کلامِ آتشردیف الف
آئنہ سینۂ صاحب نظراں ہے کہ جو تھا
آئنہ سینۂ صاحب نظراں ہے کہ جو تھاچہرۂ شاہد مقصود عیاں ہے کہ جو تھا
عشق گل میں وہی بلبل کا فغاں ہے کہ جو تھاپرتو مہ سے وہی حال کتاں ہے کہ جو تھا
عالم حسن خدا داد بتاں ہے کہ جو تھاناز و انداز بلائے دل و جاں ہے کہ جو تھا
راہ میں تیری شب و روز بسر کرتا ہوںوہی میل اور وہی سنگ نشاں ہے کہ جو تھا
روز کرتے ہیں شب ہجر کو بیداری میںاپنی آنکھوں میں سبک خواب گراں ہے کہ جو تھا
ایک عالم میں ہو ہر چند مسیحا مشہورنام بیمار سے تم کو خفقاں ہے کہ جو تھا
دولت عشق کا گنجینہ وہی سینہ ہےداغ دل زخم جگر مہر و نشاں ہے کہ جو تھا
ناز و انداز و ادا سے تمہیں شرم آنے لگیعارضی حسن کا عالم وہ کہاں ہے کہ جو تھا
جاں کی تسکیں کے لئے حالت دل کہتے ہیںبے یقینی کا تری ہم کو گماں ہے کہ جو تھا
اثر منزل مقصود نہیں دنیا میںراہ میں قافلۂ ریگ رواں ہے کہ جو تھا
دہن اس روئے کتابی میں ہے پر نا پیدااسم اعظم وہی قرآں میں نہاں ہے کہ جو تھا
کعبۂ مد نظر قبلہ نما ہے تا حالکوئے جاناں کی طرف دل نگراں ہے کہ جو تھا
کوہ و صحرا و گلستاں میں پھرا کرتا ہےمتلاشی وہ ترا آب رواں ہے کہ جو تھا
سوزش دل سے تسلسل ہے وہی آہوں کاعود کے جلنے سے مجمر میں دھواں ہے کہ جو تھا
رات کٹ جاتی ہے باتیں وہی سنتے سنتےشمع محفل صنم چرب زباں ہے کہ جو تھا
پائے خم مستوں کے ہو حق کا جو عالم ہے سو ہےسر منبر وہی واعظ کا بیاں ہے کہ جو تھا
کون سے دن نئی قبریں نہیں اس میں بنتیںیہ خرابہ وہی عبرت کا مکاں ہے کہ جو تھا
بے خبر شوق سے میرے نہیں وہ نور نگاہقاصد اشک شب و روز وہاں ہے کہ جو تھا
لیلۃ القدر کنایہ نہ شب وصل سے ہواس کا افسانہ میان رمضاں ہے کہ جو تھا
دین و دنیا کا طلب گار ہنوز آتشؔ ہےیہ گدا سائل نقد دو جہاں ہے کہ جو تھا
۱ / ۱۰۵