کلامِ اکبرمثنویات، مراثی و دیگر
مس سیمیں بدن
ایک مس سیمیں بدن سے کر لیا لندن میں عقداس خطا پر سن رہا ہوں طعنہ ہائے دل خراش
کوئی کہتا ہے کہ بس اس نے بگاڑی نسل قومکوئی کہتا ہے کہ یہ ہے بد خصال و بد معاش
دل میں کچھ انصاف کرتا ہی نہیں کوئی بزرگہو کے اب مجبور خود اس راز کو کرتا ہوں فاش
ہوتی تھی تاکید لندن جاؤ انگریزی پڑھوقوم انگلش سے ملو سیکھو وہی وضع تراش
جگمگاتے ہوٹلوں کا جا کے نظارہ کروسوپ و کری کے مزے لو چھوڑ کر یخنی و آش
لیڈیوں سے مل کے دیکھو ان کے انداز و طریقہال میں ناچو کلب میں جاکے کھیلو ان سے تاش
بادۂ تہذیب یورپ کے چڑھاؤ خم کے خمایشیا کے شیشۂ تقویٰ کو کر دو پاش پاش
جب عمل اس پر کیا پریوں کا سایہ ہو گیاجس سے تھا دل کی حرارت کو سراسر انتعاش
سامنے تھیں لیڈیاں زہرہ وش و جادو نظریاں جوانی کی امنگ اور ان کو عاشق کی تلاش
اس کی چتون سحر آگیں اس کی باتیں دل رباچال اس کی فتنہ خیز اس کی نگاہیں برق پاش
وہ فروغ آتش رخ جس کے آگے آفتاباس طرح جیسے کہ پیش شمع پروانے کی لاش
جب یہ صورت تھی تو ممکن تھا کہ اک برق بلادست سیمیں کو بڑھاتی اور میں کہتا دور باش؟
دونوں جانب تھا رگوں میں جوش خون فتنہ زادل ہی تھا آخر نہیں تھی برف کی یہ کوئی قاش
بار بار آتا ہے اکبرؔ میرے دل میں یہ خیالحضرت سید سے جاکر عرض کرتا کوئی کاش
'درمیان قعر دریا تختہ بندم کردہ ای'باز می گوئی کہ دامن تر مکن ہشیار باش'
۱۴۱ / ۱۴۶