کلامِ ولیردیف ے

دل کوں تجھ باج بے قراری ہے

۱

دل کوں تجھ باج بے قراری ہےچشم کا کام اشک باری ہے

۲

شب فرقت میں مونس و ہم دمبے قراروں کوں آہ و زاری ہے

۳

اے عزیزاں مجھے نہیں برداشتسنگ دل کا فراق بھاری ہے

۴

فیض سوں تجھ فراق کے ساجنچشم گریاں کا کام جاری ہے

۵

فوقیت لے گیا ہوں بلبل سوںگرچہ منصب میں دو ہزاری ہے

۶

عشق بازوں کے حق میں قاتل کیہر نگہ خنجر و کٹاری ہے

۷

آتش ہجر لالہ رو سوں ولیؔداغ سینے میں یادگاری ہے

۳۲ / ۳۴