وہ ہوا نہ رہی وہ چمن نہ رہا وہ گلی نہ رہی وہ حسیں نہ رہے
ترے کوچۂ زلف میں دل ہے مرا اب اسے میں سمجھتا ہوں دام بلایہ عجیب ستم ہے عجیب جفا کہ یہاں نہ رہے تو کہیں نہ رہے
About this couplet
This is couplet 6 of 10 in “وہ ہوا نہ رہی وہ چمن نہ رہا وہ گلی نہ رہی وہ حسیں نہ رہے” in the section Ghazals — Radeef Bari Ye, from Syed Akbar Hussain Akbar Allahabadi's Urdu book Kalam-e-Akbar (کلامِ اکبر).
Read it in the poem۶ / ۱۰