کلامِ اکبرردیف ے

کہاں وہ اب لطف باہمی ہے محبتوں میں بہت کمی ہے

۱

کہاں وہ اب لطف باہمی ہے محبتوں میں بہت کمی ہےچلی ہے کیسی ہوا الٰہی کہ ہر طبیعت میں برہمی ہے

۲

مری وفا میں ہے کیا تزلزل مری اطاعت میں کیا کمی ہےیہ کیوں نگاہیں پھری ہیں مجھ سے مزاج میں کیوں یہ برہمی ہے

۳

وہی ہے فضل خدا سے اب تک ترقی کار حسن و الفتنہ وہ ہیں مشق ستم میں قاصر نہ خون دل کی یہاں کمی ہے

۴

عجیب جلوے ہیں ہوش دشمن کہ وہم کے بھی قدم رکے ہیںعجیب منظر ہیں حیرت افزا نظر جہاں تھی وہیں تھمی ہے

۵

نہ کوئی تکریم باہمی ہے نہ پیار باقی ہے اب دلوں میںیہ صرف تحریر میں ڈیر سر ہے یا جناب مکرمی ہے

۶

کہاں کے مسلم کہاں کے ہندو بھلائی ہیں سب نے اگلی رسمیںعقیدے سب کے ہیں تین تیرہ نہ گیارہویں ہے نہ اسٹمی ہے

۷

نظر مری اور ہی طرف ہے ہزار رنگ زمانہ بدلےہزار باتیں بنائے ناصح جمی ہے دل میں جو کچھ جمی ہے

۸

اگرچہ میں رند محترم ہوں مگر اسے شیح سے نہ پوچھوکہ ان کے آگے تو اس زمانے میں ساری دنیا جہنمی ہے

۶۷ / ۱۴۶