کلامِ اکبرمثنویات، مراثی و دیگر

سب جانتے ہیں علم سے ہے زندگی کی روح

۱

سب جانتے ہیں علم سے ہے زندگی کی روحبے علم ہے اگر تو وہ انساں ہے نا تمام

۲

بے علم و بے ہنر ہے جو دنیا میں کوئی قومنیچر کا اقتضا ہے رہے بن کے وہ غلام

۳

تعلیم اگر نہیں ہے زمانہ کے حسب و حالپھر کیا امید دولت و آرام و احترام

۴

سید کے دل میں نقش ہو اس خیال کاڈالی بنائے مدرسہ لے کر خدا کا نام

۵

صدمے اٹھائے رنج سہے گالیاں سنیںلیکن نہ چھوڑا قوم کے خادم نے یہ کام

۶

دکھلا دیا زمانہ کو زور دل و دماغبتلا دیا وہ کرتے ہیں کرنے والے کام

۷

نیت جو تھی بخیر تو برکت خدا نے دیکالج ہوا درست بہ صد شان و احتشام

۸

سرمائے میں کمی تھی سہارا کوئی نہ تھاسید کا دل تھا درپئے تکمیل انتظام

۹

آخر اٹھا سفر کو وہ مرد خستہ پئےاحباب چند ساتھ تھے ذی علم و خوش کلام

۱۰

قسمت کہ رہبری سے ملی منزل مرادفرماں روائے ملک دکن کو کیا سلام

۱۱

حالت دکھائی اور ضرورت بیان کیخوبی ث التماس کیا قوم کا پیام

۱۲

رحم آ گیا حضور کو حالت پہ قوم کیپھر کیا تھا موجزن ہوا دریا فیض عام

۱۳

ماہانہ دو ہزار کیا اک ہزار ثامید ث زیادہ عطا تھی یہ لا کلام

۱۴

اکبرؔ کی ی دعا ہے خدا کی جناب میںتا حشر اس رئیس و ریاست کو ہو قیام

۱۵

کیا وقت پر ہوئی ہے کہ بے احتجاج فکرتاریک اپنی آپ ہے فیاضی نظام

۱۳۹ / ۱۴۶