کلامِ اکبرردیف و

درد تو موجود ہے دل میں دوا ہو یا نہ ہو

۱

درد تو موجود ہے دل میں دوا ہو یا نہ ہوبندگی حالت سے ظاہر ہے خدا ہو یا نہ ہو

۲

جھومتی ہے شاخ گل کھلتے ہیں غنچے دم بہ دمبا اثر گلشن میں تحریک صبا ہو یا نہ ہو

۳

وجد میں لاتے ہیں مجھ کو بلبلوں کے زمزمےآپ کے نزدیک با معنی صدا ہو یا نہ ہو

۴

کر دیا ہے زندگی نے بزم ہستی میں شریکاس کا کچھ مقصود کوئی مدعا ہو یا نہ ہو

۵

کیوں سول سرجن کا آنا روکتا ہے ہم نشیںاس میں ہے اک بات آنر کی شفا ہو یا نہ ہو

۶

مولوی صاحب نہ چھوڑیں گے خدا گو بخش دےگھیر ہی لیں گے پولس والے سزا ہو یا نہ ہو

۷

ممبری سے آپ پر تو وارنش ہو جائے گیقوم کی حالت میں کچھ اس سے جلا ہو یا نہ ہو

۸

معترض کیوں ہو اگر سمجھے تمہیں صیاد دلایسے گیسو ہوں تو شبہ دام کا ہو یا نہ ہو

۳۲ / ۱۴۶