کلامِ اکبرمثنویات، مراثی و دیگر
جلوۂ دربار دہلی
سر میں شوق کا سودا دیکھادہلی کو ہم نے بھی جا دیکھاجو کچھ دیکھا اچھا دیکھاکیا بتلائیں کیا کیا دیکھا
جمنا جی کے پاٹ کو دیکھااچھے ستھرے گھاٹ کو دیکھاسب سے اونچے لاٹ کو دیکھاحضرت ڈیوک کناٹؔ کو دیکھا
پلٹن اور رسالے دیکھےگورے دیکھے کالے دیکھےسنگینیں اور بھالے دیکھےبینڈ بجانے والے دیکھے
خیموں کا اک جنگل دیکھااس جنگل میں منگل دیکھابرھما اور ورنگل دیکھاعزت خواہوں کا دنگل دیکھا
سڑکیں تھیں ہر کمپ سے جاریپانی تھا ہر پمپ سے جارینور کی موجیں لیمپ سے جاریتیزی تھی ہر جمپ سے جاری
ڈالی میں نارنگی دیکھیمحفل میں سارنگی دیکھیبیرنگی بارنگی دیکھیدہر کی رنگا رنگی دیکھی
اچھے اچھوں کو بھٹکا دیکھابھیڑ میں کھاتے جھٹکا دیکھامنہ کو اگرچہ لٹکا دیکھادل دربار سے اٹکا دیکھا
ہاتھی دیکھے بھاری بھرکمان کا چلنا کم کم تھم تھمزریں جھولیں نور کا عالممیلوں تک وہ چم چم چم چم
پر تھا پہلوئے مسجد جامعروشنیاں تھیں ہر سو لامعکوئی نہیں تھا کسی کا سامعسب کے سب تھے دید کے طامع
سرخی سڑک پر کٹتی دیکھیسانس بھی بھیڑ میں گھٹتی دیکھیآتش بازی چھٹتی دیکھیلطف کی دولت لٹتی دیکھی
چوکی اک چولکھی دیکھیخوب ہی چکھی پکھی دیکھیہر سو نعمت رکھی دیکھیشہد اور دودھ کی مکھی دیکھی
ایک کا حصہ من و سلویٰایک کا حصہ تھوڑا حلواایک کا حصہ بھیڑ اور بلوامیرا حصہ دور کا جلوا
اوج بریش راجا دیکھاپرتو تخت و تاج کا دیکھارنگ زمانہ آج کا دیکھارخ کرزن مہراج کا دیکھا
پہنچے پھاند کے سات سمندرتحت میں ان کے بیسوں بندرحکمت و دانش ان کے اندراپنی جگہ ہر ایک سکندر
اوج بخت ملاقی ان کاچرخ ہفت طبقاقی ان کامحفل ان کی ساقی ان کاآنکھیں میری باقی ان کا
ہم تو ان کے خیر طلب ہیںہم کیا ایسے ہی سب کے سب ہیںان کے راج کے عمدہ ڈھب ہیںسب سامان عیش و طرب ہیں
اگزبشن کی شان انوکھیہر شے عمدہ ہر شے چوکھیاقلیدس کی ناپی جوکھیمن بھر سونے کی لاگت سوکھی
جشن عظیم اس سال ہوا ہےشاہی فورٹ میں بال ہوا ہےروشن ہر اک ہال ہوا ہےقصۂ ماضی حال ہوا ہے
ہے مشہور کوچہ و برزنبال میں ناچیں لیڈی کرزنطائر ہوش تھے سب کے لرزنرشک سے دیکھ رہی تھی ہر زن
ہال میں چمکیں آ کے یکا یکزریں تھی پوشاک جھکا جھکمحو تھا ان کا اوج سما تکچرخ پہ زہرہ ان کی تھی گاہک
گو رقاصۂ اوج فلک تھیاس میں کہاں یہ نوک پلک تھیاندر کی محفل کی جھلک تھیبزم عشرت صبح تلک تھی
کی ہے یہ بندش ذہن رسا نےکوئی مانے خواہ نہ مانےسنتے ہیں ہم تو یہ افسانےجس نے دیکھا ہو وہ جانے
۱۳۲ / ۱۴۶