عدم میں رہتے تو شاد رہتے اسے بھی فکر ستم نہ ہوتا
جو آپ در سے اٹھا نہ دیتے کہیں نہ کرتا میں جبہہ سائیاگرچہ یہ سر نوشت میں تھا تمہارے سر کی قسم نہ ہوتا
About this couplet
This is couplet 5 of 13 in “عدم میں رہتے تو شاد رہتے اسے بھی فکر ستم نہ ہوتا” in the section Ghazals — Radeef Alif, from Momin Khan Momin's Urdu book Kalam-e-Momin (کلامِ مومن).
Read it in the poem۵ / ۱۳