جو حسرت دل ہے وہ نکلنے کی نہیں
جو حسرت دل ہے وہ نکلنے کی نہیںجو بات ہے کام کی وہ چلنے کی نہیںیہ بھی ہے بہت کہ دل سنبھالے رہئےقومی حالت یہاں سنبھلنے کی نہیں
About this couplet
This is couplet 1 of 1 in “جو حسرت دل ہے وہ نکلنے کی نہیں” in the section Rubaiyat, from Syed Akbar Hussain Akbar Allahabadi's Urdu book Kalam-e-Akbar (کلامِ اکبر).
Read it in the poem۱ / ۱