کلامِ اکبرردیف الف
تم نے بیمار محبت کو ابھی کیا دیکھا
۱
تم نے بیمار محبت کو ابھی کیا دیکھاجو یہ کہتے ہوئے جاتے ہو کہ دیکھا دیکھا
۲
طفل دل کو مرے کیا جانے لگی کس کی نظرمیں نے کمبخت کو دو دن بھی نہ اچھا دیکھا
۳
لے گیا تھا طرف گور غریباں دل زارکیا کہیں تم سے جو کچھ واں کا تماشا دیکھا
۴
وہ جو تھے رونق آبادیٔ گلزار جہاںسر سے پا تک انہیں خاک رہ صحرا دیکھا
۵
کل تلک محفل عشرت میں جو تھے صدر نشیںقبر میں آج انہیں بیکس و تنہا دیکھا
۶
بسکہ نیرنگی عالم پہ اسے حیرت تھیآئینہ خاک سکندر کو سراپا دیکھا
۷
سر جمشید کے کاسے میں بھری تھی حسرتیاس کو معتکف تربت دارا دیکھا
۳ / ۱۴۶