کلامِ اکبرردیف ی

شیخ نے ناقوس کے سر میں جو خود ہی تان لی

۱

شیخ نے ناقوس کے سر میں جو خود ہی تان لیپھر تو یاروں نے بھجن گانے کی کھل کر ٹھان لی

۲

مدتوں قائم رہیں گی اب دلوں میں گرمیاںمیں نے فوٹو لے لیا اس نے نظر پہچان لی

۳

رو رہے ہیں دوست میری لاش پر بے اختیاریہ نہیں دریافت کرتے کس نے اس کی جان لی

۴

میں تو انجن کی گلے بازی کا قائل ہو گیارہ گئے نغمے حدی خوانوں کے ایسی تان لی

۵

حضرت اکبرؔ کے استقلال کا ہوں معترفتابہ مرگ اس پر رہے قائم جو دل میں ٹھان لی

۳۸ / ۱۴۶