عدم میں رہتے تو شاد رہتے اسے بھی فکر ستم نہ ہوتا

پڑا ہی مرنا بس اب تو ہم کو جو اس نے خط پڑھ کے نامہ بر سےکہا کہ گر سچ یہ حال ہوتا تو دفتر اتنا رقم نہ ہوتا

About this couplet

This is couplet 3 of 13 in “⁨عدم میں رہتے تو شاد رہتے اسے بھی فکر ستم نہ ہوتا⁩” in the section Ghazals — Radeef Alif, from Momin Khan Momin's Urdu book Kalam-e-Momin (⁨کلامِ مومن⁩).

Read it in the poem

۳ / ۱۳