کلامِ اکبرمثنویات، مراثی و دیگر

فرضی لطیفہ

۱

خدا حافظ مسلمانوں کا اکبرؔمجھے تو ان کی خوشحالی سے ہے یاس

۲

یہ عاشق شاہد مقصود کے ہیںنہ جائیں گے ولیکن سعی کے پاس

۳

سناؤں تم کو اک فرضی لطیفہکیا ہے جس کو میں نے زیب قرطاس

۴

کہا مجنوں سے یہ لیلیٰ کی ماں نےکہ بیٹا تو اگر کر لے ایم اے پاس

۵

تو فوراً بیاہ دوں لیلیٰ کو تجھ سےبلا دقت میں بن جاؤں تری ساس

۶

کہا مجنوں نے یہ اچھی سنائیکجا عاشق کجا کالج کی بکواس

۷

کجا یہ فطرتی جوش طبیعتکجا ٹھونسی ہوئی چیزوں کا احساس

۸

بڑی بی آپ کو کیا ہو گیا ہےہرن پہ لادی جاتی ہے کہیں گھاس

۹

یہ اچھی قدر دانی آپ نے کیمجھے سمجھا ہے کوئی ہرچرن داس

۱۰

دل اپنا خون کرنے کو ہوں موجودنہیں منظور مغز سر کا آماس

۱۱

یہی ٹھہری جو شرط وصل لیلیٰتو استعفیٰ مرا با حسرت و یاس

۱۳۸ / ۱۴۶