کلامِ ولیردیف ن

بھڑکے ہے دل کی آتش تجھ نیہ کی ہوا سوں

۱

بھڑکے ہے دل کی آتش تجھ نیہ کی ہوا سوںشعلہ نمط جلا دل تجھ حسن شعلہ زا سوں

۲

گل کے چراغ گل ہو یک بار جھڑ پڑیں سبمجھ آہ کی حکایت بولیں اگر صبا سوں

۳

نکلی ہے جست کر کر ہر سنگ دل سوں آتشچقماق جب پلک کی جھاڑا ہے توں ادا سوں

۴

سجدہ بدل رکھے سر سر تا قدم عرق ہوتجھ با حیا کے پگ پر آ کر حنا حیا سوں

۵

یاں درد ہے پرم کا بیہودہ سر کہے متیہ بات سن ولیؔ کی جا کر کہو دوا سوں

۱۴ / ۳۴