کلامِ اکبرردیف ن

ہر اک یہ کہتا ہے اب کار دیں تو کچھ بھی نہیں

۱

ہر اک یہ کہتا ہے اب کار دیں تو کچھ بھی نہیںیہ سچ بھی ہے کہ مزا بے یقیں تو کچھ بھی نہیں

۲

تمام عمر یہاں خاک اڑا کے دیکھ لیااب آسمان کو دیکھوں زمیں تو کچھ بھی نہیں

۳

مری نظر میں تو بس ہے انہیں سے رونق بزموہی نہیں ہیں جو اے ہم نشیں تو کچھ بھی نہیں

۴

حرم میں مجھ کو نظر آئے صرف زاہد خشکمکان خوب ہے لیکن مکیں تو کچھ بھی نہیں

۵

ترے لبوں سے ہے البتہ اک حلاوت زیستنبات قند شکر انگبیں تو کچھ بھی نہیں

۶

دماغ اب تو مسوں کا ہے چرخ چارم پربڑھا دیا مری خواہش نے تھیں تو کچھ بھی نہیں

۷

بہ قول حضرت محشرؔ کلام شاعر کاپسند آئے تو سب کچھ نہیں تو کچھ بھی نہیں

۸

وہ کہتے ہیں کہ تمہیں ہو جو کچھ ہو اے اکبرؔہم اپنے دل میں ہیں کہتے ہمیں تو کچھ بھی نہیں

۲۸ / ۱۴۶