کلامِ آتشردیف الف
جگر کو داغ میں مانند لالہ کیا کرتا
جگر کو داغ میں مانند لالہ کیا کرتالبالب اپنے لہو کا پیالہ کیا کرتا
ملا نہ سرو کو کچھ اپنی راستی میں پھلکلاہ کج جو نہ کرتا تو لالہ کیا کرتا
جریدہ میں رہ پر خون عشق سے گزراجرس سے قافلہ میں بحث نالہ کیا کرتا
جنون عشق میں رہنا تھا امتیاز نہ کچھچکور طوق گلو مہ کا ہالہ کیا کرتا
بچا کیا اسے توڑا جو سر سے دریا کےحباب لے کے یہ خالی پیالہ کیا کرتا
نہ کھایا غصہ کبھی خوانچہ سے قسمت کےپھنسے جو حلق میں میں وہ نوالہ کیا کرتا
بلائے بد ہوئی داغوں سے سردیٔ کافورسلوک نیک زراعت سے ژالہ کیا کرتا
دیا نوشتہ نہ اس بت کو دل کے تودے میںخدا کے گھر کا بھلا میں قبالہ کیا کرتا
صفا ہوا نہ ریاضت سے نفس امارہکوئی نجاست سگ کا ازالہ کیا کرتا
لگی ہے آگ جو کمبل کبھی اڑایا ہےترے برہنہ سے گرمی دوشالہ کیا کرتا
نہ کرتی عقل اگر مفت آسماں کی سیرکوئی یہ ساتھ ورق کا رسالہ کیا کرتا
مری طرف جو انہیں کھینچتی کشش دل کیبتوں کو برہمنوں کا حوالہ کیا کرتا
کسی نے مول نہ پوچھا دل شکستہ کاکوئی خرید کے ٹوٹا پیالہ کیا کرتا
عروس دہر سے بوئے وفا نہیں آتیبھلا جگر کا میں اس کے ازالہ کیا کرتا
مہ دو ہفتہ بھی ہوتا تو لطف تھا آتشؔاکیلے پی کے شراب دو سالہ کیا کرتا
۲۱ / ۱۰۵