کلامِ اکبرردیف ن

دنیا میں ہوں دنیا کا طلب گار نہیں ہوں

۱

دنیا میں ہوں دنیا کا طلب گار نہیں ہوںبازار سے گزرا ہوں خریدار نہیں ہوں

۲

زندہ ہوں مگر زیست کی لذت نہیں باقیہر چند کہ ہوں ہوش میں ہشیار نہیں ہوں

۳

اس خانۂ ہستی سے گزر جاؤں گا بے لوثسایہ ہوں فقط نقش بہ دیوار نہیں ہوں

۴

افسردہ ہوں عبرت سے دوا کی نہیں حاجتغم کا مجھے یہ ضعف ہے بیمار نہیں ہوں

۵

وہ گل ہوں خزاں نے جسے برباد کیا ہےالجھوں کسی دامن سے میں وہ خار نہیں ہوں

۶

یا رب مجھے محفوظ رکھ اس بت کے ستم سےمیں اس کی عنایت کا طلب گار نہیں ہوں

۷

گو دعوی تقوی نہیں درگاہ خدا میںبت جس سے ہوں خوش ایسا گنہ گار نہیں ہوں

۸

افسردگی و ضعف کی کچھ حد نہیں اکبرؔکافر کے مقابل میں بھی دیں دار نہیں ہوں

۲۴ / ۱۴۶