کلامِ اکبرردیف ے
ہر قدم کہتا ہے تو آیا ہے جانے کے لیے
ہر قدم کہتا ہے تو آیا ہے جانے کے لیےمنزل ہستی نہیں ہے دل لگانے کے لیے
کیا مجھے خوش آئے یہ حیرت سرائے بے ثباتہوش اڑنے کے لیے ہے جان جانے کے لیے
دل نے دیکھا ہے بساط قوت ادراک کوکیا بڑھے اس بزم میں آنکھیں اٹھانے کے لیے
خوب امیدیں بندھیں لیکن ہوئیں حرماں نصیببدلیاں اٹھیں مگر بجلی گرانے کے لیے
سانس کی ترکیب پر مٹی کو پیار آ ہی گیاخود ہوئی قید اس کو سینے سے لگانے کے لیے
جب کہا میں نے بھلا دو غیر کو ہنس کر کہایاد پھر مجھ کو دلانا بھول جانے کے لیے
دیدہ بازی وہ کہاں آنکھیں رہا کرتی ہیں بندجان ہی باقی نہیں اب دل لگانے کے لیے
مجھ کو خوش آئی ہے مستی شیخ جی کو فربہیمیں ہوں پینے کے لیے اور وہ ہیں کھانے کے لیے
اللہ اللہ کے سوا آخر رہا کچھ بھی نہ یادجو کیا تھا یاد سب تھا بھول جانے کے لیے
سر کہاں کے ساز کیسا کیسی بزم سامعینجوش دل کافی ہے اکبرؔ تان اڑانے کے لیے
۶۸ / ۱۴۶