کلامِ ولیردیف و
صحبت غیر موں جایا نہ کرو
۱
صحبت غیر موں جایا نہ کرودرد منداں کوں کڑھایا نہ کرو
۲
حق پرستی کا اگر دعویٰ ہےبے گناہاں کوں ستایا نہ کرو
۳
اپنی خوبی کے اگر طالب ہواپنے طالب کوں جلایا نہ کرو
۴
ہے اگر خاطر عشاق عزیزغیر کوں درس دکھایا نہ کرو
۵
مجھ کو ترشی کا ہے پرہیز صنمچین ابرو کوں دکھایا نہ کرو
۶
دل کوں ہوتی ہے سجن، بیتابیزلف کوں ہاتھ لگایا نہ کرو
۷
نگہ تلخ سوں اپنی ظالمزہر کا جام پلایا نہ کرو
۸
ہم کوں برداشت نہیں غصے کیبے سبب غصے میں آیا نہ کرو
۹
پاک بازاں میں ہے مشہور ولیؔاس سوں چہرے کوں چھپایا نہ کرو
۱۶ / ۳۴