کلامِ اکبرردیف ے

امید ٹوٹی ہوئی ہے میری جو دل مرا تھا وہ مر چکا ہے

۱

امید ٹوٹی ہوئی ہے میری جو دل مرا تھا وہ مر چکا ہےجو زندگانی کو تلخ کر دے وہ وقت مجھ پر گزر چکا ہے

۲

اگرچہ سینے میں سانس بھی ہے نہیں طبیعت میں جان باقیاجل کو ہے دیر اک نظر کی فلک تو کام اپنا کر چکا ہے

۳

غریب خانے کی یہ اداسی یہ نا درستی نہیں قدیمیچہل پہل بھی کبھی یہاں تھی کبھی یہ گھر بھی سنور چکا ہے

۴

یہ سینہ جس میں یہ داغ میں اب مسرتوں کا کبھی تھا مخزنوہ دل جو ارمان سے بھرا تھا خوشی سے اس میں ٹھہر چکا ہے

۵

غریب اکبر کے گرد کیوں میں خیال واعظ سے کوئی کہہ دےاسے ڈراتے ہو موت سے کیا وہ زندگی ہی سے ڈر چکا ہے

۴۷ / ۱۴۶