کلامِ اکبرردیف ی
ختم کیا صبا نے رقص گل پہ نثار ہو چکی
۱
ختم کیا صبا نے رقص گل پہ نثار ہو چکیجوش نشاط ہو چکا صوت ہزار ہو چکی
۲
رنگ بنفشہ مٹ گیا سنبل تر نہیں رہاصحن چمن میں زینت نقش و نگار ہو چکی
۳
مستی لالہ اب کہاں اس کا پیالہ اب کہاںدور طرب گزر گیا آمد یار ہو چکی
۴
رت وہ جو تھی بدل گئی آئی بس اور نکل گئیتھی جو ہوا میں نکہت مشک تتار ہو چکی
۵
اب تک اسی روش پہ ہے اکبرؔ مست و بے خبرکہہ دے کوئی عزیز من فصل بہار ہو چکی
۴۱ / ۱۴۶