کلامِ اکبرمثنویات، مراثی و دیگر
سب جانتے ہیں علم سے ہے زندگی کی روح
سب جانتے ہیں علم سے ہے زندگی کی روحبے علم ہے اگر تو وہ انساں ہے نا تمام
بے علم و بے ہنر ہے جو دنیا میں کوئی قومنیچر کا اقتضا ہے رہے بن کے وہ غلام
تعلیم اگر نہیں ہے زمانہ کے حسب و حالپھر کیا امید دولت و آرام و احترام
سید کے دل میں نقش ہو اس خیال کاڈالی بنائے مدرسہ لے کر خدا کا نام
صدمے اٹھائے رنج سہے گالیاں سنیںلیکن نہ چھوڑا قوم کے خادم نے یہ کام
دکھلا دیا زمانہ کو زور دل و دماغبتلا دیا وہ کرتے ہیں کرنے والے کام
نیت جو تھی بخیر تو برکت خدا نے دیکالج ہوا درست بہ صد شان و احتشام
سرمائے میں کمی تھی سہارا کوئی نہ تھاسید کا دل تھا درپئے تکمیل انتظام
آخر اٹھا سفر کو وہ مرد خستہ پئےاحباب چند ساتھ تھے ذی علم و خوش کلام
قسمت کہ رہبری سے ملی منزل مرادفرماں روائے ملک دکن کو کیا سلام
حالت دکھائی اور ضرورت بیان کیخوبی ث التماس کیا قوم کا پیام
رحم آ گیا حضور کو حالت پہ قوم کیپھر کیا تھا موجزن ہوا دریا فیض عام
ماہانہ دو ہزار کیا اک ہزار ثامید ث زیادہ عطا تھی یہ لا کلام
اکبرؔ کی ی دعا ہے خدا کی جناب میںتا حشر اس رئیس و ریاست کو ہو قیام
کیا وقت پر ہوئی ہے کہ بے احتجاج فکرتاریک اپنی آپ ہے فیاضی نظام
۱۳۹ / ۱۴۶