کلامِ اکبرردیف ے
کہاں وہ اب لطف باہمی ہے محبتوں میں بہت کمی ہے
کہاں وہ اب لطف باہمی ہے محبتوں میں بہت کمی ہےچلی ہے کیسی ہوا الٰہی کہ ہر طبیعت میں برہمی ہے
مری وفا میں ہے کیا تزلزل مری اطاعت میں کیا کمی ہےیہ کیوں نگاہیں پھری ہیں مجھ سے مزاج میں کیوں یہ برہمی ہے
وہی ہے فضل خدا سے اب تک ترقی کار حسن و الفتنہ وہ ہیں مشق ستم میں قاصر نہ خون دل کی یہاں کمی ہے
عجیب جلوے ہیں ہوش دشمن کہ وہم کے بھی قدم رکے ہیںعجیب منظر ہیں حیرت افزا نظر جہاں تھی وہیں تھمی ہے
نہ کوئی تکریم باہمی ہے نہ پیار باقی ہے اب دلوں میںیہ صرف تحریر میں ڈیر سر ہے یا جناب مکرمی ہے
کہاں کے مسلم کہاں کے ہندو بھلائی ہیں سب نے اگلی رسمیںعقیدے سب کے ہیں تین تیرہ نہ گیارہویں ہے نہ اسٹمی ہے
نظر مری اور ہی طرف ہے ہزار رنگ زمانہ بدلےہزار باتیں بنائے ناصح جمی ہے دل میں جو کچھ جمی ہے
اگرچہ میں رند محترم ہوں مگر اسے شیح سے نہ پوچھوکہ ان کے آگے تو اس زمانے میں ساری دنیا جہنمی ہے
۶۷ / ۱۴۶