کلامِ اکبرردیف ے
نہ بہتے اشک تو تاثیر میں سوا ہوتے
۱
نہ بہتے اشک تو تاثیر میں سوا ہوتےصدف میں رہتے یہ موتی تو بے بہا ہوتے
۲
مجھ ایسے رند سے رکھتے ضرور ہی الفتجناب شیخ اگر عاشق خدا ہوتے
۳
گناہ گاروں نے دیکھا جمال رحمت کوکہاں نصیب یہ ہوتا جو بے خطا ہوتے
۴
جناب حضرت ناصح کا واہ کیا کہناجو ایک بات نہ ہوتی تو اولیا ہوتے
۵
مذاق عشق نہیں شیخ میں یہ ہے افسوسیہ چاشنی بھی جو ہوتی تو کیا سے کیا ہوتے
۶
محل شکر ہیں اکبرؔ یہ درفشاں نظمیںہر اک زباں کو یہ موتی نہیں عطا ہوتے
۶۴ / ۱۴۶