کلامِ مومنردیف الف
غصہ بیگانہ وار ہونا تھا
غصہ بیگانہ وار ہونا تھابس یہی تجھ سے یار ہونا تھا
کیا شب انتظار ہونا تھاناحق امیدوار ہونا تھا
کیوں نہ ہوتے عزیز غیر تمہیںمیری قسمت میں خوار ہونا تھا
مجھ سے جنت میں وہ صنم نہ ملاحشر اور ایک بار ہونا تھا
گر نہ تھی اے دل اس کے رنج کی تعبکیوں شکایت گزار ہونا تھا
خاک ہوتا نہ میں تو کیا کرتااس کے در کا غبار ہونا تھا
ہرزہ گردی سے ہم ذلیل ہوئےچرخ کا اعتبار ہونا تھا
مرگ شام وصال حرماں ہےصبح دم جاں نثار ہونا تھا
اور سے ہمکنار ہے دشمنآج تو ہمکنار ہونا تھا
شکوۂ دہر پر کہا تم کوآفت روزگار ہونا تھا
چشم بے اختیار جاناں میںکیا مرا اختیار ہونا تھا
صبر کر صبر ہو چکا جو کچھاے دل بے قرار ہونا تھا
کوئے دشمن میں جا پکڑتا کیوںکیا مجھے شرمسار ہونا تھا
وہ نمک پاش بھی نہیں ہوتےیوں ہی دل کو فگار ہونا تھا
خاک میں حیف یہ شراب ملےمحتسب بادہ خوار ہونا تھا
نہ گیا تیر نالہ سوئے رقیبمرغ عرشی شکار ہونا تھا
رات دن بادہ و صنم مومنؔکچھ تو پرہیزگار ہونا تھا
۱۲ / ۵۶