درد تو موجود ہے دل میں دوا ہو یا نہ ہو
کر دیا ہے زندگی نے بزم ہستی میں شریکاس کا کچھ مقصود کوئی مدعا ہو یا نہ ہو
About this couplet
This is couplet 4 of 8 in “درد تو موجود ہے دل میں دوا ہو یا نہ ہو” in the section Ghazals — Radeef Wao, from Syed Akbar Hussain Akbar Allahabadi's Urdu book Kalam-e-Akbar (کلامِ اکبر).
Read it in the poem۴ / ۸