وہ ہوا نہ رہی وہ چمن نہ رہا وہ گلی نہ رہی وہ حسیں نہ رہے

نہ وہ آن رہی نہ امنگ رہی نہ وہ رندی و زہد کی جنگ رہیسوئے قبلہ نگاہوں کے رخ نہ رہے اور در پہ نقش جبیں نہ رہے

About this couplet

This is couplet 3 of 10 in “⁨وہ ہوا نہ رہی وہ چمن نہ رہا وہ گلی نہ رہی وہ حسیں نہ رہے⁩” in the section Ghazals — Radeef Bari Ye, from Syed Akbar Hussain Akbar Allahabadi's Urdu book Kalam-e-Akbar (⁨کلامِ اکبر⁩).

Read it in the poem

۳ / ۱۰