کلامِ اکبرمثنویات، مراثی و دیگر

سید سے آج حضرت واعظ نے یہ کہا

۱

سید سے آج حضرت واعظ نے یہ کہاچرچا ہے جا بجا ترے حال تباہ کا

۲

سمجھا ہے تو نے نیچر و تدبیر کو خدادل میں ذرا اثر نہ رہا لا الہ کا

۳

ہو تجھ سے ترک صوم و صلوٰۃ و زکوٰۃ و حجکچھ ڈر نہیں جناب رسالت پناہ کا

۴

شیطان نے دکھا کے جمال عروس دہربندہ بنا دیا ہے تجھے حب جاہ کا

۵

اس نے دیا جواب کہ مذہب ہو یا رواجراحت میں جو مخل ہو وہ کانٹا ہے راہ کا

۶

افسوس ہے کہ آپ ہیں دنیا سے بے خبرکیا جانیے جو رنگ ہے شام و پگاہ کا

۷

یورپ کا پیش آئے اگر آپ کو سفرگزرے نظر سے حال رعایا و شاہ کا

۸

وہ آب و تاب و شوکت ایوان خسرویوہ محکموں کی شان وہ جلوہ سپاہ کا

۹

آئے نظر علوم جدیدہ کی روشنیجس سے خجل ہو نور رخ مہر و ماہ کا

۱۰

دعوت کسی امیر کے گھر میں ہو آپ کیکمسن مسوں سے ذکر ہو الفت کا چاہ کا

۱۱

نوخیز دل فریب گل اندام نازنیںعارض پہ جن کے بار ہو دامن نگاہ کا

۱۲

رکئے اگر تو ہنس کے کہے اک بت حسیںسن مولوی یہ بات نہیں ہے گناہ کا

۱۳

اس وقت قبلہ جھک کے کروں آپ کو سلامپھر نام بھی حضور جو لیں خانقاہ کا

۱۴

پتلون و کوٹ و بنگلہ و بسکٹ کی دھن بندھےسودا جناب کو بھی ہو ترکی کلاہ کا

۱۵

منبر پہ یوں تو بیٹھ کے گوشے میں اے جنابسب جانتے ہیں وعظ ثواب و گناہ کا

۱۴۰ / ۱۴۶