کلامِ حالیمثنویات، مراثی و دیگر
مرثیۂ دہلی 4
تذکرہ دہلیٔ مرحوم کا اے دوست نہ چھیڑنہ سنا جائے گا ہم سے یہ فسانہ ہرگز
داستاں گل کی خزاں میں نہ سنا اے بلبلہنستے ہنستے ہمیں ظالم نہ رلانا ہرگز
ڈھونڈھتا ہے دل شوریدہ بہانے مطربدردانگیز غزل کوئی نہ گانا ہرگز
صحبتیں اگلی مصور ہمیں یاد آئیں گیکوئی دلچسپ مرقع نہ دکھانا ہرگز
موجزن دل میں ہیں یاں خون کے دریا اے چشمدیکھنا ابر سے آنکھیں نہ چرانا ہرگز
لے کے داغ آئے گا سینے پہ بہت اے سیاحدیکھ اس شہر کے کھنڈروں میں نہ جانا ہرگز
چپے چپے پہ ہیں یاں گوہر یکتا تہ خاکدفن ہوگا نہ کہیں اتنا خزانہ ہرگز
مٹ گئے تیرے مٹانے کے نشاں بھی اب تواے فلک اس سے زیادہ نہ مٹانا ہرگز
ہم کو گر تو نے رلایا تو رلایا اے چرخہم پہ غیروں کو تو ظالم نہ ہنسانا ہرگز
کبھی اے علم و ہنر گھر تھا تمہارا دلیہم کو بھولے ہو تو گھر بھول نہ جانا ہرگز
شاعری مر چکی اب زندہ نہ ہوگی ہرگزیاد کر کر کے اسے جی نہ کڑھانا ہرگز
غالبؔ و شیفتہؔ و نیرؔ و آزردہؔ و ذوقؔاب دکھائے گا یہ شکلیں نہ زمانا ہرگز
مومنؔ و علویؔ و صہبائیؔ و ممنونؔ کے بعدشعر کا نام نہ لے گا کوئی دانا ہرگز
کر دیا مر کے یگانوں نے یگانہ ہم کوورنہ یاں کوئی نہ تھا ہم میں یگانہ ہرگز
داغؔ و مجروحؔ کو سن لو کہ پھر اس گلشن میںنہ سنے گا کوئی بلبل کا ترانا ہرگز
رات آخر ہوئی اور بزم ہوئی زیر و زبراب نہ دیکھو گے کبھی لطف شبانہ ہرگز
بزم ماتم تو نہیں بزم سخن ہے حالیؔیاں مناسب نہیں رو رو کے رلانا ہرگز
۵۳ / ۶۰