کلامِ اکبرردیف ن
سانس لیتے ہوئے بھی ڈرتا ہوں
۱
سانس لیتے ہوئے بھی ڈرتا ہوںیہ نہ سمجھیں کہ آہ کرتا ہوں
۲
بحر ہستی میں ہوں مثال حبابمٹ ہی جاتا ہوں جب ابھرتا ہوں
۳
اتنی آزادی بھی غنیمت ہےسانس لیتا ہوں بات کرتا ہوں
۴
شیخ صاحب خدا سے ڈرتے ہوںمیں تو انگریزوں ہی سے ڈرتا ہوں
۵
آپ کیا پوچھتے ہیں میرا مزاجشکر اللہ کا ہے مرتا ہوں
۶
یہ بڑا عیب مجھ میں ہے اکبرؔدل میں جو آئے کہہ گزرتا ہوں
۲۵ / ۱۴۶