کلامِ اکبرمثنویات، مراثی و دیگر
میرے حواس عشق میں کیا کم ہیں منتشر
۱
میرے حواس عشق میں کیا کم ہیں منتشرمجنوں کا نام ہو گیا قسمت کی بات ہے
۲
دل جس کے ہاتھ میں ہو نہ ہو اس پہ دسترسبے شک یہ اہل دل پہ مصیبت کی بات ہے
۳
پروانہ رینگتا رہے اور شمع جل بجھےاس سے زیادہ کون سی ذلت کی بات ہے
۴
مطلق نہیں محال عجب موت دہر میںمجھ کو تو یہ حیات ہی حیرت کی بات ہے
۵
ترچھی نظر سے آپ مجھے دیکھتے ہیں کیوںدل کو یہ چھیڑنا ہی شرارت کی بات ہے
۶
راضی تو ہو گئے ہیں وہ تاثیر عشق سےموقع نکالنا سو یہ حکمت کی بات ہے
۱۴۳ / ۱۴۶