کلامِ اکبرردیف ے
نئی تہذیب
یہ موجودہ طریقے راہیٔ ملک عدم ہوں گےنئی تہذیب ہوگی اور نئے ساماں بہم ہوں گے
نئے عنوان سے زینت دکھائیں گے حسیں اپنینہ ایسا پیچ زلفوں میں نہ گیسو میں یہ خم ہوں گے
نہ خاتونوں میں رہ جائے گی پردے کی یہ پابندینہ گھونگھٹ اس طرح سے حاجب روئے صنم ہوں گے
بدل جائے گا انداز طبائع دور گردوں سےنئی صورت کی خوشیاں اور نئے اسباب غم ہوں گے
نہ پیدا ہوگی خط نسخ سے شان ادب آگیںنہ نستعلیق حرف اس طور سے زیب رقم ہوں گے
خبر دیتی ہے تحریک ہوا تبدیل موسم کیکھلیں گے اور ہی گل زمزمے بلبل کے کم ہوں گے
عقائد پر قیامت آئے گی ترمیم ملت سےنیا کعبہ بنے گا مغربی پتلے صنم ہوں گے
بہت ہوں گے مغنی نغمۂ تقلید یورپ کےمگر بے جوڑ ہوں گے اس لیے بے تال و سم ہوں گے
ہماری اصطلاحوں سے زباں نا آشنا ہوگیلغات مغربی بازار کی بھاشا سے ضم ہوں گے
بدل جائے گا معیار شرافت چشم دنیا میںزیادہ تھے جو اپنے زعم میں وہ سب سے کم ہوں گے
گزشتہ عظمتوں کے تذکرے بھی رہ نہ جائیں گےکتابوں ہی میں دفن افسانۂ جاہ و حشم ہوں گے
کسی کو اس تغیر کا نہ حس ہوگا نہ غم ہوگاہوئے جس ساز سے پیدا اسی کے زیر و بم ہوں گے
تمہیں اس انقلاب دہر کا کیا غم ہے اے اکبرؔبہت نزدیک ہیں وہ دن کہ تم ہوگے نہ ہم ہوں گے
۶۲ / ۱۴۶