کلامِ اکبرردیف ے
ہنگامہ ہے کیوں برپا تھوڑی سی جو پی لی ہے
۱
ہنگامہ ہے کیوں برپا تھوڑی سی جو پی لی ہےڈاکا تو نہیں مارا چوری تو نہیں کی ہے
۲
نا تجربہ کاری سے واعظ کی یہ ہیں باتیںاس رنگ کو کیا جانے پوچھو تو کبھی پی ہے
۳
اس مے سے نہیں مطلب دل جس سے ہے بیگانہمقصود ہے اس مے سے دل ہی میں جو کھنچتی ہے
۴
اے شوق وہی مے پی اے ہوش ذرا سو جامہمان نظر اس دم ایک برق تجلی ہے
۵
واں دل میں کہ صدمے دو یاں جی میں کہ سب سہہ لوان کا بھی عجب دل ہے میرا بھی عجب جی ہے
۶
ہر ذرہ چمکتا ہے انوار الٰہی سےہر سانس یہ کہتی ہے ہم ہیں تو خدا بھی ہے
۷
سورج میں لگے دھبا فطرت کے کرشمے ہیںبت ہم کو کہیں کافر اللہ کی مرضی ہے
۸
تعلیم کا شور ایسا تہذیب کا غل اتنابرکت جو نہیں ہوتی نیت کی خرابی ہے
۹
سچ کہتے ہیں شیخ اکبرؔ ہے طاعت حق لازمہاں ترک مے و شاہد یہ ان کی بزرگی ہے
۶۱ / ۱۴۶