کلامِ اکبرردیف ے
تری زلفوں میں دل الجھا ہوا ہے
۱
تری زلفوں میں دل الجھا ہوا ہےبلا کے پیچ میں آیا ہوا ہے
۲
نہ کیوں کر بوئے خوں نامے سے آئےاسی جلاد کا لکھا ہوا ہے
۳
چلے دنیا سے جس کی یاد میں ہمغضب ہے وہ ہمیں بھولا ہوا ہے
۴
کہوں کیا حال اگلی عشرتوں کاوہ تھا اک خواب جو بھولا ہوا ہے
۵
جفا ہو یا وفا ہم سب میں خوش ہیںکریں کیا اب تو دل اٹکا ہوا ہے
۶
ہوئی ہے عشق ہی سے حسن کی قدرہمیں سے آپ کا شہرا ہوا ہے
۷
بتوں پر رہتی ہے مائل ہمیشہطبیعت کو خدایا کیا ہوا ہے
۸
پریشاں رہتے ہو دن رات اکبرؔیہ کس کی زلف کا سودا ہوا ہے
۴۸ / ۱۴۶