کلامِ اکبرردیف ی

نئی تہذیب سے ساقی نے ایسی گرم جوشی کی

۱

نئی تہذیب سے ساقی نے ایسی گرم جوشی کیکہ آخر مسلموں میں روح پھونکی بادہ نوشی کی

۲

تمہاری پالسی کا حال کچھ کھلتا نہیں صاحبہماری پالسی تو صاف ہے ایماں فروشی کی

۳

چھپانے کے عوض چھپوا رہے ہیں خود وہ عیب اپنےنصیحت کیا کروں میں قوم کو اب عیب پوشی کی

۴

پہننے کو تو کپڑے ہی نہ تھے کیا بزم میں جاتےخوشی گھر بیٹھے کر لی ہم نے جشن تاج پوشی کی

۵

شکست رنگ مذہب کا اثر دیکھیں نئے مرشدمسلمانوں میں کثرت ہو رہی ہے بادہ نوشی کی

۶

رعایا کو مناسب ہے کہ باہم دوستی رکھیںحماقت حاکموں سے ہے توقع گرم جوشی کی

۷

ہمارے قافیے تو ہو گئے سب ختم اے اکبرؔلقب اپنا جو دے دیں مہربانی ہے یہ جوشی کی

۴۴ / ۱۴۶