دوست دشمن نے کئے قتل کے ساماں کیا کیا
آنکھیں گیسو کے تصور میں رہا کرتی ہیں بندلطف دکھلاتا ہے یہ خواب پریشاں کیا کیا
About this couplet
This is couplet 6 of 14 in “دوست دشمن نے کئے قتل کے ساماں کیا کیا” in the section Ghazals — Radeef Alif, from Khwaja Haidar Ali Atish's Urdu book Kalam-e-Atish (کلامِ آتش).
Read it in the poem۶ / ۱۴