کلامِ اکبرردیف ی

رنگ شراب سے مری نیت بدل گئی

۱

رنگ شراب سے مری نیت بدل گئیواعظ کی بات رہ گئی ساقی کی چل گئی

۲

طیار تھے نماز پہ ہم سن کے ذکر حورجلوہ بتوں کا دیکھ کے نیت بدل گئی

۳

مچھلی نے ڈھیل پائی ہے لقمے پہ شاد ہےصیاد مطمئن ہے کہ کانٹا نگل گئی

۴

چمکا ترا جمال جو محفل میں وقت شامپروانہ بیقرار ہوا شمع جل گئی

۵

عقبیٰ کی باز پرس کا جاتا رہا خیالدنیا کی لذتوں میں طبیعت بہل گئی

۶

حسرت بہت ترقیٔ دختر کی تھی انہیںپردہ جو اٹھ گیا تو وہ آخر نکل گئی

۴۰ / ۱۴۶