کلامِ اکبرردیف ی

حسینوں کے گلے سے لگتی ہے زنجیر سونے کی

۱

حسینوں کے گلے سے لگتی ہے زنجیر سونے کینظر آتی ہے کیا چمکی ہوئی تقدیر سونے کی

۲

نہ دل آتا ہے قابو میں نہ نیند آتی ہے آنکھوں میںشب فرقت میں کیوں کر بن پڑے تدبیر سونے کی

۳

یہاں بیداریوں سے خون دل آنکھوں میں آتا ہےگلابی کرتی ہے آنکھوں کو واں تاثیر سونے کی

۴

بہت بے چین ہوں نیند آ رہی ہے رات جاتی ہےخدا کے واسطے جلد اب کرو تدبیر سونے کی

۵

یہ زردہ چیز ہے جو ہر جگہ ہے باعث شوکتسنی ہے عالم بالا میں بھی تعمیر سونے کی

۶

ضرورت کیا ہے رکنے کی مرے دل سے نکلتا رہہوس مجھ کو نہیں اے نالۂ شب گیر سونے کی

۷

چھپر کھٹ یاں جو سونے کی بنائی اس سے کیا حاصلکرو اے غافلو کچھ قبر میں تدبیر سونے کی

۳۷ / ۱۴۶