کلامِ اکبرردیف ی
نہ روح مذہب نہ قلب عارف نہ شاعرانہ زبان باقی
۱
نہ روح مذہب نہ قلب عارف نہ شاعرانہ زبان باقیزمیں ہماری بدل گئی ہے اگرچہ ہے آسمان باقی
۲
شب گزشتہ کے ساز و ساماں کے اب کہاں ہیں نشان باقیزبان شمع سحر پہ حسرت کی رہ گئی داستان باقی
۳
جو ذکر آتا ہے آخرت کا تو آپ ہوتے ہیں صاف منکرخدا کی نسبت بھی دیکھتا ہوں یقین رخصت گمان باقی
۴
فضول ہے ان کی بد دماغی کہاں ہے فریاد اب لبوں پریہ وار پر وار اب عبث ہیں کہاں بدن میں ہے جان باقی
۵
میں اپنے مٹنے کے غم میں نالاں ادھر زمانہ ہے شاد و خنداںاشارہ کرتی ہے چشم دوراں جو آن باقی جہان باقی
۶
اسی لیے رہ گئی ہیں آنکھیں کہ میرے مٹنے کا رنگ دیکھیںسنوں وہ باتیں جو ہوش اڑائیں اسی لیے ہیں یہ کان باقی
۷
تعجب آتا ہے طفل دل پر کہ ہو گیا مست نظم اکبرؔابھی مڈل پاس تک نہیں ہے بہت سے ہیں امتحان باقی
۴۵ / ۱۴۶