں دن کو اڑاتا ہے کوئی خاک  
واں راتوں کو آتی ہے صدا سینہ زنی کی  
درویش کی ممکن ہے سکونت نہ غنی کی  

[93](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/11/93)

چلاتی ہے عورت کوئی ہے ہے مرے فرزند  
اس دشت میں ہو جائے گا تو خاک کا پیوند  
تلواروں سے ٹکرے یہیں ہوں گے ترے دلبند  
پانی یہیں ہو جائے گا بچوں پہ ترے بند  
پیارے تو اسی خاک پہ گھوڑے سے گرے گا  
ہے ہے یہیں خنجر تری گردن پہ پھرے گا  

[94](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/11/94)

اک شیر ترائی میں یہ چلاتا ہے دن رات  
کٹ جائیں گے یاں ہاتھ مرے لال کے ہیہات  
کیا حال کہوں نہر کا، اے شاہِ خوش اوقات  
پانی تو نہیں شور، پہ مشہور ہے یہ بات  
طائر بھی دمِ تشنہ دہانی نہیں پیتے  
وحشی کبھی واں آن کے پانی نہیں پیتے  

[95](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/11/95)

اس جا نہ اترتا ہے نہ دم لیتا ہے رہ گیر  
ہے شور کہ اس آب میں ہے آگ کی تاثیر  
پیاسوں کے لئے اس کی ہر اک موج ہے شمشیر  
اس طرح ہوا چلتی ہے جس طرح چلیں تیر  
بجھتی نہیں واں پیاس کس تشنہ گلو کی  
بو آتی ہے اس نہر کے پانی میں لہو کی  

[96](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/11/96)

اس شخص سے یہ کہہ کے چلے قبلۂ عالم  
اللہ نے چاہا تو بسائیں گے اسے ہم  
عاشق پہ بلا بعد بلا آتی ہے ہر دم  
غم اور بڑھا، وصل کا عرصہ جو رہا کم  
آفت یہ نئی فوج شہنشاہ میں آئی  
مسلم کی شہادت کی خبر راہ میں آئی  

[97](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/11/97)

غربت میں نہ ماتم کی سنائے خبر اللہ  
طاری ہوا حضرت پہ عجب صدمۂ جانکاہ  
گوندھے ہوئے سر کھول کے پیٹے حرمِ شاہ  
فرماتے تھے شہ سب کو ہے درپیش یہی راہ  
ہو گا وہی اللہ کو جو مدِ نظر ہے  
آج ان کا ہوا کوچ، کل اپنا بھی سفر ہے  

[98](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/11/98)

وارث کے لئے زوجۂ مسلم کا تھا یہ حال  
محمل سے گری پڑتی تھی بکھرائے ہوئے بال  
روتے تھے بہن کے لئے عباس خوش اقبال  
وہ کہتی تھی ساتھ آئے تھے چھوٹے مرے دو لال  
پوچھو تو کدھر وہ مرے پیارے گئے دونوں  
فرماتے تھے شبیرؔ کہ مارے گئے دونوں  

[99](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/11/99)

محمل تھے سب اس بی بی کے ہودج کے برابر  
تھا شور کہ بیوہ ہوئی شبیرؔ کی خواہر  
گھبرا گئی تھی مسلمِؔ مظلوم کی دختر  
ہر بار یہی پوچھتی تھی ماں سے لپٹ کر  
کیوں پیٹتی ہو کون جدا ہو گیا اماں  
غربت میں مرے باپ پہ کیا ہو گیا اماں  

[100](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/11/100)

اس دن سے تو اک ابر ستم فوج پہ چھایا  
کھانا کئی دن قافلہ والوں نے نہ کھایا  
رستے میں ابھی تھا اسداللہ کا جایا  
جو چاند محرم کا فلک پر نظر آیا  
سب نے مہِ نو لشکرِ شبیرؔ میں دیکھا  
منہ شاہ نے آئینۂ شمشیر میں دیکھا  

[101](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/11/101)

خویش و رفقا چاند کی تسلیم کو آئے  
مجرے کو جھکے اور سخن لب پہ یہ لائے  
یہ چاند مبارک ہو یداللہ کے جائے  
کفار پہ تو فتح، اسی چاند میں پائے  
رتبہ مہہ و خورشید سے بالا رہے تیرا  
تا حشر زمانے میں اجالا رہے تیرا  

[102](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/11/102)

حضرت نے دعا پڑھ کے یہ کی حق سے مناجات  
کر رحم گنہگاروں پہ اے قاضیِٔ حاجات  
سر دینے کا مشتاق ہوں عالِم ہے تری ذات  
خنجر مری آنکھوں میں پھرا کرتا ہے دن رات  
باقی ہیں جو راتیں وہ عبادت میں بسر ہوں  
یہ زیست کے دس دن تری طاعت میں بسر ہوں  

[103](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/11/103)

پہنچا دے مجھے جلدی بس اے خالقِ افلاک  
اُس خاک پہ جس خاک سے ملتی ہے مری خاک  
طالب ہے ترے قرب کا سبطِ شہہ لولاک  
نہ ملک کی خواہش ہے نہ درکار ہے املاک  
بیتاب ہے دل صبر کا یارا نہیں مجھ کو  
اب فصل بجز وصل گوارا نہیں مجھو کو  

[104](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/11/104)

اتنے میں یہ فضہؔ علیؔ اکبر کو پکاری  
لو دیکھ چکی چاند ید اللہ کی پیاری  
عادت ہے کہ وہ دیکھتی ہیں شکل تمہاری  
آنکھوں کو کیے بند یہ فرماتی ہیں واری  
آئے تو رخِ اکبرِ ذی قدر کو دیکھوں  
شکل مہِ نو دیکھ چکی بدر کو دیکھوں  

[105](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/11/105)

شہ داخلِ خیمہ ہوئے فرزند کے ہمراہ  
منہ دیکھ چکی چاند ید اللہ کی پیاری  
یہ چاند ہے کس طرح کا اے فاطمہؓ کے ماہ  
فرمانے لگے رو کے بہن سے شہہِ ذی جاہ  
سر تن سے مرا اس مہِ پُر غم میں کٹے گا  
زینبؔ یہ مہینہ تمہیں ماتم میں کٹے گا  

[106](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/11/106)

یہ آل نبی کی ہے مصیبت کا مہینا  
یہ ظلم کا عشرہ ہے یہ آفت کا مہینا  
پہنچا ہے غریبوں کی شہادت کا مہینا  
آخر ہے بس اب عمر کی مدت کا مہینا  
یہ بار امامت مری گردن سے اتر جائے  
ہو خاتمہ بالخیر جو سر تن سے اتر جائے  

[107](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/11/107)

گردوں پہ مہِ نو جو نمایاں ہے یہ ہمشیر  
چڑھتی ہے مرے سر کے لئے چرخ پہ شمشیر  
اس چاند میں کٹ جائے گا سب لشکرِ شبیر  
نیزہ کوئی کھائے گا کلیجہ پہ، کوئی تیر  
برچھی کسی جانباز کے پہلو میں لگے گی  
شمشیر، کسی شیر کے پہلو میں لگے گی  

[108](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/11/108)

خیمے کو جلا دیں گے، لٹے گا زر و زیور  
اس ماہ میں ہوں گے نہ پدر اور نہ برادر  
ماؤں سے پسر چھوٹیں گے بہنوں سے برادر  
بیوہ کئی سیدانیاں ہوویں گی مقرر  
گھڑکیں گے ستمگار جو رووے گی سکینہؔ  
اس ماہ میں بے باپ کی ہووے گی سکینہؔ  

[109](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/11/109)

دولہا کوئی ٹاپوں کے تلے ہوئے گا پامال  
پیٹے گی کوئی تازہ دلہن کھولے ہوئے بال  
تیروں سے کسی ماں کا جگر ہووئے گا غربال  
نکلے گی کوئی کہتی ہوئی ہائے مرا لال  
معصوموں کے سونے کی جگہ پائیں گے خالی  
بچوں سے بھری گودیاں ہو جائیں گی خالی  

[110](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/11/110)

اس عشرۂ اوّل میں نہ ہوئیں گے بہن ہم  
تاریخِ سفر ہے دہم ماہِ محرم  
عشرہ یہ وہ عشرہ ہے کہ اے زینبِؔ پُر غم  
جس لال کی عاشق ہو وہ ہو جائے گا بے دم  
دیکھو گی نہ پھر منہ علیؔ اکبر سے پسر کا  
اب شام میں ہوئے گا تمہیں چاند صفر کا  

[111](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/11/111)

رونے کے لئے حق نے بنائے ہیں یہ دس دن  
ان روزوں خوشی ہو کہ کسی کو نہیں ممکن  
لیویں گے مرا تعزیہ ہر شہر کے ساکن  
اکبر کو جواں روئیں گے معصوموں کو کم سن  
بھولیں ہمیں ایسے نہیں غم خوار ہمارے  
ہوئیں گے سیہ پوش عزادار ہمارے  

[112](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/11/112)

غش ہو گئی سن کر یہ بیاں زینبؔ پُر غم  
خیمے میں اسی رات سے برپا ہوا ماتم  
بیدار رہیں صبح تلک بیبیاں باہم  
خیموں کو اکھڑوا کے چلے قبلۂ عالم  
آخر وہی صحرا، وہی جنگل نظر آیا  
تھی دوسری تاریخ کہ مقتل نظر آیا  

[113](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/11/113)

اترے اسی میدانِ بلا خیز میں سرور  
استادہ ہوئے، خیمۂ ناموسِ پیمبر  
صحرا کی طرف دیکھ کے خوش ہو گئے اکبرؔ  
دریا پہ ٹہلنے لگے عباسِؔ دلاور  
شہہ بولے ہوا نہر کی بھائی تمہیں بھائی  
ہاں شیر ہو دریا کی ترائی تمہیں بھائی  

[114](https://ahleqalam.tech/library/anis/kalam-e-anis/nazmen/11/114)

خامے کو بس اب روک انیسؔ جگر افگار  
خالق سے دعا مانگ کہ اے ایزدِ غفار  
زندہ رہیں دنیا میں شہہ دیں کے عزادار  
غیر از غمِ شہ، ان کو نہ غم ہو کوئی زنہار  
آنکھوں سے مزارِ شہِ دلگیر کو دیکھیں  
اس سال میں بس روضۂ شبیرؔ کو دیکھیں  
