کلامِ اکبرردیف ن
دل مایوس میں وہ شورشیں برپا نہیں ہوتیں
۱
دل مایوس میں وہ شورشیں برپا نہیں ہوتیںامیدیں اس قدر ٹوٹیں کہ اب پیدا نہیں ہوتیں
۲
مری بیتابیاں بھی جزو ہیں اک میری ہستی کییہ ظاہر ہے کہ موجیں خارج از دریا نہیں ہوتیں
۳
وہی پریاں ہیں اب بھی راجا اندر کے اکھاڑے میںمگر شہزادۂ گلفام پر شیدا نہیں ہوتیں
۴
یہاں کی عورتوں کو علم کی پروا نہیں بے شکمگر یہ شوہروں سے اپنے بے پروا نہیں ہوتیں
۵
تعلق دل کا کیا باقی میں رکھوں بزم دنیا سےوہ دل کش صورتیں اب انجمن آرا نہیں ہوتیں
۶
ہوا ہوں اس قدر افسردہ رنگ باغ ہستی سےہوائیں فصل گل کی بھی نشاط افزا نہیں ہوتیں
۷
قضا کے سامنے بے کار ہوتے ہیں حواس اکبرؔکھلی ہوتی ہیں گو آنکھیں مگر بینا نہیں ہوتیں
۲۷ / ۱۴۶