کلامِ اکبرردیف ے

وہ ہوا نہ رہی وہ چمن نہ رہا وہ گلی نہ رہی وہ حسیں نہ رہے

۱

وہ ہوا نہ رہی وہ چمن نہ رہا وہ گلی نہ رہی وہ حسیں نہ رہےوہ فلک نہ رہا وہ سماں نہ رہا وہ مکاں نہ رہے وہ مکیں نہ رہے

۲

وہ گلوں میں گلوں کی سی بو نہ رہی وہ عزیزوں میں لطف کی خو نہ رہیوہ حسینوں میں رنگ وفا نہ رہا کہیں اور کی کیا وہ ہمیں نہ رہے

۳

نہ وہ آن رہی نہ امنگ رہی نہ وہ رندی و زہد کی جنگ رہیسوئے قبلہ نگاہوں کے رخ نہ رہے اور در پہ نقش جبیں نہ رہے

۴

نہ وہ جام رہے نہ وہ مست رہے نہ فدائی عہد الست رہےوہ طریقۂ کار جہاں نہ رہا وہ مشاغل رونق دیں نہ رہے

۵

ہمیں لاکھ زمانہ لبھائے تو کیا نئے رنگ جو چرخ دکھائے تو کیایہ محال ہے اہل وفا کے لیے غم ملت و الفت دیں نہ رہے

۶

ترے کوچۂ زلف میں دل ہے مرا اب اسے میں سمجھتا ہوں دام بلایہ عجیب ستم ہے عجیب جفا کہ یہاں نہ رہے تو کہیں نہ رہے

۷

یہ تمہارے ہی دم سے ہے بزم طرب ابھی جاؤ نہ تم نہ کرو یہ غضبکوئی بیٹھ کے لطف اٹھائے گا کیا کہ جو رونق بزم تمہیں نہ رہے

۸

جو تھیں چشم فلک کی بھی نور نظر وہی جن پہ نثار تھے شمس و قمرسو اب ایسی مٹی ہیں وہ انجمنیں کہ نشان بھی ان کے کہیں نہ رہے

۹

وہی صورتیں رہ گئیں پیش نظر جو زمانہ کو پھیریں ادھر سے ادھرمگر ایسے جمال جہاں آرا جو تھے رونق روئے زمیں نہ رہے

۱۰

غم و رنج میں اکبرؔ اگر ہے گھرا تو سمجھ لے کہ رنج کو بھی ہے فناکسی شے کو نہیں ہے جہاں میں بقا وہ زیادہ ملول و حزیں نہ رہے

۶۳ / ۱۴۶