ہوائے شب بھی ہے عنبر افشاں عروج بھی ہے مہ مبیں کا
صبا بھی اس گل کے پاس آئی تو میرے دل کو ہوا یہ کھٹکاکوئی شگوفہ نہ یہ کھلائے پیام لائی نہ ہو کہیں کا
About this couplet
This is couplet 3 of 5 in “ہوائے شب بھی ہے عنبر افشاں عروج بھی ہے مہ مبیں کا” in the section Ghazals — Radeef Alif, from Syed Akbar Hussain Akbar Allahabadi's Urdu book Kalam-e-Akbar (کلامِ اکبر).
Read it in the poem۳ / ۵