کلامِ اکبرردیف ے
کیا ہی رہ رہ کے طبیعت مری گھبراتی ہے
۱
کیا ہی رہ رہ کے طبیعت مری گھبراتی ہےموت آتی ہے شب ہجر نہ نیند آتی ہے
۲
وہ بھی چپ بیٹھے ہیں اغیار بھی چپ میں بھی خموشایسی صحبت سے طبیعت مری گھبراتی ہے
۳
کیوں نہ ہو اپنی لگاوٹ کی نظر پر نازاںجانتے ہو کہ دلوں کو یہ لگا لاتی ہے
۴
بزم عشرت کہیں ہوتی ہے تو رو دیتا ہوںکوئی گزری ہوئی صحبت مجھے یاد آتی ہے
۶۶ / ۱۴۶