کلامِ اکبرمثنویات، مراثی و دیگر
برق کلیسا
رات اس مس سے کلیسا میں ہوا میں دو چارہائے وہ حسن وہ شوخی وہ نزاکت وہ ابھار
زلف پیچاں میں وہ سج دھج کہ بلائیں بھی مریدقدر رعنا میں وہ چم خم کہ قیامت بھی شہید
آنکھیں وہ فتنۂ دوراں کہ گنہ گار کریںگال وہ صبح درخشاں کہ ملک پیار کریں
گرم تقریر جسے سننے کو شعلہ لپکےدلکش آواز کہ سن کر جسے بلبل جھپکے
دل کشی چال میں ایسی کہ ستارے رک جائیںسرکشی ناز میں ایسی کہ گورنر جھک جائیں
آتش حسن سے تقوے کو جلانے والیبجلیاں لطف تبسم سے گرانے والی
پہلوئے حسن بیاں شوخیٔ تقریر میں غرقترکی و مصر و فلسطین کے حالات میں برق
پس گیا لوٹ گیا دل میں سکت ہی نہ رہیسر تھے تمکین کے جس گت میں وہ گت ہی نہ رہی
ضبط کے عزم کا اس وقت اثر کچھ نہ ہوایا حفیظ کا کیا ورد مگر کچھ نہ ہوا
عرض کی میں نے کہ اے گلشن فطرت کی بہاردولت و عزت و ایماں ترے قدموں پہ نثار
تو اگر عہد وفا باندھ کے میری ہو جائےساری دنیا سے مرے قلب کو سیری ہو جائے
شوق کے جوش میں میں نے جو زباں یوں کھولیناز و انداز سے تیور کو چڑھا کر بولی
غیرممکن ہے مجھے انس مسلمانوں سےبوئے خوں آتی ہے اس قوم کے انسانوں سے
لن ترانی کی یہ لیتے ہیں نمازی بن کرحملے سرحد پہ کیا کرتے ہیں غازی بن کر
کوئی بنتا ہے جو مہدی تو بگڑ جاتے ہیںآگ میں کودتے ہیں توپ سے لڑ جاتے ہیں
گل کھلائے کوئی میداں میں تو اترا جائیںپائیں سامان اقامت تو قیامت ڈھائیں
مطمئن ہو کوئی کیوں کر کہ یہ ہیں نیک نہادہے ہنوز ان کی رگوں میں اثر حکم جہاد
دشمن صبر کی نظروں میں لگاوٹ آئیکامیابی کی دل زار نے آہٹ پائی
عرض کی میں نے کہ اے لذت جاں راحت روحاب زمانے پہ نہیں ہے اثر آدم و نوح
شجر طور کا اس باغ میں پودا ہی نہیںگیسوئے حور کا اس دور میں سودا ہی نہیں
اب کہاں ذہن میں باقی ہیں براق و رفرفٹکٹکی بندھ گئی ہے قوم کی انجن کی طرف
ہم میں باقی نہیں اب خالد جاں باز کا رنگدل پہ غالب ہے فقط حافظ شیراز کا رنگ
یاں نہ وہ نعرۂ تکبیر نہ وہ جوش سپاہسب کے سب آپ ہی پڑھتے رہیں سبحان اللہ
جوہر تیغ مجاہد ترے ابرو پہ نثارنور ایماں کا ترے آئینۂ رو پہ نثار
اٹھ گئی صفحۂ خاطر سے وہ بحث بد و نیکدو دلے ہو رہے ہیں کہتے ہیں اللہ کو ایک
موج کوثر کی کہاں اب ہے مرے باغ کے گردمیں تو تہذیب میں ہوں پیر مغاں کا شاگرد
مجھ پہ کچھ وجہ عتاب آپ کو اے جان نہیںنام ہی نام ہے ورنہ میں مسلمان نہیں
جب کہا صاف یہ میں نے کہ جو ہو صاحب فہمتو نکالو دل نازک سے یہ شبہ یہ وہم
میرے اسلام کو اک قصۂ ماضی سمجھوہنس کے بولی کہ تو پھر مجھ کو بھی راضی سمجھو
۱۳۳ / ۱۴۶