کلامِ اکبرردیف الف

ہوائے شب بھی ہے عنبر افشاں عروج بھی ہے مہ مبیں کا

۱

ہوائے شب بھی ہے عنبر افشاں عروج بھی ہے مہ مبیں کانثار ہونے کی دو اجازت محل نہیں ہے نہیں نہیں کا

۲

اگر ہو ذوق سجود پیدا ستارہ ہو اوج پر جبیں کانشان سجدہ زمین پر ہو تو فخر ہے وہ رخ زمیں کا

۳

صبا بھی اس گل کے پاس آئی تو میرے دل کو ہوا یہ کھٹکاکوئی شگوفہ نہ یہ کھلائے پیام لائی نہ ہو کہیں کا

۴

نہ مہر و مہ پر مری نظر ہے نہ لالہ و گل کی کچھ خبر ہےفروغ دل کے لیے ہے کافی تصور اس روئے آتشیں کا

۵

نہ علم فطرت میں تم ہو ماہر نہ ذوق طاعت ہے تم سے ظاہریہ بے اصولی بہت بری ہے تمہیں نہ رکھے گی یہ کہیں کا

۱۶ / ۱۴۶