کلامِ اکبرردیف الف

حال دل میں سنا نہیں سکتا

۱

حال دل میں سنا نہیں سکتالفظ معنیٰ کو پا نہیں سکتا

۲

عشق نازک مزاج ہے بے حدعقل کا بوجھ اٹھا نہیں سکتا

۳

ہوش عارف کی ہے یہی پہچانکہ خودی میں سما نہیں سکتا

۴

پونچھ سکتا ہے ہم نشیں آنسوداغ دل کو مٹا نہیں سکتا

۵

مجھ کو حیرت ہے اس کی قدرت پرالم اس کو گھٹا نہیں سکتا

۲ / ۱۴۶