کلامِ اکبرمثنویات، مراثی و دیگر
مہربانی ہے عیادت کو جو آتے ہیں مگر
۱
مہربانی ہے عیادت کو جو آتے ہیں مگرکس طرح ان سے ہمارا حال دیکھا جائے گا
۲
دفتر دنیا الٹ جائے گا باطل یک قلمذرہ ذرہ سب کا اصلی حال دیکھا جائے گا
۳
آفیشل اعمال نامہ کی نہ ہوگی کچھ سندحشر میں تو نامۂ اعمال دیکھا جائے گا
۴
بچ رہے طاعون سے تو اہل غفلت بول اٹھےاب تو مہلت ہے پھر اگلے سال دیکھا جائے گا
۵
تہ کرو صاحب نسب نامی وہ وقت آیا ہے اببے اثر ہوگی شرافت مال دیکھا جائے گا
۶
رکھ قدم ثابت نہ چھوڑ اکبرؔ صراط مستقیمخیر چل جانے دے ان کی چال دیکھا جائے گا
۱۴۴ / ۱۴۶